حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

وینا کی شادی لال حویلی کے خوابوں کی بربادی

Sheikh Rashid the corruption king

  وینا ملک نے توبہ کے بعد فرمایا تھا کہ اسے حلقہء دوشیزگانِ کے بابائے شغل مغل شیخ رشید صاحب کی نفرت سے نہیں محبت سے ڈر لگتا ہے۔ شیخ صاحب کی ” نفرت ” کا معمہ تو میری فہم سے ماروا ہے لیکن ہاں شاید شیخ صاحب کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہونے والی معصوم مٹیاروں نے وینا ملک کو شیخ صاحب کی ” جنونی محبت” سے ضرور ڈرا دیا ہو گا۔ سو بالی وڈ کے نو آموز بچونگڑوں کے اکھاڑے دیکھنے والی بیچاری وینا ملک نے ایک تجربہ کار پہلوان سے” محبت” کی کشتی لڑنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال کر راہ فرار اختیار کرنے میں ہی بھلائی جانی ہو گی۔  ماں باپ کے شرمیلے اور مشرف جی کے رنگیلے شیخ   صاحب ان الفاظ میں اعلانیہ  اقرار ” جرم محبت ” کر چکے ہیں کہ جب ہر طرح کی بھینس کا دودھ ویسے ہی پینے کو مل جائے تو پھر گھر میں بھینس باندھنے کی کیا ضرورت ہے۔ قوم کے کچھ عاقل و بالغ نظر منچلے لوگ شیخ صاحب کے اس شہرء آفاق بیان کو دلیرانہ اقرار جرم یا کھلے الفاظ میں اقرار زناکاری بھی قرار دیتے ہیں۔

ان کے ہر دور میں بدلنے والے سیاسی حلیفوں اور غیر سیاسی احباب کے مطابق ان کے ایسے ذومعنی بیانات سے غلط مطالب نکالنے والے “شرارتی لوگ” دراصل جاہل اور دقیانوسی خیالات رکھنے والے ہیں۔ اور  خامخواہ شک وک  یا ان کی کردار کشی کی مہم چلا رہے ہیں۔ سو ان کے دوست ان  نقادوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ شیخ صاحب، اسلامی نظریاتی کونسل اور مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔ سو اگر وہ شارجہ کرکٹ میلوں کے دوران تھرکتی بجلیوں اور ماڈلنگ ورلڈ کی نامور حسیناؤں کے ساتھ فرنٹ لائین پر نظر آتے رہے ہیں تو کون سی قیامت آ گئی ؟ چونکہ وہ ہمیشہ پہلی صف میں ہی کھڑے ہو کرعید کی نماز پڑھتے ہیں، پس ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک شریف النفس انسان ، پکے مسلمان اور صاحب کردار سیاست دان ہیں۔

اسی کی دہائی میں شارجہ کرکٹ میلے میں شیخ صاحب کی مقدس شرکتوں کے رنگین نظاروں سے آنکھیں ٹھار کرنے والے احباب جانتے ہوں گے کہ ان کی حسیں بھینسیں گوالوں کی دو آنکھوں، دو سینگوں والی کالی، بھوری  یا پٹھے کھانے والی نہیں بلکہ فائیو سٹار کھانے اور ولائیتی بوتلوں کی غذا پر پلنے والی سپیشل مخلوق خدا ہوتی ہیں ۔ سیاسی جماعتیں اور نظریاتی پیر بدلنے میں ماہر شیخ صاحب، جنرل ضیاء الحق سے لیکر جنرل مشرف اور پا جی شجاعت حسین سے لیکر نواز شریف تک سب ڈکٹیٹروں اور جمہوری حکمرانوں کے بڑے سپیشل بندے رہے ہیں۔ اس لئے ریشم و کمخواب اوڑھے، ولائیتی عینکوں کے پردے میں دو آنکھیں چھپائے، ان کی چارچشمی اور ہفت ملکی بھینسیں بھی بڑی سپیشل ہوتی ہیں۔ شیخ صاحب بڑے ملنسار اور یاروں کے پکے یار ہیں، سو بھینسوں کا دودھ بھی نہ پہلے کبھی اکیلے اکیلے پیتے تھے، نہ اب پیتے ہیں۔

ممبئی و مدراس سے لاہور اوراسلام آباد تک کی بہترین نسلی بھینسوں کے دودھ کے تبرک ان کے دیسی محلاتی دوستوں اور بدیسی سفارتکار یاروں تک پہنچتے رہتے ہیں۔ انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اور اکابرین ریاست اپنے گناہوں پر نادم ہونے کی بجائے سرعام اقرار جرائم کرتے ہیں۔  بے شک انسان خطا کا پتلا ہے سو غلطی اور گناہ  سرزد ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں، لیکن گناہ  کے بعد  فخریہ انداز میں جتلانا  باعث ننگ و عار ہے۔ ایک غلطی ابلیس سے سرزد ہوئی کہ اس نے حکم الہی کی تعمیل سے انکار کیا۔ اور اسی طرح دوسری غلطی حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے بھی ہوئی لیکن دونوں کی غلطیوں میں نہاں فرق یہ تھا کہ آدم علیہ السلام نے اعتراف جرم کر لیا اور اپنی غلطی کی معافی کے خواستگار ہوئے تو اللہ نے ان کے لیے اپنی رحمت اور بخشش کے سب دروازے کھول دئیے جبکہ ابلیس نے انتہائی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے تکبر و غرور کا مظاہرہ کیا تو اللہ سبحان تعالیٰ نے اسے دنیا و آخرت میں تاقیامت لعنت کا مستحق بنا دیا۔ بلاشبہ ہمارے مغلظ کردار اور حالات ایسے ہیں کہ ہم ایک لمحے کیلیے بھی اس دنیا میں رہنے کے مستحق ہی نہیں، شاید ہم بھی کب کے ہلاک کر دیے گئے ہوتے، لیکن امتِ محمدی ہونے کے ناطے یہ ہم پر خدا کی خصوصی رحمت ہے کہ ہم آج بھی اس دنیا میں زندہ ہیں اور اسبابِ عالم سے استفادہ کر رہے ہیں۔

بیڑا غرق  ہو اس  وینا ملک کا جس نے بھولے بھالے شیخ صاحب پر یہ الزام لگایا کہ وہ خاندانی عورتوں سے نفرت کرتے ہیں اور بازارحسن کی عورتوں کے دلدادہ  ہیں۔ وینا ملک کو محتاط رہنا چاہیے تھا کہ مقدس لال حویلی یا قصرِ مشرف کی یاترائیں کرنے والی لال پریاں بخشی ہوئی  روحیں ہوتی ہیں۔ لہذا ان پوتر روحوں کا نام بازارِ حسن سے منسوب کرنا بھی توہینِ اکابرین ہے۔ وینا کی طرح شیخ صاحب کا بھی یہی دعوی ہے کہ وہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں سو وینا ملک کے الزام کے جواب میں انہوں نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے عین سچ کہا تھا کہ وینا ملک اپنی عریانی اور فحش کرداری سے پاکستان کی بدنامی کا باعث بنی ہے لہذا وہ اس سے بیحد نفرت کرتے ہیں۔ شیخ صاحب نے وینا ملک کی طرف سے کافی کی آفر کے الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔ دوسری طرف سدا جھوٹ بولنے والی وینا ملک بھی اپنے سدا سچ بولنے کے دعوے پر قائم ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ” مجھے نہیں لگتا کہ میں جھوٹ بولنے والی لڑکی ہوں، شیخ رشید نے کافی کی آفر تب کی جب میں ایک مزاحیہ پروگرام میں کام کر رہی تھی، مجھے نہیں معلوم اب شیخ رشید اپنی آفر سے انکار کیوں کر رہے ہیں “۔ گمان ہے کہ شیخ صاحب کو اس وقت تک ضرور امید ِ وصل رہی ہو گی جب تک وینا ملک یہی کہتی رہی کہ ” میں ایسا کچھ نہیں کروں گی جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو، میرا تعلق مسلمان خاندان سے اور مسلمان ہونے کے ناطے ایک مسلمان لڑکے سے ہی شادی کروں گی “۔ یہ کائناتی فلسفہء عشق ہے کہ محبت میں نا امیدی کفر عشق اورمایوسی گناہ ہے۔ اور وینا ملک کی شادی ہو جانے تک امید تو تھی کہ ہمارے خوبرو شیخ صاحب بھی وہ “مسلمان لڑکے” ہو سکتے تھے۔

نومبر  2015 کے بعد شیخ صاحب نے وینا ملک  کا موضوع بند ہونے پر شکرانے کے نفل ادا کیے ہوں گے۔ صد شکر کہ  آخرکار وینا ملک نے گناہ کی زندگی سے توبہ کر لی اور اپنے سابقہ ہندو بوائے فرینڈ اشمیت پٹیل سے معاشقے کے سوال پر کہا کہ وہ توبہ سے پہلے کا  ماضی تھا ۔ وینا ملک کو کافی کی آفر کی تردید کرتے ہوئے شیخ صاحب نے کہا کہ وینا ملک پاکستان کی بدنامی کا باعث بنی سو وہ وینا ملک سے نفرت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں اگر شادی کر لیتا تو آج بھی نیب کی گرفت میں ہوتا۔ اب اس راز کے بارے شیخ صاحب ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ ان کی شادی نیب کے مقدمات کے دائرہ اختیار میں کیونکر آتی۔

ان کا یہ مشکوک بیان ظاہر کرتا ہے کہ شاید وہ شرمیلا فاروقی یا سسی پلیجو جیسی کسی کرپشن کوئین سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ شیخ صاحب نے کہا کہ وہ آٹھ بار وزارت کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اتنا سکون وزارتوں کے دور میں نہیں ملا جتنا آج سکون ہے۔ خوش قسمت انسان ہوں کہ میں نے خانہ کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا ہے اپنی اوقات کو نہیں بھولا میں سیاست میں انے سے پہلے کتابیں فروخت کرتا تھا۔ اب میں شیخ صاحب کو یہ یاد نہیں دلانا چاہتا ہے کہ خانہء خدا کی چھت پر نمازوں کا شرف حاصل کرنے والے کئی نامور عرب شیوخ یورپی اور بھارتی حسیناؤں کے ازلی عاشق و دلدادا ہیں۔ میں شیخ صاحب سے یہ پوچھنے کا حق بھی نہیں رکھتا کہ کتابیں بیچنے والے شیخ صاحب عالیشان حویلی کے مختار کل اور بھینسوں کے ارب پتی سوداگر کیسے بنے۔ 

اور پھر بالآخر محمد آصف اور اشمیت پٹیل کے ساتھ دھواں دھار معاشقوں اور شیخ عمر فاروق جیسے بیسیوں ارب پتی عاشقوں سے شادی خانہ آبادی کے  اقرار  محبت  کے بعد اپنے والد کے دوست کے بزنس مین بیٹے اسد بشیر خان خٹک سے دوبئی کی ایک عدالت میں نکاح  اور پھر مابعد گناہ کی زندگی سے توبہ کر کے شیخ صاحب کے ارمانوں کا جنازہ نکال کر لال حویلی کی خلوتوں کے سب خواب چکنا چور کر دیے۔  بحرحال میں شیخ صاحب کے اس دکھ میں برابر کا شریک اور دعا گو ہوں کہ اللہ کریم شیخ صاحب کو یہ ” ناگہانی صدمہ ” جھیلنے کی ہمت اور وینا ملک کو توبہ پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ شیخ صاحب مانیں نہ مانیں لیکن وینا ملک کی توبہ کے بعد بھارت کے مندر اور پاکستان کی لال حویلی دونوں ہی ،  وینا ملک  کی یاترا کیلئے سدا منتظر رہیں گے۔ احباب جانتے ہیں کہ منافقوں سے بھری پاکستان کی سیاسی تاریخ ختم نبوت کی شق میں  ترمیم ہوتے  ہوئے دیکھنے پر  بھی پہلے پراسرار خاموش رہنے  اور ما بعد  عوامی ہیرو  بننے کیلئے شور مچانے والے  ایسے عیار و شعبدہ باز کرداروں سے بھری پڑی ہے۔

فاروق درویش ۔۔۔۔ واٹس ایپ ۔۔ 00923224061000۔۔۔

اپنی رائے سے نوازیں

ہمارا مرکزی فیس بک پیج

Advertisement

%d bloggers like this: