بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام

سربکف سلطان صلاح الدین ایوبی ۔ صلیبی جنگیں حصّہ چہارم


احباب گرامی میں  پچھلی قسط ” فتحِ بیت المقدس ۔ صلیبی جنگیں حصّہ سوئم ” میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کی دوبارہ فتح کے حوالے سے لکھ چکا ہوں  کہ  ایوبی سلطان اور اس کے سربکف مجاہدوں نے  نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرِ مدینہ  کی حفاظت کی تو پھر قدرت نے ان کے سر پر  بیت المقدس کی عظیم فتح کا سہرا سجا کر انہیں تاریخ میں امر کر دیا ۔ بیت المقدس کی اس فتح کی ہیبت اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہزیمت اسلام دشمن یورپ  کیلئے کسی دردناک موت کے پیغام سے کم نہ تھی ۔ عالم اسلام کی اس عظیم الشان فتح کی خبر پر سارے یورپ میں‌ صف ماتم بچھ گئی۔ حامد کمال الدین  رو بہ زوال امریکن ایمپائر میں لکھتے ہیں کہ ” حطین ایک ایسا کامیاب معرکہ تھا گویا اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔ اس میں، عرب خطوں میں قائم نصرانی سلطنتوں کے سات صلیبی بادشاہ گرفتار ہوکر صلاح الدین کے سامنے لائے گئے تھے، جس سے صلیبی وجود کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ عالم صلیب پر یہ ایک ایسی زبردست چوٹ تھی جو صدیوں تک بھولنے والی نہ تھی۔ پہلے ” حطین کی شکست ” اور  پھر” بیت المقدس میں عبرتناک شکست ” کی خبریں پوپ اربن ہشتم پر یہ  قیامت بن کر ٹوٹیں اور وہ اسی صدمے سے بسترِ مرگ پر جا پڑا ۔ اور پھر بوقتِ نزع مرتے دم تک  اپنے جانشین گریگوری ہشتم کو مسلمانوں کیخلاف اگلی  جنگی مہم جوئی کی فوری تیاری کی وصیت کرتا رہا۔

دو ماہ بعد گریگوری کی جگہ نیا پوپ کلیمنٹ سوئم فائز ہوا، جس نے اپنے کارڈینیل پورے یورپ میں دوڑائے۔ یہ کیتھولک اساقفہ شہر شہر گاؤں گاؤں،  گلی کوچوں میں پیدل مارچ کرتے ہوئے فرانس، انگلستان اور جرمنی میں ہر طرف بیت المقدس کی دہائی دیتے تھے “۔ اور پھر بھڑکتے ہوئے انتقام اور اسلام دشمنی کی آگ میں جلتے ہوئے یورپ نے تیسری صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا۔ اس بار عیسائیت کی مذہبی بالادستی کیلئے اس ہولناک جنگ میں پورے کا پورا یورپ اپنی ریاستی قیادتوں کے ساتھ شریک تھا۔ جرمنی کے شاہ فریڈرک باربروسا ، فرانس کے بادشاہ فلپ آگسٹس اورانگلستان کے شہنشاہ رچرڈ شیر دل نے بہ نفس نفیس اس مقدس مذہبی معرکے میں بھرپور شرکت کی۔ جبکہ پوری دنیا کے عیسائی پادریوں اور راہبوں نے شہر شہر گھوم کر اپنے عیسائی بھائیوں کو مذہب کے نام پر مسلمانوں کے خلاف دوبارہ جنگ کیلئے ابھار کر اپنا مقدس مذہبی فریضہ ادا کیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ  اس سے پہلے عیسائی دنیا نے کبھی اس قدر بڑی تعداد میں فوج اور جدید ترین اسلحہ  فراہم نہیں کیا تھا۔ عیسائیوں کا یہ متحدہ ٹڈی دل لشکر یورپی ممالک سے روانہ ہوا اور اس وقت کے فلسطین اور موجودہ اسرائیل کے ساحلی شہرعکہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کر کے بیٹھ گیا۔ اگرچہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے تن تنہا عکہ کی حفاظت کے تمام تر انتظامات مکمل کر رکھے  تھے لیکن صلیبیوں کو پورے یورپ سےمسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ پہلے معرکے میں دس ہزار عیسائی قتل ہوئے مگر اسلام سے بغض اور انتقام کی آگ میں بھڑکتے صلیبیوں نے محاصرہ جاری رکھا۔ چونکہ کسی اور اسلامی ملک نے سلطان کی طرف دست تعاون نہ بڑھایا اس لیے صلیبی ناکہ بندی کی وجہ سے اہل شہر اور سلطان کا تعلق ٹوٹ گیا اور سلطان باوجود پوری کوشش کے مسلمانوں کو کمک نہ پہنچا سکا۔ تنگ آکر اہل شہر نے امن اور امان کے وعدہ پر شہر کو عیسائیوں کے حوالہ کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ فریقین کے درمیان معاہدہ طے ہوا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے دو لاکھ اشرفیاں بطور تاوان جنگ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور صلیب اعظم اور پانچ سو عیسائی قیدیوں کی واپسی کی شرائط کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ وہ تمام مال اسباب لے کے پر امن طریقے سے شہر سے نکل جائیں۔ لیکن شاہ برطانیہ رچرڈ شیر دل نے اس امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بدترین بدعہدی کی اور مسلمان محصورین کو انتہائی بیدردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔

عکہ میں مسلمانوں کا سفاک قتل عام کرنے کے بعد اس متحدہ صلیبی لشکر  نے فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کیا۔ یاد رہے کہ عسقلان پہنچنے تک عیسائیوں کا ایوبی سلطان کے ساتھ بارہ مرتبہ خونریز مقابلہ ہوا۔ ان زبردست معرکوں  میں سب سے اہم معرکہ ارسوف کا تھا۔ یورپ کے عیسائی مورخین بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکے کہ ان معرکوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی اور اس کے جری سپاہیوں نے  بیسیوں گنا طاقت ور حریفوں کے کیخلاف تاریخ کی سخت ترین مزاحمت کے دوران  جنگی حکمت عملی ،جوانمردی اور شجاعت کی وہ درخشندہ مثالیں پیش کیں کہ تاریخ کے وہ صفحات  آج بھی ایمان تازہ کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس انتہائی اہم اور فیصلہ کن وقت میں  کسی بھی مسلمان حکومت بالخصوص خلیفہ بغداد کی طرف سے  ایوبی سلطان کو کوئی مدد نہ ملی ، لہذا سلطان کو اپنے آخری دفاعی پلان  کے تحت  وقتی پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ایک جنگی  حکمت عملی کے طور پر پسپا ہوتے ہوئے صلاح الدین ایوبی نے عسقلان کا شہر خود ہی تباہ کر دیا تھا۔ لہذا جب  صلیبی لشکر وہاں پہنچے تو انہیں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

اس کے  بعد انتہائی قلیل مدت اور انتہائی کم وسائل کے باوجود ایوبی سلطان نے بیت المقدس کے بھرپور  دفاع  اور فیصلہ کن معرکے کی تیاریاں مکمل کر لیں ۔ سلطان صلاح الدین جانتا تھا کہ عسقلان کے بعد صلیبیوں کا اگلا نشانہ یقینی طور پر بیت المقدس ہی ہو گا ۔ تاریخ دان  دنگ اور عقل انسانی آج بھی ورطہء حیرت میں ہے کہ  سلطان ایوبی نے اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ اس ہیبت ناک صلیبی لشکر کا جس ناقابل یقین دفاعی حکمت عملی ، جرات ، حوصلے اور جوانمردی سے مقابلہ کیا اس کی مثال زمانہ قدیم و جدید کے  خونی معرکوں  کی تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ اپنے سے بیسوں گنا بڑی یورپ کی متحدہ افواج کے خلاف بیت المقدس کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے    دشمن کو مکمل طور پر زچ کر کے صلح کیلیے مجبور کر دینا صلاح الدین ایوبی کا ناقابل فراموش کارنامہ تھا۔  یہ تاریخ کا وہ واحد خونریز معرکہ تھا  کہ جب اسلام کی بقا کی کیلئے مزاحمت کرنے والے ہزاروں توحید پرستوں  کے  پیچھے موت کا گہرا سمندر اور سامنے لاکھوں جنگجوؤں کا ہیبت ناک لشکر موت کا طوفان بن کر حملہ آور تھا۔ لیکن یہ جواں مرد  ” رسم ِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن” کی تصویر  بن  کر  سرفروشی کی ایک انوکھی  تاریخ و تفسیر رقم کر رہے تھے۔

متحدہ عیسائی لشکر نے سلطان صلاح الدین کو شام کے ساحلوں پر پسپا کرنے کیلئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اللہ کی قدرت اور بندہء مومن ایوبی کی جرات و جوانمردی نے شااہ برطانیہ رچرڈ شیر دل اور پوری یورپی قیادت کے لشکروں کی ہر جنگی حکمت عملی  کو مکمل ناکام کر دیا۔ اور پھر جب کلیسائی افواج کی فتح کی سب امیدیں دم توڑ گئیں تو  تھکے اور مایوس صلیبی سالاروں نے مکمل زچ ہونے کے بعد ، از خود صلح و جنگ بندی کی درخواست کر دی۔  اور یوں فریقین میں معاہدہ صلح کے ساتھ ہی اس تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اس صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا سب سے بڑا حریف برطانیہ کا شاہ رچرڈ شیر دل ، سلطان صلاح الدین ایوبی کی فیاضی اور بہادری سے بہت متاثر ہوا۔ جبکہ خود کو صلیب کا مجاہد اعظم کہنے والا جرمنی کا بادشاہ فریڈرک باربروسا میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ خود یورپی مورخین کے مطابق  اس جنگ میں چھ لاکھ سے زائد ” صلیبی مجاہدین ” ہلاک ہوئے۔

جنگ کے خاتمہ پر دونوں  فریقین میں جو معاہدہ طے پایا اس کی شرائط کچھ یوں تھیں کہ، 1۔ بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے قبضے میں رہے گا۔ 2۔ ارسوف، حیفا، یافہ اور عکہ کے شہروں پر صلیبیوں کا قبضہ برقرار رہے گا 3۔ عسقلان آزاد علاقہ تسلیم کیا جائے گا۔ 4۔ بیت المقدس کے زائرین کو آمدورفت کی اجازت دی گئی۔ 5۔ صلیب اعظم بدستور مسلمانوں کے قبضہ میں رہے گی۔ یوں اپنے چھ  لاکھ سپاہیوں کو مروا کر عیسائیوں کو صرف ایک شہر عکہ ہی نصیب ہوا ۔اور پھر پورے یورپ سے نکلے ہوئے لاکھوں ” مقدس صلیبی مجاہدین ” بیت المقدس فتح کرنے کی حسرت دل میں لئے اپنی مقدس صلیب اعظم تک واپس نہ لے سکے اور شکست خوردہ  زخم چاٹتے ہوئے ناکام و نامراد واپس یورپ لوٹ گیے۔

احباب ن قدیم اور دور حاضر کی جدید صلیبی یلغاروں سے آج جو حقیقت کل عالم پر آشکار ہو چکی ہے۔ اس  حوالے سے حامد کمال الدین نے اپنی کتاب روبہ زوال امریکن ایمپائر میں بڑے مختصر انداز میں جامع بات کی ہے کہ وہ صلیبی بغض و کینہ جو ابتدا کے اندر ان کی صلیبی جنگوں کا محرک رہا ہے وہ آج بھی پوری طرح زندہ ہے۔ برطانیہ، فرانس، اٹلی، سپین، پرتگال اور اب امریکہ کی اس یورش میں جو پچھلی چار صدیوں سے ایک تسلسل کے ساتھ عالم اسلام کیخلاف جاری ہے، عین وہی روح کارفرما ہے جس کی دہائی ان کو جنگ کیلئے اکسانے والے پوپ اربن دوئم نے اس وقت دی تھی جب پوری عیسائی دنیا  کو عالم اسلام پر چڑھائی پر آمادہ کرنے  کیلئے اس کی نظر میں انجیل اور مسیح کے واسطے دئیے جانا اشد ضروری ہوگیا تھا۔ اس حوالے سے میرا یا امت کیلئے درد رکھنے والے کسی بھی مسلمان کا بھی یہی نقطہ نظرہے۔ کہ صلیبی طاقتیں نہ زمانہ نبوت و مابعد مسلمانوں کی ہمدرد و غمگسار تھیں نہ آج ہیں۔

میرا یہ موقف خود عیسائی مورخین کی لکھی ہوئی تاریخ سے بھی سچ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پہلی صلیبی جنگوں کے محرک بننے والے جان اربن دوم  یا جان اربن ہشتم ہوں یا دور حاضر کے جدید کلیسائی راہب، ان سب کے دل میں عالم اسلام کیلئے بغض اور کدورت ازل ہی سے موجود ہے۔ وہ گیارویں اور بارھویں صدی عیسوی کے جرمن شاہ فریڈرک اور برطانوی شہنشاہ رچرڈ شیر دل ہوں یا دور جدید کی امریکی اور مغربی قیادتیں ، ان سب فننہ گروں کے نام نہاد ” امن گرد” لباس تلے امت مسلمہ کیلیے بدترین دہشت گردی کے خنجر چھپے ہیں۔ عالم اسلام کے احداف کو نشانہء دہشت بنانے کیلئے آج بھی پورا مغرب اور سامراجی گروہ متحد اور یکجا مگر ملت اسلامیہ منقسم و منتشر ہے۔ عالم اسلام کو آج پھر سے اگر کسی جذبہ و روح کی ضرورت ہے تو وہ وہی جذبہء ایمانی اور کردار مسلمانی ہے جو زمانے میں امن کا داعی  اور کسی جارحیت کی صورت میں صلیبی طاقتوں کے دانت کھٹے کرنے والے  سلطان نور الدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے سرفروشوں کی پہچان ہے۔ ( جاری  ہے ) ۔

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد ضرورت ہے

 تحریر فاروق درویش — واٹس ایپ ۔۔ 00923224061000

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: