حالات حاضرہ

پاکستان میں نو عمر شادیاں اور گورے دیس کے جنسی ناسور

Young age marriages in west and Pakistan

 برطانیہ کو اپنی لاڈلی کتابی میڈم ملالہ جی کی طرح پاکستان کے تعلیمی حالات کی بڑی جان لیوا فکر رہتی ہے ، گذشتہ برسوں دورہ پاکستان میں وزیر اعظم گورڈن براؤن اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس “تعلیم کا نامکمل ایجنڈا” میں بھی شرکت فرمائی۔ جہاں انہوں نے اس تعلیمی کانفرنس کے کتابی ایجنڈے سے ہٹ کر یہ شتابی شوشہ چھیڑ دیا کہ پاکستان میں “کم عمری کی شادی سے پاک” علاقے بنائے جائیں گے۔ گورڈن براؤن نے کہا کہ بچیوں کو زبردستی شادی پر مجبور کرنا ” جدید دنیا میں قابلِ قبول نہیں ہے” کیونکہ اس سے لڑکیاں اپنی تعلیم اور بچپن کھو بیٹھتی ہیں۔ ان کے لفظ ” قابل قبول ” پر میں انہیں ان کی ” جدید دینا ” کی یہ ” قابل قبول ” زندہ روایات یاد دلانا چاہتا ہوں۔ کہ ان کے مغربی معاشرے میں ، اگر پندرہ سولہ سال کی لڑکی کا بوائے فرینڈ نہ ہو تو پر اسے انتہائی غیر معمولی امر سمجھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بن بوائے فرینڈ کی لڑکی کے ماں باپ کو اس کی جنسی اور دماغی صحت کے حوالے سے یہ فکر اور خدشات لاحق ہونے لگتے ہیں کہ ان کی بیٹی میں آخر ایسی کیا کمی یا کمزوری ہے کہ  اس نے سماجی معمول کے مطابق  ابھی تک  کوئی جنسی پارٹنر ہی نہیں بنایا۔ کیا گورڈن براؤن کے روشن خیال مغرب کی غیرت کیلئے یہ حقائق “قابل قبول ” ہیں کہ ان کے معاشرے میں چالیس فیصد ٹین ایجر لڑکیوں کے بوائے فرینڈ ان کی عمر سے چار گنا بڑے بڈھے یا نیم بڈھے ہوتے ہیں۔

گورے حکمران جس مقصد کیلئے بھی آئے یا بلائے جاتے ہیں، انہیں درویش کا مشورہ ” اول خویش بعد درویش ” کا ہے، سو وہ پاکستانی بچیوں کے خیرخواہ و مسیحا بننے سے پہلے اپنے ملک کی کم عمر بچیوں کی جنسی بدحالی کی حالت زار پر توجہ دیں۔ میں انہیں ان کے گورے دیس کی بچیوں کے بارے ان کے ملک برطانیہ ہی کے سرکاری اعداد و شمار یاد دلاتا ہوں۔ جن کے مطابق ہر سال تین ہزار سے زائد کم عمر بچیاں اپنے ہم جماعت ساتھی بچوں کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں اور جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ اور اس جرم کی پاداش میں پانچ ہزار سے زائد ” معصوم گورے بچے” اسکولوں سے نکال دیے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار ہی کے مطابق ہر روز اوسطا پندرہ کم عمر بچیاں جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں اور بیس کے قریب بچوں کو جنسی تشدد اور بے راہ روی کے نتیجے میں اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس تعداد میں سے کم از کم دو تین کا تعلق لازمی پرائمری اسکول سے ہوتا ہے۔ سابق برطانوی وزیر اعظم کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے مہذب دیس کی انگنت کم عمر طالبائیں اپنے ہی اساتذہ کی جنسی درندگی کا شکار ہو کر مہذب و تعلیم یافتہ معاشرے کیلئے” تماشہء قابل قبول” بن جاتی ہیں۔

  پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ ماضی و حال میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی امدادیں کن بڑی توندوں کے دوزخ میں ہضم ہو جاتی ہیں۔ امدادی پیکج  کی صورت میں دراصل سیاسی رشوت اورمغربی آلہ کار این جی کی شہزادیوں کے غیر ملکی اکاؤنٹوں میں پہنچ جاتی ہے۔ گورڈن براؤن نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایسے گروہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ بچوں کی فروخت کر کے کم عمری میں شادی کروانے کے عمل کو آسان بنایا جائے، جو قابلِ قبول نہیں ہے۔ احباب پاکستان میں غربت اور افلاس کے ستائے ہوئے معاشرے میں کم عمری کی شادیاں اکثر و بیشتر ماں باپ کی مالی یا معاشرتی مجبوری کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ایسی ہی مجبوریوں کے باعث پاکستان میں دس فیصد کے قریب ایسی شادیاں ہوتی ہیں جہاں لڑکی کو اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہی رخصت کر دیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ایسے اعتراضات اٹھانے والے ازلی عریاں گوروں کے معاشرے میں اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے والی نوے فیصد ” قابل قبول ” لڑکیاں، کئی بوائے فرینڈز سے مونہہ کالا کر کے مذید گوری بن چکی ہوتی ہیں۔

میرا ذاتی موقف ہے کہ بچی کی اس وقت تک شادی سے گریز کرنا چاہئے کہ جب تک وہ صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی طور پر مکمل بالغ اور مستقبل میں اپنی اولاد کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کرنے والی ایک اچھی ماں بننے کیلئے تیار نہ ہوں۔ بچیوں کی شادی سے پہلے ان کی تعلیمی ترتیبت کے ساتھ ساتھ گھریلو تربیت بھی اشد ضروری ہے۔ گورڈن براؤن کہ یہاں ستر لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے ہیں جو کہ جدید دنیا میں بالکل قابلِ قبول نہیں ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وزیراعظم اس بارے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ گورڈن براؤن نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہم اس حوالے سے عالمی برادری سے پاکستان کیلئے امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا گورڈن براؤن کے برطانوی تاجدار اور سامراج کے بادشاہ گر اس بات سے بے خبر ہیں کہ آج بھی اندرون سندھ کے سکولوں میں ملک میں تعلیم کا نام نہاد انقلاب برپا کرنے کی داعی سیاسی جماعتوں کے وڈیروں کی بھینسیں بندھی ہیں اور “طالب علم” مویشیوں کی خوراک ڈھوتے ہیں۔

برطانوی خیرخواہ پاکستانی قوم سے اتنے مخلص ہیں تو شمالی پنجاب اور اندرون سندھ کے گوٹھوں میں گائے بھینسوں کے باڑے بنے ان سکولوں کی بازیابی کیوں نہیں کرواتے جو کسی طالبان قوت کے نہیں بلکہ انہیں گورے کے حلیف غدارین پاکستان وڈیروں کے قبضہء ظلم میں ہیں۔ قابل لعنت صد افلاک ہے ایسی منافقت کہ ایک طرف تعلیم کے دشمن طالبان کیخلاف ملالہ سے میڈونا تک سب ننگِ ملک و بدن فتنے ہم آواز ہیں، پورا یورپ اور سامراج دسویں صلیبی جنگ میں عالم اسلام کیخلاف برسر پیکار ہے مگر دوسری طرف مظلوم سندھی اور بلوچی مزارعوں کے سکولوں پر قابض جاگیر دار اور وڈیرا مافیہ ان گوروں کا ہمنوا غلام و آلہ کار ہے۔ لہذا پاکستانی معاشرے کے ماموں حضور بننے سے قبل اپنے برطانیہ سرکار کی یہ پراگندا تصویر بھی پیش نظر رکھیں۔ کہ برطانوی بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے فعال تنظیموں کی طرف سے جاری رپورٹس کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئے جنسی جرائم کا سب سے بڑا سبب کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ پر فحش سائٹس کی یاترا ہے، جس کی وجہ سے پرائمری اسکولوں کے بچے بھی اپنے ساتھیوں کے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ برطانوی این جی اوز کے مطابق بچوں کی بے لگام انٹرنیٹ تک آزادانہ رسائی کی وجہ سے ان کے اندر جنسی تشدد کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ برطانیہ کی نیشنل یونین آف ٹیچرز کا کہنا ہے کہ بڑے بڑے کاروباری اداروں نے اپنے کاروبار کو توسیع دینے کے لئے بچوں کیلئے بنائے گئے پنسل باکس اور دوسری اشیا کو پلے بوائے کی جنسی علامات کے ڈیزائینوں میں ڈھال کر بچوں میں مقبول بنایا ہے۔ بچوں کی تعلیمی پراڈکٹس پر ڈانسر لڑکیوں کو طاقتور دکھایا گیا ہے۔

ان شہوت انگیزیوں سے برطانیہ کے نو عمر طبقے میں ایک خطرناک اور پراگندا سیکسی جنونی کلچرنے جنم لیا ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ گذشتہ سال تین ہزار سے زائد بچوں کو جنسی اشتعال کی حرکات کے الزامات پر اسکولوں سے خارج کیا گیا ہے ۔ اس تعداد میں دس فیصدی سے زائد بچوں کا تعلق کم عمر بچوں کے پرائمری اسکولوں سے تھا۔ پاکستانی بچیوں کیلئے درد دل رکھنے سے پہلے گورڈن براؤن اپنے ہی مہذب برطانیہ کے اداروں کی ان رپورٹس پر غور کریں کریں جن میں بتایا گیا ہے کہ جن جنسی تشدد میں ملوث جن جنونی بچوں کو سکولوں سے خارج کیا گیا ہے ، ان کا جنسی جنون اور طرزعمل انتہائی ناقابل برداشت ہوگیا تھا وگرنہ ایک بڑی تعداد کو تو صرف تنبیہ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر ان وارننگ دیے گیے بچوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ اعدادوشمار کم از کم دس گنا مزید بڑھ جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکنڈری اسکولوں کے تیس فیصد اور پرائمری اسکولوں کے گیارہ فیصد اساتذہ کو اس امر کا علم ہوتا ہے کہ ان کے اسکولوں میں بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جارہا ہے۔ گورڈن براؤن پاکستانی بچیوں اور پاکستانی معاشرے کے  رسوم  و رواج کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی بجائے برطانیہ کی تیس فیصد کم عمر بچیوں اور ان کے بنا شادی  پیدا ہونے والے ان ناجائز بچوں کے مسقتبل کی فکر کریں جو صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ پورے مغربی معاشرے کے گورے چہرے  پر کالا سیاہ دھبہ بن کر چمک رہے ہیں۔

 غربت و افلاس اور محرومیوں کا شکار ہونے کے باوجود پاکستانی معاشرہ ان کے “مہذب ننگے معاشرے ” سے بدرجہ بہتر ہے۔ یہ الگ موضوع بحث ہے کہ ہمارا وطن پاکستان برسوں سے مغرب اور سامراجی فتنہ گروں کی طرف سے مسلط کردہ ایک منظم دہشت گردی کا شکار ہے۔ سو سڑکوں پر کسی اندھی گولی یا بم دھماکے کا خوف تو موجود ہے ، سیاسی بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی موجودگی کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم تو ہیں۔ مگر صد شکر کہ یہاں کم عمر بچے، بچیاں اورعورتیں اس معاشرتی اور جنسی درندگی سے محفوظ ہیں جو برطانیہ سمیت پورے یورپ اور امریکہ کا نمونہء خاص ہے۔ گو کہ جنسی بے راہ روی کے اکا دکا کیس یہاں بھی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی مجموعی اعتبار سے پاکستانی معاشرہ برطانوی اور امریکی معاشروں سے ہزار درجہ بہتر اور مہذب تر ہے۔ یہاں  بچوں سے محبت  و شفقت اور  خواتین  کا احترام باقی ہے۔ گورڈن براؤن اور ان کے چاہنے والے دیسی مرغی ولائتی انڈہ برانڈ دانشوروں کیلئے مغربی اور پاکستانی معاشرے کا خوبصورت فرق واضع کرنا چاہتا ہوں۔ کہ ” مہذب مغرب” کی عورت جوں جوں عمر رسیدہ ہو کر اپنی جنسی قابلیت اور حسنِ جواں سالی کھوتی ہے وہ اپنے مغربی معاشرے میں عضوء ناقابل یا استعمال شدہ ٹشو پیپرسمجھ کر مدر ہاؤس اور اولڈ ایج کیئر ٹیکینگ اداروں میں پہنچا دی جاتی ہے۔ جہاں اس کے بچے کبھی کبھار مل کر اپنا مہذب فرض پورا کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی عورت جوں جوں بوڑھی ہوتی ہے، وہ بیٹی سے ماں اور پھر ماں سے نانی اور دادی بن کر خاندان اور معاشرے میں معزز سے معزز تر ہوتی جاتی ہے۔

صد شکر کہ حوا کی بیٹی کیلئے ہمارا معیار احترام مغربی معاشرے کی طرح صرف جنسی حسن اور جنونِ ہوس نہیں بلکہ عورت سے رشتوں کی وہ تقدیس ہے جو اسلامی تعلیمات کا جزوء خاص ہے۔ آخر میں پھر کہوں گا کہ گورڈن براؤن پاکستانی معاشرت کے حساس معاملات میں دخل اندازی کی بجائے اپنے برطانوی معاشرے کے ان ناسوروں کا اپریشن کریں جن کی بدبودار رطوبت سے  پوری دنیا کا معاشرہ متعفن ہو رہا ہے۔ ان پر فرض ہے کہ پاکستان کو بچوں کی شادی سے پاک علاقہ یا زون بنانے کی کوششوں سے پہلے وہ برطانیہ کو “کم عمر لڑکیوں کیلئے محفوظ علاقہ” بنانے کیلئے پوری لگن سے کام کریں۔ گورڈن براؤن کو پاکستان یاترا کی دعوت دینے والے حکمرانوں  کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہی گورے ہیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر بن کر در آئے اور برصغیر پاک و ہند کو غلامی کی ایسی سدا بہار زنجیروں میں جکڑ گیے کہ ہم گذشتہ چھیاسٹھ برس سے آزاد ہو کر بھی غلام ابن غلام ہیں۔

والعصر سے والناس کی تفسیر لکھوں گا : آزادیء غلمان کو زنجیر لکھوں گا

( فاروق درویش)
0092322-4061000

اپنی رائے سے نوازیں

ہمارا مرکزی فیس بک پیج

Advertisement

%d bloggers like this: