حشر کی تاریکیوں میں شہر ہے ڈوبا ہوا

Share this

اے لبِ گویا سنبھل
حشر کی تاریکیوں میں شہر ہے ڈوبا ہوا
تو کرن تارے کی ہے
تجھ سے الجھنے کیلئے
حضرتِ زرپوش کا ست رنگی لشکر
اس شبِ تیرہ کا سیلِ بیکراں تیار ہے

اے شناسائے سخر
تجھ کو ہے امیدِ صبحِ ضوفشاں لیکن
دور ہے خورشید کا ساحل بہت
اور رستے میں بڑے ہی ساحری طوفان ہیں
کس بھنور سے تو یہاں بچ پائے گا
جا بہ جا ہیں مقتلِ شب اور بھوکے اژدہے
کب تلک اور کس طرح
پہنچے گا تو ساحل تلک

تیری آہٹ طبعِ دوراں پر گراں ہے سوچ لے
تو تلاشِ صبح میں شب کے بیاباں میں
اکیلا تھا اکیلا ہی یہاں رہ جائے گا
سوچ لے پھر تو اکیلا ہے مگر
تیرے تعاقب میں اجل کا لشکرِ جرار ہے
اور تو ان کے نشانے پر بھی ہے
کس طرح نپٹے گا تو
اور کس طرح بچ پائے گا

سوچتا رہتا ہوں میں
کس طرح آتش فشاں سب
سرد ہو کر برف سے بن جائیں گے
لیکن اگر ایسا ہوا تو
کس طرح زندہ کوئی رہ پائے گا
کچھ نہیں کھلتا کہ آخر وہ زمانہ برف کا
کون سے حدت سے پگلے گا
وہ رت کب جائے گی
میں اگر چپ ہو رہا
اپنے شعلوں کو سمیٹے ہی رہا
وہ خنک تابی امٹ ہو جائے گی
اور گلستاں کی فضا
سردیوں کے زہر سے بھر جائے گی
پھول شاخوں پر ٹھٹھر جائیں گے
اور مر جائیں گے
سبزہء نورس زمیں کی سرد چھاتی سے چمٹ کر
سسکیاں لے گا کبھی روئے گا
اور مر جائے گا
اور یہ مستِ خرامِ ناز گاتی ندیاں
بھول جائیں گی سبک رفتار قدموں کا چلن

پھر ہمکتی لوریاں ہونٹوں پہ یوں جم جائیں گی
جس طرح کوئی خزانوں کو مقفل کر گیا

اے لبِ گویا سنبھل
سوچتا رہتا ہوں میں
کس طرح میرا چمن
سردیوں کے زہر سے محفوظ ہو

 idol

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker