حالات حاضرہ میری غزلیں اورعروض

وہی فرنگی نظامِ ظلمت، وہی ہیں ناسور و روگ سائیں ۔ فاروق درویش


  وہی فرنگی نظامِ ظلمت، وہی ہیں ناسور و روگ سائیں
وہی مداری وہی تماشے، وہی ہیں سہمے سے لوگ سائیں

   ندیدے رہبر ہیں یا لٹیرے،خُدا کی بستی کے چرخ و قاتل
وطن کے غدار ننگ ملت، بدیس کے چگتے چوگ سائیں

   امید اُن سے ہے باولوں کو کہ روٹی کپڑا مکان دیں گے
جو قتل کرتے ہیں خود صنم کو، مناتے ہیں آپ سوگ سائیں

  بیانِ ملا ہے دیں فروشی کہ شیخ و واعظ نہاں بکے ہیں
بنے ہیں دجال کے مصاحب، بدل کے صورت بجوگ سائیں

  سیاہ صحافت کے زرد مہرے پرانے طبلے بجا رہے ہیں
عبارتیں بیچتے سخن ور ہیں اپنے کرموں کے بھوگ سائیں

   کسان و مزدور کے ہیں قاتل، وڈیرے، جاگیردار و حاکم
بگھوڑے سرہنگ، اہلِ حشمت، فتن کے بے دین پھوگ سائیں

  وہی ہیں سحروں کے خواب جھوٹے، وہی ہیں ظلمت رسیدہ درویش
وہی ہیں خونخوار سے درندے، لئے سیاست کے جوگ سائیں

۔

فاروق درویش

۔

بحر ۔۔۔۔ مفاعلاتن ۔۔۔۔ مفاعلاتن ۔۔۔۔ مفاعلاتن ۔۔۔۔ مفاعلاتن
ہندسی اوزان ۔۔ 22121 ۔۔۔ 22121۔۔۔۔22121۔۔۔۔۔22121

کچھ ماہرینِ عروض مفاعلاتن کو رکن ہی نہیں مانتے اور اس کی فعول۔۔۔ فعلن ۔۔۔۔ فعول ۔۔۔ فعلن یعنی ۔۔ 121۔۔۔22۔۔۔121۔۔۔۔22 ۔۔۔ سے تقطیع کرتے ہیں۔ میرے مطابق دونوں طریق ہی درست ہیں ۔عربی کی مستند سائٹس اور کتب میں اس کی تقطیع مفاعلاتن سے ہی کی گئی ہے۔ چونکہ مجھےنئے سیکھنے والے دوستوں کوعروض کی مشکل اصطلاحات اوراراکین بحر کی ثقیل گفتگو میں الجھا کر خود کو عروض کا عالم فاضل ثابت نہیں کرنا اس لئےعام فہم اور سیدھے سادے طریق سے بحر کے اوزان کے مطابق شعر بنانے اور اس کی تقطیع کی پڑتال کی حد تک محدود رہتا ہوں۔ سو کسی طریق سے بھی تقطیع کر لیں۔ ترتیبِ ہندسی اوزان ۔۔۔ 22/121۔۔22/121۔۔۔22/121۔۔۔22/121۔۔ ہی آئے گی۔ لہذاسمجھانے کیلئے ہم اسے مفاعلاتن ( 22121) چار بار ہی مان کر تقطیع کریں گے ۔ یاد رہے کہ حضرت امیر خسرو رح کے کلام “زحالِ مسکیں مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں” ہو یا حضرت اقبال کا کلام ” نئے زمانے میں آپ ہم کو پرانی باتیں سنا رہے ہیں” اسی بحر و وزن میں ہیں اور مستند کتب میں ان کی تقطیع مفاعلاتن مثمن سالم یعنی ایک مصرع میں چار بار، شعر میں آٹھ بار مفاعلاتن میں ہی کی گئی ہے۔

و ۔۔۔ ہی ۔۔۔ ف ۔۔۔ رن ۔۔۔ گی ۔۔۔۔ 22121

ن ۔۔۔۔ ظا ۔۔ مے ۔۔۔ ظل ۔۔۔ مت ۔۔۔22121

 و۔۔۔۔ ہی ۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔ نا ۔۔۔۔۔ سو ۔۔۔۔ 22121

رو ۔۔۔ رو ۔۔۔۔ گ ۔۔۔ سا ۔۔۔ ئیں ۔۔۔ 22121

و ۔۔۔۔۔ ہی ۔۔۔ م ۔۔۔ دا ۔۔۔۔ری ۔۔۔۔22121

و ۔۔۔ ہی ۔۔۔ ت ۔۔۔۔ما ۔۔۔شے ۔۔۔۔22121

و ۔۔۔ہی ۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔سہہ ۔۔۔ مے ۔۔۔22121

سے ۔۔ لو ۔۔۔ گ۔۔ سا ۔۔۔ ئیں ۔۔۔ 22121
۔
یہ بھی یاد رکھئے کہ ” کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ کہ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع میں ان کے مقام پر بحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔

ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیں یک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اوراگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح جس اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔

تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر اور چھیڑے کو چیڑے پڑھا جائے گا

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: