Trending

حسن بن صباح کی حشاشین اور خان صاحب کی سونامی تحریک

وزیر اعظم عمران خان صاحب کی سونامی تحریک بھی حسن بن صباح کی حشاشین جیسی ایک مادر پدر آزاد شدت پسند تحریک بنتی جا رہی ہے

Share this

احباب یہ  فقیر اول و آخر مسلم لیگی ضرور ہے لیکن کسی قاف میم نون برانڈ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ نون سے بھی خونی رشتے ہیں اور جماعت اسلامی و تحریک انصاف والوں سے بھی دیرینہ روابط ہیں۔ تحریک نظام مصطفے میں بھٹو صاحب کے شاہی قلعہ کے عقوبت خانہ کا قیدی بھی رہا اور پھر اس افغان جنگ  میں روسی استعمار کی خون آشامیوں کا مزا بھی چکھا جسے امریکہ بھی تحریک حریت و آزادی قرار دیتا تھا۔ آمر کی سلاخیں اور ٹارچر سیلوں میں یہ قلم بردار انگلیاں تڑوانے کا تجربہ بھی ہوا۔ ابھی پانچ سال سے جلا وطنی کی زندگی گزارنا قبول کر لیا لیکن سچ اور حقائق لکھنے سے نہ توبہ کی نہ کروں گا۔ 

بیشتر صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ کسی لیڈر کے پرستاروں نے اپنے لیڈروں پر تنقید کے جواب میں ایسی زبان اور پرتشدد رویہ نہیں اپنایا جو آج  وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی سپاہیوں کا وطیرہ ہے ۔سیاسی مخالفین کے بارے غیر مہذب زبان استعمال کرنے میں خود  مثال قائم کرنے والے خاں صاحب کی نام نہاد تحریک ” آزادی و انصاف ” کے دکھائے گئے خواب بھی تاریخ کے فتنہء دہشت  حسن بن صباح کی خود تخلیقی جنت جیسے ہیں۔ تحریک سونامی بتدریج حسن بن صباح کی بنائی گئی دہشت گرد تحریک حشاشین کی طرح دینی و قومی نظریات سے مادر پدر آزادی کا روپ دھار رہی ہے۔

شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا
بندگی دہر کی اب حکم رواں ٹھہرے گی
حسن بن صباح اسماعیلی فرقے کی اس خفیہ دہشت پسند جماعت حشاشین کا بانی تھا جس نے عالم اسلام کی طاقت ور حکومتوں کی بھی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ ایران سے تعلق رکھنے والا یہ شخص 1071ء میں مصر پہنچا اور فاطمی خلیفہ المستنصر کے داعی کے روپ میں ایران واپس آ کر فاطمیوں کے نظریات کا علمبردار بن گیا۔ یہ عظیم دانشور خواجہ حسن نظام الملک اور مشہور شاعر عمر خیام کا ہم عصر  تھا۔ لیکن مابعد خواجہ نظام الملک سے اختلاف ہونے پر سلجوقی حکمران ملک شاہ اول نے اسے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے پہلے کوہ البرز میں الموت اور پھر مصر کے فاطمیوں کی مدد سے کئی قلعوں پر قبضہ کر کے ان اسماعیلیوں سے بھی قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔
 
پاکستانی” شیخ الاسلام ” طاہر القادری کی طرح خود کو ” شیخ الجبال ” قرار دے کر قلعہ الموت کے آس پاس کے علاقے میں ایک آزاد ریاست قائم کر لی ۔ اس کے پیروکاروں میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام خان کے سونامیوں کی طرح صرف اپنے فلسفے کو سچا اور دوسروں کے نظریات کو باطل ثابت کرنا تھا۔ جبکہ فدائیوں کے فرائض میں مخالفین کو قتل کرنا تھا۔ دہشت انگیزی کی یہ خوفناک تحریک اتنی فعال و منظم تھی کہ قریب کے تمام طاقت ور مسلم حکمران بھی اس سے لرزاں تھے۔
 
خاں صاحب اور حسن بن صباح کے خواب دکھانے کے طریقہ کار میں فرق  یہ تھا کہ وہ اپنے فدائیوں کو بڑی مقدار میں حشیش کے نشے میں مدہوش کر کے وادیء الموت میں بنائی اپنی خود ساختہ جنت کی سیر کراتا تھا، اور خاں صاحب موسیقی اور رقص و شباب سے مست کر کے لذت و رعنائی کی مغربی تہذیب برانڈ آزادی کی جنت میں لے جاتے ہیں۔ حشیش کے نشہ میں دھت شکاروں کو حسن بن صباح کی سیکس سروس فورس کی قیامت خیز جوانیوں کے ذریعے لذت و چاشنی کا عادی اور شراب کا رسیا بنا کر واپس اس  کے قدموں میں لا کر چھوڑا جاتا- ان کی دماغی اور جسمانی تربیت کیلئے انہیں شیروں اور شکاری کتوں کا گوشت کھلایا جاتا تاکہ ان میں درندگی کی صفات پیدا ہو سکیں۔
 
حسن بن صباح کے پیروکاروں کو بتایا جاتا تھا کہ اگر وہ ہمیشہ کیلئے ان عریاں اجسام کی لذت و رعنائی، مدہوشیء مشروب اور ” صباحی جنت ” چاہتے ہیں تو پھر انہیں صرف حسن بن صباح اور اس کے نظریہ کیلیے جینا ، مرنا اور مارنا بھی ہو گا۔ لہذا اس تربیت  کے بعد حسن بن صباح کا عاشق ، مذہب اور اخلاقیات کی قید سے آزاد ایک ایسی بھٹکی ہوئی آتما بن جاتا جو اپنے لیڈر کے خلاف بولنے والی ہر آواز کو کفر اور غداری سمجھتا تھا۔ حسن بن صباح نے اپنے ایسے ہی ایک فدائی کے ذریعے خواجہ حسن نظام الملک کو شہید کروایا۔ اور خان صاحب اینڈ کمپنی بھی اپنے مخالفین کو اپنے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
 
آج وزیر اعظم عمران خان کی سونامی تحریک بھی حسن بن صباح کی حشاشین جیسی دہشت گرد تحریک بنتی جا رہی ہے۔ جلسہ گاہوں  میں رقص و شباب اور خوش رنگ طلسمات سے لیس پری زادوں کے غول , تماش بینوں کے طائفے, حشیش اور چرس کی دم مارو دم محفلیں، حسن بن صباح کی تحریک حشاشین کا نظارہ پیش کرتی رہی ہیں۔ خاں صاحب کی مغربی تہذیب کی ہوش ربائی سے آراستہ خیالی جنت میں معاشرتی انصاف اور آزادیء نسواں کے حوالے سے دودھ اور شہد کی نہروں جیسے خوابی مناظر دکھائے جاتے رہے ہیں۔
دراصل ان سونامی حضرات کو صرف وہ ” نیا پاکستان” اور آزادانہ فضا چاہئے جہاں سرعام رقص و شباب کی محافل ، سلمان احمد جیسے گستاخ قرآن و رسالت لوگ ہوش ربا میوزک پروگرام میں تتلیان رقصاں، فوزیہ قصوری جیسی امریکی باندیاں اپنے سکولوں میں ہم جنس پرستی کے مباحثے اور رمضان بھی مخلوط میوزیکل پروگرامز سے دلوں کو گرما رہی ہوں۔ مغربی تہذیب جیسے فری سیکس ماحول کیلئے مر مٹنے کو تیار لوگوں کی بلا سے کہ قائد اعظم کا یہ پاکستان سلامت رہے  نہ رہے، مگر میوزک اور ڈانس شوز میں  حسن و عاشقی کے سدا بہار مواقعوں سے آراستہ ” نیا پاکستان” بن جائے۔
حسن بن صباح کے پیروکاروں کے نزدیک ان کے لیڈر کا ہر مخالف واجب القتل تھا۔ بعین سونامی حضرات کیلئے بھی فلسفہء عمران سے ذرہ برابر اختلاف رکھنے والا ہر شخص جہالت زدہ، غدار پاکستان اور فحش گالیوں کا ہی نہیں ڈنڈوں کا بھی مستحق ہے۔
 
بے حجاب آج چلی لیلیٰ سوئے دشت جنوں
پارسائی کسی مجنوں کی کہاں ٹھہرے گی
 
 خان صاحب کے وعدوں پر مرنے والی قوم خود مجرم ہے کہ اس نے اپنا اگلا حکمران چنتے ہوئے خان صاحب کے قادری جیسے شعبدہ بازوں سے اتحاد، غیر پارلیمانی زباں اور تشدد کی سیاست کے فروغ جیسے حقائق ضرور یاد نہ رکھے ۔ جبکہ انقلاب کے کسی بھی داعی کا شخصی کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ نتیجہ سامنے ہے کہ اپنی بیٹی ٹائرن خان کو والد کی شناخت دینے سے انکاری اور دونوں بیٹوں کو یہودی ماحول کے رحم  و کرم پر چھوڑ دینے والے لوٹا بردار انقلاب کے داعی خان صاحب پاکستانی قوم کو انصاف اور معاشی خوشحالی دینے میں بری طرح ناکام رہے  ہیں۔
 
شیخ و واعظ کا بیاں، فلسفہ ء عشقِ بتاں
شاعری دیر و کلیسا کی اذاں ٹھہرے گی
 
مغربی تہذیب کے دلدادہ سونامی پرستار جس مغربی انداز زندگی کیلئے جنونی ہیں، شاید وہ خود بھی اس تہذیب کی غلاظت و اثرات سے نا واقف ہیں۔ جو آزادانہ ماحول و مادر پدر آزاد تہذیب پاکستان پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اس گورے معاشرے میں بیس سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے اسی فیصد لڑکیاں کنواری ہی نہیں رہتیں۔  ماں کی طرف سے بھی توجہ نہ حاصل کرنے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہوکر معاشرے میں بگاڑ اور خرابیوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ آج پاکستان میں ایسی ہی گوری تہذیب کا ہر داعی خان صاحب کی حکومت کی طرف سے قوم سے وعدوں میں بری طرح ناکامی اور ان کے یو ٹرن در یو ٹرن کے باوجود خان صاحب زندہ باد کا نعرہ لگا رہا ہے۔
 
یہ حقیقت اہل وطن کیلئے لمحہء فکریہ ہے کہ آج اہل قادیان اور فدائین گوہر شاہی سمیت  تمام سیکولر قوتیں اس ماڈرن تحریک حشاشین کے ساتھ  کھڑی ہیں ۔ اور خان صاحب کے سامراجی و یہودی آقا بھی اس حقیقیت سے خوب واقف ہیں ایسے کار آمد اسلام “حسن بن صباح” تاریخ میں صدیوں ہی پیدا ہوتے ہیں
 
 حسن بن صباح نے نوے برس کی طویل عمر پائی لیکن اس کی مادر پدر آزاد فحاشی و عریانی اور دہشت گردانہ تحریک کا عبرت ناک انجام بھی ” سیر کو ملے سوا سیر ” کے مصداق تاریخ کے سفاک قصاب ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ تاتاری بھیڑیے ہلاکو خان نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کر کے اس تحریک کے  ہزاروں فدائیوں کو بڑی بیدردی سے قتل کر دیا۔ خدارا اپنی اگلی نسل کو عریانی و فحاشی اور مغربی تہذیب کے ان علمبرداروں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے بچائیے۔
 
اس ملک میں انقلاب لانے کیلئے قوم سے کئے گئے ہر وعدے سے انحراف کرنے والے مسٹر یو ٹرن یا طاہر القادری نہیں قوم سے مخلص وہ رہنما درکار ہے جو موروثی سیاست زدہ حکمرانوں، پیشہ ور جاگیر داروں اور سامراجی گماشتین پر مشتمل ان گروہوں میں کہیں نظر نہیں آ رہا۔ حرف آخر یہی ہے کہ یہود و نصاریٰ کیلئے جس مسلم ایٹمی طاقت کو، بھارتی گولی اور بارود سے ختم کرانا ممکن نہیں رہا،  وہ اسے عریانی اور لادینیت کے سونامی سیلاب میں ڈبو کر ختم کرنے پر تلے ہیں ۔۔۔
لیکن یہ پاکستان میرے اللہ کا انعام خاص ہے، یہ سبز ہلالی دیس تا قیامت سلامت و آباد رہے گا کہ یہ وطن مملکت خداد پاکستان ہے ، یہ کسی ماڈرن حسن بن صباح یا ست رنگی مغربی کٹھ پتلیوں کے باپ کی جاگیر نہیں ۔
 
( فاروق درویش)
اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker