حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

کیا عالم انسانیت کے بدترین دشت گرد سیکولر نہیں ؟


ہمارے کچھ  قلمکار اور رنگ رنگیلے  دانشور انسانی حقوق کے علمبردار بن کر یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ اسلام شدت پسندی سکھاتا ہے اور اسلامی تاریخ  قتل و غارت  اور سفاکیت سے بھری پڑی ہے۔ اور پھر سوشل میڈیا پر اسلام اور نظریہء پاکستان کیخلاف سگانِ بیاباں کی طرح غراتے قادیانی، سیکولر اور لبرل حضرات  ان نام نہاد دانشوروں کے اقوال زریں کو قلمی ہتھیار بنا کر جن والہانہ انداز سے تشہیر کرتے ہیں ، اسے دیکھ کر کسی ابلیسی فوج کے حملے کا گمان ہوتا ہے۔ سیدنا آدم سے لیکر نبیء آخر الزمان  صلی اللہ علیہ وسلم تک کی حرمت،  اکابرین دین اور اسلانی اقدار کے بارے جس گستاخانہ انداز میں طعن و تشبیع کی جاتی ہے اس پر سیکولرازم ، لبرل ازم اور قادیانیت کے لبادے میں چھپی صیہونیت کا پردا چاک ہو جاتا ہے۔ صرف اسلام ہی نہیں کسی بھی تہذیب کی تاریخ کے چند ایک مخصوص واقعات سے کسی بھی تہذیب کو دنیا کی بد ترین تہذیب ثابت کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ مغربی مورخین کی لکھی تاریخ بھی گواہی دیتی ہے کہ چند ایک بھٹکے ہوئے مسلم حکمرانوں کے علاوہ اسلامی تاریخ امن دوستی ، انسانیت کی فلاح اور معاشی و معاشرتی عدل و انصاف کی داستانِ عظمت ہے۔  اکبر بادشاہ کے دو رنگی دین اکبری کو بین المذاہب اخوت و بھائی چارہ اور اورنگ زیب کی دینی فکر کو معاشرتی ظلم و استحصال قرار دینے والے حضرات کا دوہرا معیار صرف منافقت اور اسلام سے بغض و عداوت  ہے۔

حیرت ہے کہ محمود غزنوی اور محمد بن قاسم  جیسے اسلامی سپوتوں کو دہشت گرد  جارحین  قرار دیکر  راجہ داہر اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے قصیدے لکھنے والے مسخروں  کے نام  مسلمانوں والے ہی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو اسلام اور اسلامی ہستیوں سے اتنی ہی نفرت  و عداوت ہے تو یہ لوگ اپنے نام  بدل کر خواجہ داہر ، پورس شیخ یا رنجیت چوہدری جیسے نام کیوں نہیں رکھ لیتے؟ جو نام نہاد دانشور اور پڑھے لکھے جاہل حضرات مغرب اور  سامراج  کی خوشن آشام تاریخ کو قربانی کی تاریخ اور انکی پراگندا و  عریاں تہذیب  کو  پر امن اور مستحکم تہذیب گردانتے  ہیں ، وہ میڈ ان امریکہ یا بھارت دیش کی مقدس عینک کے ساتھ ان تفصیلی  حقائق کو کبھی نہیں پڑھ پائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ بھی تاریخ کی بڑی سخت نا انصافی  ہے کہ وہ  قتل و غارت ایک فتنہ گر حسن بن صباح کرے  یا ملت اسلامیہ کا کوئی باغی سالار، خواہ وہ پرویز مشرف کا لال مسجد پر خون آشام قاتلانہ حملہ ہو یا ملا فضل اللہ  کی طرف سے  پشاور کے سکول میں معصوم بچوں کا قتال، تاریخ کی پرچی اسلام اور مسلمان  ہی کے  نام  پر کٹتی ہے۔ تلخیء اتفاق ہے  کہ  غدار پاکستان مجیب الرحمن اور اس کی قاتلِ مسلمین بیٹی حسینہ واجد بھی سیکولر اور لبرل مسلمان ہی ہے۔ کسی لبرل دانشور اور سیکولر صحافی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا کہ تاریخ کے بدترین و سفاک دہشت گرد  چنگیز اور ہلاکو کا مذہب کیا تھا، کیونکہ وہ بھی مذہب سے بیزار مصدقہ سیکولر ہی تھے ۔

سیکولر اور لبرل ظالمین نے  صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ بنا تفریق مذہب پوری انسانیت پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان پر گونگے اور بہرے ہو جانا مذہب سے بیزار سیکولر حضرات کی “ضدی اور بے شرم ” روایت ہے۔ کوئی تاریخ کو کیسے جھٹلا سکے گا کہ یروشلم اور ہیکل سلیمانی تباہ و برباد کر کے لاکھوں افراد کا قتال کرنے والے بخت نصر، سائرس اعظم روش کبیر اور رومی جرنیل ٹائٹس بھی لا دین اور سیکولر تھے ۔ ان ظالمین کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا ۔ زمانہ قبل مسیح  میں انسانیت پر جبر کرنے والا شاہ بیلشضر، بائبل کی عظیم کردار جوڈتھ کے ہاتھوں ذبح ہونے والا مذہب دشمن جرنیل ہولو فرنس اور عیسائیوں کو شیر چیتوں اور جنگلی کتوں کے سامنے ڈال کر لاشوں کی قندیلیں جلانے والا رومی شاہ نیرو بھی مذہب سے مکمل آزاد سیکولر درندے تھا۔ مذہب سے بغاوت کر کے عیاسئیوں کا قتل عالم کرنے والا وہ ہوگولینو بھی ایک کھلا سیکولر جرنیل تھا۔  جسے اس کے دو بیٹوں اور دو پوتوں کے ہمراہ گولانڈی مینار میں  بند  کر کے قید خانے کی چابیاں عیسائی کلیسا کے آرچ بشپ کے حکم پر دریا میں پھینک دی گئیں تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ کلیسا نے مذہب کے دشمن سیکولروں کو بھوک اور پیاس میں اکیلے مرنے کی اذیت ناک ترین سزا دی گئی ہے۔

 سیکولرازم کے بھائی کیمونزم کے انقلاب روس اور انقلاب فرانس میں قتل عام کرنے والے بھی مکمل لا دین اور سچے سیکولر تھے۔ 21 جنوری کو شاہ فرانس اور 16 اکتوبر کو ملکہ  کی  سزائے موت  کے بعد 10 نومبر 1793ء کو خدائی عبادت کیخلاف باقاعدہ قانون کا پاس کیا جانا اس امر کا اعلان تھا کہ انقلابِ فرانس مذہب کے عنصر سے آزاد سیکولر ہے۔  دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر امریکہ نے ایٹمی  بربریت سے ہیروشیما اور ناگا ساکی میں چار لاکھ سے زائد لوگ ہلاک کر کے اپنے عالمی بدمعاش ہونے کا اعلان کیا ۔ پھر روس نے ایٹمی طاقت بن کر امریکی غلبے کو چیلنج کیا تو دنیا دو حصوں میں بٹ  گئی، جسے کیمونزم اور کیپیٹل ازم کے ناموں سے معاشی نظام کی تقسیم کا نام دیا گیا۔ معاشی نظام کی یہی جنگ کروڑوں انسانوں کی موت اور کئی ملکوں کی بربادی کا باعث بنی۔  جاپان کے ہتھیار ڈالنے پر ویت نام نے آزادی کا اعلان کیا تو امریکہ نے اس پر حملہ کر کے جو مظالم ڈھائے ، وہ انسانیت سوزی کی تاریخ میں بدترین ہیں۔ بیس برس سے زائد عرصہ جاری رہنے والی اس جنگ میں ایک کروڑ ٹن بم برسا کر چونتیس لاکھ انسانوں کا قتل کیا گیا۔ تین کروڑ گیلن کینسر پھیلانے والا کیمیائی سپرے  اور چار لاکھ  ٹن نیپام بم برسائے گئے۔ 1963ء میں لاﺅس اور کمبوڈیا کو بھی امریکہ کیلئے خطرہ قرار دیکر دس لاکھ لاﺅسی شہری موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ کمبوڈیا پر تیس لاکھ ٹن بارود گرا کر دس لا کھ بے گناہ شہری ہلاک کر دئے۔

جنوبی کوریا نے آزادی کا اعلان کیا تو امریکہ نے وہاں داخل ہو کر اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کروائی اور پانچ لاکھ لوگوں کے قتل  کے بعد شمالی کوریا پر حملہ کر دیا ۔ کوریا کی اس جنگ میں امریکی بمباری سے تیس لاکھ کورین اور دس لاکھ چینی شہری لقمہء اجل بنے۔ لیکن امریکی خون آشامی یہیں ختم  نہیں ہوئی 1979میں افغانستان پر روسی قبضے کیخلاف پاکستان کو استعمال کرنے کے بعد 1980ء میں عراق سے ایران پر حملہ کروایا گیا تو اس آٹھ سالہ جنگ میں دس لاکھ ایرانی اور پانچ  لاکھ عراقی ہلاک ہو گئے۔ 1990ء میں کویت پر قبضے کیخلاف عراق پر مسلط  جنگ میں بھی لاکھوں افراد زندگیاں ہار گئے۔ عالمی اداروں کے مطابق صرف عراق میں اب تک سولہ لاکھ عراقی مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ افغانستان میں ” وار اگینسٹ ٹیرر ” میں بھی لاکھوں ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔ یہ اس نام نہاد لبرل امن گرد امریکہ کی گزشتہ ستر سالوں کی  وحشت و بربریت کی انتہائی مختصر داستان ہے۔ جو افغانستان میں شیطانی کھیل اور پاکستانی معیشت کی تباہی اور پاکستانی عوام اور فوجی جوانوں کی پچاس ہزار شہادتوں کی قربانی کے بعد اب ساری قوت عراق و شام میں میں قتل و غارت کا بازار مذید گرم کرنے اور خطے میں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے اگلے دجالی مشن پر نکلا ہے۔  جبکہ احمد آباد سے لیکر کشمیر تک ریاستی دہشت گردی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے والا عیار و مکار سیکولر و لبرل بھیڑیا  بھارت اس کا نیا اتحادی ہے۔

بے شک اسلام امن کا دین ہے کہ شریعت محمدی کے مطابق ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن خیال رہے کہ بیرونی حملہ آور غاصبانہ قابضین ” بے گناہ” افراد کے ضمرے میں ہرگز نہیں آتے۔ ایسی صورت میں اللہ کی طرف سے جہاد عین فرض  ہے ۔ لہذا بیرونی حملہ آور صلیبی اتحادیوں کیخلاف صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی کا دفاعی جہاد اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے تھا۔ ایوبی و زنگی اور دوسرے مسلم فاتحین کو دہشت گرد کہنے والے احمق اور منکرین تاریخ ہیں۔ سیکولر اور مغرب نوازوں  کو خیال رہے کہ صرف اسلام ہی میں نہیں بلکہ دوسرے مذاہب میں بھی قتل انسان کی سخت ممانعت ہے۔ انجیل مقدس میں واضح بیان ہے کہ ” کِسی بشر کی حیات کی ڈوری کاٹ دینا ، یہ تو بہت بھیانک گناہ ہے ” ۔ ( تکوین10:4ویں آیت) ۔۔ مقدس متی میں درج ہے کہ ، ”  تم سن  چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا۔  کہ تو خون مت کر۔ اور جو کوئی خون کرے گا عدالت میں سزا کے لائق ہو گا۔۔ ( مقدس متی۔ 21:5، 22 ) ۔۔ یہی نہیں شریعتِ موسوی کا پانچواں حکم بنی اسرائیل کو قتل کی ممانعت میں کہتا ہے کہ ” کسی کی زندگی مقدس اور خدا کا عزیز ترین تحفہ ہے۔۔ زندگی ایک بار ملتی ہے، سب کی زندگی سے پیار کرو” ۔ اب محبانَ امریکہ و مغرب بتائیں کہ  سامراج و مغرب کون سی مذہبی تعلیمات کے مطابق پچھلے سو برس میں دس کروڑ انسانوں کا بے رحم قتل عام کر چکے ہیں ؟ کیا اپنے نبی سیدنا عیسی کی تعلیمات سے منحرف امریکی اور مغربی عیسائی یا شریعت موسوی کے منکر یہودی اپنے مذاہب کی قیود سے مکمل آزاد  سیکولر نہیں؟ تو پھر کیا یہ دعوی ء درویش غلط  ہے کہ  دراصل ہر مذہب کی قید سے آزاد سیکولرازم ہی دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور قاتل مافیہ ہے؟ کیا سیکولرازم میں مذہب سے لا تعلقی کا مطلب صرف اسلام کی تذلیل و تحقیر اور لبرل ازم سے مراد تہذیب و اخلاق سے  مکمل چھوٹ اور روئے زمین پر قتل و غارت کی مکمل آزادی ہے ؟ یہ  واضح حقائق  جاننے کے بعد بھی اگر کوئی  سیکولر اور روشن خیال امریکی حواری عالم اسلام کو مجرم ٹھہرا کر امریکہ  اور مغربی اتحاد کو انسانیت حقوق کا محافظ سمجھتا ہے تو اس کیلئے میرے یہ دو اشعار کافی ہیں ۔ ۔

 در یوزہ گری حرفہ ء درویش و قلندر – : –  کشکولیء شب پیشہ ء دارا و سکندر
غدارِ حرم فتنہ ء مغرب کے مصاحب – : –  خیراتِ صلیبی ہے منافق کا مقدر

( فاروق درویش – واٹس ایپ کنٹیکٹ  – 00923224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: