نظریات و مذاہبِ عالم

آئینہء قادیانیت ۔۔۔ مرزا قادیانی کی تحریروں کی روشنی میں


اللہ  سبحان و تعالی کے دین برحق کے  کھلے دشمن، منکرین قرآن و حدیث، نبیءآخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ و اہلِ بیت کے گستاخ مرزائیوں کے شاتمانہ عقائد اور  مکروہ سازشوں سے پردہ اٹھانے کیلئے یہ مفصل اور جامع تحریر پیش کر رہا ہوں تاکہ ہر اس مسلمان کو ان کے دجالی  مذہب کے بارے آگاہی ہو جو اس مذہب کے کافرانہ عقائد اور ان کی اسلام دشمن سوچ سے ابھی تک واقف نہیں ہیں۔ ان قادیانی کفار کو ان کے غلیظ  الزبان مرزا قادیانی  ہی کی لکھی ہوئی تحریروں کے آئینے میں دیکھئے، سوچئے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ زندیق   ہمارے دوست ہیں یا بد ترین دشمن؟ کیا یہ دل آزار، توہین آمیز اوراشتعال انگیز تحریریں مسلمانوں کیلئے قابل برداشت  ہیں اور امت مسلمہ ایسے لوگوں کو گوارا کر سکتی ہے؟ قادیانیت کے ان دجالی عقائد کو پڑھ کر آپ دوستوں کو بڑی حد تک اس بات کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان سے فرار ہو کر مغربی ممالک میں اپنے گورے مالکوں کی گود میں بیٹھے شاتمین ِ اسلام اور گستاخین ِ قرآن مرزائی اور جعلی آئی ڈیوں میں چھپے دینی اور ملی ہستیوں کی توہین کرنے والے قادیانی یہاں نیٹ پر اللہ سبحان و تعالی کی شان، قرآن حکیم کی عظمت، انبیا اکرام، صحابہ اجمعین اوراپل ِ بیت کی توہین میں کھلے عام غلاظت کیوں لکھتے ہیں۔ جو منافق مسلمان لوگ ادب اور سخن کے نام پران سے دوستیاں نبھاتےان کے ویب سائٹس پروموٹ کرتےاوران کے آلہ کار بن کر اسلام دوست اور محب وطن مسلمانوں کے بارے شر پھیلاتے ہیں ان کی دینی غیرت کس روشن خیالی میں گم ہے؟ ۔ ان کو اقلیت کے حقوق دینے والے سوچیں  کہ کیا یہ خود کو آئین پاکستان کے مطابق ” اقلیت “ ماننے کیلئے تیار ہیں یا  خود کو مسلمان اور اصل مسلمانوں کو “سرکاری مسلمان” جیسے القابات  دیکر آئین سے کھلی بغاوت کے مرتکب  ہوتے ہیں؟

قسطوں میں فراڈ اور عیارانہ دعوے

مرزا نے اپنی تصانیف میں تسلسل کے ساتھ اس قدر جھوٹ لکھا ہے جو ایک صحیح الدماغ شخص لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس نے قسط وار  دعوی در دعوی کیا۔  یہ بات مد نظر رہے کہ اس کے ہر سابق  دعوے سے مکر جانے کے بعد اگلے منصب کا دعویٰ اس کے پہلے دعوے کو باطل اور فراڈ ثابت کرتا رہا ۔

دعوی نمبر 1۔۔۔ پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔۔۔۔ تصنیف الاحمدیہ ج ۳ ص ۳۳ ۔۔۔
دعوی نمبر 2۔۔۔  پھر دوسرا دعویٰ محدثیت کا کیا۔۔۔۔۔۔
دعوی نمبر 3۔۔۔  اس کے بعد تیسرا دعویٰ مہدیت کا کیا ۔۔۔ تذکرہ الشہادتین ص ۲۔۔۔
دعوی نمبر 4۔۔۔ حیران کن طور پر چوتھا دعویٰ مثلیت مسیح کا کیا ۔۔۔۔ تابلیغِ رسالت ج ۲ ص ۲۱۔۔۔
دعوی نمبر 5۔۔۔  اور پھر  مسیح ہونے کا دعوی کر کے خود کو  ” ٹو اِن ون ”  قرار دینے کا مضحکہ خیز  اعلانیہ ہی نہیں، اپنے فاطر العقل ، مخبوط الحواس  اور جعلساز شعبدہ باز ہونے کا ثبوت   دیا ۔۔۔ اس حوالے سے  مرزا کا یہ بیان انسانی تاریخ کا  سب سے مسخرانہ بیان قرار دیا جا سکتا ہے ، جس میں مرزا کہتا ہے کہ ، پہلے میں  خود مریم بنا رہا اور مریمیت کی صفات کے ساتھ نشو و نما پاتا رہا اور جب دو برس گزر گئے تو  عیسیٰ کی روح میرے پیٹ میں  پھونکی گئی اور میں استعاراً میں حاملہ ہو گیا اور پھر دس ماہ لیکن اس سے کم مدت میں مجھے الہام سے عیسیٰ بنا دیا گیا ۔۔۔۔
کشتیِ نوح ۔۔۔ ص ۶۸ ۔ ۶۹۔۔۔۔۔۔۔٭ یہ احمقانہ دعوی بذات خود ایک لطیفہ سے کم نہیں ٭۔۔
دعوی نمبر 6۔۔۔ چھٹا دعویٰ ظلی نبی ہونے کا کیا ۔۔۔ کلمہ فصل ۔۔۔ ص ۱۰۴۔۔۔۔۔۔
دعوی نمبر 7۔۔۔ ساتواں دعویٰ بروزی بنی ہونے کا کیا ۔۔۔ اخبار الفصل۔۔۔۔۔۔
دعوی نمبر 8۔۔۔ آٹھواں دعویٰ حقیقی نبی ہونے کا کیا۔۔۔۔۔ ( تاریخ آدم و عالم و مذاہب میں کہیں پر  مرزا قادیانی کی ان خود ساختہ اصطلاحات  ”  ظلی اور بروزی ” نبی جیسی  کہیں  کوئی اصطلاح یا تصور نہیں
دعوی نمبر 9۔۔۔ نواں دعویٰ کیا کہ میں نیا نبی نہیں خود محمد ہوں اور پہلے والے محمد سے افضل ہوں انہیں ۳۰۰۰ معجزات دیے گئے جب کہ مجھے ۳ لاکھ معجزات ملے روحانی خزائن ۔۔۔ ج ۱۷ ص ۱۵۳۔۔۔۔۔۔

دعویٰ خدائی

نمبر  1۔۔۔ میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔
(آئینہ کمالات صفحہ ٥٦٤، مرزا غلام احمد قادیانی )
نمبر 2۔۔۔ خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں ۔
(نزول المسیح ص ٨٤)
نمبر  3۔۔۔  ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا ، گویا خدا آسمان سے اترے گا ۔ (تذکرہ ط ٢ص ٦٤٦(انجام آتھم ص ٦٢
(نمبر 4 ۔۔۔ مجھ سے میرے رب نے بیعت کی ۔ ( دافع البلاء ص ٦

نبوت کے جھوٹے دعوے

نمبر 1۔۔۔ پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔ (کلمہ الفصل صفحہ ١٥٨مصنفہ مرزا بشیر احمد ایڈیشن اول )
نمبر 2 ۔۔۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ٦٧مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ) میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔ (براہین احمدیہ صفحہ ٥٧ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )
نمبر 3 ۔۔۔ انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ۔۔۔۔۔۔ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی ۔۔۔۔۔۔ قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی تو کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہونگے ۔ (انوار خلافت، مصنفہ بشیر الدین محمود احمد صفحہ ٦٢)
نمبر ٤ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں ۔ (بدر٥مارچ 1908)
نمبر 4 ۔۔۔ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور میرا نام نبی رکھا ۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی ٦٨)
نمبر 5 ۔۔۔ اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں ۔ ( انوار خلافت صفحہ ٦٥)
نمبر 6 ۔۔۔ یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے ۔ حقیقت النبوت مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان ص ٢٢٨
نمبر 7 ۔۔۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا ، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں ، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ (کشتی نوح صفحہ ٥٦، طبع اول قادیان ١٩٠٢)

دعویٰ ِ نبوت سے انکار اور پھر مکر کر دعویٰ ِ نبوت

مرزا فروری ۱۸۹۴ کو اپنی کتاب روحانی خراین جلد۹ میں خود لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
” میں نے نہ نبوت کا دعوی کیا اور نہ ہی اپنے آپ کو نبی کہا ؛ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ میں دعوی نبوت کر کے اسلام سے خارج ہو جاوں اور کافر بن جاؤں “۔
اور پھر نبوت کا جھوٹا دعوی کرکے اپنے ہی لکھے اور کہے کے مطابق خود کو کافر ثابت کرتا ہے۔۔ اور ۔۔ کہتا ہے ۔۔۔

” سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا ”
دافع البلاء صفحہ ۱۱؛ خزائین جلد ۱۸ صفحہ ۲۳۱

اور پھرایک اور جگہ  ختم نبوت پر اپنے ایمان کے بارے خود لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔

”مجھے ہر گز ہر گز دعویٰ نبوت نہیں، میں امت سے خارج نہیں ہونا چاہتا۔میں لیلہ القدر ، ملائکہ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا انکاری نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا قائل ہوں اور حضور کو خاتم الانبیاء مانتا ہوں اور حضور کی امت میں بعد میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ نیا آئے گا نہ پرانا آئے گا”۔ 
آسمانی نشانی ص ۲۸

حتی کہ 17 مئی 1901  تک مرزا اپنی   نبوت سے صاف انکاری ہے اور اپنی کتاب ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۲۰ میں کھلا دھوکہ دیتے ہوئے یا مکاری سے دعوی نبوت سے انکار کرتے ہویے لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔۔
” مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعوی کرتا ہوں ۔ سو اس تہمت کے جواب میں بجز اسکے کہ لعنت اللہ علی الکازبین کہوں اور کیا کہوں؟ ”

اور پھر خود ہی قلابازی کھاتا اور ” ایک غلطی کا ازالہ ” نامی کتاب لکھ کر اپنے ہی بیان کردہ عقیدہء ختم نبوت سے منحرف ہو کر گویا یہ  ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ (معاذ اللہ) اس پر  پہلے اترنے والی وحی سے غلطی ہوئی تھی جس کی تصحیح کیلئے دوسری وحی اتری ہے۔ بلکہ پھر  مذید یہ دعوی کر دیتا ہے کہ۔۔۔۔۔

” اللہ نے مجھ پر وحی بھیجی اور میرا نام رسل رکھا یعنی پہلے ایک رسول ہوتا تھا اورپھر مجھ میں سارے رسول جمع کر دیے گئے ہیں۔میں آدم بھی ہوں۔ شیش بھی ہوں۔ یعقوب بھی ہوں اور ابراہیم بھی ہوں۔اسمائیل بھی میں اور محمد احمد بھی میں ہوں”

حقیقت الوھی ۔۔۔ ص ۷۲

تمام انبیاء کے مجموعہ ہونے کا دجالی دعویٰ

دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔ میں آدم ہوں ۔ میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ، میں اسحاق ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں اسماعیل ہوں ۔ میں داؤد ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں ، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ ( تتمہ حقیقت الوحی ، مرزا غلام احمد ص ٨٤)۔

نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر ختم ( نعوذ باللہ) ۔

اس امت میں نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں ۔ (حقیقت الوحی ، مرزا غلام احمد صفحہ ٣٩١)۔

نبیء آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین

نمبر 1 ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہو رتھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ٢٢فروری ١٩٢٤ )۔
نمبر 2 ۔۔۔ مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا ۔ ( بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ٢٦٦، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور
نمبر 3 ۔۔۔ اسلام محمد عربی کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا (خطبہ الہا میہ صفحہ ١٨٤)۔
نمبر 4 ۔۔۔ مرزا قادیانی کی فتح مبین آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے ۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ١٩٣
نمبر 5 ۔۔۔ اس کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا ۔ ( اعجاز احمدی مصنفہ غلام احمد قادیانی ص ٧١)۔
نمبر 6 ۔۔۔ محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں ۔ ۔ ۔ محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں (قاضی محمد ظہور الدین اکمل اخبار بدر نمبر ٤٣، جدل ٢قادیان ٢٥اکتوبر ١٩٠٦)۔
نمبر 7 ۔۔۔ دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔ (حقیقت الوحی ص ٨٩ از مرزا غلام احمد قادیانی)۔
نمبر 8 ۔۔۔ اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔ (کلمہ الفصل ص ١٠٥، از مرزا بشیر احمد )۔
(نمبر 9 ۔۔۔ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا ۔ ( دافع البلاء کلاں تختی ص ١١، تختی خورد ص ٢٣، انجام آتھم ص  ٦٢
نمبر 10 ۔۔۔ مرزائیوں نے ١٧جولائی ١٩٢٢ کے رسالہ  الفضل میں دعویٰ کیا کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔
نمبر11 ۔۔۔مرزا غلام احمد لکھتا ہے : خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ ( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ نمبر ١٠)۔
نمبر 12 ۔۔۔ منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد ۔ ۔ ۔ ترجمہ ! میں مسیح ہوں موسی کلیم اللہ ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور احمد مجتبیٰ ہوں ۔ (تریاق القلوب ص ٥

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

نمبر1 ۔۔۔ آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام )خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناء کار اور کسبی
عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ، حاشیہ ص ٧ مصنفہ غلام احمد قادیانی )۔
نمبر 2 ۔۔۔ مسیح (علیہ السلام ) کا چال چلن کیا تھا ، ایک کھاؤ پیو ، نہ زاہد ، نہ عابد نہ حق کا پرستار ، متکبر ، خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔ (مکتوبات احمدیہ صفحہ نمبر ٢١ تا ٢٤ جلد ٣)۔
نمبر 3 ۔۔۔ یورپ کے لوگوںکو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے ۔ (کشتی نوح حاشیہ ص ٧٥ مصنفہ غلام احمد قادیانی )۔
نمبر 4 ۔۔۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو ۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ (دافع البلاء ص ٢٠) ۔
نمبر 5 ۔۔۔ عیسیٰ کو گالی دینے ، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ص  ٥،٦)۔
نمبر 6 ۔۔۔ یسوع اسلیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن ، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کادعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ (ست بچن ، حاشیہ ، صفحہ ١٧٢، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )۔

۔٭ سیدنا عیسی علیہ السلام کے بارے بار ہا توہین کے باوجود عیسائیت کی طرف سے ان  قادیانیوں کو اپنے ممالک میں پناہ دینا اور ان کی سرپرستی کرنا مغربی دنیا کی بدترین منافقت اور مذہبی بے غیرتی ہے٭۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی توہین

پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو ۔ ایک زندہ علی ( مرزا صاحب ) تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علی ) کو تلاش کرتے ہو۔ (ملفوظات احمدیہ ، ١٣١جلد اول )۔

سیدہ  فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی توہین

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں ۔
( ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٩مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ کی توہین

نمبر1 ۔۔۔ دافع البلاء میں ص ١٣پر مرزا غلام احمد نے لکھا ہے میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بر تر ہوں۔
نمبر2 ۔۔۔ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ ٦٩)
نمبر 3 ۔۔۔  اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے ۔ (اعجاز احمدی صفحہ ٨١)
نمبر 4 ۔۔۔ کربلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین اس در گر یبانم ۔ ۔ ۔ میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے ۔ میرے گریبان میں سو حسین پڑے ہیں ۔ (نزول المسیح ص ٩٩مصنفہ مرزا غلام احمد )
نمبر 5 ۔۔۔  اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے ۔ (دافع البلاء ص ١٣، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )
نمبر 6 ۔۔۔ تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔۔۔۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ ( اعجاز احمد ی ص ٨٢، مصنفہ مرزا غلام احمد )
اس عبارت میں مرزا صاحب نے حضرت حسین کے ذکر کو “گوہ” کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔

ا٭ اہل بیت رضوان اللہ کے بارے ان تمام گستاخیوں کے باوجود اہل تشیع حضرات کی قادیانیوں سے حسن سلوکی اور برادرانہ روابط ایک سوالیہ نشان ہے٭

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توہین

نمبر1 ۔۔۔ حضرت مسیح موعود نے اسکے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے ۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔ (مرزا بشیر الدین محمود احمد مندرجہ حقیقت الرؤیا ص ٤٦
نمبر 2 ۔۔۔  قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا ۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٠حاشیہ)۔

 مسلمانوں کیلئے توہین آمیز القاب اور فحش گالیاں

نمبر1 ۔۔۔ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ (آئینہ کمالات ص  ٥٤٧
(نمبر2 ۔۔۔جو دشمن میرا مخالف ہے وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح ص ٤، تذکرہ  ٢٢٧
نمبر 3 ۔۔۔  میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔ (نجم الہدیٰ ص ٥٣مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)۔
نمبر 4 ۔۔۔  جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔
( انوارالاسلام ص ٣٠مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

اسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال

نمبر1 ۔۔۔ ام المومنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کیلئے کیا جاتا ہے ۔جبکہ شریعت میں یہ اصطلاح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کیلئے مخصوص ہے۔
نمبر2 ۔۔۔ سیدۃالنساء کی اصطلاح بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی کیلئے استعمال کی جاتی ہے حالانکہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے مخصوص ہے۔

دین اسلام کی توہین

قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی نبوت کے بغیر دین اسلام لعنتی ، شیطانی ، مردہ اور قابل نفرت ہے ۔
(ضمیمہ براہین پنجم ص ١٨٣، ملفوظات ص ١٢٧جلد١)

تمام مسلمان کو کافر قرار دیکر خود  کو زندیق ثابت کرنا 

نمبر1 ۔۔۔ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔ (حقیقت الوحی نمبر ١٦٣، از مرزا غلام احمد قادیانی )۔
نمبر2 ۔۔۔ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ (آئینہ صداقت ص ٣٥، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان )۔
نمبر 3 ۔۔۔  تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا ۔ (محمد علی لاہور قادیانی مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٠)۔
نمبر 4 … ہر ایک ایسا شخص جو موسی کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا ،یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (  کلمۃ الفصل ص 110  )۔

٭ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں کاروائی کے دوران جرح میں قادیانی خلیفہ کی طرف سے انہیں زندیقی عقائد پر مصر ہونے کے باعث قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا٭

حرمت  و نظریہء جہاد سے انکار

نمبر1 ۔۔۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔ (صفحہ ١٧ ضمیمہ بہ عنوان گورنمنٹ کی توجہ کے لائق شہادۃ القرآن )۔
نمبر 2 ۔۔۔  دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد ( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ٤١ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)۔

٭ جہاد کے بارے ان مرزائی عقائد کے باوجود قادیانیوں کا افواج پاکستان میں ملازمتیں کرنا بدترین منافقت کی عیاں مثال ہے٭

پاکستان پر قبضہ کرنے کے ارادے

بلوچستان کی کل آبادی پانچ لاکھ یا چھ لاکھ ہے ۔زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے پس میں جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگو ں کیلئے یہ عمدہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں ۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنالو تا کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔ ( مرزا محمود احمد کا بیان مندرجہ الفضل ١٣اگست ١٩٤٨)

قرآن مجید کی توہین

نمبر1 ۔۔۔ قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبانی کے طریق کے استعمال کر رہا ہے ۔ (ازالہ اوہام ص ٢٨،٢٩
نمبر 2 ۔۔۔  میں قرآن کی غلطیاں نکالنے آیا ہوں جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہو گئی ہیں ۔ (ازالہ اوہام ص ٣٧١)۔
نمبر 3 ۔۔۔  قرآن مجید زمین پرسے اٹھ گیا تھا میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں ۔ (ایضاً حاشیہ ض ٣٨٠)۔

اکھنڈ بھارت کا خواب

یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائیں ۔
(مرزا بشیر الدین محمود احمد ، الفضل ، ربوہ ، ١٧مئی ١٩٤٧)

 ٭ مرزا غلام قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود وہی قادیانی خلیفہ ہے جس کی  اپنی ہی کم سن بیٹی امت الرشید کے ساتھ زناکاری  قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے والے سابقہ مرزائیوں کے بیانات سے بھی عین ثابت ہے٭ 

یہاں میں آپ دوستو کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ قادیانی حضرات اپنے مردوں کو امانتا دفن کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اکھنڈ بھارت بننے کے بعد یہ اپنے انجہانی مردوں کی ھڈیاں بھارت میں واقع قادیان کے قبرستان میں جا کر مٹی میں دبائیں گے

اس سلسلے میں میرا یہ مضمون ،، چناب نگر کے انجہانیوں کا خواب اکھنڈ بھارت ،، ضرور پڑھئے گا جو مختلف جرائد اور نیٹ سائیٹس پر شائع ہو چکا ہے جس کا لنک ذیل میں دیا جا رہا ہے

چناب نگر کے انجہانیوں کا خواب اکھنڈ بھارت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان سے ازلی و ابدی دشمنی

اللہ تعالیٰ اس ملک پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا ۔ آپ (احمدی) بے فکر رہیں ۔ چند دنوں میں (احمدی )خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے۔
( مرزا طاہر قادیانی خلیفہ چہارم کا سالانہ جلسہ لندن ١٩٨٥)

اس مضمون کو تحریر کرتے ہوئے مرزا قادیانی اور اس کے تمام پیروکاروں کی کتابوں کے مکمل حوالہ جات ساتھ دیئے گئے ہیں تاکہ کوئی قادیانی اس تحریر کے حوالے سے کسی دروغ گوئی کا الزام نہ لگا سکے

اتحاد ِ بین المسلمین کا علمبردار

فاروق درویش

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

10 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • جزاک اللہ جناب فاروق درویش صاحب

    آپ نے قادیانی، مرزاءی یا لاہوری گروپ کے مکروہ، اور خلاف اسلام اور پاکستان دشمن عقاءد کو ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی ہی کتابوں، اخبارات و رساءیل کے آءنے میں پیش کیا ہے۔اس کے ساتح ساتح پاکستان کی پارلیمان بھی مرازاءی، قادیانی اور لاہوری گروپ کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔ لہذا آپ نے جو بحی تحریر فرمایا ہے۔ درست و بجا فرمایا ہے اور اس تحریر کو براہ راست نہیں تو بالواسطہ پاکستان کے بناءے گءے قانون کی توثیق کا درجہ حاصل ہے۔ لہذا آپ کی تحریر نہ صرف ملک پاکستان کی مسلمان اکثریت کے دینی جذبات کی ترجمان ہے بلکہ ایک حوالے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دینی حقوق کی ضامن ہے وہ اس لءے کہ نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بحر کے مسلمان ممالک پر مشتمل موتمر عالم اسلامی نے بھی ملعون و مردود مرزا غلام احمد قادیانی، اس کی ذریت اور اس کے غیر اسلامی عقاید کے باعث مرازاءی اور قادیانی جماعت کو داءری اسلام سے خارج قرار دے کر، کافر قرار دیا ہے۔

    درج بالا حقایق و معروضات کی روشنی میں یہ بلاگ ، یہ پوسٹ اور اس کا مصنف اور اس کی حامیت میں اپنی آراء سے نوازنے والے سب کے سب حق و انصاف پر ہیں۔ ایسی صورت میں وہ تمام شاعر، ادیب اور عام لوگ اس ضمن میں کسی شکایت کے حقدار نہیں اور ان کی شکایت مسترد قرار پاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کی شکایت پر کان دھرنے والا بھی خالف قانون و خلاف اسلام قرار پاءے گا۔

    اللہ محترم بھایئ، دوست، شاعر، ادیب، صحافی تنقید نگار، محترم فاروق درویش کے درجات کو بلند فرماءے، اور اس حقیر اور تمام مسلمانوں کی جانب سے دلی مبارکباد اور شکریہ قبول فرماءیں۔ جزاک اللہ

    نیز درخواست ہے کہ میری رپلاءی سے اوپر ایک ریپلاءی جو طارق عباسی صاحب کی ہے کی اصلاح فرما دیں تاکہ اس حق و صداقت اور شاءیستگی کے علمبردار صفحات کی حرمت پامال نہ ہو۔ میں محترم طارق عباسی صاحب کی دلی کیفیت اور اکراہ کو سمجح سکتا ہوں اور ہمدردی کا اظہار بھی کرتا ہوں، لیکن اپنے بھاءی کو یہ تلقین اور نصیحت کا بطور مسلمان حق بحی رکحتا ہوں کہ ایسی زبان مسلمان کے شایان شان نہیں ہوتی اور جذبات پر قابو پانا اور ان کا درست اظہار ہم پر لاگو ہوتا ہے۔ محترم جناب امید ہے کہ اپنی پہلی فرصت میں درخواست کو قبولیت بخشین گے۔ والسلام و علیکم

  • قبلہ دست بستہ ایک اور درخواست ہے کہ ہماری ریپلای کے ساتھ کسی قسم کی تصویر نہ ہونا چاہیءے۔ بلینک باکس ہی اچھا ہے۔ شکریہ

    • برادر ذی وقار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی بہت کوشش کی لیکن یہ مسلہ حل نہیں کر سکا ۔۔۔۔۔۔۔ احباب سے پوچھا تو انہوں نے اس کا یہ حل بتایا کہ آپ اپنی اس جی میل آئی ڈی سے اوتار اکاؤنٹ بنائیں اس میں جو تصویر آپ لگائیں گے وہی آپکے پروفائیل پر شو ہو گی ،،،،،،، میں بہت کوشش کرتا ہوں لیکن آپ کی تصویر آٹومیٹکلی اپلوڈ ہو جاتی ہے ،،،،،،

  • گرامی قدر۔ ۔ ۔ نہایت مشکور ہوں کہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر فوری تصحیح فرمائی اور تصویر سے متعلق راہنمائی فرمائی۔ اب اپنی طرف سے کوشش کرنا میرا فرض ہے۔ ویسے ہماری خواہش ہے کہ بعد مرنے کے میرے گھر سے صرف حسینوں کو لکھےگئے خطوط ہی بر آمد ہوں۔ بہت شکریہ

Featured

%d bloggers like this: