غزل ساغر صدیقی ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع

TweetShare thisFacebookTwitterLinkedInWhatsApp    جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں یاد بُھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں     لوگ جس بزم میں آتے ہیں ستارے لے کر     ہم اسی بزم میں بادیدہء نم آتے ہیں     میں وہ اِک رندِ خرابات ہُوں میخانے میں میرے سجدے کے لیے ساغرِ … غزل ساغر صدیقی ۔ بحر و اوزان اور اصول تقطیع پڑھنا جاری رکھیں