بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

ایرانی یہود کی یادگارِ اور طائرانِ قدرت کے ہتھیار


حال ہی میں کچھ ایسی خبریں گردش میں رہیں کہ  حوثی قبائل نے کعبہ پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ اور پھر اس غیر مصدقہ خبر پر دنیا بھر کے فرزندانِ توحید کی طرف سے انتہائی جذباتی و آہنی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ حوثی باغیوں کی طرف سے ایسے کسی بدبختانہ دعوی کا باقاعدہ اظہار و اعلان نہیں ہوا،  لیکن تاریخ میں اہل یمن و فارس کی طرف سے خانہء خدا پر مذموم قبضہ مہمات بحرحال موجود ہیں۔ اسی کعبہ پر حملے کیلئے وادیء محسر میں اپنی ساٹھ ہزار سپاہ اور ہاتھیوں سمیت طائران الہی ابابیلوں کی کنکریوں سے بھرکس بننے والا بدبخت ابرہہ بھی اسی یمن سے آیا تھا۔ اور بغاوت کا خونی ڈرامہ رچانے والے یمنی قبائل کی طرح ابرہہ کی مہم جوئی کی وجہ بھی مذہبی دشمنی کے علاوہ معاشی بالادستی کی ہوس بھی تھی۔ ابرہہ کا خیال تھا کہ اگر کعبہ ، ملکِ  یمن کا حصہ بن جائے تو عازمین حج کی بدولت قریش کو حاصل ہونے والی معاشی منافعت پھر اسے حاصل ہو گی۔ اس مقصد کیلئے اس نے ایک عظیم الشان گرجا ’’ القلیس ‘‘ بھی  تعمیر کیا اور حبشہ کے شاہ کو کیلئے خط میں لکھا کہ  اب میں عازمین حج کا رخ قریش کے کعبہ کی بجائے اپنے تعمیر کردہ خدائی کلیسا کی طرف موڑے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔  ابرہہ کے اس اعلانیہ دعوے سے توحید پرست عربوں میں بیحد اشتعال پیدا ہوا۔ احتجاج کے طور پر ایک یمنی عرب نے اپنی نفرت کے اظہار کیلئے اس کلیسا میں جا کر رفع حاجت کر دی۔ اور پھر اس یمنی کی اس احتجاجی حرکت سے ابرہہ کو خانہ کعبہ کی مسماری کے مذموم ارادے سے مکہ پر فوری چڑھائی کا موقع مل گیا۔ اس ملعون کا ارادہ  حجر اسود، رکن یمانی اور نقوش قدمینَ ابراہیمی کعبۃ اللہ سے اپنے کلیسا میں منتقل کرنا تھا ۔ جس کیلئے اس گرجا میں کعبہ سے مماثل ایک عمارت بھی تعمیر کی گئی۔ یمن کے دو قبائلی سرداروں نے اس کے ٹڈی دل لشکر کا راستہ روکنے کی بھرپور سعی کی مگر وہ  کمزور ہونے کی وجہ سے شکست کھا گیے۔  اور پھر جب یمن سے خانہء خدا کو مسمار کرنے کیلئے نکلا بدبخت ابراہہ ،  ربِ کعبہ کی طاقت و جلالت کا شکار ہو کر طائرانِ قدرت  کے ننھے منے کنکری ہتھیاروں سے ہولناک انجامَ  کو پہنچا، تو سورۃ الفیل میں قصص القرآن کا حصہ بن کر تاقیامت عبرت کا نشان بن گیا۔

ابرہہ کے اس عبرت انگیز انجام سے قبل ایک اور یمنی حسان حمیری نے بھی حجر اسود کو اپنے علاقے میں منقتل کرنے کا منصوبہ بنایا مگر بوجہ قریش کی طاقت اس ملعون کو مکہ کی حدود میں داخل ہونے کی جرأت نہ ہوئی۔ وہ ایک عرصہ حجاز آنے والے قافلوں کو لوٹتا رہا، تاآنکہ نبیء آخرازماں صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد جناب نفر بن مالک نے مکہ کے دیگر قبائل کے ساتھ  مل کر اسے گرفتار کر لیا۔ یہ بدبخت تین سال بعد فدیہ دیکر رہا ہوا مگر اللہ کا گھر مسمار کرنے کیلئے یمن سے آئے ہوئے اس ملعون کو اپنے گھر واپس پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا اور وہ یمن کی طرف واپسی کے راستے ہی میں لقمہء اجل بن گیا۔ زمانہء جدید میں 1979ء میں اسی ملک یمن سے مسلح دہشت گردوں کے ایک گروہ  نے کچھ مقامی سعودی باغیوں کی اعانت سے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا۔ ان دہشت گردوں کے سرغنہ بیمان بن محمد العتوبی نے خانہ کعبہ میں اعلان کیا کہ اس کا لیڈر محمد بن عبداللہ القہتانی امام مہدی ہے لہذا تمام مسلمان اس کے ہاتھ پر بیعت اور پیروی کریں ۔ اس خونی ڈرامہ میں سعودی فوج کے ایک سو پچیس جوان شہید اور پانچ سو کے قریب زخمی ہوئے۔ احباب قابل ذکر ہے کہ  قبضہ ہونے کے دو ہفتے بعد حرمِ پاک کو ان دہشت گردوں کے قبضہ سے بازیاب کرانے کی ذمہ داری پاکستان کو سونپی گئی۔ اور یہ امر پاکستانی قوم کیلئے قابل صد فخر ہے کہ ان سنگین حالات میں افواج پاکستان کے جرات مند کمانڈوز نے مسجد الحرام میں پانی اور کرنٹ چھوڑ کر انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مقام امن کعبۃ اللہ  میں  بنا کوئی خون بہائے ان مسلح دہشت گرد منحرفینِ کو  قابو کر کے گرفتار کیا۔

کچھ عالمی مبصرین اس سازش کے پس پردہ امریکہ اسرائیل ، کچھ یمنی قبائل اور سعودی مخالف شدت پسندوں کا اتحاد اور بعض سعودی عرب کی مغرب اور امریکہ نواز پالیسی کا رد عمل  قرار دیتے ہیں۔ بعد ازاں اس حملے میں گرفتار ہونے والے تمام کے تمام اڑسٹھ افراد  کو سزائے موت دے دی گئی۔ موجودہ دور میں سب سے قابل ذکر واقعہ 1987ء کی وہ افسوس ناک مسلح دہشت گردی ہے۔ جس میں ایرانی حاجیوں میں شامل مسلح افراد  نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا مگر اس بار بھی سعودی فورسز نے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے بھرپور تعاون سے یہ مذموم کوشش بھی ناکام بنا دی۔ اس واقع میں چار سو کے قریب جو افراد جان بحق ہوئے ان میں ڈھائی سو ایرانی اور باقی دیگر حجاج تھے۔ عالمی مبصرین کے مطابق ان مسلح دہشت گردوں کا تعلق بھی ایران سے تھا ، اور ان کے سرغنہ محمد حسن علی محمدی نے گرفتاری کے بعد برملا اعتراف کیا تھا کہ انہیں مسجد الحرام پر مکمل قبضہ کے بعد خانہ کعبہ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دینے کا مشن سونپا گیا تھا۔ لیکن وہ سعودی فورسز کی مزاحمت اور حکمت عملی کی وجہ سے اپنا یہ مشن مکمل نہیں کر پائے۔ 1989ء میں حج کے موقع پر دو بم دھماکے کئے گئے جن میں ایک شخص جاں بحق اور بیس زخمی ہوئے۔ اس  حملہ میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی واضع ثبوت سامنے نہیں آئے، جبکہ تحقیقات کے مطابق اس حملہ آور گروہ کا تعلق کویت کی ایک شیعہ تنظیم سے تھا۔

انتہائی متنازعہ امر ہے کہ کچھ عالمی مبصرین اور مسلم دانش ور سعودی مخالف تحریک اور کعبۃ اللہ پر ان حملوں کا تعلق براہ راست ایران سے جوڑتے اور اسے اتحاد بین المسلین کیلئے دنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان ناقدین کے مطابق ایران دراصل امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ حواری کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ عالمی ویب سائٹس پر ایران میں مقیم یہودی کمیونٹی کے بارے چشم کشا مضامین شائع ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ بڑی تعجب خیز بات ہے کہ جس ملک میں صیہونیت  اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے جائیں اور جہاں اسرائیل اور امریکہ کے جھنڈے نذر آتش کئے جائیں ، اس ملک میں ، یہودیوں کی والہانہ  پذیرائی اور انکی ” اعلی خدمات ” کا اعلانیہ اعتراف کیا جانا، کھلی دو رنگی اور منافقت کی واضع علامت ہی سمجھا جائے گا۔  قابل صد غور ہے کہ  ایرانی حکومت نے عراق، ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے ایرانی  یہودیوں کی ” قومی خدمات ” کے اعتراف میں ان ”  شہیدوں ” کی ایک یاد گار تعمیر کی ہے۔ یہ  یادگار ایران کے جنوبی شہر میں واقع ایک یہودی قبرستان میں تعمیر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں یہودیوں کی ایک ” قابلِ تعظیم و تحریم ”  کمیونٹی آباد ہے۔ ایران کے یہودی رہنماؤں نے حکومت ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس ” یادگار  شہداء ” کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے یہودی کمیونٹی کے صدر  ہمایوں نجف آبادی نے اظہار تشکر کے طور پر کہا  کہ ، ’’جو شخص بھی کی اس یادگار کو دیکھے گا، وہ ان شہید یہودیوں کی ایران کیلئے دی گئی قربانیوں کو ضرور یاد کرے گا “۔ اس قبرستان میں بنائے جانے والے اس یادگاری تختے پر دس یہودی ” شہیدوں ” کے نام کندہ  ہیں۔ ان میں سے پانچ یہودی  ایران و عراق جنگ میں لڑتے ہویے مارے گئے تھے، تین یہودی دوران جنگ عراق کی تہران پر بمباری کے دوران جان بحق ہوئے ، جبکہ باقی  دو یہودی ” شہیدوں” کی اموات شاہ ایران کے آخری دور کے ہنگاموں میں ہوئی۔

یاد رہے کہ انقلاب ایران سے پہلے یہاں آباد یہودیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ  تھی، ان میں سے زیادہ تر امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک نقل مکانی کر گئے۔ ابھی بھی ایران میں دس ہزار کے قریب یہودی آبادی ہے ، جس کے زیادہ  تر تہران، اصفہان اور شیراز میں آباد ہیں۔ اہل حکمت و دانش کے مطابق ایران کی طرف سے یہود اور اسرائیل کی اس درجہ مخالفت کے باوجود دس ہزار یہودیوں کا ایران میں مقیم رہنا، ایران اور اسرائیل کے مابین ” خفیہ تعلقات ” کے شبہات کو تقویت دیتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر حسن روحانی نے اقتدار میں آتے ہی ہٹلر کے ہاتھوں قتل ہونے والے یہودیوں کے ”  ہولوکاسٹ ” کی مذمت کی تھی۔ ان کی طرف سے خیر سگالی کے طور پر دنیا بھر کے ” مردہ باد ”  یہودیوں اور خاص طور ہر  ایران میں آباد یہودی کمیونٹی کو یہودی نئے سال کے موقع پر نیک تمناؤں کا پیغام بھی دیا گیا تھا۔

احباب یہ حقائق انتہائی قابل غور ہیں کہ کہ دجال کے خروج اور اس کے حواریوں کے بارے میں جو صحیح احادیث ملتی ہیں ان ميں سے اکثر کا تعلق موجودہ ایرانی شہروں ہی سے ہے۔ متفقہ علیہ اور مصدقہ احادیث کے مطابق دجال کا خروج شہر اصفہان سے ہوگا اور ستر ہزار اصفہانی یہودی اس کے ہمراہ ہوں گے۔ لیکن قابل توجہ  ہے کہ احادیث کے مطابق تو دجال کے ہمراہ ستر ہزار یہودی ہوں گے مگر اعداد و شمار کے مطابق، ایران میں صرف دس ہزار یہودی آباد ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی ساٹھ ہزار یہودی کہاں سے آئیں گے؟ کیا اس وقت تک ان یہودیوں کی آبادی بڑھ کر ستر ہزار ہو چکی ہو گی یا پھر مخفی حقائق یہ ہیں کہ جن قدیم یہودیوں نے اسلام قبول کیا تھا دراصل ان میں سے بعض قبیلوں نے بظاہر تو اسلام قبول کرلیا لیکن درحقیقت وہ نام نہاد مسلمان اندر سے ابھی تک یہودی ہی ہیں ؟ حقائق استفسار کرتے ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایسے درپردہ ”  خفیہ یہودی ” امت اسلامیہ کو کوئی انتہائی کاری ضرب اور نقصان پہنچانے کیلئے کسی مناسب وقت کا انتظار رکر رہے ہیں؟

دوسرے یہ بات بھی قابل صد توجہ ہے کہ اصفہان کے یہودی تمام یہودی قبائل ميں سب سے ممتاز درجہ اور اعلی ترین مقام رکھتے ہیں۔ یہودی قیادت کیلئے ان کی اہمیت  کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت اسرائیل کئی بار ان اصفہانی یہودیوں کو اسرائیل میں آباد ہونے کی درخواست کر چکی ہے لیکن اپراسرار امر ہے کہ  یہ لوگ ایران ہی میں رہنے پر مصر ہیں۔ میرے مطابق یہ سب کچھ قابلِ مذمت تفرقہ بازی یا خطہء عرب و فارس میں معاشی و عسکری بالا دستی کی گرم سرد جنگ سے بڑھ کر ہی کوئی ایسا پراسرار معاملہ بنتا جا رہا ہے، جس کی نا قابل فہم کڑیاں اس دورِ آخر اور مقدس وقت سے ملنے جا رہی ہیں، کہ جب سیدنا عیسی علیہ السلام اپنے نزول ثانی میں افلاک الہی سے ایک امتیء محمدی بن کر ملکِ شام میں اتریں گے اور اسرائیل کے مقام لد پر  دجال اور خنزیر کا قتل کرنے کے بعد صلیب توڑیں گے۔ اے کاش کہ یہ فقیرِ مصطفوی و مرتضوی فاروق درویش بھی اس لشکرِ مہدی و عیسی کا ایک ادنیٰ سپاہی ہو ،  تو عالمِ  برزخ میں قرب محمدی کی گواہی ہو ۔ ۔ ۔

 

( فاروق درویش ۔۔ 03224061000)

اس مضمون کیلئے جناب اسرار بخاری کی تحریر اور دیگر مستند تاریخی مضامین سے مدد لی گئی ہے۔

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: