تاریخِ عالم و اسلام سیکولرازم اور دیسی لبرل

جنسی خادماؤں اور بچوں کا مقدس جہاد ۔ صلیبی جنگیں حصہ پنجم


 بلاشبہ اسلام امن کا دین ہے اور تاریخ قدیم و جدید گواہ ہے  کہ مسلمان ہمیشہ امن پسند رہے ہیں ۔ مسلم حکمران کبھی  دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ مغربی جارحین کیخلاف اپنے دفاع کیلئے تلوار اٹھانے پر مجبور کئے گئے۔ گیارویں صدی عیسوی کا اختتامی عشرہ تھا کہ جب یورپ کے  تمام پادریوں  نے یہ صلیبی فتوے مشہور کئے  کہ دنیا بھر کے عیسائی بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کیلیے ہتھیار لیکر اٹھ کھڑے ہوں۔ مسلمانوں پر مذہبی شدت پسندی کا الزام اور جہاد کو امن شکنی و فساد کا نام دینے والے  اہل مغرب اگر اپنے مذہبی پیشواؤں کے  تاریخی حقائق پڑھیں۔ تو امت مسلمہ پر مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کا الزام لگانے  کی بجائے یہ  حقیقت جان کر نادم ہوں  کہ  سب سے پہلے  پوپ اربن دوم کے  فتویء جہاد نے عالم اسلام کیخلاف صلیبی جنگوں کا طبل بجا کر مذہب کے نام پر اس کھلی دہشت گردی کا جو باقاعدہ آغاز کیا تھا وہ آج تک جاری ہے۔

تاریخ مسلم کا جائزہ لیں تو عماد الدین زنگی وہ پہلا نامور حکمران تھا جس نے سقوط بیت المقدس  کے بعد امت میں جذبہء جہاد کی ایک نئی روح پھونک کر عظیم الشان فتوحات سے تاریخ میں بڑا نام کمایا ۔ اس کی شہادت کے بعد اس کے نامور بیٹے نورالدین زنگی نے عیسائیوں سے بیشتر علاقے چھین لیے اور انہیں ہر محاذ پر شکستیں دیتا ہوا دوبارہ ڈیسا کے شہر پرقابض ہوگیا۔ عیسائیوں کی ان پے در پے شکستوں کی خبروں سے پورے یورپ میں صف ماتم بچھ گئی۔ لہذا عیسائیوں کے مذہبی جنونی پادری پوپ یوجین سوم نے ایک بار پھر عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر دوسری صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا۔ احباب دلچسب حقیقت ہے کہ اس مرتبہ جرمن بادشاہ کونراڈ سوم اور شاہ فرانس لوئی ہفتم کی قیادت میں نو لاکھ مذہبی جنونیوں کی جو فوج مسلمانوں پر چڑہائی کیلیے یورپ سے روانہ ہوئی اس میں اس بار  عیسائی مجاہدین کو جنسی عیاشی کی سہولت  کیلئے خوبصورت یورپی حسینائیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ شاہ فرانس کی فوج کے ساتھ عیسائیوں کے مذہبی جنگی ترانے گانے والی گلوکارائیں  دن کے وقت تمام راستے جنگی نغمے گاتیں اور رات کے وقت خیموں میں اپنے صلیبی سپاہیوں کو جنسی تسکین کا سامان فراہم کرتیں تھی۔

جرمنی کے شاہ  کے لشکر کی سنہری بالوں والی جنگجو خواتین تمام راستے اس  لشکر کے سپاہیوں کے درمیان وصالِ حسن کیلئے لڑی جانے والی خونریز ہنگامہ آرائی کی وجہ بنی رہیں۔ پہلے صلیبی لشکروں کی طرح ان فوجیوں نے بھی تمام راستے راہ میں آنے والی بستیوں کی خواتین اور بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور دل کھول کر اخلاق سوز حرکتیں کیں۔ قصہ مختصر مسلم علاقوں تک  پہنچنے پر فرانسیسی فوج کا ایک بہت بڑا حصہ سلجوقیوں کے ہاتھوں ‌جہنم واصل ہو چکا تھا۔ اور جہاں انطاکیہ  پہنچنے تک  اس لشکر کی تین چوتھائی فوج برباد ہوچکی تھی، وہاں اس فوج کو جنسی تسکین اور سامان عیاشی بہم پہنچانے کیلئے ساتھ روانہ ہونے والی مقدس جنسی رضاکاراؤں میں سے کوئی ایک حسینہ بھی زندہ باقی نہ بچی تھی۔ دوسری طرف شاہ جرمن کونراڈ کے ساتھ آنے والی مقدس جنگجو خواتین کا انجام فرانسیسی خواتین سے خوفناک تر تھا۔ لیکن مسلسل آگے بڑھنے والے لشکری اس امر سے ناواقف تھے کہ اپنے ہی عیسائی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی درندگی کا شکار ہونے والی وہ مقدس  جوانیاں پیچھے چھوٹے ہوئے راستوں پر بھوکے گدھوں کیلئے سامان ضیافت بن رہی تھیں۔

افسوس کہ سیف الدین زنگی اور نورالدین زنگی کے ہاتھوں شکست خوردہ عیسائی لشکر جب واپس یورپی سرحدوں کی طرف روانہ ہوا تو ناکام لوٹتے ہوئے مقدس دلوں کو محبتوں کے نذرانے، اور تھکے ٹوٹے ، پیاسے جسموں کو قربت کی آغوش و گرمائش دینے کیلئے کسی زندہ عیسائی دوشیزہ کی رفاقت میسر نہ تھی۔ یوں دوسری صلیبی جنگ بھی عیسائیوں کی نامرادی اور بدبخیوں کی داستان سناتی ہوئی اختتام کو پہنچی۔ تیسری صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبی لشکروں کی تباہی و بربادی کا احوال میں اپنے گذشتہ مضمون ” صلیبی جنگیں اور فتح بیت المقدس ۔ حصہ دوئم ” میں بیان کر چکا ہوں۔ چوتھی صلیبی جنگ میں بھی عیسائیوں نے سلطان صلاح الدین خاندان کے ملک العادل کے ہاتھوں عبرتناک شکستیں کھائیں اور یافہ کا اہم شہر واپس مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔ اور پھر اگلے بیس سالوں تک عیسائی اپنے زخم چاٹتے ہوئے اگلی مقدس جنونی مہم کی حکمت عملی اور تیاری میں مصروف ہو گیے۔

اہل مغرب کا  اہل اسلام پر یہ الزام بھی ہے کہ مسلمان شدت پسندوں نے معصوم بچوں کو بھی جنگ و جہاد میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن عیسائیت کی امن گردی کے دعووں اور انسانی حقوق کی علمبرداری پر سب سے بڑا طمانچہ وہ صلیبی جنگ ہے جو تاریخ میں ” بچوں کی صلیبی جنگ” ک نام سے مشہور ہے۔ اس ” امن گرد عیسائی جہاد ” کیلئے عیسائی مذہبی راہنماؤں نے ایک انوکھے فلسفہء جنگ کی تشہیر کی۔ پچھلی صلیبی جنگوں میں مسلسل شکستیں کھانے والے عیسائی پادریوں نے اس بار یہ مشہور کر دیا کہ کیونکہ بڑے گناہگار ہوتے ہیں اس لئے انہیں مسلمانوں کے خلاف فتح حاصل نہیں ہورہی، چونکہ بچے معصوم اور بے گناہ ہوتے ہیں اس لئے وہ عیسائیوں کو مقدس فتح ضرور دلائیں گے۔ لہذا سارے یورپ میں مذہب کے نام پر بچوں تک کو جنگ کی خون ریزیوں میں دھکیلنے کی تیاریاں زور و شور سے شروع کر دی گئیں۔ اس ” معصوم و پر امن مقصد ” کیلئے سنتیس ہزار معصوم بچوں کا ایک مقدس جہادی لشکر ترتیب دیا گیا جو فرانس سے بیت المقدس کی طرف روانہ ہوا۔ تیس ہزار بچوں پر مشتمل فرانسیسی نونہالوں کے لشکر کی قیادت بارہ سالہ اسٹیفن اور سات ہزار جرمن بچوں کی قیادت نکولس کے سپرد کی گئی۔

اٹلی کی سرسبز وادیوں سے گذرتے ہوئے ان معصوم جہادی بچوں کے لشکر اپنے معصوم ہاتھوں میں لکڑی کی مقدس صلیبیں اٹھائے بلند آواز میں عیسائیت کے گیت گاتے شہروں اور دیہاتوں سے گزرے۔ ان عیسائی  نونہالوں کی اس حد تک برین واشنگ کی گئی تھی کہ جب کوئی راہگیر ان سے پوچھتا کہ آپ لوگ کہاں جارہے ہو تو وہ جواب دیتے کہ “ہم خدا کے پاس جا رہے ہیں” فرانسیسی بچوں کے سالار سٹیفن کا دعوی تھا کہ یسوع  مسیح نے اسے اپنے دست مبارک سے ایک خط دیا ہے جس میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوبارہ سے صلیبی جنگوں کی راہ ہموار کرے۔ اس ” معصوم  جہادی قافلے” کے راستے میں انہیں کئی اور بچوں کا ساتھ مل گیا اور وہ پورے مذہبی جوش اور جنون جہاد لئے اس ساحل سمندر کی طرف رواں دواں ہو گئے جس کے بارے انہیں یہ مقدس حکم دیا گیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی اس سرزمین ر پہنچ کر اپنے آقا و  مسیح کی خدمت کریں جو ابھی تک مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔ انہیں مکمل یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اس مقدس سرزمین کو فتح کرنے جارہے ہیں جس کی فتح کے بعد عیسائی عقیدے کے مطابق پوری دنیا میں ہمیشہ کیلئے امن او امان کا دور رہے گا۔

پورے مغرب میں بچوں کی اس معصوم جہادی لشکر کی تشہیر اس قدر جنونی و جذباتی انداز میں کی گئی کہ دنیا بھر کے عیسائیوں کو  یقین ہوگیا تھا کہ خداوند یسوع مسیح اب ان کے ساتھ ہے اور بس کچھ ہی دنوں میں ان معصوم جنگجوؤں کے زریعے کوئی بہت بڑا معجزہ رونما ہو گا اور پھر بیت المقدس کی سرزمین مقدس کافروں یعنی مسلمانوں کے قبضے سے ہمیشہ کیلئے آزاد ہو جائے گی۔ احباب یاد رہے کہ صلیبی بچوں کا یہ مقدس لشکر کلیسائے روم  کے پادریوں کی ایما پر تشکیل دیا گیا تھا ۔ عیسائی راہبوں  نے یہ مشہور کر دیا تھا  کہ جونہی  ان بچوں کا لشکر سمندر کے کنارے پہنچے گا  تو یہ آسمانی معجزہ رونما ہو گا کہ سمندر ان کیلیے راستہ بناتا ہوا سمٹ جائے گا۔ اور پھر وہ مقدس بچے بیت المقدس کی مقدس سرزمین پر پہنچ کر سب مقدس کافروں یعنی مسلمانوں کو مقدس عیسائی بنا لیں گے۔ مغربی فتنہ گروں کو تاریخ میں لکھے اس دور کے مشہور ترین اور عیسائی کلیسا کی تاریخ کے طاقتور ترین پادری “پوپ انوسنٹ” کے یہ  با معنی طنزیہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں کہ “ یہ ہمارے لیے باعث  شرم ہے کہ  ہمارے بچے تو سرزمین مقدس کی آزادی کیلیے نکلیں اور ہم  اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں‘‘۔

 تاریخ عالم گواہ اورمعصوم بچوں کے مقدس جہادی مشن کیلئے اکسانے والے کلیسائی پاردی اپنی قبروں میں بھی شرمندہ ہیں کہ عیسائی کلیسا کے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے استعمال ہو کر اسلام کیخلاف ”  عیسائی جہاد” میں جھونکے گئے ان معصوم جہادی نونہالوں کا انجام بڑا ہی دردناک ہوا۔  جب وہ بچے ساحل  پر پہنچے تو عیسائی راہبوں کی  پیشین گوئی کے مطابق نہ تو سمندر نے ان کیلئے  راستہ بنایا اور نہ ہی وہ سمٹا۔ لہذا ان  پیشین گوئی کا ڈرامہ فلاپ ہونے پر ان بچوں کی ایک بڑی تعداد کی ہمت وہیں دم توڑ گئی اور وہ مایوس  واپس گھروں کو روانہ ہوگئے۔ ان مقدس بچوں کی ایک بڑی تعداد دوران سفر بیماریوں یا پھر اپنے ہی عیسائی بزرگوں کے جنسی تشدد کا شکارہو ہلاک ہوئی ۔ اس پر قسمت کی ستم ظریقی یہ کہ جو باقی بچ گئے انہیں عیسائی بردہ فروشوں کے بحری گروہوں نے گھیرلیا۔ ان بردہ فروشوں نے ان معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر اپنے بحری جہازوں میں واپس گھروں کو جانے پر رضامند کر لیا جو ان بچوں کے ہمراہ تھیں۔ ان معصوم بچوں اور بچیوں کا یہ بحری قافلہ اپنے گھروں کیلئے روانہ ہوا تو عیسائی بردہ فروش انہیں حسب وعدہ یروشلم اور پھر یورپ پہنچانے کی بجائے زبردستی تیونس اور اسکندریہ کی طرف لے گئے جہاں انہیں غلام بنا کر بازاروں میں فروخت کر دیا گیا۔ اسی دوران ان مقدس جہادی بچوں کا ایک جہاز سمندر کی طوفانی لہروں میں غرق ہو گیا۔ جس کی یاد میں پادری پوپ انونسٹ کی طرف سے ایک مقدس یادگار بھی تعمیر کی گئی۔ جو بچے سفر کے دکھ اور مصائب اٹھا کر واپس وطن پہنچے، ان کے ہاتھوں سے مقدس صلیبیں غائب اور چہروں پر بیتے ہوئے تلخ دنوں کے آلام و مصائب کا حاصل کرب نمایاں تھا۔

جن لوگ جنہوں نے  پادریوں کی پیشین گوئیوں پر کسی آسمانی معجزے کی توقع میں ان  نونہال مجاہدوں کی مدد کی تھی۔ اب وہی لوگ انہیں ناکام و نامراد لوٹتے دیکھ کر طنزیہ جملے کس کر ان کا تمسخر اڑا رہے تھے۔ جو مقدس جہادی بچیاں اپنی عیسائی برادری کے جنسی درندوں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ لٹوا چکیں تھیں ان کو انہی کی مقدس قوم کے لوگ نفرت و حقارت سے یہ کہہ رہے تھے کہ، “ یہ خداوند یسوع کی مقدس بیٹیاں نہیں بلکہ شیطان کی وہ ناپاک کنیزیں ہیں جو خدائی کام کیلیے نہیں جنسی بدکاری کیلیے گئیں تھیں”۔ مقدس جہادی بچوں بچوں کا جو دوسرا نونہالی لشکرنکولس کی قیادت میں جرمنی سے نکلا تھا اس کا انجام بھی فرانس اور اٹلی کے  معصوم بچوں سے مختلف نہ تھا۔ اس جرمن لشکر کے بچے جب اپنے گھروں کو واپس نہ پہنچے تو مشتعل لوگوں نے اس مقدس لشکر کے لیڈر کے باپ کو ان کے معصوم بچوں کو ورغلا کر مقدس جہاد میں دھکیلنے کے جرم میں سرعام پھانسی پر چڑھا دیا۔ عیسائت کے مذہبی جنونیوں کی طرف سے بھیجے گئے ان مقدس صلیبی بچوں میں سے کوئی ایک بھی بیت المقدس تک نہ پہنچ سکا۔ لیکن فرانس کے ساحلی علاقوں اور اٹلی کی سبز پوش وادیوں سے لیکر جرمنی سے بیت المقدس کو جانے والے راستوں کی اداس فضا ان کی حسرت بھری داستاں بیان کرتے ہوئے بڑی خاموشی سے کہہ رہی تھی۔ کہ  بڑے  بدبخت ہیں وہ سب کلیسائی پادری جنہوں نے مقدس عیسائی جہاد کے نام پر معصوم بچوں تک کو جنگ اور نفرت کی آگ میں دھکیل کر اپنے ” جنگی جنونی” اور ” مذہبی دہشت گرد” ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کاش کہ ہم مذہبی جنونی عیسائیوں کے مقدس جہادی مشن کی بھینٹ چڑھ جانے والے ان مقدس معصوم بچوں کی دکھ بھری کہانی، میڈم ملالہ کی زبانی، کبھی اقوام متحدہ کے فورم پر بھی سن سکیں۔

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد ضرورت ہے

فاروق درویش — واٹس ایپ –00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: