Trending

عالمی مافیہ کی کورونا سازش بے نقاب ہے

اور پھر اس وبائی آفت کے بارے اس ڈرامائی شو کے اگلے ماہ نومبر 2019 تک اس کی تباہ کاریوں کی ہولناک شروعات ہو چکی تھیں۔

Share this

انسان نومولود بچہ بن کردنیا میں آتا ہے تو کہتے ہیں کہ اللہ نے دیا ہے۔ لیکن جب مرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بیماری یا فلاں وجہ سے مر گیا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ اسے زندگی اور موت دینے والے خدائے وحدہ لاشریک نے موت دی۔ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا دراصل گمراہوں کیلئے ایک ایسا خدائی عذاب ہے جو نوعِ انسانی پر انسانوں ہی کے ہاتھوں برپا ہو رہا ہے۔ اس وبائی عذاب کا سب سے زیادہ شکار، ہم جنس پرست قوانین کی فتح کا جشن منانے والے مغربی ہیں۔ مگر مقدس بائبل کے پیروکار مغربی دانشور کبھی نہیں مانیں گے کہ بائبل کے مطابق ہم جنس پرستی دراصل حضرت مسیح سے کھلی دشمنی اور خدائی احکامات سے ایسی بغاوت ہے، جس کی سزا خداوند کا قہر اور آسمانوں کا عذاب ہے۔

آجکل اس وبائی آفت کے بارے بیسیوں مفروضے اور کئی ناقابل فہم موقف سامنے آ رہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ عالمی چوہدری دنیا کی بڑھتی ہویئ آبادی اور وسائل کا توازن برقرار رکھنے کیلئے نسل انسانی کا قتل عام کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ میں اس وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 8 لاکھ کی ہولناک گنتی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ چین پر کے گئے بائیالوجیکل اٹیک کے بعد جوابی حملہ ہو۔ لیکن میرے مطابق آج دنیا میں کچھ لوگ ایسے ناقابل تردید حقائق بھی لکھ رہے ہیں جو آفت در آفت کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مذید کیا ثبوت درکار ہیں کہ بی بی سی اور ٹائم میگزین کے سینئر رائٹر برائن والش نے 8 اپریل کو بی بی سی میں اپنے چشم کشا مضمون میں گواہی دیکرعالمی درندوں کی اس ہولناک کورونا سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں،

پچھلے پندرہ برس میں ایک ایسی عالمی وبا کے بارے میں بہت سے مضامین اور قرطاسِ ابیض شائع ہوئے ہیں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ہمارے نظام تنفس کو متاثر کرنے والا ایک نیا مرض پھیلنے والا ہے۔ بس یہ معلوم نہیں تھا کہ کب؟

مسٹر برین والش کا بی بی سی میں شائع ہونے والا مضمون ذیل میں دئے گئے لنک پر پڑھا جا سکتا ہے

کورونا وائرس: برسوں سے لوگ کیسے جانتے تھے کہ کووڈ 19 جیسی وبا آئے گی؟

https://www.bbc.com/urdu/vert-fut-52194059

گویا اس سازش پر پچھلی دو دہائیوں سے کام جاری تھا۔ کچھ اہل بصیرت مسلسل اشارات بھی دیتے رہے۔ لیکن جدید تہذیب کی رنگینیوں میں غرق مغربی دنیا اپنے دھندوں میں اس وقت تک مست رہی، جب تک کہ اس وبائی بلا نے انہیں دبوچ نہیں لیا۔

 برین والش لکھتے ہیں،“اکتوبر 2019 کو، میں نے کورونا وائرس کی ایک فرضی عالمی وبا کے بارے میں ایک سِمیولیشن ( تخیلاتی ڈرامہ) یا تمثیل کا مشاہدہ کیا تھا۔ اسی طرح میں نے سنہ 2017 کے موسم بہار میں، اسی موضوع پر ٹائم میگزین کیلیے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میگزین رسالے کے سرِ ورق پر تحریر تھا، ”خبردار! دنیا ایک اور عالمی وبا کیلیے تیار نہیں ہے”۔

ان حقائق سے سمجھا جا سکتا ہے کہ صرف اک ماہ پہلے اس وبائی آفت کو فرضی اور ڈرامائی اشکال میں پیش کر کے اس سازش سے بے خبر لوگوں کے ادراک یا ممکنہ ری ایکشن کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ لیکن افسوس کہ لوگ اس پراسرار پروگرام کو محض ایک افسانہ اور ڈرامہ ہی سمجھتے رہے۔ اور  جب کورونا گیمرز کو اس امر کا یقین ہو گیا کہ دنیا ان کے عزائم سے بے خبری کےعالم میں ہے۔ تو انہوں نے عمل درامد سے پہلے  سازش بینقاب ہونے کے ڈر سے فوری عملی جامہ پہنانے میں دیر نہیں کی۔ اور پھر اس وبائی آفت کے بارے اس ڈرامائی شو کے اگلے ماہ نومبر 2019 تک اس کی تباہ کاریوں کی ہولناک شروعات ہو چکی تھیں۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ، ” سنہ 2018 میں بی بی سی فیوچر میں ہم نے لکھا تھا کہ فلو جیسی ایک عالمی وبا بس وقت کی بات ہے، اور یہ کہ دنیا میں لاکھوں غیردریافت وائرس موجود ہو سکتے ہیں۔ ایک ماہر نے ہمیں بتایا تھا ’میرے خیال میں اگلی عالمی وبا کے ایک نئے وائرس سے پھیلنے کا خدشہ بہت زیادہ ہے”۔‘

برین والش کے مطابق وہ 2018ء میں بھی اس ممکنہ وائرس حملے کے بارے متنبہ کر چکے تھے۔ دنیا کو اس بارے توجہ دلانے والے صرف ایک برین والش ہی نہیں اور بھی بیسیوں رائٹز اس خطرے کے بارے حقائق سے آگاہ کرتے رہے ۔ لیکن نہ جانے وہ کیا پراسرار وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ہر بات سے آگاہ ہونے کا دعوی کرنے والے امریکہ اور مغربی قیادتوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان حکومتوں کی قیادتیں مجرمانہ غفلت کرتی رہیں یا پھر وہ خود بھی اس کے سازشی عناصر کا حصہ رہیں؟

اور پھر برائن والش اور ان جیسے کئی اور صحافیوں کے اس انکشاف کے بعد مذید دلیل و حجت کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ، ” سنہ 2019 ہی میں امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز نے عالمی وبا کے بارے میں ایک مشق کی تھی جس کا نام ’کرِمسن کنٹیجیئن‘ تھا، اس میں فلو کی ایک ایسی عالمی وبا کا تصور پیش کیا گیا تھا جو چین سے شروع ہو کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس تمثیل میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ اس مرض سے صرف امریکا میں پانچ لاکھ چھیاسی ہزار ہلاکتیں ہوں گی”۔

معزز قارئین کورونا کی وبائی آفت کے چین سے شروع ہونے سے امریکہ کے بری طرح متاثر ہونے تک کے ناقابل یقین حد تک  ہوبہو ڈرامائی پروگراموں کے یہ تازہ ترین انکشافات اس بین الاقوامی سازش کی اس عیارانہ پلاننگ کا سر راہ بھانڈہ پھوڑ رہے ہیں۔ اس سازش کے پلانرز آخر وقت تک یہی منصوبہ بندی کرتے رہے کہ دنیا انسانیت کے ظالمانہ قتل عام کی اس ہولناک سازش پر عمل درامد ہونے تک اسے صرف ایک ڈرامائی سوچ، ایک افسانوی تنبیہ اور ایک تخیلاتی مفروضہ ہی سمجھتی رہے۔ اور پھر سب کچھ ان کی عیارانہ حکمت عملی کے عین مطابق ہی ہوا۔

ابھی اس عالمی سازش کا بقیہ لیکن سب سے بھیانک پارٹ ابھی باقی ہے۔ اور وہ کھیل عالمی ڈانز کو ماہانہ کھربوں ڈالرز فائدہ دینے والا پراسرار انٹی کوووڈ 19 ویکسین پروگرام ہے۔ لوگ خوف زدہ ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ وہ ویکسین انسانوں پرکیا کیا اثرات مرتب کرے گی۔ کیا وہ ویکسین صرف کووڈ 19 سے بچاؤ کیلئے ہو گی یا پھر اس کے ذریعے انسانی خلیوں کو مرضی کے مطابق کنٹرول کرنے والا کوئی بائیالوجیکل یا جینیاتی نظام انجیکٹ کر دیا جائے گا۔ ان تحفظات کے بارے تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اس سازش کی ارتقائی ہسٹری سے ایک بات عیاں ہو چکی ہے۔ کہ اس سازش کے مرکزی ڈان وہی ہیں جن کے قبضے میں امریکہ جیسی سپر پاور اور طاقتور مغربی قیادتوں کی جان اور ایمان ہے۔

 یہ دنیا کے چھ ارب انسانوں کو اپنا غلام بنانے کیلئے سرگرم وہ  ڈیڑھ کروڑی عالمی مافیہ ہے جن کے مظالم سے نہ انبیائے کرام محفوظ  رہے اور نہ عام لوگ۔ یہ دنیا کی کل آبادی کا صرف 0.25 فیصد ہیں لیکن دنیا کے 70 فیصد سرمایے پر قابض ہیں۔ یہ وہی فتنہ گر ہیں جوعالمی جنگوں اور دیگر ریاستی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کے قتل کی سازشوں کے پلانر رہے۔ ان کی وحشت و بربریت کی فتنہ گریاں یورپ سے ایشیائی میدانوں اور افریقی صحراؤں سے عرب ریگزاروں تک کروڑوں لاشوں پر ناچتی رہیں۔

اب یہ لوگ انسانیت کے قتل عام کیلئے آناً فاناً مارنے والے گولی اور بارود کی جگہ تڑپا تڑپا کر مارنے والے تباہ کن بائیالوجیکل ہتھیار لائے ہیں۔ اب ان کے اشاروں پر ناچنے سے انکار کرنے والے کسی ملک پر کون سی وبائی آفت نازل ہو گی کوئی نہیں جانتا۔ لیکن کورونا وائرس کے جان لیوا عذاب میں مبتلا دنیا کے محشروں سےغیب کی صدائیں گونج رہی ہیں ۔ انتظار، انتظار بس انتظار امامِ زمانہ مہدی علیہ السلام  کے اس دور کا جب عیسی ابن مریم، نبیء آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر اتریں گے اور دجال کے ستر ہزاری لشکر سمیت قتل کے بعد دنیا بھر میں امن و امان کا دائمی بول بالا ہو گا۔

مشتری ہوشیار باش ! ابھی اس وبائی حملے کی صرف دو لہریں  چلی ہیں جبکہ ممکنہ طور پر ابھی اگلی دو بھیانک لہروں  کے حملے باقی ہیں۔ یقینی طور پر اگلے چند مہینوں میں دنیا کو   شدید غذائی قلت کا  ایک اور جان لیوا خطرہ بھی لاحق ہے۔ خیال تھا کہ پاکستان اور بھارت جیسے زرعی ملکوں کو  نسبتاً کم ٹارگٹ کرنے  کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ  ممکنہ غذائی قلت کی صورت میں مغربی دنیا  پاکستان اور بھارت جیسے  اناج سپلائی کرنے والے ممالک پر انحصار کرے  گی۔  لیکن ہمارے سازشی تھیوریاں گھڑنے والے خود ساختہ دانشوروں کی بدولت ہم پر بی عذاب شدید طاری ہے۔ آج یہ سلگتا ہوا خوں ناک وقت اور ہماری اگلی نسلوں کا  مستقبل عالم عیسائیت اور اسلامی دنیا میں باہمی تعاون و رواداری اور عالمگیر امن کا متقاضی ہے ۔

فاروق درویش

  • حوالہ جات
  • اس بارے نیو یارک ٹائم کا ذیل میں دیا گیا مضمون ملاحظہ کیجئے

Government exercises, including one last year, made clear that the U.S. was not ready for a pandemic like the coronavirus. But little was done

By David E. Sanger, Eric Lipton, Eileen Sullivan and

  • ایک اور امریکن ویب سائٹ پر اس حوالے سے مضمون ذیل میں دئے گئے اس لنک پر پڑھا جا سکتا ہے
Crimson Contagion 2019’ Simulation Warned of Pandemic Implications in US

The 2019 pandemic exercise pointed to areas of concern for state and federal officials

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker