تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

زید حامد اور نوسٹرا ڈومس کی عالمی پیشن گوئیاں


میں جب بھی اس نام نہاد جہادی دانشور صاحب کے دفاعی تجزیوں اور ہوش ربا پیشن گوئیوں کے بارے پڑھتا ہوں، مجھے نوسٹرا ڈومس کی عالمی پیشن گوئیوں پر مبنی شہرہء آفاق ڈاکومنڑی فلم ” دی مین ہو سا  ٹومارو “ یاد آ جاتی ہے۔ سولہویں صدی عیسوی میں نوسٹرا ڈومس نامی اس معروف فرانسیسی دانشور نے ” لس پروفیٹیز ” نامی کتاب لکھ کر پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ بعد ازاں یہ کتاب چار سو برس میں دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی۔ نوسٹرا ڈومس کے مداحوں کے نزدیک وہ مستقبل کے حالات جاننے کے روحانی علوم پر دسترس رکھنے والا انجیلی عالم تھا جو عین سچی اور تفصیلی پیشن گوئیاں کرتا تھا۔ شاہ ہنری کی موت ، انقلاب فرانس، دوسری عالمی جنگ ، ہالو کاسٹ، نائن الیون، پینٹاگون پر حملہ اور بیسویں ویں صدی کے سائنسی انقلابات جیسے  اہم واقعات کی کڑیاں ان کی پیشگوئیوں سے ملائی گئی ہیں۔ نائن الیون کے واقعہ پر ان کی پیشی گوئیوں کے ذکر سے امریکہ اور مغرب میں خوف و ہراس پھیلا رہا۔ سامراجی اور صلیبی خوف کی وجہ بعد میں عرض کرتا ہوں۔ احباب تاریخ اسلام کے عام طالب علم بھی جانتے ہیں کہ  نبیء آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سیف اللہ کا خطاب پانے والے  مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک سو پچیس سے زائد جنگوں میں حصہ لیا۔ ایک وہ مجاہد تھے کہ جن کے جسم پرلاتعداد زخموں پر نشانات اور انتقال سے پہلے اس بات کا افسوس تھا کہ میدان جنگ میں شہادت کے بجائے بستر مرگ پرجان دے رہے ہیں۔ جبکہ آج کے یہ کاغذی مجاہد وہ ہیں جو میڈ ان ولائت اشیائے سجاوٹ سے مزین ڈرائیگ روم میں کلاشنکوف اور تلوار تھامے فوٹو بنوا کر ہی خود ساختہ مجاہد اسلام بن بیٹھتے ہیں۔ حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اور صلاح الدین ایوبی میدانِ جنگ و جدل کے شہسوار تھے اور یہ لطیفہء پر زنگار اپنے بنگلے کے خوش نما لان اور مری کی سیرگاہ میں بچوں کی سواری کیلئے کرایہ کے گھوڑے پر یروشلم اور نیو دہلی فتح کرنے نکلے ہیں۔ ۔

یاد رہے کہ یہ صاحبِ فتنہ و کراماتِ جب تک  یوسف کذاب کے ساتھ رہے نام اور شناخت کے اعتبار سے” زید زمان ” تھے۔ یہ  بھی جیو سمیت پورے  میڈیا ہی کا کمال ہے کہ زید زمان مدعیء نبوت یوسف کذاب کے انجام کو پہنچنے پر منظر سے غائب ہوئے اور پھر بارہ برس کے طویل عرصہ گوشہ گمنامی میں رہنے کے بعد اچانک ہی ” زید حامد ” کے نام سے ٹی وی اور میڈیا پروگراموں میں جلوہ گر ہونے لگے۔ یہ زید حامد زمان کی خوش قسمتی تھی کہ غدارین ملک و ملت کی تلاش میں نیے ٹیلنٹ تلاش کرنے میں ماہر مغربی بادشاہ گروں کی نظر انتخاب ان پر پڑی اور یوں بذریعہ میڈیا چینلز قوم کو ان کے پر لطف دم دما دم مست کٹھ پتلی تماشہ شو دیکھنے کو ملے۔ یوسف کذاب کے عدالتی مقدمہ کی کاروائی اور خبروں سے آگاہی رکھنے والے ہی نہیں لاکھوں لوگ جانتے ہیں کہ یہ وہی زید زمان ہیں جو یوسف کذاب کے خلیفہ اور ” صحابی ” بن کر اس کیس کی پیروی میں پیش پیش تھے۔ قابل توجہ ہے کہ یوسف کذاب کے قتل کے دو برس بعد تک یہ کہتے رہے کہ وہ کسی یوسف کذاب کو نہیں جانتے  اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن جب ان کے خلاف حقائق و شواہد کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور اہل حق نے ناقابل تردید ثبوتوں اور مصدقہ شہادتوں کے ساتھ ابطال کیا تو انہیں مجبوراً جھوٹ اور فریب کے پردے سے باہر آنا پڑا۔ لیکن اسی ردعمل نے ان کے کردار کو پوری طرح ایکسپوز کر کے رکھ دیا ۔

زید حامد نے خود پر لگے الزامات کے جواب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور تمام مسالکِ دین کے علماء اکرام کو نشانہ بناتے ہوئے ایک گھنٹہ کی ویڈیو بناڈالی۔ جس میں انہوں  نے یوسف کذاب کے کردار کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اس کے کافرانہ دعویٰ نبوت کے باوجود اس کو شریف النفس صوفی مسلمان ثابت کرنے پر پورا زور صرف کیا۔ قابل صد مذمت کہ ڈرائینگ روم مجاہدِ ملت کے خول میں چھپے ہوئے اس  کردار نے یوسف کذاب کے خلاف عدالتی مقدمہ، اس کے گواہوں اورکیس کی پیروی کرنے والوں کو کذاب و تہمت باز ثابت کرنے کی نہ صرف بھرپور کوشش کی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ، ” اگر یہاں اسلامی حکومت ہوتی تو ان سب کو کوڑے لگتے، اور ساری زندگی ان کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔“ اور پھر ایک جگہ اس ماڈرن مجاہد نے جذبات سے مغلوب ہوکر یہاں تک فرما دیا کہ، ”شرعی عدالت ہوتی تو ان کو پھانسیاں چڑھا دیا جاتا “۔ زید حامد کے محترم حواریوں کو ناگوار خاطر نہ ہوتو میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ ایک اکیلے اکلوتے زید زمان ہی ایسے دانشور ہیں جو یوسف کذاب کو نیک انسان اور مظلوم ثابت کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھے ۔ زید حامد ہی وہ واحد اسلامی دانشور اور اکلوتے مجاہد اسلام ہیں جو نیم عریاں لباس میں ملبوس پیشہ ورانہ ماڈلز، این جی او پریوں اور مادر پدر آزاد کڑیاں منڈے لیکر سمجھ سے بالاتر تماشہء اسلام کرنے نکلتے ہیں۔ بہت عجیب سا لگتا ہے کہ جس انتہائی مطلوب اسامہ بن لادن کی موجودگی کا مقام پوری دنیا کی طاقتور خفیہ ایجنسیوں کی معلومات اور دسترس سے دور ہو، اسے پاکستان کے ایک میڈیا پرسن حامد میر آسانی سے مل سکتے ہیں۔ مگر امریکہ اور برطانیہ سمیت تمام عالمی زوردار اس صحافی سے اس اسامہ کی لوکیشن کے بارے تفتیش و استفسار کی بھی جرات نہیں رکھتے۔ پراسرار معاملہ ہے کہ اسلام اباد میں خلافت کا نعرہ جامعہ حفصہ سے لگتا ہے تو امریکہ اسے مشرف اینڈ کمپنی کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ  زید حامد  اسی اسلام آباد میں بیٹھ کر ہر امریکی غلام حکومت اورامریکہ و مغربی دجالوں کو کھلے الفاظ میں کوستے ہیں مگر نہ تو کوئی حکومت اور نہ ہی امریکہ بہادر ان سے ناراض ہوتا ہے؟

زید حامد سے علمی معرکہ آرائی کرنے والے دانشوروں نے ان کیخلاف بڑے واضع اور فیصلہ کن انداز میں ابطال کیا ہے۔ میرا موقف ہے  کہ ہماری نوجوان نسل مغربی تہذیب کے سحر میں غرق ہو کر  مذہب کے معاملہ میں لاکھ بے پروا سہی مگر فطرتاً مذہب پسند ہے۔ لہذا جب بھی کوئی بہروپیا دین ، مذہب، جہاد اور خلافت کے حق اور امریکی سامراج کیخلاف کسی قسم کی آواز اٹھائے تو یہ دیوانہ وار اس کی تقلید میں کود پڑتی ہے۔ ہم لوگ اپنے جذبہ اخلاص کی بنأ پر ایسی آواز لگانے والے ہر شخص کو مخلص اور موجودہ جبر و تشدد کی فضا سے نکلنے کے لئے نجات دہندہ تصور کرلیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ہمارے اخلاص اور سادگی سے فائدہ اٹھاکر کچھ راہزن بھی راہبروں کا بھیس بدل کر متاع دین و ایمان لوٹ لیتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگ ہی دین کے سچے دانشوروں اور علماء اکرام کے کردار کے بارے تحفظات کی وجہ ہیں۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ دورِ حاضر کے ان بناوٹی مجاہد زید زمان حامد کا بھی ہے۔ جنہوں  نے نوجوان نسل میں سے کچھ جذباتی بچوں کو اپنے لچھے دار بیان، الف لیلوی داستان جیسے جہادی قصوں، مکارانہ چرب زبانی، جھوٹی سچی اور من گھڑت معلومات اور ملا دو پیازہ مارکہ تک بندیوں کی جادوگری سے ایسا گرویدہ بنا لیا ہے کہ اب وہ زید حامد کے معاملہ میں کسی قسم کی حق بات سننے بلکہ اس کے خلاف ٹھوس حقائق پر بھی کان دھرنے کو تیار ہی نہیں ہیں. میں دعوت فکر و تحقیق دیتا ہوں اندھی تقلید کا شکار ان نوجوانوں کو جو زید زمان حامد کے شرمناک ماضی اور منافقانہ کردار سے ابھی تک بے خبر ہیں۔ زید حامد پر لازم ہے کہ وہ کہ وہ جھوٹے مدعیء نبوت یوسف علی کو ایک شریف انسان اور صوفی مسلمان قرار دینے کی بجائے علی اعلانیہ ملعون یوسف کذاب تسلیم کریں اورماضی میں اس کے حق میں اپنی ہر قسم کی قانونی و علمی خدمات سے توبہ کریں ۔ عالمی حالات و مستقبل کے حوالے سے نوسٹرا ڈومس کی طرح پیشین گوئیاں کرنا یا خود ساختہ الف لیلوی کہانیاں سنانا مجاہدی نہیں عیاری و شعبدہ بازی  ہے۔ امریکی سامراج اور بھارت کیخلاف جہاد کرنا ہے تو کشمیر میں عملی جہاد میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں۔ جہاد عالی شان بنگلوں کے ڈرائینگ رومز اور کرائے کے گھوڑوں پر نہیں ہوتا۔ اصلی مجاہد بننے کیلئے یہ سب ڈرامہ بازیاں چھوڑ کر اپنی کلاشنکوف کے ساتھ کشمیر  کا بارڈر کراس کرنا ہوگا۔ مگر یاد رہے کہ وہاں  کلاشنکوف تصویر کیلئے ڈرائینگ روم نہیں بلکہ دشوار گزار خونی راستے ملیں گے۔ اصل جہاد میں بندوقیں کیمروں کے سامنے سجانی نہیں  بلکہ سنگلاخ پہاڑوں اور سبز پوش  وادیوں میں موت کے سوداگروں اور صلیبی فوجیوں  کے روبرو و دوبدو چلانی پڑتی ہیں ۔

 آخر میں پیشن گوئیوں کے حوالے سے عالمی شہرت کے حامل نوسٹر ڈومس کی قبر کشائی سے متعلق اس دلچسپ مگرحیران کن سچے واقعہ کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کویاد کر کے پورا مغرب خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ یہ مئی 1791ء کا واقعہ ہے، جب فرانسیسی انقلاب اپنے عروج کے دور میں تھا، جب بڑے بڑے سر کاٹ کرظالم حکمران عبرتناک انجام کو پہنچے تھے۔ تین چرواہوں کے دماغ پر شراب کا نشہ ان کی عقل پر حاوی ہوگیا تھا مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ کوئی بدقسمتی انہیں دعوت قضا دے رہی تھی ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے نشے میں بدمست ہو کر ایک شہرہء آفاق فلکیات دان نوسٹرا ڈومس کی قبر کھودنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ وہ قبر ایک پرانے چرچ کے احاطے میں تھی جس میں رکھا لکڑی کا تابوت دو سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے گل سڑ چکا تھا۔ نشے میں دھت ان تینوں اشخاص نے قبر کھودی تو گلا سڑا تابوت ان کے سامنے تھا۔ تابوت کھلا تو جیت کی خوشی میں قہقہے لگانے والوں کی آواز ان کے حلق میں اٹک کر رہ گئی اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں. ان کی حیرت کی وجہ ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ڈھانچے کے گلے میں لٹکی پیتل کی وہ تختی تھی جس پر اس دن کی تاریخ یعنی سترہ مئی ء1791 بھی درج تھی ۔ تختی کی پشت پر صاحبِ قبر انجہانی نوسٹرا ڈومس نے حیران کن تفصیل سے اپنی قبر کھودنے کی پیشین گوئی ایک رباعی کی شکل میں یوں درج کی تھی، ۔۔۔۔ ” انقلاب کے دو سال بعد اور پانچویں مہینے میں ۔۔۔۔ تین نشئی پرانی قبر کھودیں گے۔۔۔۔ دو اسی رات مر جائیں گے ۔۔۔۔ اور تیسرا آخر تک پاگل رہے گا “ ۔۔۔۔ یہ رباعی پڑھ کر تینوں کا نشہ ایسا کافور ہوا کہ وہ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹے اور سرپٹ دوڑ پڑے مگر انقلابی پولیس نے انہیں بھاگتے ہوئے دیکھ لیا۔ انہیں انقلاب دشمن عناصر سمجھ کر ان پر سیدھی گولی چلا دی گئی ۔ جس کے نتیجے میں ان میں سے دو موقع پر ہلاک ہو گئے اور تیسرا شدتِ خوف سے مرتے دم تک پاگل رہا. یہ واقعہ مغرب اور سامراجی عوام و حکمرانوں کیلئے کسی ڈراؤنے خواب کی طرح خوف کا باعث اس لئے ہے کہ اٹل پیشن گوئیوں کے حوالے سے شہرت رکھنے والے اسی نوسٹرا ڈومس کی ایک اہم پیشن گوئی کے مطابق امریکہ اور مغرب کی آخری تباہی کا مرکزی کردار کا مرکز صحرائے عرب کے قریب کسی پہاڑی علاقے کے قریب و جوار میں فعال ہو گا ۔ شاید امریکہ اورمغرب کے مطابق ان کی تباہی کے حوالے سے توسٹرا ڈومس کا مذکورہ وہ جنگی مرکزممکنہ طور پر افغانستان اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے ہی قریب و جوار میں واقع ہے۔ زید زمان حامد اپنی مجاہدانہ دوکانداری اور ماڈرن نوسٹرا ڈومس بننے کے چکر میں  الف لیلی کی داستان جیسی تکے باز پیشن گوئیاں جاری رکھیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نوسٹرا ڈومس کی باقی سچی پیشن گوئیوں کی طرح یہ پیشین گوئی بھی ضرور پوری ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ واللہ علم بالصواب

( فاروق درویش – واٹس ایپ ۔ 03224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: