امریکہ کی عالمی بالادستی کا زوال اور مشرقی طاقتوں کا عروج

جو امریکہ اپنے ریاستی فرائض اور عوام کے بنیادی حقوق کے ضامن ہونے کا اہل نہیں رہا وہ عالمی قیادت کا اہل کیونکر ہو سکتا ہے

Share this

امریکی حکمران اورعوام انتہائی بوکھلاہٹ اور خوف و ہراس کے عالم میں ہیں ۔ کرونا وائرس کا حملہ امریکہ کو تیزی سے اپنی ہولناک لپیٹ میں لے   چکاہے۔ روزانہ نیے  کیسوں کی تعداد ابھی بھی چالیس سے پچاس ہزار  ہے۔متعدد ذرائع کے مطابق یہاں متاثرہ افراد کی تعداد ساٹھ لاکھ اور اموات  دو لاکھ کے قریب   پہنچ چکی ہیں۔ کوویڈ 19 وائرس کیا ہے اور کہاں سے آیا اس بارے مختلف قیاس آرائیاں ہیں۔ امریکہ اسے چین کا تیار کردہ اور امریکہ کی مخالف لابیاں اسے خود امریکہ  کا ڈیزائن کردہ ایک مہلک جراثومی ہتھیار قرار دے رہی ہیں۔

دنیا کے کچھ بائیالوجیکل ماہرین کے مطابق یہ ایسا جراثومی ہتھیار ہے جس کے کئی ماڈلز کو مخصوص ٹارگٹ شدہ  علاقوں  میں زیادہ خطرناک  حد تک اثر انداز ہونے کیلئے مختلف جینیاتی فارمولوں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ وبائی عذاب ایشیا میں ایران بھارت پاکستان اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک برطانیہ، اٹلی اوراسپین میں تباہی پھیلا رہا ہے۔  البتہ امریکہ اور مغربی ممالک میں متاثرہ افراد کی اموات کا تناسب تشویشناک ہے۔ جدید ترین طبعی سہولتوں والے ان مغربی ممالک میں اموات کی شرح میں جو ہولناک اضافہ ہورہا ہے اس نے اس تباہ کن وبائی آفت کی دہشت و ہیبت پوری دنیا میں پھیلا دی ہے۔

کورونا کے اس آدم خور حملے نے امریکہ کی سپر پاور اور جدیدیت کو بھی بینقاب کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ گویا عالمی منظرنامے پر عالمی قیادت اوردنیا کے گلوب پر عالمی تسلط کے حوالے سے بہت کچھ بدلنے کا آغاز ہو چکا  ہے۔ یہ واضع نظر آتا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ حالات سدھارنے کیلئے سرتوڑ کوششوں کے باوجود غیر یقینی صورتحال کا شکارہے۔ امریکی حکومت کو اس وبا کیلئے  ٹیسٹوں اور طبعی سامان  کیلئے فنڈز کی شدید قلت کا سامنا رہاہے۔ پچھلی چند دہائیوں سے امریکہ عالمی برادری میں چوہدراہٹ کی جس بالائی کرسی پر بیٹھا تھا  وہ  کرسی اس سے چھنتی دکھائی دیتی ہے۔

اس بحران پر قابو پانے کیلئے جو فوری ردعمل درکار ہیں ان کیلئے امریکہ کی کھوکھلی معیشت ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔ مغربی اتحادیوں کے ساتھ معاشی ہم آہنگی کی بدولت ہی امریکہ عالمی سرداری کے تخت پر براجمان رہا ہے۔ لیکن ابھی وہ سب اتحادی خود بھی اس وبا کا بری طرح شکار ہونے کی وجہ سے امریکہ کی مدد کرنے سے قاصر ہیں ۔ اس صورت حال اوراس وبائی قیامت کے آزمائشی حالات نے امریکہ کے عالمی لیڈر ہونے کے جواز کو کڑے انداز میں پرکھا ہے اور عالمی برادری سمجھتی ہے کہ امریکہ دنیا کا چوہدری اور پردھان بننے کی اہلیت کے امتحان میں ناکام رہا ہے۔

گذشتہ دو دہائیوں سے اپنی کارکردگی اور مظبوط ترین معیشت کی بدولت چین عالمی قیادت کے اس خلا کو پر کرنے کیلئے مظبوط عالمی طاقت بن کر کھڑا ہو رہا ہے۔ چین نے نہ صرف کرونا کے خطرناک پھیلاؤ سے کامیابی سے نپٹا ہے بلکہ اس نے ووہان میں ہاتھ سے نکلتی ہوئی نازک صورت حال میں انتہائی اعلی حکمت عملی سے پوری طرح قابو پا لیا ہے۔ چین نے اپنی اس مثالی جدوجہد سے صرف بین الاقوامی میڈیا ہی نہیں ہر بلکہ دنیا بھر میں  ہر خاص و عام کی توجہ بھی حاصل کرلی ہے۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ کی کرونا کیخلاف جدوجہد کے پروگرام  میں غیر سنجیدہ رویے، نا اہلی اور معاشی کمزوریوں نے اسے عالمی برادری کے سامنے بری طرح رسوا کر دیا ہے۔

چین  کی بالادستی اس حقیقت سے جڑی ہے کہ کوویڈ 19   کیخلاف طبعی جنگ کیلئے درکار نوے فیصد طبی سامان اسی چین میں بنایا جارہا ہے۔  جسمانی مدافعت بڑھانے یا زندگی بچانے والی ادویات سے لیکر میڈیکل سٹاف کے استعمال کیلئے طبعی سامان  کی پیداوار تک ہر شعبے میں چین  پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

ایک صدی تک اپنی طاقت اور مغربی ممالک سے فوجی اتحادوں کے بل بوتے دنیا کی قیادت کرنے اور ہلاکت خیز ہتھیاروں پر کھربوں ڈالرز خرچ کرنے والا امریکہ اب اس قابل بھی نہیں کہ وہ   کسی بڑے کرائسس یا ناگہانی آفات کیلئے اپنے اندرون ملک ضروریات ہی کے اخراجات پورا کرسکے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اب امریکہ پر میڈیکل پراڈکٹس کی پیداواری صلاحیت بڑھانا یا بصورت دیگر چین سے درآمد کرنا لازم ٹھہرا ہے۔ چین  گذشتہ کئی برسوں سے امریکی منڈی سمیت اینٹی بائیوٹکس کے خام مال کی برآمد میں  دنیا میں سب سے آگے ہے۔

 چین نالج شیئرنگ ، طبعی سامان ، عملے اور مالی اشتراک سے پوری دنیا کو اپنی کثیرالجہتی سفارتی امداد میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کے پاس ٹیکنالوجی اور صلاحتیں ہیں اور وہ ابھی بھی کرونا کیلئے ویکسین بنا کر پانسہ پلٹ سکتا ہے لیکن اس کیلئے محققین اور جو بڑی سرمایہ کاری درکار ہے وہ مستقبل قریب میں انتہائی مشکل نظر آتی ہے۔ دو لاکھ  سے زیادہ کرونا کیسز کیلئے کسی نو دریافتہ بڑی معجزاتی ویکسین کی شدید ضرورت ہے۔  دنیا کی خواہش ہے کہ چین اورامریکہ دنیا کیلئے اس مشکل گھڑی میں تعاون کریں۔ بحرحال معیشت پر انحصار کرنے والی عالمی منڈی میں جو بھی یہ ویکسین دریافت کرے گا وہ عالمی معیشت اور انحصار کا بہت بڑا حصہ حاصل کرے گا۔

حوالہ اور ماخذ کیلئے  یہ لنک  کلک کر کے مضمون  پڑھیں

کورونا وائرس عالمی آرڈر کو نئی شکل دے سکتا ہے ۔ چین بین الاقوامی قیادت  کیلئے بطور ریاست ہائے متحدہ امریکہ فالٹرس کی تدبیر کر رہا ہے۔کرٹ ایم کیمبل اور رش دوشی 18 مارچ 2020

مستقبل میں کرونا جیسی کوئی نئی آفت کب اور کہاں سر اٹھائے، وہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن موجودہ صورت حال میں امریکی مظالم کا مسلسل نشانہ بنتی رہنے والی دکھی انسانیت ضرور میری ہمنوا ہو گی ۔ جنگ عظیم اول و دوئم سے لیکر کوریا کی جنگ اور ویت نام پر قبضے تک اپنے ہی کروڑوں ہم مذہب عیسائیوں اور پھر فلسطین، عراق ، شام اور افغانستان میں کروڑوں مسلمانوں کا سفاکانہ قتل عام کرنے والا امریکہ آج کورونا کے اس خدائی عذاب کے سامنے مکمل بے بس دکھائی دیتا ہے۔

 نائن الیون کے بعد دنیا کو زچ کرنے کیلئے ہزاروں کھرب ڈالرز سے مہلک ہتھیار بنانے والا امریکہ آج زوال پذیر معیشت کی وجہ سے کورونا کی ویکسین بنانے کیلئے  درکار فنڈز کی  قلت کا شکارہے۔ یہ قدرت کا غیص و غضب نہیں تو اور کیا ہے کہ امریکہ جیسی ڈیڑھ کھرب ڈالرز کا سالانہ دفاعی بجٹ رکھنے والی سپر پاور کے پاس کورونا سے متاثرہ عوام کو فوری طور پر درکار علاج کی اشد ضروری سہولتیں دینے کیلئے فنڈز کی بھی شدید کمی واقع ہو رہی ہے۔

 انگلستان و امریکہ یعنی الف سے شروع ہونے والے دو ممالک  کے حوالے سے ایک مشہور روحانی بزرگ نعمت شاہ ولی کی پیشین گوئیاں کچھ یوں ہیں کہ۔۔ آں دو الف کہ گُفتم الفے تباہ گردد ۔۔ را حملہ ساز باید بر الف مغربانہ ۔۔ ترجمہ۔ دو الف یعنی انگلستان اور امریکہ میں سے ایک الف تباہ ہو جائے گا۔۔ پھر اسی کے تسلسل میں فرماتے ہین ۔۔ کاہد الف جہاں کہ یک نقطہ رونماند ۔ الا کہ اسم و یادش باشد مؤرخانہ ۔۔ ترجمہ: انگلستان اتنا تباہ ہو گا کہ اس کا ایک نقطہ بھی باقی نہ رہے گا سوائے یہ کہ صرف اس کا نام اور تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں باقی رہ جائے گا

اس حوالے سے سترویں صدی کے تورات اور بائبل کے ایک روحانی عالم نوسٹرا ڈیمس کی پیشگوئیاں بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں۔ ان کی سینکڑوں پیشین گوئیاں مثلاً روس اور فرانس کا انقلاب، شاہ چارلس اول کی موت، نپولین کی کسمپرسی کی موت، پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے احوال، ہٹلر کی زندگی اورانجام ، ستر کی دہائی میں عرب پاورز کے ابھرنے جیسی پیشین گوئیاں سو فیصد سچی ہوئیں ۔ لہذا مستقبل کے بارے میں اس کی پروفیسیز کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان میں واضع نشانیاں رکھنی والی پیشین گوئی امریکہ اور برطانیہ میں کمزور کرنے والے اخلاقی انحطاط کی تباہ کن شدت ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ممالک کمزور ہو کر روسی حملے کا مقابہ نہ کر سکیں گے۔ کوئی سمندری تنازعہ بگڑ کر اس تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کرے گا جس میں ایٹمی میزائلوں کے بے تحاشا استعمال اور زلزلوں کے ساتھ ہی دنیا کی مکمل تباہی ایسی پیشگوئیاں ہیں جو ابھی پوری ہونا باقی ہیں۔ اس حوالے سے میرا تفصیلی مضمون ذیل میں دیے گیے لنک یا آخر میں پڑھا جا سکتا ہے

نعمت شاہ ولی اور نوسٹرا ڈیمس کی پیشین گوئیاں ۔ تیسری عالمی جنگ

احباب ہمیشہ طاقتور کو سلام کرنے والی دنیا کا پہلا اصول یہی ہے کہ چوہدراہٹ کا حق صرف سب سے تگڑے کو ہے۔ حالات و واقعات اشارہ دے رہے ہیں کہ امریکہ کی کئی دہائیوں سے مسلسل قائم  طاقت اور ہیبت کا غبارہ پھٹ کر اب اپنی چوہدراہٹ کھونے کے قریب ہے۔ تیزی سے رنگ بدلتی ہوئی  دنیا کے حالات کس طرف جا نکلیں یہ کوئی نہیں جانتا لیکن امریکی معیشت کا مسلسل زوال اور کورونا وائرس سے امریکہ کے شدید مجروح  اتحادی مغربی استعمار کا دیوالیہ پن کے قریب تر ہونا بتا رہا ہے کہ عالمی برادری کی چوہدراہٹ اور بین البراعظمی وسائل پر کنٹرول اب امریکہ اور اس کے اتحادی یورپ کے ہاتھوں سے نکل کر مشرقی دنیا کی طرف چل نکلے گا۔

روسی اشتراک سے چین عالمی برادری میں ایک مظبوط فوجی اورمعاشی طاقت بن کرابھررہا ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے عالمی استعمار سے ہراساں اور معاشی جبر کا شکار رہنے والی مشرقی دنیا میں چین اور روس کے ساتھ ایٹمی طاقت پاکستان، ترکی، ملائشیا ، انڈونیشیا، روسی ریاستیں، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے مضبوط ترین عالمی بلاک بنانے کی امیدیں کی جا  رہی ہیں۔

یہ سارے تلخ و سنگین حالات و واقعات اور  نشانیاں میرے  وطن  پاکستان کے کس کے ساتھ آخری فیصلہ کن معرکہ کی طرف اشارات دے رہی ہیں اس کا احوال  کسی اگلے کالم میں بیان کروں گا

فاروق درویش

نعمت شاہ ولی اور نوسٹرا ڈیمس کی پیشین گوئیاں ۔ تیسری عالمی جنگ

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker