تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

شاہ ، مداری اور سونامی کیلئے عبرت انگیز – سکندراعظم کا جنازہ


تاریخی موضوعات کی معروف لکھاری ثروت عین جیم کی یہ  سطور تاریخ کی اہمیت کے منکرین کیلئے قابل غور ہیں  کہ ، تاریخ کی کھڑکی سے جھانک کر گزرے وقتوں کو دیکھنا ہمیشہ سے بنی آدم کا محبوب عمل رہا ہے۔ مگر ماضی و حال سے غافل اور مستقبل سے بے نیاز شاہوں جیسے ناقدین کی طرف سے پہ سوال بھی اُٹھایا جاتا ہے کہ ماضی کے مطالعہ اور قدیم تاریخ کی گرد آلود کتابوں سے کیا حاصل ہوگا ؟ نئے دور کے تقاضوں میں ماضی کی تحقیقات کیسے مفید ثابت ہوں گی؟  مگر حالات پر دور رس  نظر رکھنے والے اہل دانش تاریخ کے اوراق کی خاک چھان کر، انسان کے حالیہ مسائل کے حل کیلئے  تاریخ میں چھپے اسباق ڈھونڈ لاتے ہیں۔ غور کیجیے تو گزشتہ اقوام اور افراد کے حالات و واقعات  لوگوں تک پہنچانا سنتِ ہروردگار بھی ہے۔  قصص القران گواہ ہیں کہ کتابِ الٰہی میں بھی کئی مقامات پر سابقہ اقوام کے حالات سنا کر عبرت اور نصیحت دی گئی ہے۔  سورۃ ہود کی آیت 120  میں ارشاد  ہے کہ ” اے نبی یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مظبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی “۔

لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کی ہر شے یکا یک مشہور ہوتی ہے ۔ امریکیوں نے ہمارے بند کباب کو برگر اور آلو قیمے والے نان کو پیزا بنا دیا تو ہر طرف برگر برگر اور پیزا پیزا ہو گیا۔ امریکی سکالر ولیم فورڈ نے کہا کہ” ہسٹری از اے بنک ” تو پوری دنیا میں ” تاریخ ایک بینک ہے ” کا مقولہ  مشہور ہو گیا۔ حالانکہ بینک کے معانی میں ایمانداری اور امانت داری سب سے پہلی شرط ہے۔ لیکن بادشاہوں کے زرخرید قصیدہ گو مورخین کی لکھی ہوئی کچھ تاریخی کتب سے گمان ہوتا ہے کہ ” تاریخ ایک گھپلا  اور چکر بازی ہے”۔ میں تاریخ نویسی کے حوالے سے جناب مستنصر حسین تارڑ سے متفق ہوں کہ  زورآور بادشاہ اپنی من مرضی کے مطابق تاریخ لکھواتے ہیں اور تاریخ نویس کی جان کی امان، عافیت اور منفعت  بھی اسی بات میں پنہاں ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے ان کی شان میں ڈفلیاں بجاتا رہے۔  اس حوالے سے بتانا چاہوں گا کہ ایک ایسے ہی ڈفلیاں بجانے والے معزز مصاحبِ شاہی کالم نویس کے جواب میں لکھے گئے میرے اخباری  کالم ” کشکولِ ہوس روزن ِ دیوار سے بولے” کی اشاعت پر ان طاقتور صاحب شدید دباؤ پر میرے اخباری کالموں اور اخباری قطعات پر جبری پابندی لگا دی گئی۔۔

احباب یہ عجیب اتفاق قابل صد غور ہے کہ امریکہ کی طرح پوری دنیا کی فتح کا خواب دیکھنے والا سکندر بھی امریکہ کی طرح پاکستان کے قبائلی اور شمالی علاقہ جات سے دھول چاٹ کر اس خطے سے نامراد واپس لوٹا تھا۔ میں  بھارت، امریکہ اور مغربی اتحاد کے جارحین کیخلاف متحرک  کشمیری، افغانی اور پاکستانیوں ہی کو اصل مجاہدین سمجھتا ہوں ۔ افواج پاکستان، نہتے عوام اور معصوم بچوں  پر دہشت گرد حملے کرنے والے بھارتی ایجنٹ، جہادی نہیں فسادی ہیں ۔  یہاں خیال رہے کہ سکندراعظم  کا اس خطے پر حملہ  زمانہ اسلام سے صدیوں پہلے 326 قبل مسیح کی بات ہے ۔ لہذا  اس دور میں روشن خیال یا شدت پسند مسلمانوں کا کوئی وجود نہ تھا۔ لیکن اس قبائلی علاقے کی قدیم تاریخ بھی اس امر کی گواہ رہی ہے کہ یہ کوہساری لوگ بیرونی حملہ آوروں کیخلاف ہمیشہ ہی سے غیرتمند مزاحمت کی علامت بنے رہے ہیں۔ جب سکندر افغانستان سے ہندوستان پر حملہ آور ہونے کیلئے موجودہ پاکستانی علاقے میں داخل ہوا۔ اس وقت  موجودہ سوات، دیر، بونیر اور باجوڑ کے قبائیلی علاقوں میں قدیم بدھ مت  کے پیروکار آباد تھے۔

سکندر اعظم  اسی  وادیء کنڑ سے باجوڑ  میں داخل ہوا جو گذشتہ صدیوں سے سونے کی چڑیا  ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے بیرونی لشکروں کا پسندیدہ راستہ اور ہر دور کے جنگجوؤں کیلئے محفوظ  پناہ گاہ رہی ہے۔ سوات کے قریب ناؤگئی کے مقام پر مقامی پختونوں سے ہونے والی جنگ سرزمینِ پاکستان پر سکندر کی پہلی جنگ تھی۔ اسی جنگ میں وہ ان قدیم پختونوں کے ہاتھوں  پہلی مرتبہ زخمی بھی ہوا لیکن اسکی منظم فوج کے ساتھ  نو ماہ طویل جنگ کے بعد ان غیر منظم مقامی باشندوں کی مزاحمت دم توڑ گئی۔ مابعد  اس علاقے میں اس کا دوسرا بڑا مقابلہ سوات کے قریب و جوار میں آباد کوہساری جنگجو اساکینی قبائل سے ہوا۔ جس میں وہ ان بہادر جنگجوؤں کے ہاتھوں دوسری بار زخمی ہوا۔ لیکن جب جیت کے جنون میں زخموں سے بے پرواہ فاتح کے خون کی گرمی کم اور درد کی شدت بڑھی تو اسے زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ لوگ جس سکندراعظم کو مشتری دیوتا کا بیٹا کہتے ہیں، اس کی حیثیت دراصل ایک عام انسان سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

تاریخ کے مطابق سکندر نے جہلم  کے نزدیک راجہ پورس کو شکست دی۔ لیکن کچھ مبصرین  کیلئے سکندر کی فتح اور پورس کو سلطنت واپس کرنے کا خود ساختہ  قصہ،  یونانی تاریخ نویسوں کی جھوٹی داستان ہے ۔ ان مبصرین کی اس  دلیل میں بڑا وزن  ہے کہ جو سکندر پوری دنیا فتح کرنے کے جنون میں ہر چھوٹی بڑی ریاست کیلئے خون ریز جنگیں لڑتا رہا، وہ  پورس کو شکست  دینے کے بعد  اسے ایک وسیع سلطنت کیسے واپس کر سکتا تھا۔ میرے مطابق پورس سے جنگ کے بعد سکندر کی فوج میں  بغاوت اور واپسی کا اصرار بھی اس موقف کا گواہ  ہے کہ پورس کی شکست کا قصہ دراصل سکندر کے شاہی مورخین کی سٹوری تھی ۔ مستنصر حسین تارڑ کے مطابق بھی سکندر کے ہمراہ آنے والے یونانی تاریخ نویس کیسے یہ جرات کر سکتے تھے؟ کہ پوری ایمانداری سے اقرار کرتے کہ سکندر کو چناب کے کناروں پر اتنی “پھینٹی” پڑی کہ اس کی سپاہ نے نہ صرف بغاوت کی بلکہ اس کے بعد  ہندوستان کے اندر جانے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ پہلے معرکے میں ہی یہ حشر ہوا ہے تو “اللہ جانے کیا ہو گا آگے” تو “چلو چلو یونان واپس چلو”۔۔

یہی تلخ  تاریخ  دنیا میں عظیم فاتح کہلوانے والے سکندر اعظم کی شکصیت سے وابستہ  ظلم و سفاکیت کے کئی چھپے راز بھی کھولتی ہے۔  باپ کے قتل کے بعد اگرچہ  اس  کے علاوہ  حکمرانی کا کوئی اور دعوے دار نہ تھا۔ مگر حصول اقتدار کیلئے ازل سے جاری حفظ ما تقدم کے شاہی نظریہء ضرورت کے تحت اس  نے بھی ایسے تمام افراد کو چن چن کر قتل کروا دیا جو اس کے اقتدار کیلیے کوئی ممکنہ خطرہ بن سکتے تھے۔ حتی کہ اس نے اپنی ماں کے کہنے پر اپنی دودھ  پیتی کمسن سوتیلی بہن تک  کو  قتل کر دیا۔ مگر رواج شاہی میں ایسے قتال انوکھی بات نہیں ۔ دیکھا جائے تو تخت و تاج کے حصول اور حفاظت کیلئے اپنوں اور بیگانوں کی  قتل گری سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ حصول اقتدار اور طوالت اقتدار کی جنگ میں صرف احباب اور عزیز و اقارب کا قتل عام ہی نہیں، مذیب و مسلک اور ملک و قوم سے غداری  بھی رواجِ سیاست  رہا ہے۔ مغل حکمران اورنگ زیب کے ہاتھوں سگے بھائیوں دارا شکوہ اور مراد کا  قتل یا موجودہ دور میں زرداری صاحب کے ہاتھوں مرتضے بھٹو، شاہنواز بھٹو اور محبوب بیوی بینظیر بھٹو کے قتل اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔

دیکھا جائے تو آج  عالمی چوہدری امریکہ کے شاہ اوبامہ کے متکبرانہ رویے میں بھی سکندر اعظم کی روح کی حلاوت نظر آتی ہے ۔ دارا جیسے مہان ایرانی حکمران کو شکست دینے کے بعد سکندر کی رعونت و تکبر کا  یہ عالم تھا کہ وہ خود کو یونانی دیوتا ” زیوس ” کی مقدس اولاد سمجھتے ہوئے اپنے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔ اس نے اپنے قریبی دوست “ لکی توس ” کو صرف اس لئے پیٹ میں نیزہ گھونپ کر بیدردی سے قتل کر ڈالا کہ اس نے سکندر کو دیوتا ماننے سے انکار کیا تھا۔ مگر طاقت اور تکبر کے نشے میں بدمست شاہی کرنے والے لوگ اللہ رب العزت کو قطعی پسند نہیں۔ سکندراعظم  سال ہا سال گھروں سے دور رہنے سے اکتائی ہوئی فوج کی بغاوت اور موجودہ پاکستان کے قبائیلی علاقہ جات اور راجہ پورس سے مقابلوں میں تگڑی مزاحمت کے بعد ہندوستان میں آگے بڑھنے سے خائف ہو کر ، جنگی سرداروں کے واپسی کے اصرار کے بعد اپنے وطن یونان واپس جاتے ہوئے بابل کے مقام پر ،  یروشلم کا مقدس شہر اور ہیکل سلیمانی  تیر و تاراج کرنے والے اس شاہ بخت نصر کے محل میں بے بسی کی موت مرا ، جو سکندر کی طرح خود کو انسان نہیں بلکہ خدا اور دیوتا سمجھتا تھا۔  قدرت کے ایک باغی شاہ بخت نصر کے محل میں قدرت کے ایک باغی سکندر کا سسک سسک کر مرنا دراصل قدرت کی طرف سے یہ خاموش اعلان تھا کہ اصل مقتدر ِ اعلی صرف اللہ کی ذات ہے۔۔۔

افسوس کہ گھر سے پوری دنیا  فتح کرنے نکلا  سکندر اعظم اپنے  گھر زندہ  واپس نہ پہنچ سکا۔  حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مشہور قول ہے کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔  کل عالم  کی تسخیر کیلئے جنونی  سکندر اعظم کے خوابوں کا ٹوٹتا اور تکبرانہ سوچ کا بے بسی کی موت پر اختتام  زمانوں کیلئے عبرت انگیز ہے۔ میری تحقیق کے مطابق واپس لوٹتے ہوئے سکندر کی بابل پہنچنے تک شدید علالت اور موت کی وجہ ٹائیفائیڈ نہیں، بلکہ ان زخموں میں زہر پھیلنا تھا جو اسے موجودہ سوات کے کوہساری جنگجوؤں سے جنگوں کے دوران لگے تھے اور پھر  مابعد واپسی کے راستے میں بابل پہنچنے پر انہیں گہرے زخموں میں زہر  اور انفیکشن کا پھیلنا ہی اس کی جواں سالی کی موت کا  سبب بنا۔ شاہ بخت نصر کے محلات بابل سے اپنے وطن یونان کی طرف گامزن،  خالی ہاتھ  سکندر اعظم کا جنازہ ، اپنی کلائی پر کروڑوں روپے مالیت کی گھڑیاں باندھنے والے خوابیدہ  حکمرانوں، سترہ لاکھ کی بزنس کلاس میں  سفر کرنے والی ” غریب پرور”  خوابوں والی سرکاروں،  لندن کی گوری گود میں بیٹھے خود ساختہ جلا وطنوں اور خود کو اپنی تقدیر کا مالک ” آئی ایم لارڈ آف مائی اون فیٹ ” قرار دینے والے “انقلاب دانوں”  کیلئے تازیانہء عبرت ہے۔  وہ خدائی کے دعویدار فرعون و نمرود ہوں ، ظلم و بربریت کے نشان بخت نصر و شاہ نیرو ہوں،  فتنہء حسن  سے تسخیر شاہی کرنے والی ملکہ قلوپطرہ ہو یا فاتح عالم  کا خواب دیکھنے والا  سکندر اعظم، ان سب ظالموں کا انجام صرف بے بسی کی موت تھی۔ بے شک میرے پروردگار کا یہ فرمان ہی کافی ہے کہ ، ” فَاعْتَبِرُوْا يٰـاُولِی الْاَبْصَار”۔۔ پس اے دیدہِ بینا والو (اس سے) عبرت حاصل کرو ۔ ۔  شک  تسخیر عالم سے ہزار درجہ بہتر تسخیرِ قلوب ہے کہ  محبت ہی فاتحِ عالم ہے ۔

    در یوزہ گری حرفہ ء درویش و قلندر – کشکولیء شب پیشہ ء دارا و سکندر
کھلتے ہیں یہ اسرارِ قلندر سوئے مقتل – ملبوس فقیری ہے فقط عشق کی چادر

( فاروق دریش – 03224061000  )

نوٹ : اس مضمون کیلئے تاریخی  موضوعات کی معروف بلاگر محترمہ ثروت عین جیم  اور جناب مستنصر حسین تارڑ کی تحاریر سے مدد لی گئی

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: