تاریخِ عالم و اسلام سیکولرازم اور دیسی لبرل

جنسی خادماؤں اور معصوم بچوں کا مقدس جہاد (صلیبی جنگیں حصہ سوئم)۔


 تاریخ گواہ ہے  مسلمان حکمران  کبھی بھی دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ مغربی جارحین کیخلاف دفاع کیلئے تلوار اٹھانے پر مجبور کئے گئے۔ گیارویں صدی عیسوی کا اختتامی عشرہ تھا کہ مغرب کے فتنہ گر عیسائیوں نے ایک سازش کے تحت پورے یورپ کے ہر شہر اور قصبے میں یہ افواہ پھیلا دی کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لا کر عیسائیوں کے تمام مصائب کا خاتمہ کر دیں گے۔ لیکن ان کی آمد اسی صورت ہوگی جب ان کی جائے پیدائش  یعنی شہر بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضہ سے آزاد کرالیا جائے۔ جنت کے حصول کیلیے جہاد اور شہادت کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں کیخلاف مسخرانہ تنقید کرنے والے صلیبی حضرات کچھ لکھنے اور بولنے سے پہلے اپنے آبا و اجداد کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کریں۔ لیبی جنگوں کے آغاز کیلئے عیسائی کیلسا کے تمام پادریوں ہی نے یہ دجالی مفروضہ مشہور کیا تھا کہ اگر کوئی بدکردار چور اور بدمعاش بھی بیت المقدس کی زیارت کر آئے گا تو وہ بھی جنت کا مستحق ہوگا۔ عیسائیوں کی اپنی لکھی ہوئی تاریخ بھی گواہی دیتی ہے کہ ان کے جنونی پادریوں ہی نے اسلام کیخلاف عیسائیت کی بالادستی کیلیے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ دنیا بھر کے عیسائی بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کیلیے ہتھیار لیکر اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ بھی کسی مسلمان مولوی کا نہیں بلکہ عیسائیوں ہی کے چیف پادری  کا صلیبی فتوی تھا کہ جو عیسائی اس مقدس مذہبی جنگ میں  مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جائے گا، اس کے تمام گناہ دھل جائیں گے اور وہ جنت میں داخل ہو گا۔ مسلمانوں پر مذہبی شدت پسندی کا الزام اور جہاد کو امن شکنی و فساد کا نام دینے والے فتن ساز اہل مغرب اگر تاریخی حقائق پڑھیں۔ تو امت مسلمہ پر مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کا الزام لگانے  کی بجائے یہ مصدقہ حقیقت جان کر اپنے مونہہ پر طمانچے ماریں کہ  سب سے پہلے ان عیسائیوں ہی کے چیف پادری پوپ اربن دوم کے صلیبی فتویء جہاد نے عالم اسلام کیخلاف صلیبی جنگوں کا طبل بجا کر مذہب کے نام پر اس کھلی دہشت گردی کا باقاعدہ آغاز کیا تھا جو آج تک جاری ہے۔

تاریخ مسلم کا جائزہ لیں تو عماد الدین زنگی وہ پہلا نامور حکمران تھا جس نے سقوط بیت المقدس  کے بعد امت میں جذبہء جہاد کی ایک نئی روح پھونک کر عظیم الشان فتوحات سے تاریخ میں بڑا نام کمایا ۔ اس کی شہادت کے بعد اس کے نامور بیٹے نورالدین زنگی نے عیسائیوں سے بیشتر علاقے چھین لیے اور انہیں ہر محاذ پر شکستیں دیتا ہوا دوبارہ ڈیسا کے شہر پرقابض ہوگیا۔ عیسائیوں کی ان پے در پے شکستوں کی خبروں سے پورے یورپ میں صف ماتم بچھ گئی۔ لہذا عیسائیوں کے مذہبی جنونی پادری پوپ یوجین سوم نے ایک بار پھر عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر دوسری صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا۔ احباب دلچسب حقیقت ہے کہ اس مرتبہ جرمن شاہ کونراڈ سوم اور شاہ فرانس لوئی ہفتم کی قیادت میں نو لاکھ مذہبی جنونیوں کی جو فوج مسلمانوں پر چڑہائی کیلیے یورپ سے روانہ ہوئی اس میں اس بار  عیسائی مجاہدین کو جنسی عیاشی کی سہولت فراہم کر کےعظیم نیکیاں کمانے کیلئے خوبصورت حسینائیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ شاہ فرانس کی فوج کے ساتھ عیسائیوں کے مذہبی جنگی ترانے گانے والی گلوکارائیں تمام دن کے وقت تمام راستے جنگی نغمے گاتیں اور رات کے وقت خیموں میں اپنے صلیبی سپاہیوں کو جنسی تسکین کا سامان فراہم کرتیں تھی۔

جرمنی شاہ  کے لشکر کی سنہری بالوں والی جنگجو خواتین تمام راستے اس  لشکر کے سپاہیوں کے درمیان وصالِ حسن کیلئے لڑی جانے والی خونریز ہنگامہ آرائی کی وجہ بنی رہیں۔ پہلے صلیبی لشکروں کی طرح ان فوجیوں نے بھی تمام راستے راہ میں آنے والی بستیوں کی خواتین اور بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور دل کھول کر اخلاق سوز حرکتیں کیں۔ قصہ مختصر مسلم علاقوں تک  پہنچنے پر فرانسیسی فوج کا ایک بہت بڑا حصہ سلجوقیوں کے ہاتھوں ‌جہنم واصل ہو چکا تھا۔ اورانطاکیہ تک پہنچتے پہنچتے جہاں اس کی تین چوتھائی فوج برباد ہوچکی تھی، وہاں اس فوج کو جنسی تسکین اور سامان عیاشی بہم پہنچانے کیلئے ساتھ روانہ ہونے والی مقدس جنسی رضاکاراؤں میں سے کوئی ایک حسینہ بھی زندہ باقی نہ تھی۔ دوسری طرف شاہ جرمن کونراڈ کے ساتھ آنے والی مقدس جنگجو خواتین کا انجام فرانسیسی خواتین سے خوفناک تر تھا۔ لیکن مسلسل آگے بڑھنے والے لشکری اس امر سے ناواقف تھے کہ اپنے ہی عیسائی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی درندگی کا شکار ہونے والی مقدس  جوانیاں پیچھے چھوٹے ہوئے راستوں پر بھوکے گدھوں کیلئے سامان ضیافت بن رہی تھیں۔ افسوس کہ سیف الدین زنگی اور نورالدین زنگی کے ہاتھوں شکست خوردہ عیسائی لشکر جب واپس یورپی سرحدوں کی طرف روانہ ہوا تو ناکام و مراد ٹوٹے ہوئے مقدس دلوں کو محبتوں کے نذرانے، اور تھکے ٹوٹے، پیاسے جسموں کو قربت کی آغوش و گرمائش دینے کیلئے کسی عیسائی دوشیزہ کی رفاقت میسر نہ تھی۔ یوں دوسری صلیبی جنگ بھی عیسائیوں کی نامرادی اور بدبخیوں کی داستان سناتی ہوئی اختتام کو پہنچی۔ تیسری صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبی لشکروں کی تباہی و بربادی کا احوال میں اپنے گذشتہ مضمون ” صلیبی جنگیں اور فتح بیت المقدس ۔ حصہ دوئم ” میں بیان کر چکا ہوں۔ چوتھی صلیبی جنگ میں بھی عیسائیوں نے سلطان صلاح الدین خاندان کے ملک العادل کے ہاتھوں عبرتناک شکستیں کھائیں اور یافہ کا اہم شہر واپس مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔ اور پھر اگلے بیس سالوں تک عیسائی اپنے زخم چاٹتے ہوئے اگلی مقدس جنونی مہم کی حکمت عملی اور تیاری میں مصروف ہو گیے۔

احباب اہل مغرب اور سامراج کا اہل اسلام پر یہ الزام بھی ہے کہ مسلمان شدت پسندوں نے معصوم بچوں کو بھی جنگ و جہاد میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن عیسائیت کی امن گردی کے دعووں اور انسانی حقوق کی علمبرداری پر سب سے بڑا طمانچہ وہ صلیبی جنگ ہے جو تاریخ میں ” بچوں کی صلیبی جنگ” ک نام سے مشہور ہے۔ اس ” امن گردانہ عیسائی جہاد ” کیلئے عیسائی مذہبی راہنماؤں نے ایک انوکھے فلسفہء جنگ کی تشہیر کی۔ پچھلی صلیبی جنگوں میں مسلسل شکستیں کھانے والے عیسائی پادریوں نے اس بار یہ مشہور کر دیا کہ کیونکہ بڑے گناہگار ہوتے ہیں اس لئے انہیں مسلمانوں کے خلاف فتح حاصل نہیں ہورہی، چونکہ بچے معصوم اور بے گناہ ہوتے ہیں اس لئے وہ عیسائیوں کو مقدس فتح ضرور دلائیں گے۔ لہذا سارے یورپ میں مذہب کے نام پر بچوں تک کو جنگ کی خون ریزیوں میں دھکیلنے کی تیاریاں زور و شور سے شروع کر دی گئیں۔ اس ” معصوم و پر امن مقصد ” کیلئے سنتیس ہزار معصوم بچوں کا ایک مقدس جہادی لشکر ترتیب دیا گیا جو فرانس سے بیت المقدس کی طرف روانہ ہوا۔ تیس ہزار بچوں پر مشتمل فرانسیسی نونہالوں کے لشکر کی قیادت بارہ سالہ اسٹیفن اور سات ہزار جرمن بچوں کی قیادت نکولس کے سپرد کی گئی۔

اٹلی کی سرسبز وادیوں سے گذرتے ہوئے ان معصوم جہادی بچوں کے لشکر اپنے معصوم ہاتھوں میں لکڑی کی مقدس صلیبیں اٹھائے بلند آواز میں خداوند کی حمد کے گیت گاتے شہروں اور دیہاتوں سے گزرے۔ ان معصوم عیسائی نونہالوں کی اس حد تک برین واشنگ کی گئی تھی کہ جب کوئی راہگیر ان سے پوچھتا کہ آپ لوگ کہاں جارہے ہو تو وہ جواب دیتے کہ “ہم خدا کے پاس جا رہے ہیں” فرانسیسی بچوں کے سالار سٹیفن کا دعوی تھا کہ یسوع و مسیح نے اسے اپنے دست مبارک سے ایک خط دیا ہے جس میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوبارہ سے صلیبی جنگوں کی راہ ہموار کرے۔ اس ” معصوم صلیبی جہادی قافلے” کے راستے میں انہیں کئی اور بچوں کا ساتھ مل گیا اور وہ پورے مذہبی جوش اور جنون جہاد لئے اس ساحل سمندر کی طرف رواں دواں ہو گئے جس کے بارے انہیں یہ مقدس حکم دیا گیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی اس سرزمین ر پہنچ کر اپنے آقا و مولا مسیح کی خدمت کریں جو ابھی تک مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔ انہیں برین واش کر کے مکمل یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اس مقدس سرزمین کو فتح کرنے جارہے ہیں جس کی فتح کے بعد عیسائی عقیدے کے مطابق پوری دنیا میں ہمیشہ کیلئے امن او امان کا دور رہے گا۔

پورے مغرب میں بچوں کی اس معصوم جہادی لشکر کی تشہیر اس قدر جنونی و جذباتی انداز میں کی گئی کہ دنیا بھر کے عیسائیوں کو پختہ یقین ہوگیا تھا کہ خداوند یسوع مسیح اب ان کے ساتھ ہے اور بس کچھ ہی دنوں میں ان معصوم جنگجوؤں کے زریعے کوئی بہت بڑا معجزہ رونما ہو گا اور پھر بیت المقدس کی سرزمین مقدس کافروں یعنی مسلمانوں کے قبضے سے ہمیشہ کیلئے آزاد ہو جائے گی۔ احباب یاد رہے کہ صلیبی بچوں کا یہ مقدس لشکر کلیسائے روم  کے پادریوں کی ایما پر تشکیل دیا گیا تھا ۔ عیسائی راہبوں  نے یہ مشہور کر دیا تھا  کہ جونہی  ان بچوں کا لشکر سمندر کے کنارے پہنچے گا  تو یہ آسمانی معجزہ رونما ہو گا کہ سمندر ان کیلیے راستہ بناتا ہوا سمٹ جائے گا۔ اور پھر وہ مقدس بچے بیت المقدس کی مقدس سرزمین پر پہنچ کر سب مقدس کافروں یعنی مسلمانوں کو مقدس عیسائی بنا لیں گے۔ مغربی فتنہ گروں کو تاریخ میں لکھے اس دور کے مشہور ترین اور عیسائی کلیسا کی تاریخ کے طاقتور ترین پادری “پوپ انوسنٹ” کے یہ  با معنی طنزیہ الفاظ یاد رکھنے چاہئیں کہ “ یہ ہمارے لیے باعث  شرم ہے کہ  ہمارے بچے تو سرزمین مقدس کی آزادی کیلیے نکلیں اور ہم  اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں‘‘۔

معزز قارئین تاریخ عالم گواہ اورمعصوم بچوں کے مقدس جہادی مشن کیلئے اکسانے والے کلیسائی پاردی اپنی قبروں میں بھی شرمندہ ہیں کہ عیسائی کلیسا کے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے استعمال ہو کر اسلام کیخلاف ” مقدس عیسائی جہاد” میں جھونکے گئے ان ننھے منے معصوم جہادی نونہالوں کا انجام بڑا ہی دردناک ہوا۔ کہ جب وہ بچے ساحل سمندر پر پہنچے تو عیسائی راہبوں کی مقدس پیشین گوئی کے مطابق نہ تو سمندر نے ان کیلئے کوئی راستہ بنایا اور نہ ہی وہ سمٹا۔ لہذا مذہبی پادریوں کی پیشین گوئیوں کا ڈرامہ فلاپ ہونے پر ان بچوں کی ایک بڑی تعداد کی ہمت وہیں دم توڑ گئی اور وہ مایوسی کے عالم میں واپس گھروں کو روانہ ہوگئے۔ ان مقدس بچوں کی ایک بڑی تعداد دوران سفر بیماریوں یا پھر اپنے ہی عیسائی بزرگوں کے جنسی تشدد کا شکارہو کر زندگی کی بازی ہار گئی ۔ اس پہ قسمت کی ستم ظریقی یہ کہ جو باقی بچ گئے انہیں عیسائی بردہ فروشوں کے بحری گروہوں نے گھیرلیا۔ ان بردہ فروشوں نے ان معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر اپنے بحری جہازوں میں واپس گھروں کو جانے پر رضامند کر لیا جو ان بچوں کے ہمراہ تھیں۔ ان معصوم بچوں اور بچیوں کا یہ بحری قافلہ اپنے گھروں کیلئے روانہ ہوا تو عیسائی بردہ فروش انہیں حسب وعدہ یروشلم اور پھر یورپ پہنچانے کی بجائے زبردستی تیونس اور اسکندریہ کی طرف لے گئے جہاں انہیں غلام بنا کر بازاروں میں فروخت کر دیا گیا۔ اسی دوران ان مقدس جہادی بچوں کا ایک جہاز سمندر کی طوفانی لہروں میں غرق ہو گیا۔ جس کی یاد میں پادری پوپ انونسٹ کی طرف سے ایک مقدس یادگار بھی تعمیر کی گئی۔ جو بچے سفر کے دکھ اور مصائب اٹھا کر واپس وطن پہنچے، ان کے ہاتھوں سے مقدس صلیبیں غائب اور چہروں پر بیتے ہوئے تلخ دنوں کے آلام و مصائب کا حاصل کرب نمایاں تھا۔

جن لوگ جنہوں نے اپنے پادریوں کی پیشین گوئیوں پر کسی آسمانی معجزے کی توقع میں ان مقدس نونہال مجاہدوں کی مدد کی تھی۔ اب وہی لوگ انہیں ناکام و نامراد لوٹتے دیکھ کر طنزیہ جملے کس کر ان کا تمسخر اڑا رہے تھے۔ جو مقدس جہادی بچیاں اپنی عیسائی برادری کے جنسی درندوں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ لٹوا چکیں تھیں ان کو انہی کی مقدس قوم کے لوگ نفرت و حقارت سے یہ کہہ رہے تھے کہ، “ یہ خداوند یسوع کی مقدس بیٹیاں نہیں بلکہ شیطان کی وہ ناپاک کنیزیں ہیں جو خدائی کام کیلیے نہیں جنسی بدکاری کیلیے گئیں تھیں”۔ مقدس جہادی بچوں بچوں کا جو دوسرا نونہالی لشکرنکولس کی قیادت میں جرمنی سے نکلا تھا اس کا انجام بھی فرانس اور اٹلی کے  معصوم بچوں سے مختلف نہ تھا۔ اس جرمن لشکر کے بچے جب اپنے گھروں کو واپس نہ پہنچے تو مشتعل لوگوں نے اس مقدس لشکر کے لیڈر کے باپ کو ان کے معصوم بچوں کو ورغلا کر مقدس جہاد میں دھکیلنے کے جرم میں سرعام پھانسی پر چڑھا دیا۔ عیسائت کے مذہبی جنونیوں کی طرف سے بھیجے گئے ان مقدس صلیبی بچوں میں سے کوئی ایک بھی بیت المقدس تک نہ پہنچ سکا۔ لیکن فرانس کے ساحلی علاقوں اور اٹلی کی سبز پوش وادیوں سے لیکر جرمنی سے بیت المقدس کو جانے والے راستوں کی اداس فضا ان کی حسرت بھری داستاں بیان کرتے ہوئے بڑی خاموشی سے کہہ رہی تھی۔ کہ  بڑے  بدبخت ہیں وہ سب کلیسائی پادری جنہوں نے مقدس عیسائی جہاد کے نام پر معصوم بچوں تک کو جنگ اور نفرت کی آگ میں دھکیل کر اپنے ” جنگی جنونی” اور ” مذہبی دہشت گرد” ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کاش کہ ہم مذہبی جنونی عیسائیوں کے مقدس جہادی مشن کی بھینٹ چڑھ جانے والے ان مقدس معصوم بچوں کی دکھ بھری کہانی، میڈم ملالہ کی زبانی، کبھی اقوام متحدہ کے فورم پر بھی سن سکیں۔

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر، عرب و عجم کا اتحاد ِعالم ِ اسلام وقت کی اشد ضرورت ہے

فاروق درویش — واٹس ایپ –03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: