Trending

کرونا کیخلاف جنگ یہ حکمران نہیں ہم سب لڑیں گے

اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچانا چاہتے ہیں تو اس زندگی کو گھر تک محدود کر دیجئے

Share this

پوری دنیا کرونا وائرس کے ہولناک وبائی عذاب کا شکار ہو رہی ہے مگر اس  وبائی  مرض سے پیدا بلائی صورت حال سے بے نیاز پاکستان میں رواں دواں زندگی، افرادی رحجانات اور من چلوں کے سارے ہلے گلے ابھی تک معمول  کے مطابق ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ چین اٹلی جرمنی اور دیگراجڑی  قوموں کے تباہ کن حالات سے  کچھ نہ سیکھنے والے لوگ اس ہولناک وبائی عذاب کی ہولناکی سے لاعلم اور اس کے تباہ کن نتائج کے بارے میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صرف ایک دو طبقوں نےہی اسے سنجیدگی سے لے کر  حفاظتی اقدامات اٹھائے تو یہ شاید اس وقت تک ناکافی اور بے سود ہو گا جب تک کہ شہرشہر اور گاؤں گاؤں میں ہر کوئی ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کر کے اس وبائی مرض نما خدائی عذاب کیخلاف اجتماعی جدوجہد  نہیں کی جاتی۔

جہاں عوام الناس کے لاپرواہ اور غیر سنجیدہ رویے افسوس ناک ہیں ، وہاں انتظامی امور اور ہنگامی حالات سے نپٹنے کی صلاحیت سے عاری نااہل  حکومت سے  عاقلانہ اقدامات کی توقعات وابستہ کرنا  بھی خود فریبی لگتا ہے۔رائے عامہ کے مطابق  امریکہ  اور مغربی ترقی یافتہ ممالک میں اس  خطرناک وبائی مرض  کی تباہ کاریاں دیکھنے کے بعد بھی ابھی تک لاک ڈاؤن کرنے سے گریزاں وزیراعظم مناسب ایکشن لینے میں مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ گو کہ صوبائی حکومتیں اپنے طور پر سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں لیکن ان کا مرکزی حکومت  کی مدد کے بنا اس صورت حال سے نپٹنا نا ممکن ہے۔

موجودہ صورت حال میں اب ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس جہد میں برابر کا شریک ہونے اور اپنے معاشرتی رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن تشویش ناک امر ہے کہ ناشتے، سموسوں پکوڑوں کی دکانیں تک بند کروانے کی کسی حکومتی اہلکار یا معاشرتی طبقات  کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔کرونا کی صورت میں بھیانک موت سر پرکھڑی ہے  لیکن اس وبا کی بے رحمی سے بے نیاز عوام کی اکثریت ہی نہیں اوبر جیسی بڑی کمپنیوں کے ڈرائیور بھی بغیر کسی ماسک اور ضروری  حفاظتی اقدامات کے نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی  خطرناک صورت حال  گراسری سٹورز  ،  شاپنگ مالز اور گلیوں بازاروں میں بھی عام دیکھی جا سکتی ہے۔

 اگر  کرونا وائرس کے حوالے سے بین الاقوامی منظر نامے پر ایک نظر ڈالی جائے تو عالمی دنیا بین الاقوامی پروازوں سے لے کر داخلی معاشرتی اور تجارتی مصروفیات تک زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کے انسان کے ساتھ ملنے جلنے کو  ہر ممکن حد تک محدود کرنے کیلئے ہر راستہ بند کر رہی  ہے۔جو ممالک اس وبا کی ہولناکی بھگت چکے ہیں  ان ممالک میں پریس اور میڈیا  کے شعور و آگہی پروگرامز ہی نہیں  اب عوامی حلقوں میں بھی ایک دوسرے کیلئے  امداد باہمی کی سرگرمیاں  نظر آتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں صورت حال بالکل یکساں مختلف ہے۔ لوگوں کی لاپرواہی اور غیر سنجدہ رویوں کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ    کچھ من چلے  لوگ  دفاتر سے چھٹیاں لیکر  مری اور سوات جانے کیلئے سفر کرتے ہوئے روکے گئے ہیں

چین کی جدوجہد اس حکمت عملی کی کامیابی کی گواہ ہے کہ معاشرتی دوری اور معاشرتی تنہائی ہی اس وبائی عذاب سے بچاؤ کا واحد اور بہترین حل ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق چین میں تازہ رپورٹ ہونے والے نئے کیسز تقریبا صفر ہو چکے ہیں۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ اس نے کرونا کیخلاف  ایک عظیم جنگ جیت لی ہے۔ تاہم ابھی اٹلی ، جرمنی ، ایران اور اسپین میں صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ صرف اس لئے بدتر ہوتی جارہی ہے کہ ان ممالک نے بھی ہماری طرح اس وبائی حملے کو شروعات میں سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ اور  ایک ہم کہ  ان کی تباہی اور بربادی دیکھنے کے بعد بھی خود کو  اور اپنے پیاروں کو اس آدم خور بلا سے  بچانے کیلئے سنجیدگی کی طرف مائل  ہی نہیں ہیں۔

آج پوری دنیا  کروناکے جان لیوا  عذاب کے تاریک سائے میں سہمی ہے۔ آج مضبوط معیشت رکھنے والی جدید  مغربی ریاستیں  بھی اس وبائی مرض سے نپٹنے کیلئےصحت کی سہولیات کے ناکافی ہونے کی وجہ سے لرزاں ہیں۔ وہ جدید مغربی دنیا بھی شاید نہیں جانتی تھی کہ اس  خطرناک آفت کا پھیلاؤ اس قدر تیزی سے ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم لوگ اس ترقی یافتہ دنیا میں اس کی لرزا دینے والی  تباہ کاریاں اور ان ترقی یافتہ گوروں کی بے بسی کی اموات در اموات دیکھ کر بھی سنجیدہ نہیں ہو رہے ہیں۔ ہمیں خیال رکھنا ہو گا کہ اگر ترقی یافتہ دنیا اس کی تباہ کاریوں کے آگے انتہائی بے بس  ہے تو خدا نخواستہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں منظر نامہ کس قدر تباہ کن ہوسکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اقدامات کا انتظار کرنے کی  بجائے ہر شخص کسی جنگ کی صورت حال کی طرح   ابھی نہیں تو کبھی نہیں جیسی اس صورت حال کی ہولناکی  کا ادراک کر کے اپنے طور پر  اپنی دسترس والے حلقوں میں آگہی اور بیداری مہم پر زور دے ۔اب  صرف حکومتی اقدامات کا انتظار کرنا ایک لائف ٹائم حماقت  اور اپنے پیاروں  کے جنازوں کا انتظار کرنےجیسی بات ہو گی ۔اب  حکومت اقدامات کرے یا نہ کرے ہم سب کو اپنے طور پر اس وبائی مرض سے بچاؤ اور مقابلے کیلئے مفید معلومات  کی تشہیر سے لیکر ہوٹلوں اور ریستورانوں  کی بندش تک اپنا ہر فرض  ایک جنگی فریضہ سمجھ کر ادا کرنا ہو گا۔

دنیا چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ  صرف بڑے شہر ہی نہیں بلکہ دور دراز ریموٹ ایریاز کی دیکھ بھال کے ساتھ ایک سخت معاشرتی تالہ بندی وقت کی ضرورت اور حکومتی ذمہ داری ہے۔ ہمارے وزیر اعظم اگر ڈیلی اجرت والے مزدوروں کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنے سے گریزاں ہیں تو اس جیسی قدرتی آفت اور ہنگامی صورت حال میں عوام میں مفلس طبقے کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی حکومتی ذمہ داری ہی ہے۔ وگرنہ یہ عوام  بے روزگاری  یابھوک سے نہیں بلکہ اس ہولناک بیماری میں مبتلا  ہو تڑپ تڑپ کر جب موت کے مونہ میں چلے جائیں گے تو وہ کئی اور لوگوں تک بھی یہ بیماری پہنچا چکے ہوں گے۔

چونکہ مکمل لاک ڈاؤن پر بھی بہت لوگوں کو تشویش لاحق ہے۔ لیکن بحرحال حکومت پچاس فیصد سے زائد  ان سرکاری ملازمین کو کم از کم دو ہفتہ کی بمعہ تنخواہ چھٹی تو دے سکتی ہے جن کے بغیر سسٹم چل سکتا ہے۔ بلا شبہ سب کمانے والوں کی زندگیاں  ان کے کنبوں کی سلامتی سے بھی منسلک ہیں اور اگر ان ملازمین پر دوران ملازمت  وبائی حملہ ہو گا  تو پھر  ان کے  خاندانوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔کیونکہ  ایسے انفیکٹڈ ملازمین اپنے خاندانوں تک بھی وائرس پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک ہماری پڑھی لکھی عقلمند حکومت پاکستان کے علاوہ  باقی ساری  دنیا کو یہ اعتراف حقیقت ہے کہ اس وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کا واحد فوری حل  صرف اور صرف معاشرتی دوری اور خود کو الگ تھلگ کرنا ہی ہے۔

تمام شعبہ ہائے زندگی کو سخت ہدایت کی جانی چاہئے کہ وہ ایک مقررہ مدت کے لئے گھر پر ہی رہیں ۔ اگر اہم ملازمین کو کچھ اہم قومی کاموں کے لئے چھٹی دینا ممکن نہیں ہے تو کم از کم ان افراد کے لئے کڑے حفاظتی اقدامات  یقینی بنائے جانے ہوں گے ۔ آج عوام موجودہ عوامی حکومت سے زیادہ افواج پاکستان کی طرف سے کڑے اقدامات اور روائتی  مدد کے منتظر ہیں۔ کیونکہ سیاست دانوں سے نالاں اور مایوس لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہمارےسیاست دان دراصل سیلابوں اور زلزلوں کے وقت ملنے والی  بیرونی امداد تک ہڑپ کر جانے والے  بے رحم ظالمین ہیں  اور بدقسمتی سے ایسے  پیشہ ور کرپشن کنگ موجودہ حکومت میں بھی شامل ہیں۔ اب  ان حکمرانوں  کی طرف سے راست اقدامات کی امیدیں اورمذید  انتظار  نہیں،اب      کرونا وائرس کیخلاف جنگ  ہم سب کو خود لڑنا ہو گی۔

کرونا کی بے رحمی سے غافل    پاکستانیوں کیلئے افلاک سے شعور   و آگہی  اور  سہمی ہوئی  انسانیت  کیلئے صحت و سلامتی کی دلی دعائیں ۔

فاروق درویش

میرے اس اردو آرٹیکل کا انگریزی ورژن اس ویب لنک پر پڑھا جا سکتا ہے

اپنی رائے سے نوازیں

صحت اور فٹنس کیلئے معیاری پراڈکٹس ایمازون سے آن لائن خریدیں

admin

عالمی امن اور اتحاد عالم اسلام کا پیامبر دیش بھگت ہوں ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر، بلاگر، کالم نویس، تجزیہ نگار، شاعر، ادیب، ویب اینڈ گرافکس ڈیزائینر اور ورڈپریس ایکسپرٹ ہوں ۔ اور آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔ سکھایا کس نے یہ شعلوں سے کھیلنا مجھ کو ۔۔۔۔۔۔ مرے خدا مرے اندر یہ کون بولتا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker