میری نظمیں

حشر کی تاریکیوں میں شہر ہے ڈوبا ہوا


اے لبِ گویا سنبھل
حشر کی تاریکیوں میں شہر ہے ڈوبا ہوا
تو کرن تارے کی ہے
تجھ سے الجھنے کیلئے
حضرتِ زرپوش کا ست رنگی لشکر
اس شبِ تیرہ کا سیلِ بیکراں تیار ہے

اے شناسائے سخر
تجھ کو ہے امیدِ صبحِ ضوفشاں لیکن
دور ہے خورشید کا ساحل بہت
اور رستے میں بڑے ہی ساحری طوفان ہیں
کس بھنور سے تو یہاں بچ پائے گا
جا بہ جا ہیں مقتلِ شب اور بھوکے اژدہے
کب تلک اور کس طرح
پہنچے گا تو ساحل تلک

تیری آہٹ طبعِ دوراں پر گراں ہے سوچ لے
تو تلاشِ صبح میں شب کے بیاباں میں
اکیلا تھا اکیلا ہی یہاں رہ جائے گا
سوچ لے پھر تو اکیلا ہے مگر
تیرے تعاقب میں اجل کا لشکرِ جرار ہے
اور تو ان کے نشانے پر بھی ہے
کس طرح نپٹے گا تو
اور کس طرح بچ پائے گا

سوچتا رہتا ہوں میں
کس طرح آتش فشاں سب
سرد ہو کر برف سے بن جائیں گے
لیکن اگر ایسا ہوا تو
کس طرح زندہ کوئی رہ پائے گا
کچھ نہیں کھلتا کہ آخر وہ زمانہ برف کا
کون سے حدت سے پگلے گا
وہ رت کب جائے گی
میں اگر چپ ہو رہا
اپنے شعلوں کو سمیٹے ہی رہا
وہ خنک تابی امٹ ہو جائے گی
اور گلستاں کی فضا
سردیوں کے زہر سے بھر جائے گی
پھول شاخوں پر ٹھٹھر جائیں گے
اور مر جائیں گے
سبزہء نورس زمیں کی سرد چھاتی سے چمٹ کر
سسکیاں لے گا کبھی روئے گا
اور مر جائے گا
اور یہ مستِ خرامِ ناز گاتی ندیاں
بھول جائیں گی سبک رفتار قدموں کا چلن

پھر ہمکتی لوریاں ہونٹوں پہ یوں جم جائیں گی
جس طرح کوئی خزانوں کو مقفل کر گیا

اے لبِ گویا سنبھل
سوچتا رہتا ہوں میں
کس طرح میرا چمن
سردیوں کے زہر سے محفوظ ہو

 idol

اپنی رائے سے نوازیں

Advertisement

ہمارا مرکزی فیس بک پیج

ورلڈ نمبر ون ویب ہوسٹنگ

ویب ورلڈ کی بہترین برانڈ ہوسٹنگ

%d bloggers like this: