حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

کینیڈا فرار سے پہلے اور فرار کے بعد


یہ نوے کی دہائی میں حبیب بنک منہاج القرآن برانچ میں میری تعیناتی کے دور کا وہ چشم دید و چشم کشا منظرہے جو آنے والے دور میں مغرب و سامراج کا فتنہء دجالی بن کر ابھرنے والے اک ننگِ دین و ملت کے ارتقائے فتن کا ہوش ربا آغاز تھا۔ بینک کا پچھلا دروازہ منہاج القرآن بلڈگ کے خوبصورت باغیچے میں کھلتا تھا۔ سو دفتری کاموں کی تھکن کے بعد کھانے کے وقفہ  میں کچھ دیر کیلئے اس سرسبز و گل رنگ ماحول میں دماغ ترو تازہ کرنا اورادارہ منہاج القرآن کے ملازمیں سے گپ شپ لگانا ہم سٹاف ممبرز کا روزمرہ کا معمول تھا۔ اور پھر ایک دن ۔۔  جب پھولوں سے لدے باغیچے سےمتصل عمارت کے چار سو ماحول پرسکون اور زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ قصرِ انقلاب کے ہرکارے نے شاہ کی آمد کے اعلان کی گھنٹی بجائی اور ماحول پر یکدم اک سناٹا سا چھا گیا۔ اٹنشن ہوئے پرائیویٹ کمانڈوزکے فرش پیٹتے ہوئے بوٹوں کی ہیبت ناک آوازوں سے چاروں اطراف موجود چڑیوں اورکبوتروں کے طوطے اڑ گئے۔ مرکزی کمرے کے دروازے کے سامنے ہاتھ باندھے اور سر جھکائے با ادب خادمین کی لمبی قطار لگی۔ کمرے سے دس بارہ خوش لباس خادمین کے ساتھ جدید اسلحہ سے مسلح کمانڈوز نے منظم حفاظتی حصار بنایا۔

اور پھر دسمبر کی سردی میں ٹھنڈے ٹھار دل بہار برامدے کی چھت کے سائے میں کسی نادیدہ و پراسرار دھوپ کی تمازت سے بچانے کیلئے دلہن کے لباسِ عروسی سے حسین تر موتیوں اور زرگاری سے مزین پرشکوہ سرخ و سبز چھتری کے سائے میں جدید ترین دینِ اکبری کا ایک شیخ الاسلام ایسے نمودار ہوا، جیسے مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے درباریوں کے ہمراہ کسی گرو کی ارتھی پرحاضری دینے نکلا ہو۔ موصوف کےعین پیچھے سفید ریشم و کمخواب سے بنی مخملی جھلنیاں جھلتے ہوئے خوش پوش خادمین دیکھ کر سکھ مصورین کی بنائی گئیں بابا جی گورو بانک اور مہاراجہ رنجیت سنگھ  کی وہ تصاویر سامنے آ گئیں جو آج بھی لاہور کے شاہی قلعہ اورعجائب گھر میں محفوظ و آویزاں ہیں۔ اور پھر وہ مذموم منظر اس نام نہاد شیخ الاسلام کے بارے وہ سب خوبصورت نقوش مٹا گیا جو پچھلے دس برس میں اس صاحبِ منافقت کی چرب زباں ٹی وی تقاریر نے میرے دل و دماغ پر ثبت کئے تھے۔ مابعد میں نے اسی برانچ میں موصوف کا وہ انعامی بانڈ فراڈ بھی دیکھا جس کا احوال میں دو برس قبل ان کی پہلی آمد کے موقع پر لکھی اپنی ایک تحریر میں بیان کر چکا ہوں۔

افسوس  کہ ان کی  شعبدہ بازیوں  سے متاثر ہو کر  معصوم احباب ان صاحبِ نوسربازی کے انقلابی پینتروں کی تاریخ گردانی کریں تو ان کی شعبدہ بازی سے ہوشیار ہوں۔ موصوف کی طرف سے دین اسلام اور قرآنی عقائد سے شدید متصادم دجالی فتووں کی بدترین مثال یہ ہے کہ کینیڈا میں اربوں کے بینک اکاؤنٹ رکھنے والے یہ صاحب اپنے آقاؤں کو خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کینیڈا میں رہنے والے مسلمانوں پر سود کی لعنت کو بھی اعلانیہ حلال قرار دے چکے ہیں۔ میں اس شعبدہ باز کی طرف سے نبئ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے  وابستہ کی گئیں ان من گھڑت خوابوں کے ڈراموں  کا مکرر در مکر ذکر نہیں کروں گا جو موصوف کی طرف سے ضعیف العقیدہ اور بنا تحقیق مان لینے والے لوگوں کی جذباتی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے مذہب کے نام پر گھٹیا ترین فراڈ ، کھلی گستاخیء رسالت اور توہینِ مقام نبوت ہیں۔ مگر یہ ضرور یاد دلاؤں گا کہ 2003 ء میں آپ نے فرد واحد کی آمریت کے خلاف قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تو فرمایا کہ میں سیاست پر ہمیشہ کیلئے لعنت بھیجتا ہوں، میرا مقام سیاست سے بہت بالا تر ہے۔ یہ بھی انہی کا کاذب مطلق کا قول تھا کہ میں کبھی بھی پاکستان سے باہر نہیں بھاگوں گا، اسی پاکستان ہی میں میری قبر بنے گی۔ لیکن مابعد وہ حسب معمول اپے وعدوں سے منحرف ہو کر پاکستان سے بھاگ کر کینیڈا کے شہری بنے اور سیاست سے نکل کر اس سیاہ ست میں گھس بیٹھے جس کا عروجِ منافقت آج ہم سب کے سامنے ہے۔

بندہء مسلمان کو یاد رہے کہ 2006ء میں ڈنمارک سے نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع ہوئے تو اسی انقلابی مولوی صاحب نے اقوام متحدہ کو وہ احتجاجی مراسلہ بھیجا، جس کے ساتھ دس لاکھ لوگوں کے دستخطوں کا پندرہ کلومیٹر طویل بینر بھی نتھی کیا گیا تھا۔ ان توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے اسی دو رنگی شیخ الاسلام نے امریکہ، برطانیہ، ڈنمارک، ناروے اور دوسرے مغربی ممالک کو ’’دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے‘‘ کے عنوان سے ایک مراسلہ بھی جاری کیا۔ لیکن جب ان کے افکار میں ایک مغرب کا عطا کردہ شیطانی انقلاب آیا تو انہوں نے دین و ملت اور وفائے پیغمبر کا غدار بن کر ڈنمارک میں ٹی وی انٹرویو میں یہ فتویء دہر دے دیا کہ ڈنمارک میں  توہین آمیز کارٹون والے کو توہین رسالت کے تحت سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس فتنہ گر کا خود میں برپا ہونے والا انقلاب یہ تھا کہ خود توہین رسالت کے قانون کا اکلوتا ماما قرار دینے والے اس دین فروش شعبدہ باز نے  مختلف ٹی وی انٹرویو میں توہین رسالت کے قانون سے بالکل لاتعلقی کی اعلان کر دیا۔

فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پر انہی قادری صاحب کی وہ ویڈیو گردش میں رہی جس میں وہ امریکی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو میں توہین رسالت کے قانون سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو بنانے میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ جبکہ ایک پاکستانی چینل پر اپنے ایک پرگرام میں وہ کہتے ہیں کہ توہین رسالت کا قانون بنایا ہی انہوں نے ہے اوراس کے بنانے میں تنہا انہی کی کوششیں رہی ہیں۔ حقائق یہی ہیں کہ ان میں ایک دجالی انقلاب اس وقت برپا ہوا جب وہ پاکستانی سیاست سے نکل کر یہودی لابی کی دیس کینیڈا اور امریکہ کی مخملی گود کی پناہ و آشیرباد میں بیٹھ کر ان کے پسندیدہ اسلامی سانچے میں ڈھل گئے۔ انہوں نے ایک پروگرام اور ذاتی مشن کے تحت پچھلے کئی برسوں سے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو روشن خیالی اور مغرب رسیدہ اسلامی برانڈ انٹرویو دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور یوں بالآخروہ سامراجی۔ مغربی اور یہودی لابیوں پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے کہ وہ انتہا پسند مولوی نہیں بلکہ ان کے پسندیدہ رنگ کے روشن خیال مولوی ہیں اور طالبان کے نطریات سے سخت اختلاف رکھتے ہیں۔

 اس قسم کے دجالی انٹرویوز ہی کے ذریعے انہوں نے امریکی ایوانوں، یہودی آقاؤں اور مغربی فتنہ گروں کی توجہ اور آشیرباد حاصل کی اور پھر امریکی و مغربی خفیہ ایجنسیوں کی شہہ پر پاکستان میں انقلاب انقلاب کا وہ نعرہ لگایا جو درحقیقت اسلام کو صلیبی و یہودی رنگ میں ڈھالنے اور دیس کے امن کو تباہ و برباد کرنے کا سامراجی مشن ہے۔ امت مسلمہ کو یاد رہے کہ یہ وہی صاحب منافقت ہیں جنہوں نے 2009ء میں اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی غزہ کی تباہی کے بعد متاثرین غزہ کیلئے امدادی سامان بھی روانہ کیا گیا مگر پھر ان کی فطرت میں ایک یہودانہ انقلاب ابھرا اور 2012 اور حالیہ اسرائیلی دہشت گردی میں شہید ہونے والے معصوم فلسطینیوں کیلئے ان کی زبان گونگی اور آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ انہوں نے یہود و نصاری کی طرف سے جاری کردہ فنڈزسے اپنے کنٹینری شوز کیلئے اربوں ڈالرز خرچ کر ڈالے مگر فلسطییوں کی امداد کیلئے ایک دمڑی بھی خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

قوم کا مطالبہ ہے کہ اس انقلاب کے راہنماؤں اور حوارین کی طرف سے کھل کر بتایا جائے کہ یہ کیا تماشہء عجوب و اسرار ہے کہ اس انقلابی پروگرام کے منشور سے خود اس کے انقلابی مجاہد بھی واقف نہیں۔ اس انقلابی مشن کے فیض سے راہ جاتے ہی برکتیں لوٹنے کے امیدوارخان صاحب اور ان کے دوسرے حواری بھی اس صاحبِ فساد کے انقلابی مارچ کی اصلیت و سمت بتانے سے قاصر ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ خدا نخواستہ یہ صلیبی برانڈ انقلابی پروگرام، مبینہ سامراجی پروگرام کے مطابق فتنہ و فسادی پروگرام بن کر کہیں خان صاحب کے ساتھ کمبل پروگرام بن کر ہی نہ چمٹ جائے۔ مقام حیرت ہے کہ نہ تو یوم آزادی پر جلاؤ اور گھیراؤ کے صلیبی مشمن پر گامزن مقدس شرپسند جانتے ہیں اور نہ ہی ان کا امام ِکوفہ و حلیفان ِ فتنہ یہ بتا پا رہے ہیں کہ یہ انقلاب آخر کس بلائے دشت یا عطائے ہست کا نام ہے۔ یہ انقلاب ہو گا شنقلاب ہو گا، ڈنقلاب یا محض انارکی و خون خرابہ پھیلانے کیلئے سب صلیبی بغل بچوں کا وہ لگڑ بگڑی خونقلاب جو ملکی خانہ جنگی کی راہ ہموار کرے گا۔

کیا طرفہ تماشہ ہے کہ انقلابی مجاہدین خود بھی نہیں جانتے کہ انقلاب کا یہ تحفہء تمسخر و ظرافت اسلامی ، کرسمسی، بال ٹھاکری یا الف لیلی کی نگری کا طلسمسی شو ہو گا۔ یہ انقلاب خوابوں کی نگری سے اترنے والا معاشی انقلاب ہو گا یا کسی پیر آف لندن شریف اور بال ٹھاکرے کے نظریاتی وارثوں کے الہاموی آسمان سے نئے جناح پور اور بلوچ لینڈ کے نقشے لائے گا۔ یہ انقلابی پروگرام ملک کے معاشی حالات درست کر کے بیروزگاری دور کرنے آیا ہے یا پھر ملک میں آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی غیر ملکی سرمایہ کاری سے خائف امریکی بادشاہ گروں اور بھارتی لابی کو نامنظور چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے بھگانے در آیا ہے۔  حرف آخر یہی ہیں کہ قادری برانڈ انقلابی پروگرام  مغربی استعمار اور ہندوتوا کے بتوں کا  ڈیزائن کردہ قاتلِ امن قاتلِ قوم شو ہے۔ اور خود میاں نواز شریف کی  بچگانہ سیاسی بصیرت، رانا ثنا اللہ ، نجم سیٹھی اورعاصمہ جہانگیربرانڈ مسخرہ نما مشیروں کے آمرانہ  رویوں اور حکومت پنجاب کی مادر پدر آزاد بیوروکریسی کے بلا جواز جابرانہ اقدامات کی بدولت رائی سے پہاڑ بنا ہے۔

قومی سلامتی کے ادارے اور عوام  بھولے نہیں کہ  اسی صلیبی جادوگر نے ” جو اسلام آباد سے ناکام واپس لوٹے اسے شہید کر ڈالو” کا  پیغام دیکر قتل و غارت اور خانہ جنگی کا طبلِ نحوست بجایا تھا۔۔ اور اسی شعبدہ باز کو بناوٹی شوق شہادت بھی سب سے بڑھ کر ہے۔ اور دیکھا جائے تو  اب کسی انقلاب کی کامیابی  بھی قادری صاحب کی عظیم شہادت سے مشروط ہو چکی ہے۔ عمران خان صاحب کے وزیر اعظم بننے کیلئے اب دیارِ وطن میں ” آئے گا بھئی آئے گا ۔  قادری تیرے خون سے انقلاب آئے گا ” کے جنوں خیز نعروں کا گونجنا  ضروری ٹھہرا ہے۔  کہ اب قادری صاحب کے خون کی زکواۃ ہی سے خان صاحب کی سیاسی حیات وابستہ ہے۔  لیکن  شہادت کے یہ طلبگار  حضرت صاحب  اب تو کینیڈا سے جدید تربیت یافتہ سپر کمانڈوز بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ۔ ظاہر ہے پیر صاحب اب نیٹ کیش کی لمبی چوڑی وصولی کیلئے جو  آتے ہیں۔  ۔

فاروق درویش ۔۔واٹس ایپ۔۔ 00923224061000۔

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: