اندرون سندھ کرونا اور صحت کے مسائل ۔ تحریر ڈاکٹر ڈورین برام ۔ اردو ترجمہ فاروق درویش

اندرون سندھ کے دیہات میں بارشوں سے تباہ حال بے گھر مفلسوں میں کورونا اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں

Share this
سندھ کے بے گھر ابوبکر کے خاندان نے اکتوبر تک وسطی سندھ میں اپنے خیمے تیار کر لئے تھے۔ کیونکہ اس جولائی سے ستمبر تک موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے ان کے گھر اور کھیت کھیلان تباہ ہو چکے تھے۔ اب وہ اپنے مکانات کی تعمیر نو کیلئے میرپور سکرو کی بستی کے قریب اپنے گاؤں واپس جارہے تھے۔ اس امید کے ساتھ کہ ان کا خاندان پھر سے معمول کے مطابق زندگی گزار سکے گا
 
ابوبکر کے گھر والے اشیائے ضرورت یا علاج معالجہ کہ خاطر نقد رقم کیلئے کبھی اضافی پیداوار اور کبھی اپنے مویشی تک فروخت کر دیتے ہیں۔ اور اب تو کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ سے سندھ کی بہت سی مارکیٹیں بھی بند ہیں۔
 
جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں، بے گھر ہونے والی آبادی کی تکالیف اور دیگر خطرات کے بارے میں اپنی مسلسل تحقیق کے دوران میں نے ابوبکر سے ملاقات کی۔ پاکستان میں ابوبکر کے خاندان جیسے بے گھر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اکثر مون سون کی بارشوں کے بعد تباہ حال ہو کر پناہ کی تلاش میں اندرون سندھ کے میدانوں کی طرف نقل مکانی کرتی ہے۔
 
جب وہ اپنے مویشیوں کے ساتھ رہائش ، کھانا پکانے اور نہانے دھونے کی جگہیں بناتے ہیں یہ سب کام ایک حقیقی تشویش ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کورونا جیسی بیماریوں میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام بات ہے۔ جبکہ  ایسےبے گھر افراد میں مقامی اور دیگر متعدی امراض عام ہیں۔ اگر لوگ گھروں سے بے گھر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے بدلتے ماحول ، ہسپتال اور ادویات کی محدود فراہمی ، اور خوراک کی کمی یا اس کی ناقص تیاری کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور کئی لوگوں کی موت تک واقع ہو جاتی ہے
Homeless Sindhi people of Pakistan
اندرون سندھ میں بارشوں سے تباہ حال بے گھر عوام میں کورونا اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں
بے گھر افراد کو کورونا جیسی امراض کا خطرہ بھی زیادہ رہتا ہے، کیوں کہ امدادی کیمپوں میں ہجوم رہتا ہے۔ بڑے خاندان لے کافی لوگ چھوٹی سے پناہ گاہوں میں رہتے ہیں اور ان لوگوں کیلئے صاف پانی کی دستیابی مشکل ہے، لہذا ہاتھ وغیرہ دھونے کی باتیں اکثر ناممکن ہیں۔
.
لاک ڈاؤن کے سبب دیگر مقامات پر بھی دنیا کی ناقص اور بے گھر آبادی شدید متاثر ہورہی ہے۔ کراچی میں کرفیو کی وجہ سے افغان مہاجرین مزدوری تک رسائی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ ان کی روزی روٹی کمانے کے مواقع میں کمی ان کی صحت کیلئے تیزی سے خطرہ بن رہے ہیں۔
 
اس حوالے سے پوری دنیا میں مہاجرین کو بڑے پچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ مثلاً اردن کہ جہاں  دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادی ( فلسطینی شہری) رہتی ہے۔ وہاں کی حکومت نے کورونا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اپنی سرحدیں بند کردیں۔ اس نے باہر سے مدد پہنچانے والوں کے پناہ گزین کیمپوں تک رسائی پر پابندی لگاتے ہوئے سخت کرفیو نافذ کردیا ، جس سے متاثرہ مہاج کیمپوں کو بیرونی امداد کا سلسلہ رک گیا۔
 
کچھ انسان دوست ایجنسیوں نے وبائی امراض کے نتیجے میں غیر ضروری پروگرام بند کردیئے ہیں۔ مثال کے طور پر مہاجرین اور بے گھر افراد کو پکچرائز کرنے والے غذائیت بخش پروگرام ، یہ لوگوں کی امیونیٹی بڑھانے کیلئے ضروری تھے۔
 
اردن میں زاتاری پناہ گزین کیمپ میں موجود شامی مہاجرین زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ کیمپ کو کام کرنے کیلئے نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کی ناقص غذائیت نادانستہ طور پر بیماری کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔ یہ نقصان دہ ہے کہ مویشیوں کو ریلیف کیمپوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، کیونکہ  مویشی لوگوں کی روزی روٹی اور کھانے میں بہتر صحت کے ضامن ہوتے ہیں
 
مارچ 2019 میں اقوام متحدہ نے 2 ارب امریکی ڈالرز سے انسانی ہمدردی کا منصوبہ شروع کیا ۔ مخیر حضرات کو پناہ گزینوں اور نقل مکانی کے بحرانوں سمیت جاری ہنگامی صورتحال میں مالی اعانت کی تلقین کی گئی ۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ بیماری کی شدت کم کرنے کیلئے بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور گرتی ہوئی صحت کے مسائل کا علاج ضروری ہے۔
 
لیکن صحت کے پروگرام کورونا بحران سے متاثر ہورہے ہیں۔ اپریل میں ، ڈبلیو ایچ او کے ٹیکنیکل ماہرین کے اسٹریٹجک ایڈوائزری گروپ نے چھوٹے ممالک کو بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم روکنے کا مشورہ دیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سندھ میں پولیو کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ  ہے۔ اس سے اس علاقے میں طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
 
بیماریوں پر قابو پانے کی دیگر کوششیں بھی کورونا بحران سے متاثر ہوں گی ، کیونکہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کمزور ہوجاتے ہیں ، جس سے کلینک تک رسائی اور دوائیوں کی فراہمی محدود ہوجاتی ہے۔ اردن میں بھی مہاجرین کو شہری کلینک کے ذریعہ مہیا کی جانے والی ادویات کی امداد کے پروگرام معطل کردیئے گئے ہیں۔
 
ادھر سندھ میں ابوبکر کے اہل خانہ کو موسمی ملیریا کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس وقت اہم ہے جب کسی کو یہ یاد آجائے کہ ایبولا کی وباء کے دوران مغربی افریقہ میں ملیریا سے بچاؤ والی ادویات اور مچھروں کے جالوں تک رسائی بہت کم ہوگئی ہے۔
 
محدود وسائل ، پیچیدہ ہنگامی صورتحال یا اعلی سطحی نقل مکانی والے ممالک میں کورونا یا دیگر زونوٹک بیماری کے خلاف بلا امتیاز روک تھام کے اقدامات کو خطرات درپیش ہیں۔ غریب عوام کیلئے کو صحت کی فوری ضروریات کے ساتھ ساتھ طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی اور خوراک کی فراہمی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
 
انسانیت پسند اور ترقیاتی ایجنسیوں کا یہ طویل عرصہ سے خواہش ہے کہ وہ تارکین وطن ، مہاجرین اور بے گھر افراد کو امدادی کاموں کی فراہمی کو پروگرام میں شامل کرے۔ بین الاقوامی اور مقامی نقل و حرکت پر آج کی پابندیوں سے مقامی گروہوں پر انسانی ردعمل کی ذمہ داری کو تبدیل کرنے کی اہمیت کا اعادہ ہوتا ہے۔ سندھ میں مقامی رہنما پہلے ہی متحرک کمیونٹیز میں کورونا کے بارے آگاہی بڑھا رہے ہیں۔
 
اندرون سندھ کے غریب ابوبکر جیسے لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے خاندانوں کو اب مویشیوں کو بارشی سیلاب سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ  کورونا جیسی وباؤں سے کیسے محفوظ رہنا ہے۔ یہاں حکومتوں کیلئے بہتر حکمت عملی ہو گی کہ غربت کی سطح اور افلاس سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق اعداد و شمار کو بہتر انداز سے استعمال کیا جائے۔ مقامی حکومتیں بیماریوں کے پھیلاؤ کی وجوہات جاننے اور ان کی روک تھام کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔
 
جہاں بھی ممکن ہو ریسرچ کیلئے نئے پروگراموں کے جدید ماڈل تیار کرنے اور زونوٹک بیماریوں سے متعلق بے گھر آبادیوں کی زندگیوں پر ریسرچ کرنے کیلئے لوگوں کو اس شعبہ پر توجہ دینے کیلئے مائل کرنا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ ہم سب کو عالمی صحت بچانے کیلئے سب سے پہلے  بھوکے اور مفلس لوگوں کی آبادیوں کی امداد کرنے کی ضرورت ہے۔
 
Dr Dorien Braam Ph.D
ڈورین برام صاحبہ کیمرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی سکالر ہیں ۔ آج کل افریقہ، مشرق وسطٰی اور جنوب مشرقی ایشیا میں غریب  لوگوں کی آبادیوں میں جانوروں سے انسانوں میں پھیلنے والے زونوٹک امراض اور صحت عامہ کے مسائل کیلئے کام کر رہی ہیں
 
اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker