حالات حاضرہ

کابل کے طوائف خانوں اور ائر پورٹ دھماکوں کا شور

کابل ائر پورٹ پر بم دھماکوں کے ذمہ دار بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپس ہیں۔ جبکہ ایسے حملوں کا مقصد طالبان کے مغربی دنیا کے ساتھ ریلیشن خراب کرنا یا عالمی رائے میں بدنام کرنا ہے


Share this

امریکی اور مغربی ایجنسیوں کے پاس یہ مصدقہ انفارمیشن تھیں کہ طالبان کی مخالف داعش جیسی تنظیم کابل ایئرپورٹ پر حملہ کر سکتی ہے۔ ائرپورٹ اور گرد و نواح میں موجود لوگ ان اطلاعات اور خدشات کے حوالے سے خوف زدہ تھے۔ لیکن حیرت ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک اپنے شہریوں اور فوجیوں انخلاء کے حساس وقت میں بھی کابل ائر پورٹ کو اس حملے سے محفوظ رکھنے کیلئے کوئی حفاظتی اقدامات کیوں نہ کر سکے؟

سوال یہ ہے کہ کیا داعش سے خفیہ تعلقات رکھنے والا بھارت بھی امریکہ سے ڈبل گیم کر رہا ہے یا امریکہ نے افغانستان میں اپنے اتحادی بھارت کے مفادات نظر انداز کر کے حسب معمول خود غرض حکمت عملی اختیار کی ہے؟

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں طالبان نے جیلیں توڑیں تو انٹی طالبان جنگجوؤں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی ۔ جس کے دوران طالبان کے مخالف ابو عمر خراسانی سمیت دو سو سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق دو ڈھائی ہزار جنگجو قیدی فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ قوی امکان ہے کہ جیلوں سے مفرور ہونے والے انٹی طالبان جنگجو بھارتی حمایت یافتہ گروپس کے ساتھ ملکر کر امن دشمن کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھی کابل ائر پورٹ پر بم دھماکوں کے ذمہ دار بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپس ہیں۔ جبکہ ایسے حملوں کا مقصد طالبان کے امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ ریلیشن خراب کرنا یا عالمی رائے میں بدنام کرنا ہے

طالبان کی حالیہ فتوحات کے بعد افغانستان کے مختلف حصوں سے شکست خوردہ افغان فوجی اور بھارتی حمایت یافتہ گروپس وادی پنج شیر میں اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ یہاں انٹی طالبان لیڈر احمد مسعود کی قیادت میں بھارت کی آشیر آباد میں منظم ہونے والے عسکری گروپس مستقبل میں طالبان حکومت کیلئے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن سکتے ہیں۔ یہ امن دشمن سرگرمیاں صرف طالبان کیلئے ہی نہیں بلکہ  خطے میں پائیدار امن کے قیام اور پاکستان کیلئے بھی خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

افغانستان سے فرار ہونے والے عناصر کون ہیں؟

کابل ائرپورٹ پر افغانستان سے فرار ہونے کیلئے امریکی ایجنٹوں، مخبروں اور شراب و شباب کی خدمات پیش کرنے والوں کی بیقراری ، خوف اور ہلاکتیں دنیا کیلئےعبرت ناک ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کیلئے مخبری اور بھارت کیلئے سہولت کاری فراہم کرنے والے شہری اور سرکاری اہلکار طالبان کے وجود کو اپنی موت سمجھ کر فرار ہونے کی سرتوڑ کوشش میں ہیں۔ البتہ ایسے ایجنٹس یا افغان اہلکار  جو ابھی مستقبل میں امریکہ کیلئے قابلِ استعمال ہو سکتے ہیں، انہیں براستہ پاکستان یا قطر افغانستان سے بحفاظت نکالا جا رہا ہے۔ جبکہ فرار کی کوششوں میں ناکام باقی ماندہ استعمال شدہ ٹشو پیپر برانڈ آلہ کار دنیا کیلئے عبرت انگیز بن جائیں گے۔ 

اس سے قبل طالبان کی طوفانی پیش قدمیوں کے دوران بھارت نے پاکستان کیخلاف دہشت گرد نیٹ ورک کیلئے سرگرم اپنے تمام کٹھ پتلی جنگجوؤں کو قندھار، لشکر گاہ، ہرات اور کابل سے بحفاظت نئی دہلی پہنچا دیا تھا۔

افغانستان سے فرار ہونے والوں میں دوسرا نمبر پاکستان کی ماروی سرمد جیسی ان جسم فروش اور مذہب فروش ماڈرن خواتین کا ہے ۔ جو امریکی اور مغربی آلہ کار بن کر مغربی تہذیب کی تشہیر اور اسلام مخالف نظریات کے فروغ کے مشن پر تھیں۔ کابل کے طوائف خانوں میں رقص و موسیقی اور شراب میں غرق امریکی تماش بینوں کی مستیوں کا شور بالآخر طالبان کی گولیوں کی آوازوں میں ڈوب گیا ہے ۔ طوائف خانوں کی رونقوں اور امریکہ یا یورپ جیسی نسوانی آزادی کی پروموٹر ماڈرن افغان خواتین کیلئے اب افغانستان میں فاقوں اور ہلاکت کے خوف کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ لہذا افغانستان سے نکلنے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف لوگوں میں یہ دو عناصر سب سے آگے ہیں۔

طالبان کے حالیہ غلبہ سے سب سے زیادہ نقصان بھارتی مفادات کو پہنچا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی بھارت کی 70 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے۔ افغان حکومت کی سہولت کاری سے چلنے والا بھارتی دہشت گردی کا نیٹ ورک بکھر چکا ہے۔ جس کے بعد زخم خوردہ بھارت نے اب انٹی طالبان دہشت گردوں کے ذریعے امن دشمنی کی ڈرٹی گیم کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا پر ہائے ہائے طالبان کے شور سے زخم چاٹتی ہوئی بھارتی سرکار اور پاکستان سے بغض میں ڈوبی مذہبی شدت پسند بی جے پی عوام کی تکلیف کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

طالبان کی حالیہ فتوحات پر امریکہ اور مغرب کی لاڈلی شخصیت ملالہ یوسف زئی کی طرف سے تازہ ترین انٹی طالبان بیانات سے مغرب زدہ طبقات اور ہندوتوا کے بغل بچہ گروہوں میں سوگ اور ماتم کی سدائیں سنی جا سکتی ہیں۔

آنے والا وقت پاکستان کے عسکری اداروں اور طالبان کی انٹیلی جنس کیلئے بھی کڑا امتحان ہو گا۔ افغانستان کے طول و عرض میں ابھی بھی بھارتی آلہ کار اور اسرائیلی ایجنٹ موجود گے۔ افغانستان میں امن دشمن عناصر کے نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کیلئے پاکستان اور طالبان کے درمیان سٹریٹجک ریلیشن شپ اہم ہے۔ اپنی دہشت گرد مہمات کی پراکسی وار اور مفادات کا جنازہ اٹھانے والا بھارت افغانستان میں امن دشمن سازشوں کیلئے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو گا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے امریکہ کو ہوائی اڈے دینے سے اصولی انکار کے بعد یو ٹرن لیتے ہوئے اسلام آباد اور کراچی کے فائیو سٹار ہوٹلوں کی عارضی قیام گاہیں دینے کے حق میں بیانات اور مخالفت میں تنقید جاری ہے۔ اس حوالے سے کچھ تلخ حقائق اور تحفظات کے بارے اپنا موقف اگلے کالم  میں پیش کروں گا ۔ اللہ کریم میرے پاک دیس کو تا بہ ابد سلامت و خوش آباد رکھے ۔ آمین ۔

تحریر : فاروق درویش واٹس ایپ 03324061000


پاکستانی ٹک ٹاک گورکھ دھندا کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

نور مقدم کا قتل اور ٹک ٹاک ماڈل کا مقدمہ

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button