حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

دیسی لبرل یا سیکولر مسخرہ صاب


یہ مسٹر دانشور ایکس وائی زیڈ عرف ” سیکولرصاب ” بھی عجب چوں چوں کا مربہ ہے کہ اس کے سو رنگ اور ہزار بدرنگ ہیں۔ یہ بڑے فخر سے خود کو سیکولر یعنی لا دین کہتا ہے لیکن کرسمس کے موقع پر گلے میں صلیب ڈالے گرجا اور دیوالی پر رام  کا لاکٹ پہنے مندر یاترا بھی کرتا ہے۔ اسےسکھوں کے گوردوارے میں متھا ٹیکنے سے دلی سکون اور مہاتما بدھ کی مورتی کی قدم بوسی سے راحت ملتی ہے لیکن مسجد سے اس کا رشتہ بس شاہی مسجد سے صرف ایک فرلانگ دور شاہی محلے کے بازار حسن تک ہی ہے۔ کتابوں میں  سیکولرازم تمام مذاہب سے لاتعلقی اور غیر جانبدار لادینت کا نام ہے لیکن یہ اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کے مذہبی پیشواؤں، رسوم و رواج اور عقیدوں کا بیحد احترام مگر صرف اسلام کے بارے ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ اسے بابری مسجد شہید اور بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے ہندو امن گرد اور ان کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمان دہشت گرد لگتے ہیں۔ یہ بھارتی فلموں اور ڈراموں میں بتوں کی پوجا پاٹ پر باادب خاموش رہتا ہے۔ لیکن کسی پاکستانی فلم یا ڈرامے میں اذان کی آواز سے ہی اس کے کانوں میں جان لیوا کت کتاریاں ہوتی ہیں۔ یہ ماتھے پر تلک لگائے، رامائن تھامے مندر میں ہری اوم کا ورد کرے تو یہ اس کیلئے بین المذاہب اخوت کا مظہر ہے لیکن جب کوئی مسلمان مساجد میں ہونے والے مظالم اور قرآن و شریعت کی بات کرے تو یہ اسےعالمی امن کا دشمن قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق نصاب میں صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان جیسے مجاہدین ملت پر مضامین دہشت گردی کا فروغ اور رچرڈ شیر دل یا ملکہ برطانیہ کی تعریف اعلی ظرفی ہے۔

یہ عیسائی، یہودی، بدھ اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ہاتھوں مسلمانوں کے سفاک قتل عام پر ان کے مذہب  اور  دہشت گردی پر خاموش ہے۔ لیکن اگرمسلمان کے ہاتھوں کوئی گستاخ قرآن و رسالت بھی قتل ہو، تو یہ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب اور مسلمانوں کو شدت پسند قرار دینا ” اپنے سیکورازم” کا فرض سمجھتا ہے۔ آپ معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہم جنس پرستی اور عریانیت کی آلودگی پر اخلاقی اور قرآنی قصص پر مبنی قوم لوط کے حوالوں کے جواب میں ماڈرن امریکی معاشرے کی تقلید میں ایک دوسرے کیلئے زندہ رہنے اور انساینت کے نام پر  ملنساری کی مغربی برانڈ  دلیل پیش کرتا ہے۔  اس کیلئے قرآنی احکامات کی نسبت یہ دلیل اہم ہے کہ  ماڈرن دور میں بیس کے قریب امریکی ریاستوں اور آدھے سے زائد مغرب میں ہم جنس پرست شادیاں قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے مطابق امریکی اور نیٹو فورسز کے ہاتھوں مرنے والے شہید نہیں لیکن پاکستانی جیل میں قتل ہونے والا بھارتی دہشت گرد سربھجیت سنگھ اصلی شہید ہے۔  اس سے جہاد کی بات کر کے دیکھیں ﯾﮧ مرزا غلام  قادیانی کے نقش قدم پر جہاد کو فساد کہے گا۔ آپ جنگ بدر و خیبر کا حوالہ دیں یہ جنگ جمل کی طرف لے جائے گا۔ اس سے شریعت کی بات کریں تو یہ فوراً “کون سے فرقے اور مسلک کی شریعت ” کا سوال کرے گا۔ ﺁﭖ اسلامی قوانین کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹنے کا ذکر کریں،  یہ بھوک افلاس اور قحط سالی ﮐﯽ مثالیں دے گا۔ اور اگرآپ ملک و قوم کا سرمایہ لوٹنے والے ارب پتی چوروں کا احوال بیان کریں تو یہ ان کے ” قومی و ملی کارنامے” گنوانے لگے گا۔

ﺁﭖ قرآن و حدیث کے حوالوں  سے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کیخلاف جہاد کو حق کہیں ، وہ امریکی میڈیائی مسخروں کے اقوال زریں سے مرزا قادیانی کی طرح  دہشتگردی ثابت کرتا ہے۔ آپ اسلام دشمن سیکولر طبقے کیخلاف علمی و عقلی دلائل دیں تو یہ سب کو ان کے حال پر چھوڑ دینے کی صلاح دیتا ہے مگر مسلمانوں کو کسی بھی قیمت پر ان کے حال پر چھوڑنے کیلئے کبھی رضامند نہیں ہوتا۔ کوئی مسلمان امام ابن تیمیہ ، ابن کثیر، اشرف تھانوی، سید مودودی یا احمد رضا خان کی تفسیر بیان کریں ، یہ  اسے غامدی ، ابوالکلام آزاد، علامہ قادری کے بیان سے جھٹلاتا ہے۔ ﺁﭖ ملت اسلامیہ کے عظیم دانشوروں  کی بات کر کے دیکھیں ، یہ مغربی اور ہندو مفکرین کو مقابلے پہ لے آتا ہے۔ آپ اسلام  کی عظمت کی بات کرو، یہ عیسائیت کی مثالیں دیتا ہے۔ آپ حدیث بیان کرتے ہو  یہ اس کا مفہوم بدل دیتا ہے یا اسے ضعیف قرار دیکر جھٹلا دیتا ہے۔ مسلمان کیلئے امت کا تصور ایک جسم واحد کی طرح ہے۔ سو مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب کے مسلم برادرز کیلئے پوری امت کے افراد کے دل میں درد ملی سرمایہ ہے۔ آپ عراق و شام کی خونریزی کی بات کرو،  یہ ” دوسروں کا ماما ” بننے کی بجائے  پہلے اپنے پاکستان  ﮐﯽ بدحالی پر توجہ دینے کی تلقین شروع کر دیتا ہے۔

آپ پاکستان کی بات کرتے ہیں یہ گھوم پھر کر پھر افغانستان کی طالبانیت پر چلا جاتا ہے۔ امت کی مظبوطی کی بات چھیڑی جائے، یہ کہتا ہے، شدت پسندوں کے ہاتھوں میں استعمال ہو جائے گی ۔ آپ پاکستان کی ایٹمی قوت ہونے پر فخر کا اظہار کریں تو اسے ایٹمی ہتھیاروں کے طالبان کے ہاتھوں لگ جانے کی فکر ستانے لگتی ہے۔ ﺁﭖ فلسطین، کشمیر، برما، شام ، عراق ، لیبیا اور افغانستان میں مسلمانوں  کے ﻗﺘﻞ عام کا ذکر کر کے دیکھیں، ﯾﮧ پٹرول اور اشیائے خورد کی قیمتوں کے ہاتھوں مرنے والے مفلسوں کا دردناک قصہ چھیڑ دے گا۔ ﺁﭖ ملت اسلامیہ کے اتحاد کی بات کرتے ہو یہ صوم و صلواۃ کا اختلاف بیان کرنے لگ جاتا ہے۔ آُپ مسلمان ہونے پر فخر کی بات کرتے ہو، یہ حنفی، حنبلی، شافعی ، مالکی، دیوبندی و اہل حدیث اور شعیہ سنی کا فرق نکال لاتا ہے۔ ﺁﭖ شاتمین صحابہ و امہات المومنین، روافض کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، یہ امت کے اتحاد کے  ترانے پڑھنے لگتا ہے۔ آپ قرآن و حدیث سے اسلام دشمن ممالک سے جہاد و قتال کی بات کرتے ہو،اس کو صرف صلح حدیبیہ  ہی نظر آتی ہے۔ آپ گستاخین قران و رسالت کا انجام غازی علم دین شہید کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہندو شاتم رسول راج پال جیسا چاہتے ہو، لیکن یہ کفار کیلئے فتح مکہ کے موقع  پر دی گئی عام عافی کا حوالہ دیتا ہے۔ اسے فتح مکہ  پر کفار کیلئے عام معافی تو یاد ہے لیکن لیکن اس موقع پر کعب بن اشرف جیسے ان  بارہ گستاخین قرآن و رسالت کے بارے نبیء آخرالزمان صی اللہ عیہ وسلم کا یہ حکم یاد نہیں کہ ” یہ گستاخین غلافِ کعبہ میں بھی چھپے ہوں تو انہیں قتل کر دیا جائے”۔

آپ  شریعت  کے نفاذ کو ملک و قوم کی بہتری کا حل تجویذ کرتے ہو، یہ  جمہوریت کے قصیدے پڑھنے لگتا ہے۔ ﺁﭖ خلافت اسلامیہ کی عظمت کی بات کرتے ہو، یہ  اسے ظالمانہ بادشاہت ثابت کرنے پر تلا ہوتا ہے۔ آپ قاتلان مسلم صلیبی ٹولے کو کسی برے لقب سے پکارتے ہو، یہ قرآن حکیم کی یہ آیت نکال لاتا ہے کہ ان کے خداؤں کو برا نہ کہو۔ آپ مشرکین و فتنہء قادیانیت سے علمی ابطال کی بات کریں  یہ لکم دین کم ولی دین کا مشورہ دیتا ہے۔ زمانہ غدارین ملک و ملت کو ننگ دین ، ننگ آدم، ننگ وطن کہتا رہے، یہ میر جعفر اور میر صادق کو بھی مسلم حکمرانوں کے ظلم کا شکار ہو کر بغاوت پر مجبورمظلومین ثابت کرکے دکھائے گا۔ کیونکہ یہ خود مولوی کو فسادی قرار دیتا ہے، لہذا اسے حضرت اقبال کا صرف ایک ہی شعر” دین ملا فی سبیل اللہ فساد ” ہی یاد ہے۔ آپ گستاخ رسول عاصمہ جہانگیر اور دوسری دہریہ این جی او شہزادیوں کی اسلام دشمنی اور گستاخانہ اقوال کی بات کریں یہ انہیں امن دوست دانش ور ہستیاں اور انسانیت کی مسیحائیں ثابت کر دیتا ہے۔

احباب مزے کی بات یہ ہے کہ خود کے سیکولر اور دہریہ ہونے پر فخر کرنے والا یہ صاحب عقل اللہ کے وجود ہی کا کھلا منکر ہے۔ لیکن اپنے دوستوں کی پوسٹوں پر” واہ واہ ماشاللہ ” اور ” کیا کہنے سبحان اللہ” کے کومنٹ بھی دیتا ہے۔ یہ خدائے مقتدر اعلی کو محض ایک “ان دیکھا خیالی تصور” قرار دیتا ہے مگر جوابی دلائل سے شکست سامنے دیکھ کر ” انشاللہ پھر بات ہو گی” کہہ کر جان چھڑواتا ہے۔ اس کے سیکولر عقیدے کے مطابق اللہ سبحان تعالیٰ کی ” تصوراتی ذات” کا کسی قوم یا فرد کی زندگی پر اثر انداز ہونا جہالت، دقیانوسی خیال اور احمقانہ بات ہے۔ لیکن کسی دوست کی بیماری کی خبر پر” اللہ آپ کو صحت کاملہ  آجلہ سے نوازے ” کا دعائیہ پیغام بھی رقم کرتا ہے۔ احباب یہی امرمنافقت خصوصی طور پر قابل صد لعنت ہے کہ ایک طرف یہ اللہ کے وجود کا اعلانیہ منکر ہے اور دوسری طرف اس کی تحریر و تقریر میں ” اللہ ” ہی” اللہ” ہر جاہ موجود رہتا ہے۔ یہ قرآن و حدیث کا منکر ہے مگر اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کیلئے اسی قرآن و حدیث کے وجود و حقیقت کو تسلیم کر کے اس کے خود گھڑت مطالب و تفسیر بھی استعمال کرتا ہے۔ اور جب اسے جھوٹا اور کاذب ثابت کیا جائے تو وہ ” لعنت اللہ علی الکاذبین” لکھ کر، نہ چاہتے ہوئے بھی اللہ کا وجود اور اقتدار اعلی ثابت کر جاتا ہے۔ بھلا بوجھیں کہ یہ مسٹر ایکس وائی زیڈ کون ہے ؟ جی ہاں یہ کوئی سیکولر نہیں، ہندو سکھ عیسائی یا قادیانی غیر مسلم بھی نہیں بلکہ وہ  حواس باختہ فتنہ پرور ہے جسے میں اور آپ ” منافق ” اور معصوم بچے لوگ ” مسخرہ صاب ” کہتے ہیں۔

 نورنگیء دوراں ہے نیرنگِ زمانہ ۔۔  ہر چہرہ ہے صد چہرہ مگر عکس ندیدہ

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ۔۔ 0923224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: