تاریخِ عالم و اسلام ریاست اور سیاست

صلیبی جنگیں اور فتح بیت المقدس ۔ حصہ دوئم


امن کے نام نہاد علمبردار یورپ کی متحدہ عیسائی طاقتوں کی طرف سے مذہب کے نام پرعالم اسلام کیخلاف کھلی جارحیت اور عالمی دہشت  گردی کی علامت صلیبی جنگوں کے حوالے سے اپنے گذشتہ مضمون “صلیبی جنگیں اور تاریخ سیاہ ست – حصہ اول “ میں پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس کے حالات و واقعات قلمبند کیے تھے۔ اول تا آخر تمام صلیبی جنگوں کے حوالے سے یہ تاریخی حقیقت و اعتراض انتہائی اہم  ہے کہ صدیوں پہلے کی صلیبی جنگوں میں بھی پورے یورپ کے صلیبی اتحاد  ہزاروں میل دور سے آ کر ترک و عرب کی مسلم ریاستوں پر حملہ آور ہوتے رہے۔ اور آج بھی  سامراج اور نیٹو کا  صلیبی اتحاد ہزاروں میل دور سے آ کر مسلم ممالک پر یلغار کیے صلیبی  دہشت و بربریت پھیلا رہا ہے۔ دس صدیاں پہلے بھی ان صلیبی طاقتوں کو تمام اسلام دشمن عناصر اور ننگ ملت غداروں کی حمایت و مدد حاصل تھی اور آج  بھی سب صیہونی فتنہ گر، عیار ہندوآتہ، فتنہء قادیانیت، دین دشمن سیکولر عناصر اور ننگ ملک و ملت  ان کے حلیف و  ہمزاد  ہیں۔  سقوط بیت المقدس کے بعد سلجوقی مسلم سلطنت کے انتشار اورعہد زوال کے دوران ہی زنگی سلطنت کی بنیاد رکھنے ولے سلطان عماد الدین زنگی کی مجاہدانہ شخصیت جارح عیسائیوں کیلئے موت کا پیغام بن کر ابھری۔ عماد الدین نے سقوط بیت المقدس کے بعد مایوس امت مسلمہ کے جذبات ملی کو گرما کر انہیں نئی زندگی اورامیدِ صبح بخشی۔ اس کے دور حکومت کی شروعات میں ہی موصل ، حران ، حلب وغیرہ کے علاقوں کو فتح کر کے زنگی سلطنت میں شامل کر لیا گیا تھا ۔ عماد الدین نے جس جرات اور دلیری سے صلیبی حملہ آوروں کے دانت کھٹے کیے وہ تاریخ اسلام کا قابل فخر سنہری باب ہے۔ اس نے قلعہ اثارب اور مصر کے سرحدی علاقوں سے عیسائیوں کو باہر دھکیل کر اسلامی ریاست میں شامل کیا ۔ اسی طرح شام کے محاذ پر بھی صلیبی فوجوں کو ہزیمت کا مونہہ دیکھنا پڑا اور مسلمانوں نے شام کے وسیع و عریض علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔ عماد الدین زنگی کا سب سے بڑا کارنامہ لبنان کے اہم قدیمی شہر بعلبک پر دوبارہ اسلامی قبضہ ہے۔

عماد الدین کی وفات کے بعد اس کا نامور بیٹا نور الدین زنگی تخت نشین ہوا۔ نورالدین زنگی مجاہدانہ کردار میں اپنے عظیم باپ سے کسی طور بھی کم نہ تھا۔ اسلامی تاریخ میں جرات و بہادری، زہد و تقوی اورعدل و انصاف کی وجہ سے اس کا ذکر عمر بن عبد العزیز کے بعد آنے والے مسلم حکمرانوں میں پہلے نمبر پر ہوتا ہے۔ وہ جب تک زندہ رہا، ملت اسلامیہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ہر قیمت پر اور ہر قربانی دے کر متحد رکھنے کے مشن پر گامزن رہا۔ اقتدار میں آتے ہی اس نے بھی اپنے باپ کی طرح عالم اسلام میں‌ پھر سے جذبہء جہاد کی ایک نئی روح پھونکی اورعیسائیوں سے بیشتر علاقے چھینتا، انہیں ہر محاذ پر زبردست شکستیں دیتا ہوا روحا کے شہر پر دوبارہ قابض ہوگیا۔ عیسائیوں کی ان شکستوں کی خبریں پورے یورپ میں پہنچیں تو اسلام سے دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت کی آگ میں جلتے ہوئے عیسائی پوپ یوجین سوم نے ایک بار پھر صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا اور اس طرح دوسری صلیبی جنگ کا آغاز ہوا۔ 1148ء میں جرمنی کے بادشاہ کونراڈ سوم اور فرانس کے حکمران لوئی ہفتم کی قیادت میں دس لاکھ مقدس جنگجوؤں پر مشتمل عیسائی فوج مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کیلیے یورپ سے روانہ ہوئی۔ قابل ذکر ہے کہ اس بار اس مقدس صلیبی فوج میں ہزاروں کی تعداد میں وہ ” مجاہدین عورتیں” بھی شامل تھیں جن کی نصف سے زیادہ تعداد طویل سفر کے دوران اپنے ہی عیسائی مجاہدین کی جنسی ہوس اور درندگی کا شکار ہو کر زندگی کی جنگ ہار گئی۔ پہلے صلیبی لشکروں کی طرح ان عیاش فوجیوں نے بھی دوران سفر راستے میں آنے والے شہروں اور بستیوں کے پرامن باسیوں کے ساتھ ناقابل برداشت اخلاق سوز سلوک کرتے ہوئے خواتین اور کم سن بچوں تک کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ فرانس کے شاہ لوئی ہفتم کی فوج کا ایک بڑا حصہ سلجوقی مسلمانوں کے ہاتھوں ‌تباہ و برباد ہوا۔ سو انطاکیہ پہنچنے تک اس دہشت گرد صلیبی لشکر کی تین چوتھائی فوج مکمل تباہ و برباد ہوچکی تھی۔ باقی ماندہ فوج کی بدقسمتی کہ انہوں نے آگے بڑھ کر دمشق کا محاصرہ کرکے از خود ایک فاش غلطی کی۔

قارئیں یہ یاد رہے کہ صلیبی یلغار کے وقت دمشق کی مسلم امارت اپنے گرد و نواح کی صلیبی ریاستوں کی حلیف اور حلب کے مجاہد زنکی حکمرانوں کی حریف تھی ۔ مگر صلیبیوں کی اس جارحانہ دراندازی پر دمشق اور حلب کی مسلم امارتوں کے مابین فرق مٹ گئے اور رقابتیں، قربتوں اور اتحاد و اخوت میں بدل گئیں۔ اس مسلم اتحاد کی خاص وجہ یہ تھی کہ اس اہم وقت تک حلب کی امارت مجاہد اسلام سلطان نور الدین زنگی کے پاس آچکی تھی۔ نور الدین زنگی کی فوجیں حلب و دمشق کی دیرینہ رقابت و مخاصمت بھلا کرشہر دمشق میں صلیبی محاصرے میں گھرے ہوئے برادر مسلم حکمران معین الدین انر کی بروقت مدد کو پہنچیں تو جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ سیف الدین زنگی اور نور الدین زنگی کی مشترکہ کاروائی سے صلیبی حملہ آور اپنے شیطانی عزائم میں کلی ناکام رہے اور جدید سامان حرب سے لیس ان کا عظیم الشان ٹڈی دل لشکر بری طرح پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔ یہ مسلم اتحاد ہی کا کرشمہ تھا کہ شام کے چاروں طرف صلیبی ریاستوں کی بے پناہ طاقت اور مسلم ریاستوں میں موجود ننگ ملت غداروں اور ننگ وطن ضمیر فروشی کے خطرناک جال کے باوجو پورے یورپ کا مقدس صلیبی اتحاد مسلمانوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ اور یوں مسلم افواج نے لوئی ہفتم اور کونراڈ کے بچے کھچے زخمی لشکر کو دوبارہ یورپ کی ناپاک سرحدوں میں واپس دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ دوسری صلیبی جنگ کا یہ پہلا مرحلہ بھی ناکام ہوا۔ اتنی بڑی مہم کی کلی ناکامی کے بعد پھر ایک طویل مدت تک یورپ کے صلیبی دہشت گردوں کو کسی بڑی مہم جوئی کی ہمت نہ ہوئی۔

پھر عالم اسلام میں وہ عظیم غلامِ محمدی شخصیت نمودار ہوئی جس کے مجاہدانہ و سرفروشانہ کارنامے آج بھی امت اسلامیہ کیلیے درس عمل اور صلیبی طاقتوں کیلیے ڈراؤنے خواب ہیں۔ یہ عظیم کردار، مرشد مجاہدین، فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی تھا ۔ یاد رہے کہ نور الدین زنگی کی موت کے ساتھ ہی شام میں طوائف الملوکی کا دور پھر سے لوٹ آیا تھا۔ جس کے باعث یہ خدشات لاحق تھے کہ خطہء عرب میں صلیبی استحکام کو واپس آنے کا ایک اور موقعہ ملنے والا ہے مگر نور الدین زنگی کے لگائے ہوئے اس صالح پودے صلاح الدین نے چند ہی برسوں میں مصر میں قائم فاطمیوں کی خلافت کا خاتمہ اور بغداد کی عباسی خلافت کا خطبہ جاری کر کے مصر کو ازسر نو سنت مصطفوی پر کھڑا کردیا۔ مصر کا خود مختار حکمران بنتے ہی اس نے اسلام کے بدترین دشمن صلیبی جارحین کے خلاف عملی جہاد کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیا تھا۔ سو جلد ہی اس نے ایک ایسا مضبوط جہادی لشکر تیار کیا جس نے آنے والے برسوں میں صلیبی دہشت گرد فتنوں کو کبھی چین کی نیند نہیں سونے دیا۔ یہ بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کا بڑا اہم کارنامہ تھا کہ اس نے ملک شام کو طوائف الملوکی سے نکال کراپنی قیادت میں از سر نو متحد کیا۔ سو یوں ایک قلیل عرصے میں شام اور مصر پھرسے ایک صالح مسلم قیادت کے زیر سایہ متحد اور توانا بن چکے تھے۔ سلطان نے جلد ہی موصل اور حلب وغیرہ کے اہم علاقے بھی فتح کر کے اسلامی سلطنت میں شامل کر لیے تھے۔

اس دوران صلیبی سردار ریجنالڈ کے ساتھ چار سالہ معاہدہ صلح ہو چکا تھا جس کی رو سے دونوں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن عیسائیوں کی وعدہ شکن اور عیارانہ ازلی روایات کے عین مطابق یہ معاہدہ محض کاغذی اور رسمی ثابت ہوا۔ صلیبی حسب سابق ، بدستور اپنی اشتعال انگیزیوں اور فتن دوزیوں میں مصروف اور مسلمانوں کے قافلوں کو برابر لوٹ رہے تھے۔ 1186ء میں عیسائیوں ‌کے ایک ایسے ہی حملہ میں ریجنالڈ نے یہ ناپاک جسارت کی کہ وہ دیگر عیسائی جنگجو امرا کے ساتھ شہرِ نبوی، مدینہ منورہ پر ناپاک حملے کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلیے فوری اقدامات کیے۔ نبیء آخرالزماں ص کے اس حقیقی غلام نے اس بدبخت صلیبی سردار ریجنالڈ کا فوری تعاقب کرتے ہوئے اسے حطین کے تاریخی مقام پر جا لیا۔ سلطان نے اپنے آقائے نامدار کے شہر مقدس پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے صلیبی لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ پھینکوایا کہ جس سے میدان جنگ کی زمین پر چاروں طرف بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک آتشیں ماحول اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کے درمیان 1187ء کو حطین کے مقام پر تاریخ کی اس خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا جس کے انجام کو یاد کر کے آج بھی صلیبی حکمرانوں کے کانوں سے تپتا ہوا دھواں برامد ہوتا ہے۔ اس تاریخی جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار سے زیادہ عیسائی حملہ آور جہنم واصل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ بدبخت ریجنالڈ کو زندہ گرفتار کیا گیا اور پھر سلطان نے مدینۃ النبوی پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے اس گستاخ صلیبی سالار کا سر اپنے ہاتھ سے قلم کیا۔

اس فتح کے بعد اسلامی افواج چاروں طرف عیسائی علاقوں پر پوری طرح چھا گئیں۔ جنگ حطین کی شاندار فتح کے فوری بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا۔ سات دن کی خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال کر سلطان سے رحم کی اپیل کی۔ اور یوں پورے اکانوے برس کے بعد قبلہ اول بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔ بیت المقدس کی فتح مبارک سلطان صلاح الدین ایوبی کا ناقابل فراموش اورعظیم الشان کارنامہ تھا۔ میرا ایمان ہے کہ فتح بیت المقدس کے موقع پر اللہ کی طرف سے نصرت و مدد کی وجہ جنگ حطین کے خوں ریز معرکے میں شہر نبوی مدینہ منورہ کی حفاظت و حرمت کیلیے والہانہ سربکفن لڑنے والے ایوبی سلطان کا عشق مصطفائی کا جذبہء ایمانی تھا۔ صد آفرین کہ اس مرد مجاہد نے جب تک شہر نبوی مدینہ منورہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے صلیبی لشکر کو خاک و خون میں روند نہیں ڈالا ، تب تک یا تو وہ مرد مومن مصلے پر اپنے اللہ کے حضور حالت سجدہ میں یا گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ میں تلوار تھامے میدان جنگ میں موجود رہا۔ میرا حق الیقین ہے کہ ایک سچے عاشق رسول سلطان صلاح الدین ایوبی اور اس کے سربکف مجاہدوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اللہ کے محبوب نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس نگری کی حفاظت کی تو پھر مولائے کائنات اللہ سبحان تعالی نے بھی قبلہء اول بیت المقدس کی مبارک فتح کا سہرا ان کے ماتھے پر سجا کر انہیں تاریخ میں امر کر دیا ۔

مرحبا اس مسلم مجاہد کا کردار کہ سقوط بیت المقدس کے وقت صلیبیوں کے مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کے برعکس سلطان ایوبی نے عیسائیوں پر کسی قسم کی زیادتی اور ظلم نہیں کیا۔ یروشلم اور ملحقہ علاقے کے عیسائیوں کو چالیس دن کے اندر سلامتی کے ساتھ شہر سے نکل جانے کی اجازت عطا کی گئی ۔ رحمدل اور منصف ایوبی سلطان نے فدیہ کی بڑی معمولی سی رقم مقرر کی اور جو لوگ وہ بھی ادا نہ کر سکے انہیں بغیر ادائیگی ء فدیہ ہی شہر چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔ بعض اشخاص کا زر فدیہ سلطان ایوبی نے اپنی طرف سے ادا کر کے انہیں آزادی دی۔ اس فتح عظیم کے بعد بیت المقدس پر تقریباً سات سو باسٹھ سال تک مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ تا آنکہ 1948ء میں عالمی دہشت گرد امریکہ ، اسلام دشمن برطانیہ اور فتنہ گر فرانس کی عالمی سازش سے مسلم دنیا کے عین وسط میں فلسطین کے علاقہ میں یہودی ریاست قائم کر دی گئی۔ شہر مقدس اور قبلہ اول بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ بعد ازاں 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس کے باقی نصف حصے  پر بھی یہودیوں نے قبضہ کر لیا جو سامراجی و مغربی سرپرستی سے  ابھی تک برقرار ہے۔ فتح بیت المقدس کے حوالے سے گوروں کے کلیجے میں پلنے والے دکھ اور دل میں مسلمانوں کیلئے ازلی کدورت اور بغض کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ جس روز برطانوی افواج کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہونے کی خبر برطانیہ میں شائع کی گئی۔ اس روز وہاں کے اخبار “دی پنچ” نے امت مسلمہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلیےایک خیالی تصویر کا خاکہ شائع کیا تھا۔ خاکے میں بیت المقدس کے خون ریز معرکوں میں سلطان صلاح الدین کے ہاتھوں ہزیمت آمیز شکست کھانے والے برطانوی شہنشاہ رچرڈ شیر دل کو بڑے فخر کے ساتھ بیت المقدس پر نظریں گاڑے، یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ ” میرا وہ دیرینہ خواب آخر شرمندۂ تعبیر ہوگیا ہے “۔

بیت المقدس کی فتح اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہزیمت اسلام دشمن صلیبیوں کیلیے کسی دردناک موت کے پیغام سے کم نہ تھی ۔ اس فتح کی خبر پر سارے یورپ میں‌ صف ماتم بچھ گئی۔ حامد کمال الدین اپنی کتاب رو بہ زوال امریکن ایمپائر میں لکھتے ہیں کہ ” حطین ایک ایسا کامیاب معرکہ تھا گویا اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔ اس میں، عرب خطوں میں قائم نصرانی سلطنتوں کے سات صلیبی بادشاہ گرفتار ہوکر صلاح الدین کے سامنے لائے گئے تھے، جس سے صلیبی وجود کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ عالم صلیب پر یہ ایک ایسی چوٹ تھی جو صدیوں بھولنے والی نہ تھی۔ ” حطین کی شکست ” اور ” بیت المقدس کا سقوط “، پوپ اربن ہشتم پر یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی اور وہ اسی صدمے سے چل بسا۔ بوقت موت وہ اپنے جانشین گریگوری ہشتم کو ایک عظیم صلیبی مہم کی تیاری کی وصیت کرگیا۔ دو ماہ بعد گریگوری کی جگہ نیا پوپ کلیمنٹ سوئم فائز ہوا، جس نے اپنے کارڈینیل پورے یورپ میں دوڑائے۔ یہ کیتھولک اساقفہ پیدل چلتے اور فرانس، انگلستان اور جرمنی میں ہر طرف بیت المقدس کی دہائی دیتے تھے “۔ اور پھر انتقام اور اسلام دشمنی کی آگ میں جلتے ہوئے صلیبیوں نے تیسری صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا۔ اس ہولناک جنگ میں پورے کا پورا یورپ شریک تھا۔ جرمنی کے شاہ فریڈرک باربروسا ، فرانسکے بادشاہ فلپ آگسٹس اورانگلستان کے شہنشاہ رچرڈ شیر دل نے بہ نفس نفیس اس مقد مذہبی معرکے میں بھرپور شرکت کی۔ عیسائی پادریوں اور راہبوں نے شہر شہر گھوم کر اپنے عیسائی بھائیوں کو مذہب کے نام پر مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارا۔

تاریخ کے مطابق اس سے پہلے عیسائی دنیا نے اس قدر بڑی تعداد میں فوج اور اسلحہ ابھی تک فراہم نہیں کیا تھا۔ عیسائیوں کا یہ متحدہ ٹڈی دل لشکر یورپی ممالک سے روانہ ہوا اور اس وقت کے فلسطین اور موجودہ اسرائیل کے ساحلی شہرعکہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کر کے بیٹھ گیا۔ اگرچہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے تن تنہا عکہ کی حفاظت کے تمام انتظامات مکمل کیے ہوتے تھے لیکن صلیبیوں کو یورپ سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ پہلے معرکے میں دس ہزار عیسائی قتل ہوئے مگر اسلام سے بغض اور انتقام کی آگ میں بھڑکتے صلیبیوں نے محاصرہ جاری رکھا۔ چونکہ کسی اور اسلامی ملک نے سلطان کی طرف دست تعاون نہ بڑھایا اس لیے صلیبی ناکہ بندی کی وجہ سے اہل شہر اور سلطان کا تعلق ٹوٹ گیا اور سلطان باوجود پوری کوشش کے مسلمانوں کو کمک نہ پہنچا سکا۔ تنگ آکر اہل شہر نے امان کے وعدہ پر شہر کو عیسائیوں کے حوالہ کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ فریقین کے درمیان معاہدہ طے ہوا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے دو لاکھ اشرفیاں بطور تاوان جنگ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور صلیب اعظم اور پانچ سو عیسائی قیدیوں کی واپسی کی شرائط کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ وہ تمام مال اسباب لے کے پر امن طریقے سے شہر سے نکل جائیں لیکن شاہ برطانیہ رچرڈ شیر دل نے بدعہدی کی اور مسلمان محصورین کو بیدردی کے ساتھ قتل کر دیا۔

عکہ میں مسلمانوں کا سفاک قتل عام کرنے کے بعد صلیبیوں نے فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کیا۔ عسقلان پہنچنے تک عیسائیوں کا سلطان کے ساتھ بارہ مرتبہ زبردست مقابلہ ہوا۔ جن میں سب سے اہم معرکہ ارسوف کا تھا۔ ان معرکوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے جوانمردی اور بہادری کی وہ درخشندہ مثالیں پیش کیں کہ تاریخ کے وہ صفحات پر کر آج بھی ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی مسلمان حکومت بالخصوص خلیفہ بغداد کی طرف سے سلطان ایوبی کو کوئی مدد نہ پہنچی، لہذا سلطان کو وقتی پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ایک حکمت عملی کے طور پر پسپا ہوتے ہوئے صلاح الدین ایوبی نے عسقلان کا شہر خود ہی تباہ کر دیا۔ لہذا جب جارح صلیبی لشکر وہاں پہنچے تو انہیں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اس کے فوری بعد سلطان نے بیت المقدس کی بھرپور حفاظت کی تیاریاں مکمل کر لیں ۔ سلطان صلاح الدین جانتا تھا کہ عسقلان کے بعد صلیبیوں کا اگلا نشانہ یقینی طور پر بیت المقدس ہی ہو گا ۔ سلطان ایوبی نے اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ اس ہیبت ناک صلیبی لشکر کا جس جرات، حوصلے اور جوانمردی سے مقابلہ کیا اس کی مثال زمانہ قدیم و جدید کے کسی بھی خونی معرکے کی تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ اپنے سے بیس گنا بڑی فوج کے خلاف بیت المقدس کا دفاع اور دشمن کو مکمل طور پر زچ کر کے صلح کیلیے مجبور کردینا صلاح الدین ایوبی کا ناقابل فراموش کارنامہ تھا۔

عیسائیوں نے سلطان صلاح الدین کو شام کے ساحلوں پر پسپا کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر اللہ کی قدرت اور بندہء مومن ایوبی کی جرات نے ان کو مکمل ناکام کر دیا۔ جب فتح کی کوئی امید باقی نہ رہی تو تھکے اور مایوس صلیبی سالاروں نے صلح کی درخواست کی اور فریقین میں معاہدہ صلح کے ساتھ ہی اس تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ برطانیہ کا شاہ رچرڈ شیر دل ، سلطان صلاح الدین ایوبی کی فیاضی اور بہادری سے بہت متاثر ہوا۔ جرمنی کا بادشاہ فریڈرک باربروسا میدان جنگ سے بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوا۔ اس جنگ میں چھ لاکھ سے زائد ” صلیبی مجاہدین ” جہنم واصل ہویے۔ جنگ کے بعد فریقین میں جو معاہدہ طے پایا اس کی شرائط کچھ یوں تھیں کہ، 1۔ بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے قبضے میں رہے گا۔ 2۔ ارسوف، حیفا، یافہ اور عکہ کے شہروں پر صلیبیوں کا قبضہ برقرار رہے گا 3۔ عسقلان آزاد علاقہ تسلیم کیا جائے گا۔ 4۔ بیت المقدس کے زائرین کو آمدورفت کی اجازت دی گئی۔ 5۔ صلیب اعظم بدستور مسلمانوں کے قبضہ میں رہی۔ یوں چھ لاکھ فوجی مروا کر عیسائیوں کو صرف ایک شہر عکہ نصیب ہوا اور ” مقدس صلیبی مجاہدین ” بیت المقدس کو فتح کرنے کی حسرت دل میں لیے، اپنے زخم چاٹتے ہوئے ناکام و نامراد واپس یورپ لوٹ گیے۔

ان قدیم اور دور حاضر کی جدید صلیبی یلغاروں سے آج جو حقیقت کل عالم پر آشکار ہو چکی ہے۔ اس  حوالے سے حامد کمال الدین نے اپنی کتاب روبہ زوال امریکن ایمپائر میں بڑے مختصر انداز میں جامع بات کی ہے کہ وہ صلیبی بغض و کینہ جو ابتدا کے اندر ان کی صلیبی جنگوں کا محرک رہا ہے وہ آج بھی پوری طرح زندہ ہے۔ برطانیہ، فرانس، اٹلی، سپین، پرتگال اور اب امریکہ کی اس یورش میں جو پچھلی چار صدیوں سے ایک تسلسل کے ساتھ عالم اسلام پر کی جارہی ہے، عین وہی روح کارفرما ہے جس کی دہائی ان کے پوپ اربن دوئم نے اس وقت دی تھی جب پہلے پہل صلیبیوں کو عالم اسلام پر چڑھا لانے کیلئے اس کی نظر میں انجیل اور مسیح کے واسطے دئیے جانا ضروری ہوگیا تھا۔ اس حوالے سے میرا یا امت کیلئے درد رکھنے والے کسی بھی مسلمان کا بھی یہی نقطہ نظرہے۔ کہ صلیبی طاقتیں نہ زمانہ نبوت و مابعد مسلمانوں کی ہمدرد و غمگسار تھیں نہ آج ہیں۔ وہ پہلی صلیبی جنگوں کے محرک بننے والے جان اربن دوم ہو یا جان اربن ہشتم ہوں یا دور حاضر کے کلیسائی راہبین، ان سب کے دل میں عالم اسلام کیلیے بغض اور کدورت ازل ہی سے موجود ہے۔ وہ گیارویں اور بارھویں صدی عیسوی کے جرمن شاہ فریڈرک اور برطانوی شہنشاہ رچرڈ شیر دل ہوں یا دور جدید کے باراک  اوبامہ و ڈیوڈ کیمرون، ان سب فننہ گروں کے نام نہاد ” امن گرد” لباس تلے امت مسلمہ کیلیے بدترین دہشت گردی کے خنجر چھپے ہیں۔ عالم اسلام کے احداف کو نشانہء دہشت بنانے کیلئے آج بھی پورا مغرب اور سامراجی گروہ متحد اور یکجا مگر ملت اسلامیہ منقسم و منتشر ہے۔ عالم اسلام کو آج پھر سے اگر کسی جذبہ و روح کی ضرورت ہے تو وہ وہی جذبہء ایمانی اور کردار مسلمانی ہے جو صلیبی طاقتوں کے دانت کھٹے کرنے والے مجاہدین اسلام سلطان نور الدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے سرفروشوں کی پہچان ہے۔ ( جاری  ہے ) ۔

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد ضرورت ہے

 فاروق درویش — واٹس ایپ ۔۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • زبردست
    اس فتح عظیم کے بعد بیت المقدس پر تقریباً سات سو باسٹھ سال تک مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔
    سبحان الله

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: