تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

جنگی ڈاکٹرائن، عسکری قیادت اور ہماری ذمہ داری


 شام  زمانہ قدیم ہی سے مذاہب عالم کے ٹکراؤ  اور حق و باطل کے معرکوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں صحراؤں ساحلوں اور محلوں تک ہر قدم پرایک ہوش ربا تاریخ موجود ہے۔ ملکہ قلوپطرہ نے اپنے نابالغ خاوند شاہ بطلیموس کے ہاتھوں ملک بدر ہونے پر یہیں  سے مستقبل کی مہمات کی منصوبہ سازی کی اور  جولیس سیزر کے ساتھ مل کر مصر کے اقتدار پر قابض ہوئی۔  یہیں سے اٹھنے والے طوفانی لشکروں نے ہیکل سلیمانی اور یروشلم کو تیر و تاراج کیا۔ عیسائیت کی بنیاد اور عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا آغاز بھی یہیں سے ہوا۔ اسی شام میں امام  حسین رضی اللہ عنہ  کا سر مبارک  مسجد اموی میں  یزیدی دربار میں لایا گیا ۔ صلاح الدین ایوبی نے بھی اسی شام  کے ساحلوں سے بیت المقدس کے در و دیوار تک   صلیبی لشکروں کیخلاف جس  جوانمردی سے بیت المقدس کا دفاع کیا، تاریخ  میں اس کی مثل و مثال  موجود نہیں۔
 
ہسپانیہ اور ایشائے کوچک تک اسلام کا  پیغام حق بھی اسی شام ہی سے پہنچا اور احادیث   کے مطابق شام ہی میں سیدنا امام مہدی اور دجال کے مابین حق و باطل کا وہ معرکہ  وقوع پذیر ہو گا جس کے دوران سیدنا عیسی   کا آسمانوں سے ایک امتیء محمدی کے طور پر نزول ثانی ہو گا۔ ۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ  کے خاتمہ کیلئے صلیبی اتحادیوں کا مرکز بھی یہی خطہء شام تھا ۔ اور آج اتحاد ملت کی غدار قوتوں اور افغانستان سے پسپا ہونے والے سامراجی صلیبی اتحاد کی کاروائیوں سے عالم اسلام اور خصوصاً پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے اسی سرزمین شام کو مرکز بنانے کی منصوبہ سازی عیاں ہے۔
میرے مطابق شام اور اس کے گرد و نواح سے افریقی ممالک تک سامراجی اتحاد یا ان کے بغل بچوں کی سرگرمیوں کا مقصد عالم اسلام کے مرکزی خطے کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اصل حدف پاکستان کے وہ ایٹمی اثاثہ جات ہیں،  جو دنیائے کفر و صلیبی کے جنم دئے ہوئے،  اسرائیل کی  بے خوابی اور سکون شکن فوبیے کا باعث ہیں۔ سامراج بھی افواج پاکستان کی بے پناہ قربایوں کی بدولت پاکستان کی ساڑھے تین ہزار کلومیٹر لمبی سرحد پر بھارت اور افغانستان میں موجود را اور موسادی ایجنٹوں کے بل بوتے عسکری مہم جوئیوں میں کلی بے مراد رہا ہے۔  اب ان عالمی غنڈوں نے خطہء شام و عراق کو اپنا کمانڈنگ زون بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا ساٹھ ہزار فوجی جوانوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں دینے والا پاکستان ، آج بھی ہر طرف سے ان  تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے جو گذشتہ برسوں سید بلال قطب  اور میڈیا کے دفاعی مبصرین کی تحریروں اور گفتگو کا ہنگامہ خیز موضوع رہے ۔
 
جنگی ڈاکٹرائنز کے حوالے سے  اخباری کالمز میں کچھ  حقائق واقعی ہولناک مگر کچھ ایک ایٹمی طاقت کے عوام کو احساس کمتری اور خوف و ہراس میں مبتلا کرنے والے تھے۔  میں ان بھارتی اور امریکن ڈاکٹرائنز کے حوالے سے اپنا تحقیقی موقف پیش کرتا ہوں۔  دفاعی مبصرین کے مطابق بھارت کا ” کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین ” فعال و تیار حالت میں ہے۔ اس کیلئے بھارت کی ستر فیصد افواج سرحد پر تعینات ہیں۔  نقل و حمل کیلیے سڑکوں ، پلوں اور ریلوے لائنوں کے ساتھ  اسلحہ ڈپو اور آہنی بنکرز بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اس ڈاکٹرائن کے تحت بھارت کا اصل حدف  سندھ کا وہ بارڈر ہے  جہاں ماضی میں افواج پاکستان کو زبرست جانی و فوجی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ لہذا سندھ کو بقیہ پاکستان سے کاٹتے ہوئے گوادر تک پہنچنے کیلئے انہیں سندھ میں انہیں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے جیسے بغل بچوں کی مدد حاصل ہوگی۔
 
لیکن میں بھارتی ” کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن” کے موثر ہونے کے امکانات مکمل طور پر رد کرتا ہوں۔ میرے مطابق ماضی کی دو جنگوں میں  راجستھان  سرحد پر بھارتی فوج کی برتری کی وجہ پاکستان کے پاس صحرائی اور دلدلی علاقوں میں کارگر ٹینکوں کی کمی تھی۔ جبکہ آج پاکستان کے پاس چین اور یوکرائن کی مدد سے تیار ہونے والے الخالد اور ضرار کی شکل میں ایسے جدید ترین ٹینک موجود ہیں جو ریتلے دلدلی اور آبی علاقوں میں  موثر دفاع اور خطرناک اٹیک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دور مار رینج کے حامل پاکستانی لیزرگائیڈڈ میزائل برق  حملہ  آور ٹینکوں اور توپوں کو بھارتی علاقے ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
 
جنگی صورت میں بری فوج کی مدد کیلئے ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا بمبار شور کوٹ اور جیکب آباد کے اٹیکنگ ائر بیس پر  موجود ہوں گے ۔ افغانستان سے امریکی انخلا اور فوج کی طرف سے سی آئی اے اور بھارتی را برانڈ دہشت گردوں کا نیٹ ورک مفلوج کرنے کے بعد افغان بارڈر پر مصروف فوج اب مشرقی سرحدوں کی حفاظت کیلئے بھی دستیاب ہے۔۔ اور خدانخواستہ اگر پھر بھی بھارتی فوج پورا پاکستان عبور کر کے گوادر جا پہنچتی ہے تو معاف کیجئے گا ، کیا ہم نے ایک سو بیس ایٹمی ہتھیارصرف شوکیسوں میں سجانے کیلئے رکھے ہیں؟
 
امریکی انتظامیہ کے دوسرے ڈاکٹرائن ”  ایف پیک ڈاکٹرائن ”  کے تحت  گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی فوج کو افغان جنگ میں ملوث کئے رکھا گیاہے۔ اس زبردستی مسلط کی جانے والی جنگ میں افواج پاکستان کو کمزور اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کیلئے پاک آرمی کے خلاف گوریلا وار اور مساجد سے بازاروں تک دہشت گردی ، اسی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے اسرائیلی اور بھارتی تعاون حاصل رہا ہے۔ لیکن ہاں  تیسری جنگی حکمت عملی ” فورتھ جنریشن وار ”  سب سے خطرناک ہے۔ اس کے ذریعے امریکہ ، اس کے مغربی اتحادی اور ہندوتوا کے کٹھ پتلی این جی او اور میڈیا عناصر  ہماری  ثقافت،  افواج پاکستان اور آئی ایس آئی جیسے قومی اداروں کے تشخص پر حملہ آور ہیں۔ اس کے تحت افواج اور عوام میں فاصلے بڑھا کر عسکری اداروں کیلئے نفرت و بے یقینی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
 
 صوبائیت اور لسانی تفرقہ بازی کیلئے متحدہ مکتی باہنی   اور  جسقم جیسی بھارت برانڈ تنظیمیں ہیں۔  سندھی گوٹھوں میں ہندو وڈیروں کی  ڈور  را کے ہاتھوں میں ہے۔ اس خطرناک فورتھ جنریشن ڈاکٹرائن کے سب سے ہولناک  ہتھیار ہمارے میڈٰیا میں بکثرت سے موجود ہیں۔ جن  کے ذریعے عوام میں ذہنی خلفشار ، انارکی اور بد دلی کی کیفیت اور فوجی اداروں کے بارے نفرت پیدا کی جاتی ہے ۔ پاکستان کیخلاف اس فورتھ جنریشن وار میں بھی امریکہ ، بھارت  اور اسرائیل کا اشتراک سرگرم ہے۔
  
لیکن اس میڈیا وار جیسی غیر فوجی جنگی حکمت عملی کا جواب دینا فوج  کی نہیں بلکہ ہم عوام کی اولین ذمہ داری ہے۔  جب تک ہمارے حکمران اور سیاست دان امریکی اور مغربی غلامی کا روائتی طعوق اتار کر قوم کے ساتھ امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیں گے ، ہم کبھی کامیاب و کامران نہ ہوں گے۔ یاد رہے کہ  فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہوتی ہے جبکہ نظریات اور قومی اداروں کے تشخص پر تنقیدی حملوں کا جواب  سیاست دانوں اور پریس اینڈ میڈیا کو دینا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا میڈیائی دانش ور امن کی آشا اور بھارتی خیرات کا بھکاری ہے۔ ہمارے باچا خانی سیاست دان  بھارتی فنڈز لیکر کالا باغ ڈیم کیخلاف مہم بازی میں پیش پیش ہیں تو ماڈرن مکتی باہنی متحدہ لیڈر، اعلانیہ را سے مدد مانگتا اور گوریلا جنگ کی بھڑکیں لگاتا ہے۔  میں بلال قطب کے ان الفاظ کی تائید کرتا ہوں کہ عوام ہر اس بات کو رد کر دیں جو پاکستان اور نظریہ پاکستان  کیخلاف ہوں یا افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے دوسرے اداروں پر حملہ آور ہو” ۔
 
 اب میں آپ کو شام کے اس دور میں واپس لئے جاتا ہوں جب وہاں بھی آج کے پاکستان جیسے حالات تھے۔  یہ وہ اہم وقت تھا جب عیسائی ایک بار پھر سے زور پکڑ رہے تھے۔ دمشق میں بھی کراچی جیسے جرائم اور قتل و غارت عام  تھی۔ اور نور الدین  زنگی نے نو عمر صلاح الدین ایوبی کو اس یقین کے ساتھ دمشق پولیس کا سربراہ مقرر کیا تھا کہ یہ صاحب کردار نوجوان اس شہر کا امن بحال کر سکتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب تاریخ اور اقوام عالم ، ملت اسلامیہ کے ایک عظیم جرنیل کی تیاری کا ارتقا دیکھ رہی تھی۔ ایوبی کے آپریشن سے دمشق میں حالات بہتر ہوتے ہی، مصر سے فرقہ واریت اور  عیسائیوں کی عسکری مہمات کی خبریں آنے لگیں۔  تو اس مرد مومن نے مصر کو بھی عیسائیوں کے دجالی چنگل سے آزاد کروا دیا۔ مصر فتح ہوا تو اکابرین ریاست نے انہیں صرف بتیس سال کی عمر میں مصر کا حاکم مقرر کیا ۔ ایوبی نے نا اہل اور مسلکی منافرت پھیلانے والی اسماعیلی خلافت کا خاتمہ کیا اور نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد  اقتدار سنبھال لیا۔
 
دیکھا جائے تو ہمارے جرنیلوں اور حکمرانوں کیلئے سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی میں ایک مکمل راہنمائی اور سیاسی و عسکری حکمت عملیوں کے عملی اسباق موجود ہیں۔  وہ   دس سالہ طویل عرصہ  تک  اپنے اندرونی حالات اور ملکی نظم و نسق مظبوط تر کرنے کے ساتھ ساتھ  اندرون ملک بد دیانت ، غدارین امت اور حسن بن صباح کی باقیات جیسے فتنہ  عناصر کا خاطر خواہ بندوبست کرتا رہا۔  اور پھر اندرونی طور پر مستحکم ہو کر جب وہ حطین اور یروشلم کی جانب بڑھا تو قدرت نے بھی اس فتح بیت المقدس کے سنہری کارنامے کا آفاقی تاج اس کے مبارک سر پر سجا دیا۔
 
موجودہ حالات میں  آج ہماری عسکری قیادت  کو بھی ایوبی دور کے مصر و شام جیسے ہی چیلنج درپیش ہیں۔ آج پاکستان میں بالعموم اور کوئٹہ اور کراچی جیسے شہروں میں بالخصوص لاقانونیت عام اور زندگی اجیرن ہے۔ الطاف جیسے غدار فوج کیخلاف  را سے مدد مانگتے رہے ہیں۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر ہمسایہ ممالک ہمارے کیخلاف سازشوں اور باغیوں کی سرپرستی میں سرگرم ہیں۔  راحیل شریف نے پاکستان کی سلامتی کے دشمنوں کو نکیل ڈالے رکھی ۔ سنگین حالات میں را کے  دہشت گردوں اور جاسوس این جی اوز کیخلاف اپریشنز  کرنے والا  راحیل شریف بھی  ایک  محب وطن جرنیل تھا اور آج کی عسکری قیادت بھی ہر لحاظ سے قوم کو بحرانوں سے نکالنے کی اہل ہے۔ مگر عسکری قیادت یہ  کردار مارشل لا ایڈمنسٹریٹر یا ڈکٹیٹر بن کر نہیں  مخلصِ قوم  جرنیلی سے  بھی ادا کر سکتی ہے۔
 
شرط اول سول و فوجی قیادت میں ملک و قوم کے مفاد میں مکمل ہم آہنگی اور عوام کی طرف سے دشمنانِ پاکستان اور ناقدینِ افواج پاکستان کی ہر دجالی پراپیگنڈا مہم کا مونہہ توڑ جواب ہے. مگر عسکری اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ  افواج وطن اور حساس اداروں کی پیٹراٹک حمایت میں قلم اٹھانے  والوں  کو جان و مال کا تحفظ فراہم کریں۔ یہ راقم التحریر فاروق درویش پاکستانی عسکری اداروں کے بارے امریکی ، مغربی اور ہندوتوا پریس کے زہریلے پروپیگنڈا کے دندان شکن جوابات اور را ایجنٹ عاصمہ جہانگیری گروہوں کی ملک و ملت سے غداریاں  بینقاب کرنے کے جرم میں  قاتلانہ حملوں اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے کے بعد   جلاوطنی کی زندگی گزارنے  پر مجبور ہے ۔ مگر فاروق اعظم جیسی فلاحی ریاست کی داعی حکومت اور سول ادارے مجھے تحفظ دینے میں  ناکام ٹھہرے ہیں۔۔
 
آخر میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف سے دو غدارین  ، اپنے چچا زاد بھائی خلیفہ الصالح اور امیر سیف الدین کے نام خط میں لکھے گئے چند الفاظ ، یاد رہے کہ ان دونوں نے صلیبیوں کی درپردہ مدد کر کے ایوبی سلطان کو شکست دینے کی سازش کی تھی ۔۔۔۔ ” تم پرندوں سے دل بہلایا کرو۔ سپاہ گری اس آدمی کیلئے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلداہ ہو”۔ ۔ ۔ ۔  یہ فلسفہ  ہر سیاسی کارکن کو تسلیم کرنا ہو گا کہ قوم کی قیادت اور راہنمائی کیلئے مالی اور جنسی کرپشن سے پاک صاحبِ کردار ہونا شرط اول  ہے۔صد شکرالہی کہ اب پاکستان کی فوجی قیادت اسکندر مرزا اور یحیٰ خان جیسے  اوباش اور ننگ ِ اسلاف جرنیلوں کے پاس ہرگز نہیں ۔ اور یہ حقیقت کم از کم عاصمہ جہانگیر، حسن نثار  اور الطاف حسین کے محبوب بھارت دیش کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں  ۔۔۔۔
 
  اے جلوہء مہتاب نہ کر آنکھ کو میلا : چمکے گی زمیں دامنِ پر نور تو پھیلا
 
( فاروق درویش – واٹس ایپ کنٹیکٹ – 00923224061000 )
اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

%d bloggers like this: