بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

جزیرہء عرب سے بیدخل یہودیوں کا انتقام


گیارویں صدی میں صلیبی جنگوں کے آغاز سے اب تک سامراج اور مغرب کی مذہبی جنونی قیادت اور ذرائع ابلاغ اکثر اسلامی شخصیتوں کو” جنوبی ملّاؤں” کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ حتی کہ فتح بیت المقدس  کے تاریخی موقع پر شکست خوردہ عیسائیوں کے ساتھ انتہائی  رحم اور فیاضی کا سلوک کرنے والا سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا عظیم مسلمان فاتح حکمران بھی مغربی مورخین کے کاذبانہ و زہریلے پراپیگنڈے اور نفرت آمیز القابات  سے محفوظ نہیں رہا۔ لیبیا کے کرنل قذافی، عراق کے صدر صدام حسین اور فلسطینی رہنما یاسرعرفات جیسے مسلم رہنماؤں کو ناقابل یقین بھیانک کرداروں کے طور پر پیش کرنے کے بعد ہولناک عالمی سازشوں کے تحت زبردستی ” درندہ صفت دہشت گرد  ” ثابت کر کے صفحہء سیاست و ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ اپنے مذہبی و سیاسی قائدین، مذہب اور تہذیب و تمدن کی اس توہین کے جواب میں مسلمانوں کی اکثریت سامراج و  مغرب کو  فرعونوں کی سرزمین سمجھنے لگی ہے۔ مذید خطرناک صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ہے کہ جب پورا مغرب ایک گھناؤنی سازش کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر پے در پے حملے کرنے والے  گستاخین کا پوری ڈھٹائی کے ساتھ  دفاع کر کے امت مسلمہ کی دل آزاری کرنے میں مصروف ہے۔ جبکہ  حرمینِ شریفین کی سرزمین کی ہمسائیگی میں حوثی باغیوں کی عسکری قوت کو سامراج و مغرب اور ایران کی طرف سے مبینہ امداد ، عالم اسلام کی مذہبی و  ثقافتی اقدار اور مقدس مقامات کیلیے شدید  خطرات کی حامل تصور کی جا رہی ہے۔

یمن میں جاری حالیہ بغاوت اور خونی خانہ جنگی سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال، خطے میں القائدہ اور داعش کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کے باعث انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عراق و شام اور لیبیا کے ساتھ ساتھ  پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں اور بلوچستان میں ہمسایہ اسلامی ملک ایران کی مبینہ مداخلت سے عالم اسلام اور خصوصاً پاکستانی عوام کے دلوں میں ہمسایہ ملک ایران کے حوالے سے شدید تحفظات اور بے یقینی کی کیفیت جنم لے رہی ہے۔ ایران کا امریکہ اور دوسرے ہیوی ویٹ ممالک کے ساتھ حالیہ ایٹمی معاہدہ ” خوش اسلوبی ” سے طے پانے کے بعد ، ایران امریکہ کی دیرینہ چپلقش  کو ” دھوکہ منڈی کا کاروبار ” قرار دینے والے احبابِ علم و دانش کا یہ دعوی سچا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران دراصل عالم اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی عالمی سازش کے مبینہ حلیف ہیں۔ اس صورت حال میں عالم انسان میں بین المذاہب طبقات ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں بین المسالکی باہمی بے اعتباری اور خوف و ہراس کی فضا طاری ہے۔ یہ کیفیت ایک طرف غیرمسلم قوتوں اور دنیائے اسلام اور دوسری طرف عالم اسلام میں بین المسالک مفاہمت کے راستے کی انتہائی خطرناک  رکاوٹ بن رہی ہے۔

 آج مسلمانوں کے قتل عام کیلئے متحرک  امریکہ اور اسرائیل کسی بھی قیمت پر ایران اور سعودی عرب کے فوجی ٹکراؤ کیلئے سازشوں کے فتنہ خیز جال بچھائے بیٹھے ہیں۔ اور اول و آخر مقصد یہ ہے کہ عالم اسلام میں شیعہ سنی فسادات کے شعلے بھڑکیں تو خاکم بدہن حرمین الشریفین کے حوالے سے ان کے مذموم ارادے کامیاب ہوں ۔ یاد رہے کہ یہودیوں کا دجالی موقف اور دیرینہ منصوبہ ہے کہ مسلمانوں کے نبیء آخر الزمان  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں جزیرہء عرب سے بیدخل کرنے کا حکم دیا تھا، لہذا وہ حرمین شریفین پر قبضہ کر کے اپنا انتقام لیں گے۔ کینہ پرور گروہ  آج بھی دور نبوت میں مسلمانوں کے ہاتھوں مدینہ کے فتنہ پرور یہودی قبائل بنی قریظہ، بنی النضیر اور بنی قینقاع کی ہزیمت ناک شکستوں کا بدلہ لینے کیلئے بے چین ہیں ۔ اپنے اسی ناپاک مقصد کو عملی جامع  پہنانے کیلیے وہ  ہر طرح کی اسلام مخالف سرگرمیوں و سازش اور ایران جیسی ہر ننگِ اسلام  قوت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

افسوس کہ اس سنگین صورت حال میں بھی کچھ  مذہب دشمن طبقات پاکستان کی طرف سے برادر اسلامی ملک اور قابل اعتماد  دوست سعودی عرب کی سیاسی و عسکری حمایت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے  لابنگ میں مصروف ہیں۔ عجب طرفہء تماشہ ہے کہ ایسے سیاسی گروہوں اور  طبقات میں بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر و  بھتہ خور مافیے اور سیکولرازم کی سیاست کرنے والے پریشر گروپوں کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کے بدترین دشمن فتنہء قادیانیت و فتنہء این جی اوز جیسے ” مغربی بچے جمورے” پیش پیش ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عقل کے اندھے سیاسی مبصرین ،  ہندوتوا کے غلام روشن خیال ، ” بیمارانِ روح” اینکر حضرات، صیہونی فتنہ گروں اور ان کے سرپرست سامراجی خداؤں کے غلام ابن غلام سکالرز ، اس اندھے صیہونی شیش ناگ کی حرمین شریفین کی طرف دجالی پھنکار کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں یا ہر طرح کے سنگین حالات میں سعودی عرب کی ہر حال میں دلیرانہ امداد کے احسان عظیم کے جواب میں اس درجہ احسان فراموشی کی  ترغیب دی جا رہی ہے؟

شام عراق اور لیبیا میں جاری خانہ جنگیوں سے   عالم اسلام  کو خون رنگ سیاست میں الجھا کر اپاہج و مفلوج بنانے کیلئے امریکہ و اسرائیل اور ان کے اتحادی مغربی نیٹو  کی طرف سے جن بدبختانہ سازشوں کا تسلسل قائم ہے،  وہ شام و عراق اور لیبیا سے ہوتا ہوا اب  حجاز مقدس کے پڑوس یمن تک جا پہنچا ہے۔ جبکہ یہود و نصاریٰ کا اصل حدف بھی مسلمانوں کیلئے اول و آخر قلوب و جانان یہی حرمین شریفین ہیں ۔ ایران کو شہہ دیکر  حرمین شریفین کی سرحدوں پر باغیوں کو مالی و عسکری مدد فراہم کر کے خونی شورش برپا کروائی جارہی ہے۔ کیا ہم نائن الیون کے بعد  صدر بش کی طرف سے قدیم صلیبی جنگوں کا  جذبہء جنگ و جدل تازہ کرنے کی اسلام مخالف تقریر بھول چکے ہیں؟ کیا ہمیں افغانستان میں لگے گہرے زخموں کو چاٹنے والے  مغربی نیٹو ممالک کی طرف سے سامراج کی حلیفی کے پس پردہ اسلام دشمنی کے نسل در نسل ترو تازہ  جذبات دکھائی نہیں دیتے؟

افسوس کہ ہمارے ملکی سیاستدان ، مذہبی شعبدہ بازی کے نام پر سیاست کرنے والے نام نہاد دانشور، صاحبان علم و حکمت اور میڈیائی مسخرے ” سب سے پہلے پاکستان” کی گردان میں ” سب سے پہلے ہم اور ہمارے بینک اکاؤنٹ ” کا گھناؤنا کاروبار کر رہے ہیں ۔ ہائے کہ آج سلطان صلاح الدین ایوبی کا وطن اغیار کی مسلط کردہ خانہ جنگی میں تیر و تاراج اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ و سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ کا مقدس دیس اغیار دشمن  کے ساتھ ساتھ اپنوں ہی کی لگائی ہوئی آگ کے ہولناک شعلوں میں گھرا ہوا ہے ۔ ہائے کہ شہاب الدین غوری اور محمود غزنوی کی سرزمین سامراج اور مغربی عسکری پسندوں کے ہر جدید ترین اسلحہ کی خونی تجربہ گاہ بن کر ملیا میٹ و کھنڈرات بن چکی ہے۔ مگر راجہ داہر و رنجیت سنگھ کے سیکولر پرستار اور سومنات کے پجاریوں کے حواری امریکی اور اسرائیلی مفادات کے زرخرید  اداکار بن کر سعودی عرب کا ساتھ دینے کی مخالفت میں شور و واویلا مچا رہے ہیں۔ دنیا نے یہ تماشہء قدرت  دیکھ چکی  ہے کہ غوری وغزنوی کے غریب الحال افغان بیٹوں نے سبز و سنگلاخ کوہساروں کی سرزمین افغانستان میں اپنے آبا و اجداد کی لاج رکھی۔ اور تمام تر طاقت و حشمت کے باوجود عالمِ صلیب اور صہیونی گماشتین رسوا و نا مراد رہے ۔

 گذشتہ کئی صدیوں سے عالم انسان کو ہولناک جنگوں کے شعلوں میں جھونکنے والے امریکی اب اپنی ممکنہ اقتصادی کنگالی سے بچنے کیلئے خطہء عرب کی قدرتی دولت  تیل پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ سامراج و مغرب کا معاشرتی نظام فحاشی و عریانی کے تعفن میں ڈوب کر اپنی ہی گردن پر چلنے والا خونخوار خنجر بن چکا ہے۔ قدرت کا اگلا تماشہء عبرت انشاللہ العزیز دشمنانِ اسلام اور عدوئیں پاکستان کی طاغوتی ریاستوں کے بتان دہر  گرنے اور معاشی نظاموں کے تباہ ہونے کا ہو گا۔ صلیبی و صہیونی پالیسی ساز ادارے اور سیاسی و معاشی مبصرین بھی اس حقیقت سے خوب واقف  ہیں کہ اسلام دشمنی پر بے دریغ سرمایہ ضائع کرنے والا سامراجی امریکہ  اور مغربی ممالک اب تیزی سے ابدی معاشی تباہی کی طرف گامزن ہیں ۔ مستقبل میں معاشی تباہی و  بربادی اور دیوالیہ ہونے کے خوف کا شکار امریکہ اور مغربی اتحاد  کے مونہہ سے  خطہء عرب کی دولت  تیل و گیس اور دیگر معدنی ذخائر کیلیے رال ٹپک رہی ہے ۔

دنیا جانتی ہے کہ یمن کے عسکری پسند قبائل اور بلوچستان میں بغاوت کرنے والے عسکری گروہوں کو ایران اور افغانستان میں امریکی کیمپوں میں تربیت دی جاتی رہی  ہے۔ اس حوالے سے مغرب، اسرائیل اور بھارت  کی جانب سے ڈالروں کی بارش ہوئی اور پاکستان کا بدن لہو لہو اور یمن کا سینہ چھلنی ہے ۔ ذرا سوچیے کہ وہ کن طاقتوں کی شہہ ہے کہ ایران ایک ایٹمی قوت پاکستان میں دراندازی اور فوجی چوکیوں پر حملے کر کے ہمارے جوانوں کو شہید کر دیتا ہے۔ شام میں شیعہ سنی فرقہ واریت پروان چڑھائی جاتی ہے تو ایرانی جرنیلوں کو عراق و شام میں بہادری کے کارناموں پر فوجی تمغات و ایوارڈ بھی  دئے جا رہے ہیں اور ساتھ یہ دعوی ء عجب بھی ہے کہ ایران تو عراق اور شام میں کوئی مداخلت ہی نہیں کر رہا ؟  مصدقہ حقیقت ہے کہ صہیونی اور مغربی اتحادیوں کی مالی امداد سے پروان چڑھنے والے حوثی باغیوں کی عسکری تربیت بھی افغانستان میں امریکی ہی کر رہے ہیں۔ بیوقوف مسلمان احباب اس امر سے کیونکر ناواقف ہیں کہ ہر طرف  شیعہ سنی تفرقہ بازی پھیلا کر ہر دو صورتوں میں صرف مسلمانوں ہی کا قتلِ عام کروایا جا رہا ہے ۔ ذرا سوچئے کہ صدیوں سے ایک ساتھ  اکٹھے رہنے والے شیعہ  سنی آج کن قوتوں کے اشاروں پر ایک دوسرے کے خون کے اس قدر پیاسے  ہیں ؟

یاد رہے کہ صدیوں تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہنے والے عیسائیوں اور یہودیوں کے مذہبی  نظریات میں اتنے شدید اختلافات ہیں کہ عیسائی آج بھی یہودیوں کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب کا مجرم اور قاتل سمجھتے ہیں ۔ مگر عالم اسلام کی دشمنی کے مشترکہ جذبات کے تحت کل کے دشمن یہودی اور عیسائی آج بھائی بھائی اور بت پرست ہندوتوا سمیت تفرقہ بازی کا مرکزی کردار  ایران بھی ان کا حلیف ہے۔ جبکہ قتل و غارت، خونخواری ،  دہشت گردی اور باہمی بغاوتوں کے سلسلے صرف مسلم ممالک اور مسلم فرقوں میں ہیں۔ اگر ایران کا  امریکہ مردہ باد ، اسرائیل مردہ باد اور اتحاد بین المسلمین کا نعرہ واقعی سچا اور کھرا ہے تو وہ سعودی عرب کے مخالف حوثی باغیوں اور پاکستان کے مخالف بلوچ باغیوں کی مبینہ حمایت کیوں کر رہا ہے؟ اس تازہ ترین سوال کا جواب کون دے گا کہ امریکہ اور  روس سمیت دیگر مغربی طاقتوں کے ایران کے ساتھ حالیہ ایٹمی معاہدات کی کامیابی کے پس پردہ اصل حقائق کیا ہیں؟ اگر برادر اسلامی ملک ایران واقعی ایک سچا  دوست ہے تو بلوچ باغیوں کی مالی و عسکری مدد  اور پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ آور ہونے جیسی دشمنی آخر کن طاقتوں کے ایما پر ہے ؟  اور اگر ایران کی عراق و شام میں اپنے ہی ہم مذہب مسلمانوں  کیخلاف  عسکری کاروائیاں عین جہاد ہے تو پھر میرا اور آپ کا  سعودیہ عرب جا کر حرمینِ شریفین کی حرمت وپاسداری کیلئے جہاد اور جذبہء شہادت عین حق الجہاد کیوں  نہیں؟ اگر پاکستان اور عالم اسلام کے مفادات کا تحفظ سب سے پہلے عزیز ہے تو ٹرمپ کے دورے کی میٹھی کڑوی باتوں سے ورا   پاک سعودی دوستی اور جنرل راحیل شریف کی اسلامی دنیا کی متحدہ آرمی کی قیادت کرنے پر ایرانی اعتراضات کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھئے اور  پاک سعودی دوستی اور اتحاد عالم اسلام کا نعرہ لگائیے۔۔۔۔

فاروق درویش – واٹس ایپ  00923224061000

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: