بین الاقوامی حالات حاضرہ

آئی ایس آئی کیخلاف امریکہ اسرائیل اور بھارت کی میڈیا یلغار


روس کیخلاف افغان جہاد سے لیکر وطن عزیز کو درپیش ہر ایک سنگین و  خون آشام صورتِ حال تک افواج پاکستان کی ناقابل فراموش قربانیاں اور قومی حساس اداروں کا لازوال کردار تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن ہی نہیں کہ امریکہ اور مغرب کیلئے افواج پاکستان کی انتھک جدوجہد اور آئی ایس آئی کے تاریخ ساز کردار کے بغیر روس کو شکست دینا ناممکن امر تھا۔ لیکن قابل صد مذمت امر ہے  کہ احسان فراموش حلیف مغرب و سامراج  اور پاکستان کے بدترین دشمن بھارت کا کاذب میڈیا نہ صرف اس جہدِ مسلسل اور قربانیوں پر پردہ ڈالتا ہے۔ بلکہ الٹا پاکستان، افواج پاکستان اور قومی خفیہ ادارے  آئی ایس آئی کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینے کی انتہائی مذموم مہم میں مصروف نظر آتا ہے۔ حالانکہ قدیم و جدید تاریخ بار بار یاد دلاتی  ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہمیشہ  مغرب و سامراج ہی رہا ہے۔ عالم اسلام کے ہاتھوں  پے در پے شکستوں کے انتقام کی آگ میں جلتے، مذہبی جنگی جنون میں مبتلا مغرب نے گیارویں صدی آخر سے لیکر تیرھویں صدی آخر تک خطہء عرب اور بالخصوص بیت المقدس پر قابض ہونے کیلیے جو جنگیں لڑیں انہیں تاریخ عالم میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مغربی ناقدین کو یاد رہے کہ ان جنگوں میں مسلمانوں نے کبھی بھی کسی عیسائی ریاست پر حملہ نہیں کیا، بلکہ پورے مغرب کے اتحادی لشکر ہی اپنے ممالک سے ہزاروں میل دور مسلم علاقوں  پر حملہ آور ہوتے رہے۔  بار بار ہزیمت آمیز شکستوں کے بعد انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے یورپ  نے دو صدیوں کے دوران نو بار دہشت گردی کا طبل جنگ بجایا۔ مگر ہر بار شرمناک شکست ان کا مقدر اور میدان جنگ کے قبرستان ان کا انجام رہے۔

احباب یاد رہے کہ آج جس طرح مغربی اور سامراجی میڈیا مسلمانوں کو ظالم اور دہشت گرد اور پاکستانی عسکری حلقوں کو دہشت گردی کے حامی  ثابت کرنے کیلئے سرگرم ہے۔ ایسے ہی کئی مغربی لوگ صدیوں سے سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے نامور مسلم حکمرانوں کو شدت پسند اور دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے زہر اگلتے رہے ہیں۔ لیکن عادلانہ و رحم دل کردار کے مالک ایوبی سلطان نے اپنے کردار و عمل سے ثابت کیا کہ بے شک اپنے مقامات مقدسہ کی بازیابی اور بیرونی جارحین کی سرکوبی کیلئے جہاد ایک حکم ربی فرض ہے۔ مگر اسلام زمانوں کیلئے امن کا دین اور انسانیت سے حسن سلوک کا آفاقی نظریہ بھی ہے۔ لہذا اس عظیم مسلم  فاتح  نے سقوط بیت المقدس کے وقت صلیبی لشکر کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے سنگین ظالمانہ سلوک کا انتقام نہیں لیا، بلکہ ہتھیار پھینکنے والے سپاہیوں اور شہریوں کے ساتھ انتہائی رحم کا برتاؤ کیا گیا۔ فتح بیت المقدس کے موقع پر ایوبی سلطان کی طرف سے یروشلم اور ملحقہ علاقے کے عیسائیوں کو چالیس دن کے اندر امن اور سلامتی کے ساتھ شہر سے نکل جانے کی اجازت دی گئی۔ اس رحمدل سلطان نے فدیہ کی انتہائی معمولی سی رقم مقرر کی اور جو لوگ وہ بھی ادا نہ کر سکے انہیں بغیر ادائیگی ہی شہر چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ بعض اشخاص کا زر فدیہ سلطان ایوبی نے اپنی طرف سے ادا کر کے انہیں آزادی دی۔ جبکہ دوسری طرف مذہبی بالادستی، تعصب اور انتقام کی بنیاد پر لڑی گئیں ان صلیبی جنگوں میں  مذہبی و نسلی تعصب ، بدعہدی  اور درندہ صفت سفاکی کا جو مظاہرہ، امن کے نام نہاد علمبردار مغرب کے ان جنگی جنونیوں نے کیا وہ امن اورانسانی حقوق کے جعلی ٹھیکیداروں کی پیشانی پر ایسا بدنما داغ ہے کہ جس کا  مرثیہ عالمی نقاد ہی نہیں خود مغربی مورخین بھی پڑھتے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے پاکستان کے تشخص اور حساس قومی ادارے آئی ایس آئی کیخلاف زہریلے پراپیگنڈا کی تشہیر کی ایک ایسی ہی قابل مذمت کوشش امریکی کیبل چینل ” شو ٹائم ” پر پیش کیا جانے والا مشہور امریکی ڈرامہ سیریل ” ہوم لینڈ ” ہے۔  امریکہ کے فوکس انٹرٹینمنٹ گروپ کی طرف سے تیار کردہ اس فتن انگیز ڈرامے میں پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک اور آئی ایس آئی کو اس کا اصل حکمران اور عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ اس ابلیسی ڈرامے کے عیارانہ ” مقاصد اور کہانی کی حقیقت ” کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی بنیاد ایک اسرائیلی ڈرامہ سیریل ” ہاٹوٹم” یعنی جنگی قیدی  اور مصنف  و ہدایتکار گیڈون رف بھی اسرائیلی ہے۔ قابل غور بات ہے کہ بھارتی فنکاروں نے بھی اس اینٹی پاکستان ڈرامے کے کئی اہم  کردار ادا کر کے اس ” مقدس اینٹی پاکستان مشن ” میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے ۔ ڈرامے کے اہم ترین حصے میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے زیر سایہ ایک دہشت گرد گروپ امریکی سفارتخانہ اسلام آباد پر حملہ کر کے چالیس امریکی سفارتکاروں کو ہلاک کردیتا  ہے۔ جس کے بعد امریکہ  پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ کر اپنا ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ” ففتھ فلیٹ ” نامی بحری بیڑا کراچی کی طرف روانہ کردیتا ہے۔ اس ڈرامے کی ہیروئین پاکستان میں تعینات سی آئی اے کی سٹیشن کمانڈر کیری میتھیسن ہے۔ اس پورے ڈرامے میں یہ خاتون اہلکار اپنے دیگر سی آئی اے ساتھیوں کے ہمراہ ہمیشہ پاکستان اور آئی ایس آئی کے بارے زہریلی اور قابل اعتراض گفتگو کرتی دکھائی دیتی آتی ہے۔ اس قابل مذمت ڈرامے میں  پاکستانی دفاعی اداروں اور خصوصی طور پر آئی ایس آئی کو دوغلے پن کے چیمپئن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان کے حساس اداروں کے بارے یہ زہر اگلا جاتا ہے کہ ایک طرف یہ ادارے دنیا کو دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف دہشت گردوں کو پالتے اور ان کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ قابل صد مذمت امر ہے کہ اس امریکی ڈرامے میں مملکت خداداد پاکستان، اس کے دفاعی اداروں ، حساس ادارے آئی ایس آئی ، سیاسی و قومی رہنماﺅں اور پاکستانی عوام کے بارے میں جو شرمناک اور غلاظت آلودہ زبان استعمال کی گئی ہے وہ  ناقابل بیان اور ناقابل برداشت ہے۔

اس اینٹی پاکستان ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ واشنگٹن میں ہر شخص پاکستان کو ایک بے وقعت، غیر اہم اور کرپٹ ملک قرار دیتا دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ امریکی خفیہ ایجنسی کا سربراہ پاکستان کو ایک حقیقی ملک کی بجائے محض ایک غلیظ جگہ اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کو ناقابل اعتبار اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے افراد کا مجموعہ قرار دیتا ہے۔ لیکن ارضِ پاکستان کو غلیظ جگہ کا نام دینے والے امریکی اپنے بارے یہ  سچی اور ناقابل تردید “غلیظ حقیقت ” بھول جاتے ہیں کہ ساٹھ فیصد سے زائد امریکیوں کا باپ ان کی ماں کا قانونی شوہر ہی نہیں ہوتا۔ اور پچاس فیصدی امریکی ایسے ہوتے ہیں جو مرتے دم تک اپنے باپ کے نام اور شناخت ہی سے لاعلم رہتے ہیں۔ ڈرامے میں آئی ایس آئی کی خاتون افسر کو انتہائی شرمناک طور پر ایک منفی ترین اور تاریک ترین کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قابل توجہ امر ہے کہ یہ مذموم و منفی کردار ایک بھارتی سکھ اداکارہ نمرت کور نے ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتی میڈیا پورنوگرافی کوئین وینا ملک جیسے ننگِ دین و ملت ” پاکستانی ہتھیار ” پاکستان اور آئی ایس آئی کی شہرت داغدار کرنے کیلئے استعمال کرتا رہا ہے۔ اس بے بنیاد اور من گھڑت پراپیگنڈہ مہم برانڈ ڈرامے ہوم لینڈ کی کل اڑتالیس اقساط چار سیزن میں پیش کی گئی ہیں۔ جس کے چوتھے سیزن میں خصوصی طور پر آئی ایس آئی کو انتہائی زہریلے پراپیگنڈا اور مغربی برانڈ کذب بیانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے پچھلے سیزنوں میں مشرق وسطیٰ کے سیاسی و عسکری حالات و معاملات کو بھی مغربی موقف اور سامراجی نظریہ و زاویہ سے دکھایا گیا۔ امریکی فاکس انٹرٹینمنٹ گروپ کے مطابق اگلے سال اس دجالی ڈرامے کا پانچواں سیزن پیش کرنے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔

 امریکی اور مغربی میڈیا پاکستان کے عسکری اور حساس اداروں کی لازوال قربانیاں اور عالمی امن کیلئے بے لوث خدمات بھلا کر ان کی مذموم کردار کشی کی جو مہم چلا رہا ہے۔ دراصل یہی احسان فراموشانہ خصلت ،  ان امریکیوں کے مفاد پرست، منافقانہ اور دوغلانہ کردار کی دلیل ہے۔ یہ امریکی کذب بیانیوں کی ہسٹری اور خود ساختہ کہانیوں کی انتہائی بری ساکھ ہی ہے کہ آج دس سال سے زائد عرصہ گذرجانے کے باجود کوئی ذی شعور انسان نائن الیون کے واقعات کی امریکی تحقیقاتی رپورٹ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں۔ دنیا آج بھی گوانٹا نامو اور ابوغریب کے امریکی ٹارچر سیلز میں ہونے والے انسانیت سوز تشدد اور سفاک مظالم سے جڑے ہوئے دہشت گردی کے امریکی ساختہ افسانوں کی پر اسراریت کے بارے سوال کرتی ہے۔ اور پھرعقل تھک ہار کر اس بات پر یقین کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ کویت عراق جنگ سے لیکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر دھماکوں تک ہر کہانی ایک فریب تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جڑے  امریکی برانڈ کرداروں کی ہر داستان الف لیلیٰ ایک امریکی انجینئرڈ مسلم کش ڈرامہ ہے۔ وہ  ٹی وی چینلوں پر دکھائے جانے والے امریکی ڈرامے ہوں یا عالمی سیاست میں امریکی توڑ جوڑ کے قصے، یہ سارے سلسلے فتنہ خیز سامراجی پراپیگنڈا مہم اور عالم اسلام کی سرکوبی کے بہانے کے سوا کچھ اور نہیں۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہوئی امریکی پالیسی اور طوائف کی طرح یار بدلتی ہوئی سی آئی اے  کی تاریخ دیکھیں تو یہی خدشہ رہتا ہے کہ مستقبل میں بھی وار اگینسٹ ٹیرر سے زبردستی جوڑی گئی ہر اگلی کہانی بھی قتل مسلم اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے وائٹ ہاؤس میں تیار کردہ ایک خود ساختہ بہانہ ہو گی۔ پاکستان کے دفاعی اداروں کیخلاف ہر امریکی پراپیگنڈا مہم، دراصل ہمارے عسکری و قومی اداروں کیخلاف منافرت پھیلانے ، امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو نظریاتی محاذوں پر تقسیم کرنے کی مذموم کوشش ہوتی ہے

احباب وطن عزیز جن کٹھن اور خون آشام حالات سے گزر رہا ہے، وہ قومی یکجہتی و ملی اتحاد  کے متقاضی ہیں۔ ایک پشاور سکول جیسا سانحہ ہی صدیوں تک نہیں بھلایا جا سکتا کہ ڈیڑھ سو سے زائد ماؤں کی گودیں اجڑ کر زندگیاں درد بن کر رہ گئیں ۔  سینکڑوں خاندان ایک کبھی نہ بھولنے والی وحشت و بربادی کی المناک داستاں کا حصہ بنکر نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ملت اسلامیہ اور پاکستان کے دشمنوں کی سازش و خواہش کے عین مطابق ہماری قوم تقسیم در تقسیم کے بھیانک عمل سے دوچار ہے۔ قوم سے التجا ہے کہ خدارا دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شعیہ سنی منافرت کے امت کش عوامل و ردعوامل کے مذموم سلسلے بند کیجئے۔ ” تیرا شہید اور میرا شہید ” کی بحث و معاملات قدرت پر چھوڑ دیجئے کہ جب تک اتحادِ  قوم و ملت نہیں، پائیدار امن ممکن ہی نہیں۔ پاکستانی قوم امریکی اداروں اور مغربی میڈیا کی طرف پاکستان عسکری اداروں کیخلاف زہریلی پراپیگنڈا مہم کو اپنی ٹھوکر پر رکھتی ہے۔ اس غیور قوم کی نظر میں افواج پاکستان کا ہر سپاہی و آفیسر اور آئی ایس آئی کا ہر اہلکار اس عظیم صلاح الدین ایوبی کے نقش قدم پر گامزن ہے جو ملک و ملت کا جری و بیباک مجاہد  مگر پر امن عالم انسانیت کیئے امن و عدل اور رحم دلی کا پیغام بر تھا۔ حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر انہیں شیروں کیلئے ہے کہ ” ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم ۔ رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن”۔

( فاروق درویش ۔۔ 0092.3224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: