تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

کسریٰ کے درباروں سے اسلام آباد کے چوراہوں تک


منکرینِ معجزاتِ الہی ,  ناقدین معجزاتِ نبوی ، سیاسی حوارین مغرب اور سیکولر روشن خیالوں کے اندھیرے دماغوں کی بتی جلانے کیلئے، سورۃ روم کی ابتدائی آیات میں مغلوب رومیوں کے دوبارہ غالب آنے اور کسری کے زوال  کے حوالے سے نبیء آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اٹل پیشین گوئیاں چمکتے خورشید اور دمکتے ماہتاب کی طرح روشن ہیں۔ کتاب الحکمت قرآن حکیم کی سورۃ روم میں ارشاد الہی ہے، ” (اہلِ ) روم مغلوب ہوگئے ، نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے ۔ چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اُس روز مومن خوش ہو جائیں گے”۔ اور ایران کے متکبر و عیاش مجوسی شاہ خسرو پرویز کی طرف سے تاجدار انبیاء کی طرف سے دعوتِ حق کا نامہء مبارک پھاڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ، ”ایرانیوں کی سلطنت کے تو پرزے اڑ جائیں گے، البتہ رومیوں کی سلطنت باقی رہے گی۔  ( حوالہ ۔ ذهبی، تاريخ الاسلام، المغازی، ص ٣٩٨) ”۔

احباب یہ ذکر کسریٰ یعنی ایران کی قدیمی سلطنت کا ہے۔ اور تخت نشین نوشیرواں عادل کا متکبر و عیاش پوتا، خسرو پرویز ہے۔ اس خسرو کے بارے علامہ ابنِ جریر طبری نے اپنی کتاب تاریخ  الامم و الملوک میں جو لکھا ہے، علامہ ابن اثیر اور دوسرے مورخین نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ کہ ” خسرو کے حرم میں تین ہزار بیویاں اور رقص و سرور کی محافل کیلئے ہزار ہا کنیزیں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں خادمین، ہزاروں گھوڑے، سیکنڑوں ہاتھی اور لاتعداد خچر موجود تھے۔ ہیروں اور جواہرات سے مزین ظروف کا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور شوقین نہ تھا “۔ قربان جائیں کہ اس شاہِ حشمت و جلال کو حق کا پیغام دیکر للکارنے والی ہستی، کھجور کی چٹائی پر افلاک سے ہمکلام ہونے والی بوریا نشین ذاتِ پاک ، اس نبی ء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی جس کا دنیاوی اثاثہ صرف  تن کا عام لباس، مٹی کا گھڑا اور کچا پیالہ تھا۔ مگر اس دانائے سبل، مولائے کل ختم الرسل کے غلاموں میں ایک اکیلے عاشق بلال حبشی کا جذبہ ء عشق ہی کسری کے لاکھوں غلاموں کی وفاؤں پر بھاری تھا۔

پیغمبرِ حق صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت عبداللہ بن حزافہ رض کے ذریعے دعوتِ حق کا جو خط  کسریٰ کو بھیجا گیا، اس کا ترجمہ یہ تھا، ”بسم اللہ الرحمن الرحیم،  محمد رسول اللہ کی طرف سے کسریٰ عظیم فارس کے نام، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، تمام لوگوں کی طرف تاکہ جو لوگ زندہ ہیں، ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا جائے، پس تم اسلام لاؤ سالم رہو گے اور اگر انکار کرو گے تو تمام آتش پرستوں کا وبال تمہاری گردن پر ہوگا“۔۔۔

کسریٰ  کے دربار میں جب  نبیء آخرالزمان ص کا یہ نامہ مبارک پڑھا گیا تو شہنشاہ خسرو، محمد رسول اللہ کا اسم گرامی اپنے نام سے پہلے دیکھ کر طیش میں آ کر خط پھاڑتے ہوئے بولا، ” میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں، اس نے ہمیں عرب سمجھ رکھا ہے ( نعوذباللہ )  میرا غلام ہو کر ایسا خط لکھنے کی جرأت کی ہے “۔  اس بدبخت نے یمن کے گورنر باذان کو حکم دیا کہ دو طاقتور آدمی بھیج کر اس مدعی نبوت کو گرفتار کر کے اس کے سامنے پیش کیا جائے ۔ سفیر نبوی  مدینہ پہنچے اور نبی کریم  کے روبرو سارا ماجرا بیان کیا ۔ تو آپ  نے پیشین گوئی فرمائی کہ ، ”جس طرح اس خسرو  نے میرے خط کو پرزے پرزے کیا ہے،  اللہ سبحان و تعالیٰ اس کی سلطنت  کو ٹکڑے ٹکڑے فرما دے گا۔“

اور پھر تاریخ  گواہ بنی  کہ میرے نبی  کی پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ ذوگر کے مقام پر عربوں نے پہلی بار ایرانیوں کو شکست دی۔ اور خسرو رومی فوج  کے ہاتھوں  بھی بدترین شکست سے ہمکنارہوا۔ بغاوت کے بعد تخت چھوڑ کر بھاگا تو امرا نے گرفتار کروا دیا۔ مقام عبرت ہے کہ اس کے اٹھارہ بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا۔ بیٹا  شیرویہ تخت پر قابض ہوا تو اس نے بھی باپ کو قید خانے میں بند کر دیا ،  جہاں وہ  آخر کار بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہو کرعبرت ناک انجام کو پہنچا۔  شیرویہ کی حکومت  بھی چھ  ماہ سے زیادہ عرصہ تک نہ  چل سکی۔ اور پھر امام  الانبیاء کا نامہ مبارک پرزے پرزے کرنے والے گستاخ کے قتل کے بعد تاجدار نبوت کی پیشین گوئی کے  صرف آٹھ برس بعد کسری کی  اس سلطنت کے ایسے ٹکرے ٹکرے ہوئے کہ چار صدیوں سے قائم  سنہری مملکت کا چراغ اسلامی افواج کے ہاتھوں ہمیشہ  ہمیشہ کیلئے گل ہو کر ایران میں مسلم دور کا آغاز ہوا۔ اسی  فتح  کے موقع  پر  ہی  حضرت  سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہہ کو سیدنا عمر فاروق  رضی اللہ عنہہ کے  ہاتھوں  کسری کے کنگن پہننےنصیب  ہوئے تو  نبی ء آخر الزمان  صلی اللہ علیہ  وسلم  کی  ایک  اور پیشین  گوئی  حرف بہ حرف پوری ہوئی۔

مسلمانوں سے شکست کھانے والے آخری کسریٰ، شاہ یزد گرد کے بارے  پروفیسر آرتھر کے بیان پر موجودہ حکمران و لیڈر یاد آتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ کسری کے تکلفات، عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ان کا آخری بادشاہ، مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کے بعد گرفتاری کے خوف سے دارالحکومت طیفون سے بھاگا تو ایک ہزار باورچی، ہزار گویے، ہزار چیتوں کے محافظ اور ہزار باز دار ساتھ لیکر گیا۔ لیکن اس کے مطابق، خادمین کی یہ تعداد ضرورت سے بہت کم تھی۔ میں تمام  سیاسی رہنماؤں کے  پرستاروں سے انتہائی ادب کے ساتھ  یہ سوال کرتا ہوں کہ آج زرداری کے محلات میں سینکڑوں باورچی و خادمین کن شاہوں کی تقلید کی تقلید ظاہر کرتے ہیں؟ میاں صاحب  کے قصرِ  رائیونڈ،  بیرون ممالک دوروں اور حتیٰ کہ عمروں کیلئے حجاز مقدس کے سفروں میں چارٹرڈ طیاروں میں ذاتی باورچیوں اور خادمین کی فوج کس امیرالمونین کی سنت پوری کرنے کیلئے ساتھ روانہ ہوتی ہے ؟ عمران خان کی بنی گالہ کی جاگیر کے سینکڑوں ملازمین، ڈبہ پیروں طاہرالقادری اور شاہ محمود قریشی کے چُوری بردار سیاسی مریدین اور دھرنوں میں گویوں اور رقاصاؤں کے  لشکر سیدنا فاروق اعظم کی اسلامی فلاحی ریاست کے آئینہ دار ہیں یا کسری کے عیاش حکمرانوں اور محمد شاہ رنگیلہ جیسے اوباش شاہوں کی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں ؟

اب واپس آتا ہوں آغاز میں مذکورہ اس قرآنی پیشین گوئی کی طرف، جس میں قریب کے ملک میں مغلوب  رومیوں کے دوبارہ غالب آنے اور مسلمانوں کیلئے خوشی کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اس دور میں کسری کی فوجیں اردن، شام اور فلسطین سے مصر تک پہنچ چکی تھیں۔ اور یہ وہی زمانہ تھا جب مسلمان، امام الانبیاء کی قیادت اور مشرکیں عرب  قریش سرداروں کی رہنمائی میں ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے ۔ اہل روم پر کسری کےغلبے کا چرچا عام تھا۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کو طعنہ و طنز کرتے تھے کہ جیسے ایران کے آتش پرست فتح یاب اور رسالت کے پیروکار رومی عیسائی پے در پے شکست کھا رہے ہیں۔ اسی طرح عرب کے بت پرست بھی مسلمانوں اور اسلام کو مٹا  دیں گے۔ ان حالات میں اللہ سبحان و تعالی نے سورہء روم نازل فرما کر یہ پیشین گوئی فرمائی کہ ” قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہو گئے ہیں، مگر اس مغلوبیت کے چند سال کے اندر ہی وہ غالب آجائیں گے، اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی دی ہوئی فتح سے اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے”۔

خیال رہے کہ اس میں بیک وقت دو پیشین گوئیاں ہیں، ایک مغلوب ہونے والے رومیوں کے دوبارہ غلبہ پانے کی اور دوسری مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح اور خوشی حاصل ہونے کی ۔ قابل غور ہے کہ اس وقت ایک طرف مکہ کے وہ مٹھی بھر مسلمان تھے جو اس قدر مفلوک الحال اور پسے بیٹھے تھے کہ بظاہر اگلے کئی برسوں تک ان کی فتح کا کوئی امکان نہ تھا۔ جبکہ دوسری طرف اہل روم مسلسل شکستوں کے بعد اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ لہذا دور دور تک بھی اس امر کے کوئی آثار نہ تھے کہ ان میں سے کوئی ایک پیشین گوئی بھی چند سال کے اندر پوری ہو گی۔ مغربی مؤرخ گبن لکھتا ہے کہ،  ” قرآن کی اس پیشین گوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخص یہ تصور تک نہ کر سکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر غالب آجائے گی، بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی”۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ قرآن کی پیشین گوئی پوری نہ ہوتی ؟ ۔ اور پھر قدرت نے حالات بدل کر وہ تاریخ لکھی کہ سب کچھ ممکن ہوتا چلا گیا۔ ادھر نبی ء برحق مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے۔ اُدھر قیصر روم ہرقل، بحیرہ اسود سے قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوا۔ ہرقل نے اپنا حملہ 623 ء میں آرمینیا سے شروع کیا اور 624ء میں آذربائیجان میں زرتشت کے مقامِ پیدائش ارمیا اور ایرانی مجوسیوں کے عظیم  آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ اس دوران 17 مارچ 624ء کے دن مسلمانوں کو جنگ بدر میں مشرکین مکہ کیخلاف فیصلہ کن فتح اور عظیم خوشی نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورۃ روم میں بیان کی گئی تھیں، قرآن حکیم اور بیان رسالت کے مطابق دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی بیک وقت پوری ہوگئیں۔

 قرآن حکیم ہی یہ پیشین گوئی بھی کرتا ہے کہ جو گستاخ رسالت  نبیء برحق کو ” ابتر ” یعنی مقطوع النسل کہتا ہے، دراصل وہ خود مقطوع النسل ہوتا ہے۔ خسرو کے کئی بیٹے تھے، لیکن صرف دو تین نسلوں کے اندر بتدریج ختم ہو گئے۔ یہ ساری باتیں قرآن حکیم، معجزات الہی، رسالت مآب  ص کی پیشین گوئیوں اور دینی شعائر و افکار  کی سچائی کا پتہ دیتی ہیں۔ مطالعہ اور تحقیق کیجئے تو کتاب الحکمت قرآن حکیم اور سیرت النبوی میں اور بھی کئی ایسے علمی و معنوی معجزات اور پیشین گوئیاں موجود ہیں، جو فلسفی، طبیعی، روحانی اور تاریخی علوم سے مربوط ہیں۔ ماضی قدیم میں رقص و شباب کی جیسی ہوش ربا محافل کسری کے شاہی ایوانوں میں برپا ہوتی تھیں، ویسی ہی آج جشن سندھ اور پنجاب کے کلچرل شوز اور اسلام آباد کے چوراہوں پر بھی سرعام  برپا ہیں۔ غلامیء مغرب کے جیسے طعوق محمد شاہ رنگیلے اور میر جعفر و صادق کے گلوں میں تھے،  ویسے ہی طعوق آج ہمارے حکمرانوں اور سارے انقلابی سیاست دانوں کے گلوں میں بھی موجود ہیں۔ تو  سوال یہ ہے کہ پھر وہ طریق و تقلیدِ فاروق اعظم، وہ جذبہء کربلا و حسین اور وہ وطیرہ و جراتِ حیدر کرار کہاں ہے، کہ جس کا جھوٹا دعویدار ہر ایک سیاسی لیڈر ہے؟ کاش ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا ذوق مطالعہ کبھی کبھار قرانی افکار، سیرتِ رسالت مآب  اور عظمتِ رفتہ کی تاریخ اسلاف کی طرف بھی رخ کرے ۔ لیکن جن حضرات کیلئے کتابِ حکمت قرآن حکیم اور سیرت نبوی کی بجائے کارل مارکس اور آئین سٹائین کی کتابیں اہم ہیں ان کیلئے میرے پاس کوئی تو الفاظ ہی نہیں ، ہاں اگر آپ کے پاس ہیں تو آپ کہہ دیں ۔ ۔ ۔ ۔

فاروق درویش ۔– واٹس ایپ کنٹیکٹ  03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

%d bloggers like this: