حالات حاضرہ ریاست اور سیاست سیکولرازم اور دیسی لبرل

سیفما کے سرخ سیکولر اور سبز شیر


سیفما المعروف سیکولر مسخرے دراصل پرانے سرخ کھانگڑوں،  گھسے پٹے دہریوں اور بال ٹھاکری فکر زدہ دانشوروں  کی وہ تنظیم ہے، جس کے بانی اراکین ستر کی دہائی ہی سے یہ  خواب دیکھ رہے تھے، کہ جلد ہی روس کی سرخ فوجیں  پاکستان پر قابض ہو جائیں گی۔ اور پھر پاکستان ایک ایسی سوشلسٹ ریاست بن جائے گا  کہ جہاں ہر طرف ان کے باپو میکسم گورکھی کی ” ماں ” ہی نظر آئے گی۔ مگر گورباچوف کے اپنے ہاتھوں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے ساتھ ہی ان لگڑ بگڑ دانشوروں کے مکروہ خواب بھی چکنا چور ہو گئے۔  امریکہ کی  “مجبور آشیر باد ” کے سہارے پاکستان نے سرخ فوج کی گرم پانیوں تک پہنچنے کی کنواری تمنائیں پاکستان پہنچنے سے پہلے افغان سرحدوں کے اس پار ہی  کچل کر رکھ دیں۔ تو پاکستان کی تھالی میں کھا کر اسی میں تھوکنے والے ان  سرخ پوش دانشوروں نے سرخ چولا  اتار کر اپنا  تھوکا ہوا چاٹا اور میڈیا اور سیاست کے ان گروہوں میں شامل ہونا شروع  کر دیا جس کیخلاف وہ  روس ٹوٹنے سے پہلے صف آرا تھے ۔ لیکن جب دائیں بازو کے گروپوں میں ان  لوٹوں کی کوئی دال نہ گلی تو یہ لوگ بال ٹھاکری نظریات کے فکری وارثین بن کر بد بودار  دانشوری کی غلاظت پھیلانے کیلئے میدان ِ صحافت و دانش میں  نکل آئے ۔

 بھارت اور پاکستان کے سب انسانوں کو ایک ہی دھرتی کا بیٹا اور ایک ہی ثقافت کا علمبردار قرار دینا ، چند صحافیوں، شاعروں اور اداکاراؤں کے ساتھ  بھارت کے خیرسگالی دورے، میلوں ٹھیلوں پر ڈانس پارٹیاں ان کا طریق اور مذموم مقصد دو قومی نظریے کی روح اور اساس کو ختم کرنے کی  کوششیں ہیں ۔  اس حوالے سے افسوس کہ قائداعظم کی جماعت کے قائد میاں نواز شریف بھی کبھی کبھی ان دہریوں کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ یہ سیفما کی چھاپ ہی کا اثر ہے کہ میاں صاحب کی زبان بھارتی دہشت گردیوں پر ہمیشہ گونگی  رہتی ہے۔ دو برس قبل سیفما کے ایک پروگرام میں مندری مرید امتیازعالم نے پاکستان کے عسکری اداروں اور قومی نظریاتِ کیخلاف ہر حد سے پار ہرزرا سرائی کی ۔ تو اسی پروگرام میں میاں صاحب بھی پہلے افواج پاکستان پر برسے اور پھر امتیاز عالم کی تقلید میں بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھانے کی جو باتیں کیں۔ انہیں قوم کی نے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی بدولت معرض وجود آنے والے پاکستان کی بنیادی اساس پر احمقانہ حملے سے تعبیر کیا۔ قوم کیلئے سیفما کے دہریوں کے دجالی نظریات یا بال ٹھاکری برانڈ بکواسیات کوئی نئی باتیں نہیں ۔ لیکن میاں نواز شریف کی طرف سے  ” ہماری اور بھارت کی ثقافت ایک ہے صرف لکیر کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے ” یا  بھارت کے ہندوؤں ، سکھوں اور پاکستان کے مسلمانوں کا خدا ایک ہے  ” جیسی طفلانہ باتیں قوم کیلئے انتہائی تکلیف دہ تھیں۔

راجہ جاوید بھٹی اپنی کتاب ”جس دیس میں گنگا بہتی ہے ” میں لکھتے ہیں کہ، بھارت میں صرف مساجد ہی نہیں بلکہ اسلامی غیرت اور حمیت پر بھی حملے پو رہے ہیں ۔ مہاراشٹر میں دہشت گرد ہندوؤں  کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے الٹا اُن پر گولیاں برسا کر انہیں مجرموں کی طرح نشان عبرت بنا دیا۔ بھارت میں مسلمانوں کیساتھ  معاشرتی انصاف کا یہ عالم ہے کہ بھارت میں مسلم آبادی ساڑھے تیرہ فیصد ہے  جبکہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد چالیس فیصد سے زیادہ ہے۔ مغلیہ اکبراعظم نے ہندو مسلم بھائی چارے کے فروغ کیلئے اسلامی تعلیمات سے متصادم دین اکبری کا شوشہ شروع کیا ۔ جبکہ نصیر الدین شاہ، شاہ رخ خان، سیف علی خان، فرح  اور تابو جیسے مسلمانوں نے ہندو  سکھوں سے فری سٹائل شادیوں کی  اس سیکولر  روایت کو فروغ دیا۔ مگر ہندوتوا کی نفرت و انتقام  کا عالم بنگلہ دیش بننے پر اندرا گاندھی کے اس خطاب سے بینقاب ہو جاتا ہے کہ آج ایک بھارتی ناری نے مسلمانوں سے ہزار سالوں کی ہزیمتوں کا بدلہ لے کر دو قومی نظریہ بحیرہ عرب میں غرق کر دیا ہے۔ آج اندرا کا پوتا ورون گاندھی کہتا ہے کہ ” ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے، بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بُرد کر دیا جائے۔“ کل اور آج کے بھارتی سیاست دانوں کے نفرت آمیز اور انتقامی  رویوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دو قومی نظریہ ایک حقیقت تھا اور ہمیشہ رہے گا۔

امن کی آشا مافیہ بھارتی عینک اتار کر دیکھے ، کہ پاک  بھارت  ثقافت میں جو زمین و آسمان کا فرق ہے، وہ  اس ایک واقعہ ہی سے عریاں ہو جاتا ہے۔ ممبئی کی دو بہنوں نے اپنے سگے باپ کے بارے یہ  ہولناک انکشاف  کیا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے خاندانی جوتشی کے ساتھ مل کر اُنہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ جبکہ ماں بھی انہیں اس امر پر مجبور کرتی ہے کہ  وہ  وہی کریں جو ان کا باپ اور جوتشی کہتے ہیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے بھگوان کی کرپا سے گھر میں خوشحالی آئے گی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق بھارت میں غربت کے مارے والدین اور بھائیوں کے ہاتھوں جسم فروشی کیلئے روزانہ ہزاروں معصوم بچیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مختاراں مائی کا کیس اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا میں گھمانے والی بی بی عاصمہ یا کسی سیفمائی این جی او نے ان بھارتی مظلوم ناریوں کیلئے کبھی شمعیں روشن نہیں کیں۔  کیا بھارت اس خوفناک غربت و افلاس اور بے غیرت کلچر کی حفاظت کیلئے  ہمہ وقت دفاعی بجٹ بڑھا کر اربوں ڈالرز کا اسلحہ خریدنے میں مصروف ہے ۔ کیا وہ یہ سارا اسلحہ مالدیپ، بنگلہ دیش، سری لنکا یا نیپال سے جنگ کیلئے خرید رہا ہے؟ نہیں بلکہ اسے صرف پاکستان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔

ہم  اپنے ازلی دشمن سے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ جبکہ وہ آبی جارحیت سے پاکستان کو بنجر بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ ماہرین کے مطابق پچاس کے قریب نیے ڈیموں کی تعمیر سے چناب اور جہلم کے نوے فیصد پانی پر بھارتی قبصہ ہو گا۔  پاکستان کو صحرا بنانے پر تُلے ہوئے بھارت کے بارے مرحوم مجید نظامی جب سخت موقف اپناتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ہمیں ان کے ڈیم  میزائلوں سے اڑا دینے چاہئیں تو کمزور دل سیاستدانوں اور سیفما کے ڈالر خور دانشوروں کے دل ڈوب جاتے تھے۔ میں ڈاکٹر ماریہ سلطان کے اس دلیرانہ تبصرے سے متفق ہوں کہ آبی جارحیت کی صورت میں پاکستان کا ایٹمی ڈاکٹرائن صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں رہے گا ۔ خشک سالی کے نتیجے میں معاشی بربادی بھی پاکستان کے استحکام اور سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہو گی ۔ بھارت یاد رکھے کہ ایٹمی وار ہیڈز کے استعمال کا تعلق محض سرحدی جنگ سے نہیں ۔ ایٹمی تھریش ہولڈ وہ مقام فکر ہے جب آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت کا استعمال کرنا ہے یا نہیں۔ بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں اگر ایک طرف پاکستان خشک سالی کا شکار ہوا اور بھارت نے کولڈ وار اسٹارٹ شروع کی تو پاکستان کے پاس سب کچھ کر گزرنے کے علاوہ  کوئی اور آپشن نہ ہو گی۔

میاں صاحب خدارا ! بانیء پاکستان قائد اعظم کی جماعت مسلم لیگ سے نسبت اور عوامی جذبات کا لحاظ رکھیں کہ  پاکستانی عوام کی نظر میں سیفما کے  ” معزز ممبران ” اکابرین ملت اور دینی اقدار کے نقاد  حسن نثار، عاصمہ جہانگیر، نجم سیٹھی،  فحاشی کی علمبردار ماروی سرمد یا بینا احمد اور فوزیہ قصوری کا مقام حشراتِ دشتِ  ہند کے سوا کچھ نہیں۔ آپ کو محتاط رہنا ہو گا  کہ ماضی قریب میں آپ انہیں بھارتی کٹھ پتلوں کی زیر مشاورت  پاکستانی عسکری اداروں سے محاذ آرائی و مہم جوئی کے نتیجے میں آج  بیک فٹ پر کھیلنے پر مجبور ہیں۔ آپ  بھارت سے سو دفعہ دوستی کریں ، مودی کو ہزار بار ساڑھیاں اور تحائف بھیج کر خیر سگالی کے پیغامات دیں مگر آزادیء کشمیر ، پانی کی تقسیم اور قومی  و ملی تشخص کی قیمت پر ہرگز نہیں ۔ ورنہ آپ بھی تاریخ میں انہی ابوالکلام آزاد یا سرحدی گاندھی خان غفار خان جیسا مقام پائیں گے،  جنہیں ماسوائے چند لال بھجکڑوں کے کوئی بھی یاد  نہیں کرتا ۔ سیفما کے دانشوروں کو یقین نہ آئے تو افغانستان میں باچا خان کی قبر کی یاترا فرما کر خود تماشہء عبرت  دیکھ لیں۔  فاتحہ پڑھنے والا کوئی اپنا پرایا  نہ ملے گا مگر ہاں کوئی نہ کوئی کتا  آرام  فرماتا  ضرور نظر آئے گا۔

پارلیمان پر لازم  ہے کہ اکابرین ملت، تحریک پاکستان کے جید راہنماؤں، اسلامی تعلیمات اور نظریہء پاکستان کے بارے  سرزا سرائی کرنے والوں کے بارے باقاعدہ قانون سازی کی جائے، اور اسے سنگین جرم قرار دیکرایسی کڑی سزا مقرر کی جائے،  کہ آئیندہ  کسی ابو جہالت کو زبان درازی کی جرات نہ ہو۔  کسی بھی محب وطن کیلئے سیفما کے مودی برانڈ دانشور امتیاز عالم کا یہ ابلیسی بیان ہی اسے سگِ دشتِ ہند  قرار دینے کیلئے بہت ہے کہ ”  افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ ہی پاکستان کے بھی ٹکرے ہو جائیں گے”۔ ہم پاکستانی  وطن عزیز کیخلاف ہرزاسرائی کرنے والے ایسے بدبختوں کی زبان گدی سے کھینچنا بھی جانتے ہیں۔  اسلامی شعائر اور نظریہء پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے والے سیفما مسخرے محبانِ پاکستان کی نظر میں صرف بھونکنے والے کتے ہیں , بقول حضرت عرفی ” ۔۔ آوازِ سگاں کم نہ کنند رزقِ گداراں “۔ میاں صاحب ! اگر آپ نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور قائد اعظم کے سچے سپاہی ہیں تو آپ کیلئے اسلام اور پاکستان کے دشمن بھارتی پالک اس سیکولر مافیہ کی صحبت و خلوت سے اجتناب لازم  ہے، جو آپ سے ڈاکٹر عبدالسلام جیسے غدارِ ملک وملت قادیانی زندیق کے نام پر یونیورسٹیوں کے شعبوں کے نام رکھوا رہا ہے۔ خیال رہے  کہ آپ تو سبز شیر بلکہ شیر پاکستان ہیں ۔ ۔  اور  شیر کبھی کتوں ، گیدڑوں اور دہشت گرد لگڑ بھگوں سے دوستی نہیں رکھتا۔ ۔ ۔ ۔

( فاروق درویش –  03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: