کورونا سے پیدا مالی بحران میں متحدہ عرب امارات کے عظیم معاشی اقدامات

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک اور حکومتوں نے کاروبار اور معیشت کی بحالی کیلئے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے

Share this
دنیا میں کورونا وبا کے ہولناک پھیلاؤ سے عالمی معیشت متاثر ہورہی ہے۔ ترقی یافتہ سے ترقی پذیر ممالک تک سبھی اسی معاشی پیداوار پر حالات سے سمجھوتہ کر رہے ہیں جیسا کہ وہ اس وبائی حملے سے پہلے ہی کر رہے تھے۔ اس حوالے جس شعبہ کو  اس عالمی وبا نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ عمومی روزگار ہے۔ معاشی سرگرمیوں معطل ہونے سے لاکھوں افراد یا تو مستقل بے روزگار ہو چکے ہیں یا لاک ڈاؤں سے وقتی طور پر بے روزگاری کا شکار ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق تقریبا 30 لاکھ امریکی بے روزگاری الاؤنس کے حصول کیلئے درخواست دے چکے ہیں۔
 
خدشہ ہے کہ اس معاشی بحران کی وجہ سے دنیا میں لاکھوں   پے رول ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جایں گے۔ جو 2009 کی عالمی کساد بازاری کے بعد سب سے بڑا معاشی صدمہ ہو گا۔ خوش آئیند ہے کہ چین جیسی بڑی معیشتیں وبائی بیماری سے بحالی کی طرف گامزن ہوچکی ہیں لیکن اسے بھی بہتر اقتصادی پیشرفت کا انتظار ہے۔ چین میں معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جارہی ہے لیکن دنیا بھر میں چین کی مارکیٹ کی طلب کم ہو چکی ہے۔ چین کے لئے سب سے بڑی منڈیاں وہ امریکہ اور یورپ ہیں جو تاحال اس وبائی طوفان کا مقابلہ کررہے ہیں اور ان منڈیوں میں طلب و رسد کے مابین بہت بڑا عدم توازن  پیدا ہو چکا ہے۔
 
مشرق وسطی میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات ایک اہم اور فعال معاشی مرکز ہے، خلیجی خبروں کے مطابق ، متحدہ عرب امارات کے نجی کاروباری شعبے میں بہتری اس بات پر منحصر ہے کہ یہاں سامان اور خدمات کی طلب میں کتنی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ سٹینڈرڈ اینڈ چارٹرڈ رپورٹ کے مطابق بھی دیگر عالمی معیشتوں کی طرح متحدہ عرب امارات کی معیشت بھی متاثر ہوگی اور اس کی بازیابی کا انحصار سامان اور سروسز کی ڈیمانڈ کے بڑھنے اور ملازمتوں کے تحفظ پر ہے۔
 
رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہ معاشی بحالی کی ہم آہنگی میں روزگار کلیدی عنصر ہے۔ کاروباری شعبے کو اس غیر یقینی ماحول کا سامنا ہے کہ نا جانے یہ وبائی صورتحال کب تک برقرار رہے گی۔ متحدہ عرب امارات کی معاشی مارکیٹ میں ٹورازم ، لاجسٹک اور تجارت کی طلب پر اس جاری وبائی عذاب کے شدید منفی اثرات پڑنے کے واضع خدشات لاحق ہیں۔
 
متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک اور وفاقی اور اماراتی سطح کی حکومتوں نے کاروباری شعبے کی حوصلہ افزائی اور معیشت پر کورونا وبائی پھیلاؤ کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے بینکوں کو کیش فلو کے چیلنج کا سامنا کرنے والے قرض دہندگان کیلئے تقریبا 70 بلین ڈالر کی لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کرنے کے تعاون اور دیگر اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان  اقدامات کا مقصد مستقبل قریب میں ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) کو فائدہ پہنچانا ہے
 
مرکزی بینک اور حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے  بہترین  مالی اور مالیاتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی طور پر روزگار کی تخلیق نو اور اقتصادی شعبے میں نقد سودوں میں اضافے کی بڑھوتی کیلئے کیش فلو میں آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ یہ اقدامات مالی اور مالیاتی دونوں بنیادوں پر بروقت اٹھائے گئے ہیں۔
 
 اس حالیہ وبائی ماحول نے متحدہ عرب امارات کی معیشت میں روزگار کے فروغ میں   مسائل اور  مارکیٹ میں طلب کی پیداوار جیسے شدید بحرانوں کو جنم دیا ہے۔ گو کہ حالیہ وبائی پھیلاؤ کے مکمل خاتمے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث معاشی پالیسی سازی کا عمل بھی ایک انتہائی کٹھن کام  ہے ۔ لیکن ہم دعاگو  اور پر امید ہیں کہ  پاکستان کی مخلص دوست متحدہ عرب امارات کی بہترین معاشی وژن رکھنے والی   لیڈر شپ  کا  معیشت کی بحالی کیلئے  معاشی نظریہ حالیہ وبائی بحران  کیخلاف جاری معاشی جنگ  ضرور جیت جائے گا۔
فاروقدرویش 
اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker