Trending

کورونا کا عالمگیر وبائی حملہ، حقائق ذمہ داریاں اور امیدیں

کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ماسک اور ڈس انفیکشن کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے ہر ممکن دوری اختیار کیے رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔

Share this

کورونا کے وبائی عذاب نے پوری دنیا کو  اس  قدر اپنی آدم خور لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کہ اب اس کی پہنچ سے ایک عام  انسان  تو کیا ،  ہر ممکن احتیاطی ماحول اور فائیو سٹار حفاظتی خول میں رہنے والا  سلطنت برطانیہ کا وزیر اعظم تک بھی محفوظ نہیں رہا۔جدید سائینس کو خدائی قدرت و حکمت سے طاقتور قرار دینے والی جدید تہذیب کے سائنس دانوں کا علم کھربوں ڈالرز کے وسائل کے باوجود وبائی عذاب برپا کرنے والے اس وائرس کیلئے کوئی ویکسین بنانے میں ناکام ہے۔ کورونا کے بارے مختف سازشی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئی مصدقہ حقائق سامنے نہیں آئے اور میں افواہوں اور مفروضوں پر مبنی قلم کاری سے اجتناب کرتا ہوں۔ کورونا وائرسوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والا  ہلاکت خیز کووڈ 19 ہیومن انجینئرنگ کا شاہکار کوئی بائیالوجیکل ہتھیار ہے یا بھٹکے ہوئے انسانوں کو سبق سکھانے کیلئے  نازل ہونے والا عذاب الہی ہے ۔ یہ ہلاکت خیز بلا کس نے بنائی اور کہاں سے آئی ، یہ خدا جانے۔ البتہ جب تک اس وبائی طوفان کے بارے حقائق اور ادراک یا پس پردہ سازشیں زمانے پر بینقاب ہوں گی تب تک یہ عالمگیر وبائی حملہ لاکھوں انسانوں کی جان ضرور لے چکا ہو گا۔

آج غریب اور ترقی پذیر ممالک درکنار،  دنیا کے امیر ترین  ممالک اور صحت کے بہترین نظام بھی اس کورونا وائرس کی تباہ کن ہولناکی کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ میں متاثرہ آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہو چکا ہے اور یہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی حکومت نے عوام کو سخت امتحان کے اس کڑے وقت کے بارے میں پیشگی متنبہ کر دیا ہے جو اگلے دو ہفتوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ حقائق کے اعداد و شمار کی ویب سائٹ ورلڈومیٹر کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد چودہ لاکھ اور صحت یاب کیسز کی تعداد تین لاکھ کے قریب ہے ۔ جبکہ دنیا بھرمیں اسی ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ غرب اور ترقی پزیر ممالک کے مقابکے میں جدید ترین طبی سہولتیں رکھنے والے یورپ اور عالمی سپر پاورامریکہ میں اس ہولناک وبا کا پھیلاؤ اور اموات کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اگر ہم متاثرہ ملکوں پر نظر ڈالیں تو امریکہ متاثرہ کیسزکی مجموعی تعداد میں سب سے بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں کل فعال معاملات 370،397 ہیں جن میں نئے کیسز 3،393 اور اموات کی کل تعداد 11،042 ہے۔ یورپ میں متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد 140،510 سپین میں ہے جہاں اموات کی تعداد 13،798 تک پہنچ کی ہے۔ اور نئے واقعات کی اطلاع 3،835 ہے۔ اٹلی ، جرمنی اور فرانس میں نیے ​​کیسز کی اطلاع دی جارہی ہے تاہم یہ ممالک آج تک سخت لاک ڈاؤن میں ہیں۔ ان ممالک میں نئے کیسوں کا تناسب بھی قدرے کم ہوا ہے۔ اس وقت پورا یورپ مکمل لاک ڈاؤن میں ہے جس کے نتیجہ میں نیے کیسوں میں کمی کے ساتھ زندگی کی امید کی کرن جاگی ہے۔ ایران میں بھی اس وبائی مرض کے متاثرین کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ یہاں اب تک فعال کیس 62،589 ہیں جبکہ نئے واقعات کی اطلاع 2،089  اور اب تک کل اموات 3،872 ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

جہاں تک مشرق وسطی کا تعلق ہے وہاں وباء پر کافی حد تک قابو پایا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بہترین حکومتی کوششوں کے باعث کیسوں کی مجموعی تعداد 2،076 ہے اور اب تک صرف 11 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں ایکٹو کیسوں کی تعداد 2،795 ہے جن میں 190 کیس آج رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اب تک کل اموات 41 ہیں۔ مشرق وسطی میں پاکستان جیسے  کم اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مڈل ایسٹ اور جنوب مشرقی ایشیا کا پورا خطہ اس قدر شدت سے متاثر نہیں ہے جیسا کہ اس ہولناک وبا نے یورپ اور امریکہ کو  گھیرے میں لے رکھا ہے۔

پاکستان میں کل تعداد 4،004 ہے جس میں نئے رپورٹ ہونے والے کیسز 238 ہیں اور مجموعی اموات کی تعداد 55 ہے۔ کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ اس کے بہت کم اعدادوشمار کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔  پاکستان کم وسائل رکھنے والا ایک ترقی پذیر ملک ہے  مگر  جفاکش اور محنتی لوگ جسمانی اور مدافعاتی طور پر کافی مضبوط ہیں۔ یہاں لوگوں کی ابھی تک ملیریا جیسے پرانی  بیماریوں اور دیگر وائرل امراض سے  دیرینہ جنگ رہتی ہے۔  جس کی وجہ سے یہاں  لوگوں کی وائرس  کیخلاف ایمونیٹی یعنی قوت مدافعت، سہل پسند مغربی لوگوں کے مقابلے میں  کافی زیادہ ہے۔  دوسری وجہ یہاں وائرس کی نمود  روکنے والی گرم اور خشک آب و ہوا ہے ۔ جبکہ تیسری اہم وجہ بی سی جی ویکسین بھی ہوسکتی ہے جو وبائی امراض کے حملوں میں ایک ڈھال کا کام کرتی ہے۔

یہ تمام وجوہات کسی حد تک پر امید تو ہوسکتی ہیں لیکن ہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتے ہیں کہ ہمارے پاس بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کٹس یا وینٹی لیٹر جیسا طبی سامان موجود نہیں ہے۔ اور ہمارے عوام اس وبائی مرض کی علامات کے بارے زیادہ علم اور موجودہ سنگین حالات کے بارے کوئی خاص شعور و آگہی بھی نہیں رکھتے ۔ ان حالات میں صرف لاک ڈاؤن اور معاشرتی فاصلہ رکھنا ہی اس وبا کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں معاون  ہوسکتا ہے۔ اس آزمائش کے وقت میں غریب عوام میں کھانا تقسیم کر کے تصاویر اور ویڈیوزکی سیاسی نمائش و تشہیر کرنے والے  عناصر کے انتہائی قابل مذمت رویوں کے مقابلے میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین رہا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس اور رینجرز جیسے ادارے ان ہجوموں کو کم کرنے کیلئے پوری طرح مستعد اور فعال ہیں جو فوڈ شاپس یا گروسری جیسے مقامات پر لگتے ہیں۔

اگر ہم عالمی منظر نامے کا جائزہ لیں تو ایک چیز واضع ہوجاتی ہے کہ چین جیسے جن ممالک نے اس وبائی حملے کی شروعات میں ہی سخت لاک ڈاؤن کیا انہوں نے اس وبا پر کافی حد تک قابو بھی پا لیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ اور یورپی حکومتوں نے ماہرین کی آراء اور تجاویذ کے باوجود لاک ڈاؤن کی حمایت نہیں کی۔ مگر جب ایسے ضدی رویوں اور بروقت فیصلے نہ کرنے کے باعث اس وبائی آفت کا پھیلاؤ کنٹرول سے باہر ہو کر خوفناک شکل اختیار کر گیا تو پھر لاک ڈاؤن شروع کر دیا۔ لیکن افسوس کہ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ دیری کے ان غلط فیصلوں کا ہولناک خمیازہ امریکہ اور تقریباً پورا یورپ اب بھیانک اموات کی صورت میں بھگت رہا ہے

سب سے اہم بات یہ کہ جہاں تک ترقی یافتہ ممالک کا تعلق ہے، وہ لمبی مدت کیلئے بھی لاک ڈاؤن کر کے اس وبا سے لڑنے کی سکت رکھتے ہیں۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی کمزور معشتوں کیلئے یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اس معاشی ہینڈی کیپ کا ایک واحد حل یہی ہے کہ ہم اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اس وبا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہی حاصل کریں اور ان پر سختی سے عمل پیرا ہو جائیں۔ خدارا اپنے گھر والوں ، ہمسایوں اور سب ملنے والوں کو اپنا فرض سمجھ کر یہ سمجھائیں کہ ماسک اور ڈس انفیکشن جیسے  حفاظتی طریقے اپنانے کے ساتھ ساتھ فی الوقت ایک دوسرے سے ہر ممکنہ دوری اختیار کیے رکھنا بھی انتہائی انتہائی ضروری ہے۔

قوم لوط اورعاد و ثمود کے گمراہوں پرعذاب نازل کرنے والا خدائے وحدہ لاشریک،  خدائی قوانین کے منکرین، اپنی مقدس بائبل کے آسمانی احکامات سے بغاوت  کر کے ہم جنس پرستی کے قوانین بنانے والے امریکی اور مغربی لوگوں کو کورونا کی  عالمگیر وبائی بلا سے نجات اور متاثرین کو  صحت یابی عطا فرمائے۔ وہ سب جہانوں کا خالق و مالک سائینس کو اس کی قدرت سے زیادہ طاقتور کہنے والے دیسی لبرالٹروں سمیت مجھ گناہ گار اورآپ سب احباب پر اپنا خصوصی رحم و فضل فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

فاروق درویش

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker