حالات حاضرہریاست اور سیاست
Trending

حسن بن صباح کی حشاشین اور خان صاحب کی سونامی تحریک

عمران خان صاحب کی سونامی تحریک بھی حسن بن صباح کی حشاشین جیسی ایک شدت پسند تحریک بنتی جا رہی ہے



قارئین کرام  یہ  فقیر اول و آخر مسلم لیگی ضرور ہے لیکن کسی قاف میم نون برانڈ سے کوئی تعلق نہیں ۔ نون سے بھی خونی رشتے ہیں اور جماعت اسلامی و تحریک انصاف والوں سے بھی دیرینہ روابط ہیں۔ تحریک نظام مصطفے میں بھٹو  کے شاہی قلعہ کے عقوبت خانہ کا قیدی بھی رہا اور پھر اس افغان جنگ  میں روسی استعمار کی خون آشامیوں کا مزا بھی چکھا جسے امریکہ بھی  آزادی  کی تحریک  قرار دیتا تھا۔   ٹارچر سیلوں میں یہ قلم بردار انگلیاں تڑوانے کا تجربہ بھی ہوا۔پھر  نہ بکنے کے جرم میں بار بار  وحشیانہ تشدد کے بعد چھ  سال   دوبئی  میں جلا وطنی بھی گزاری ۔ اور بالآخر  دوبئی  میں   بھی  پاکستان سے محبت اور  افواجِ پاکستان سے وفا   اور عرب ممالک کی طرف سے    اسرائیل کو تسلیم کرنے کیخلاف لکھنے کے جرم میں  دوبئی بھی  چھوڑنا پڑا۔   پاکستان  اور ناموسِ دین پر قربان کرنے کیلئے  اب صرف یہ  ایک جان باقی ہے  لیکن سچ اور حقائق لکھنے سے نہ  کبھی توبہ کی اور نہ کروں گا۔ 

بیشتر صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ کسی لیڈر کے پرستاروں نے  تنقید کے جواب میں ایسی زبان اور پرتشدد رویہ نہیں اپنایا جو آج   عمران خان کے  شدت  پسند  سیاسی  ورکرز کا وطیرہ ہے ۔ میری  فوٹو شاپڈ  عریاں تصاویر بنا نے  اور  میسج بکس میں  فحش گالیاں اور  دھمکیاں دینے والے عمرانی حضرات بھی  اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے  کہ   افواج   پاکستان    اور حساس اداروں       کے خلاف جھوٹے الزامات اور سخت  بیان بازیوں کی طویل   ہسٹری  اور سیاسی مخالفین کے بارے غیر مہذب زبان کی   مثال قائم کرنے والے خاں صاحب کی تحریک ” آزادی و انصاف ” کے دکھائے گئے خواب  اور کبھی نہ پورے ہونے والے وعدے بھی تاریخ کے  اولین  دہشت گرد  حسن بن صباح کی فیک  جنت جیسے  ثابت ہو رہے ہیں۔  حکومتی  ناکامیوں میں ڈوبی ہوئی  تحریک انصاف   بتدریج حسن بن صباح کی بنائی گئی دہشت گرد  تنظیم حشاشین کی طرح دینی و قومی نظریات سے مادر پدر آزادی کا روپ دھار رہی ہے۔

۔

شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا
بندگی دہر کی اب حکم رواں ٹھہرے گی
۔
۔
حسن بن صباح اسماعیلی فرقے کی اس خفیہ دہشت پسند جماعت حشاشین کا بانی تھا جس نے عالم اسلام کی طاقت ور حکومتوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں تھیں۔ ایران سے تعلق رکھنے والا یہ شخص 1071ء میں مصر پہنچا اور فاطمی خلیفہ المستنصر کے داعی کے روپ میں ایران واپس آ کر فاطمی نظریات کا علمبردار بن گیا۔ یہ عظیم دانشور خواجہ حسن نظام الملک اور مشہور شاعر عمر خیام کا ہم عصر  تھا۔ لیکن خواجہ نظام الملک سے اختلاف ہونے پر سلجوقی حکمران ملک شاہ اول نے اسے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے پہلے کوہ البرز میں الموت اور پھر مصر کے فاطمیوں کی مدد سے کئی قلعوں پر قبضہ کر کے ان اسماعیلیوں سے بھی قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔
 
پاکستانی” شیخ الاسلام ” طاہر القادری کی طرح خود کو ” شیخ الجبال ” قرار دے کر قلعہ الموت  کے علاقے میں ایک آزاد ریاست قائم کر لی ۔ اس کے پیروکاروں میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام خان کے  کارکنوں  کی طرح صرف اپنے فلسفے کو سچا اور دوسروں کے نظریات کو باطل ثابت کرنا تھا۔ جبکہ فدائیوں کے فرائض میں مخالفین کو قتل کر نا تھا۔ دہشت انگیزی کی یہ خوفناک تحریک اتنی فعال و منظم تھی کہ قریب کے تمام طاقت ور مسلم حکمران بھی اس سے لرزاں تھے۔
 
خاں صاحب اور حسن بن صباح کے خواب دکھانے کے طریقہ کار میں فرق  یہ تھا کہ وہ اپنے فدائیوں کو بڑی مقدار میں حشیش کے نشے میں مدہوش کر کے وادیء الموت میں بنائی اپنی خود ساختہ جنت کی سیر کراتا تھا۔  اور خاں صاحب موسیقی اور رقص و شباب  میں ڈوبے   دھرنوں  میں    مدینہ جیسی فلاحی ریاست   بنانے کے سبز باغ دکھا کر   قوم کو  تخیلاتی فریب  کی جنت میں لے  گئے ۔ افسوس کہ خان صاحب نے قوم کو آسائش اور  فلاح  کی جنت کے جو خواب
دکھائے ان کی تعبیر  غریب  عوام  کیلئے  فاقوں اور معاشی مسائل کی جہنم کے صورت میں سب کے سامنے ہے۔
.
حشیش کے نشہ میں دھت شکاروں کو حسن بن صباح  کی قیامت خیز جوانیوں کے ذریعے لذت و چاشنی کا عادی اور شراب کا رسیا بنا کر واپس اس  کے قدموں میں لا کر چھوڑا جاتا تھا-  ان  صباحی مجاہدین کی دماغی اور جسمانی تربیت کیلئے انہیں شیروں اور شکاری کتوں کا گوشت کھلایا جاتا تاکہ ان میں درندگی کی صفات پیدا ہو سکیں۔ جبکہ خان صاحب کے سیاسی مجاہدوں کو بابا کوڈا جیسی بداخلاق سوشل میڈیا کمپین کی ٹریننگ دی جاتی ہے  ۔  خان صاحب کے عاشقین کی  جہالت کا عالم یہ   ہے کہ  اِدھر    عمرانی سوشل میڈیا   کا لیڈر بابا کوڈا  پوسٹ کرتا ہے کہ ” اس  کے خیال کے  مطابق   عمران  خان صاحب ہی ( معاذاللہ)  امام مہدی ہیں”  تو  اُدھر لاکھوں  پرستار  اس کافرانہ  پوسٹ کی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں 
۔
۔
حسن بن صباح کے پیروکاروں کو بتایا جاتا تھا کہ اگر وہ ہمیشہ کیلئے  لذت و رعنائی، مدہوشیء مشروب اور ” صباحی جنت ” چاہتے ہیں تو پھر انہیں صرف حسن بن صباح اور اس کے نظریہ کیلیے جینا ، مرنا اور مارنا بھی ہو گا۔ لہذا اس تربیت  کے بعد حسن بن صباح کا عاشق ، مذہب اور اخلاقیات کی قید سے آزاد ایک ایسی بھٹکی ہوئی آتما بن جاتا جو اپنے لیڈر کے خلاف بولنے والی ہر آواز کو کفر اور غداری سمجھتا تھا۔ حسن بن صباح نے اپنے ایسے ہی ایک فدائی کے ذریعے خواجہ حسن نظام الملک کو شہید کروایا۔ اور آج بالکل ایسے ہی خان صاحب کے عاشقین خان صاحب پر تنقید کو بڑا جرم  تصور کرتے ہیں۔  تحریک انصاف کے  شدت پسند سیاسی  طبقات کیلئے خان صاحب کی توہین  دراصل توہینِ رسالت سے بڑا گناہ ہے۔
  
آج وزیر اعظم عمران خان کی سونامی تحریک بھی حسن بن صباح کی حشاشین جیسی شدت  پسند  تحریک بن چکی ہے۔ جلسہ گاہوں  میں رقص و شباب اور خوش رنگ طلسمات سے لیس پری زادوں کے غول , تماش بینوں کے طائفے،  تحریک حشاشین کا نظارہ پیش کرتے تھے۔ خاں صاحب کی مغربی تہذیب کی ہوش ربائی سے آراستہ خیالی جنت میں معاشرتی انصاف اور آزادیء نسواں کے حوالے سے دودھ اور شہد کی نہروں جیسے خوابی مناظر دکھائے جاتے رہے ہیں۔    شہروں اور شاہراؤں  کو جام کرنے والے  جلسوں میں بجلی کی قیمت بڑھنے پر  واپڈا کے  بل پھاڑنے والے خان صاحب کی   حکومت میں بجلی اور گیس کی قیمتیں دوگنی تگنی ہو چکی ہیں۔
۔
  کل خان صاحب خود   پاکستان کے شہروں کو بند اور نظام کو جام کرنے کے دعویدار تھے ۔ آج  عوام کو سڑکیں بند کرنے  اور احتجاج سے   روکنے  کے اخلاقی  لیکچر دیتے ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ  تخریب کار اور   فسادی عناصر نے ایک سازش کے تحت   فرانس کی توہین رسالت کیخلاف  احتجاج کرنے والوں میں شامل ہو کر جلاؤ اور گھیراؤ کر کے مذہبی طبقات کو بدنام کرنے کی  پلانڈ کوشش کی ہے۔ لیکن خان صاحب کی حالات پر قابو پانے کی صلاحیت دنیا کیلئے ایک تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔ بالآخر سیلابوں اور زلزلوں کی آفات میں قوم کی مدد کیلئے  ہمہ وقت تیار  افواجِ پاکستان  نے کورونا کنٹرول کرنے کا بیڑا خود اٹھا کر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ خان صاحب حکومت چلانے کیلئے انتہائی نا اہل   ہیں ۔
۔
۔
حسن بن صباح کے پیروکاروں کے نزدیک ان کے لیڈر کا ہر مخالف واجب القتل تھا۔ بعین سونامی حضرات کیلئے بھی فلسفہء عمران سے ذرہ برابر اختلاف رکھنے والا ہر شخص جہالت زدہ، غدار پاکستان اور فحش گالیوں کا ہی نہیں ڈنڈوں کا بھی مستحق ہے۔
   
فرانس   کی توہینِ رسالت  کیخلاف  احتجاج  کرنے والوں  سے مذاکرات کرنے والی   حکومتی ٹیم  میں  برطانیہ ، سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ  میں ہم جنس پرستی کے پروموٹر اور برطانوی پارلیمنٹ میں  ہم جنس پرستی کے حق میں ووٹ دینے والے    گورنر پنجاب چوہدری سرور کی شمولیت  اسلامی نظریات اور ریاست مدینہ کے دعووں کے ساتھ  ایک  کھلا   مذاق ہے ۔   خان صاحب کے فیورٹ وزیروں     فواد چوہدری  اور  پیشہ ور لوٹے  شیخ رشید کی اسلامی نظریات و عقائد کے بارے بیان بازیاں اور اقدامات  انتہائی  قابل مذمت  ہیں ۔   مغربی استعمار کی طرف سے فواد چوہدری کی صورت میں  آنجہانی عاصمہ جہانگیر جیسا ایک  انتہا پسند   انٹی  اسلام  کردار پاکستانی سیاست میں فعال کیا جا رہا ہے۔  ایسے   انٹی مذہب  نظریات  کے  حامی  ابھی تک  خان صاحب کی حکومت کی  نا اہلی  ،  قوم سے وعدوں میں بری طرح ناکامی کے باوجود خان صاحب زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
 
یہ حقیقت اہل وطن کیلئے لمحہء فکریہ ہے کہ آج اہل قادیا ن اور فدائین گوہر شاہی سمیت  تمام سیکولر قوتیں ا س ماڈرن تحریک حشاشین کے ساتھ  کھڑی ہیں ۔ توہین رسالت کی مقدمات میں  جرم ثابت ہونے پر  عدالتوں کی طرف سے سزائے موت  پانے والوں کو پھانسی دینے میں مغربی دباؤ  پر  تاخیر کی جا رہی ہے۔ توہینِ رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والوں کو آسیہ بی بی کی طرح مغرب روانہ کرنے کیلئے   سامراجی دباؤ بڑھ رہا ہے ۔    خان صاحب اور ان کے انٹی مذہب وزیروں  کے سامراجی  آقا بھی اس حقیقت سے خوب واقف ہیں ایسے کار آمد   "حسن بن صباح” تاریخ میں صدیوں ہی پیدا ہوتے ہیں
۔
۔
 حسن بن صباح نے نوے برس کی طویل عمر پائی لیکن اس کی مادر پدر آزاد فحاشی و عریانی اور دہشت گردانہ تحریک کا عبرت ناک انجام بھی ” سیر کو ملے سوا سیر ” کے مصداق تاریخ کے سفاک قصاب ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔  ہلاکو خان نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کر کے اس تحریک کے  ہزاروں فدائیوں کو بڑی بیدردی سے قتل کر دیا۔
 
اس ملک میں انقلاب  کیلئے قوم سے کئے گئے ہر وعدے  سے انحراف کرنے والے خان  صاحب  نہیں قوم سے مخلص وہ رہنما درکار ہے جو موروثی سیاست زدہ حکمرانوں، پیشہ ور  لوٹوں ، ظالم جاگیر داروں اور سامراجی گماشتین پر مشتمل ان گروہوں میں کہیں نظر نہیں آ رہا۔ حرف آخر یہی ہے کہ  پاکستان کے دشمنوں  کیلئے جس  ایٹمی طاقت کو، بھارتی گولی اور بارود سے ختم کرانا ممکن نہیں رہا،  وہ اسے  مذہبی  اور   لادینی نظریات  میں  خونی ٹکراؤ ، عریانیت  اور لا قانونیت  کے سیلاب میں ڈبو کر ختم کرنے  پر تلے ہیں ۔
۔
لیکن یہ پاکستان میرے اللہ کا انعام خاص ہے، یہ سبز ہلالی دیس تا قیامت سلامت و آباد رہے گا کہ یہ وطن مملکت خداد پاکستان   نظریات ِ  لا الہ الا اللہ  کا دیس ہے ، یہ کسی ماڈرن حسن بن  صباح یا ست رنگی مغربی کٹھ پتلیوں کے باپ کی جاگیر نہیں ۔
۔ 
( فاروق درویش – واٹس ایپ ۔   03224061000)
۔

پاکستان کے جے ایف 17 کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button