رموز شاعریمیری غزلیں اور عروض

حُسن کا اِنتخاب قاتل ہے ، عشق کا اضطراب قاتل ہے ۔ غزل فاروق درویش

بحر خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع ۔ بحر و اوزان اور اصول ِ تقطیع


Share this
حُسن کا اِنتخاب قاتل ہے
عشق کا اِضطراب قاتل ہے
 
جھیل کا آنکھ ، گُل کا ہونٹوں سے
رشتہء انتساب قاتل ہے
 
شب کے بُجھتے ہوئے چراغوں پر
فُرقتوں کا عتاب قاتل ہے
 
زندگی میں شباب قتل کرے
مرگ ِ جاں پر عذاب قاتل ہے
 
جان لیوا ہے ہر ادا جس کی
موت وہ بے نقاب قاتل ہے
 
کہہ دیا ہم نے حال فُرقت کا
اُن کا چُپ سا جواب قاتل ہے
 
مر گیا قیس شوق ِ لیلیٰ میں
دشت ِ غم کا سراب قاتل ہے
 
کل تھیں قاتل چناب کی موجیں
آج سوکھا چناب قاتل ہے
 
کھا گیا نامور زمانے کے
عشق خانہ خراب قاتل ہے
 
مفلسی بِک رہی ہے بے پردہ
بھوک اِک بے حجاب قاتل ہے
 
روشنی کے فسُوں میں ڈوبوں کو
چاندنی کا جواب قاتل ہے
 
ننگِ انصاف ہیں مرے منصف
ننگِ آدم ، نواب قاتل ہے
 
بھڑک اٹھے جو سلطنت کی ہوس
نسل ِ نو کا شتاب قاتل ہے
 
صبح ِ مومن ہے، شب کلیسائی
دو رخی اِنقلاب قاتل ہے
 
خوف ہے روز ِ حشر کا طاری
فکر ِ روز ِ حساب قاتل ہے
 
دہر آلودہ ظلمتوں کیلئے
روشنی کی کتاب قاتل ہے
 
کہیں ہجرت کریں گلستاں سے
خار قاتل ، گلاب قاتل ہے
 
حکمراں ہیں اگر کمینے لوگ
آپ کا انتخاب قاتل ہے
 
مسجدیں ہیں لہو لہو میری
امن گرد آنجناب قاتل ہے
 
شہر ڈوبے ہیں خونِ ناحق میں
ڈھونڈتا کیا ثواب قاتل ہے
 
شہد سے شیریں میری باتیں ہیں
گرچہ طرز ِ خطاب قاتل ہے
 
شہر ِ درویش وحشتوں کا نگر
میرا عالی جناب قاتل ہے
 
(فاروق درویش)
 
بحر : خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
 
ارکان ِ بحر : ۔۔ فاعِلاتُن ۔۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فَعلُن
ہندسی اوزان : ۔۔ 2212 ۔۔ 2121 ۔۔ 22
 
اس بحر میں پہلے رکن یعنی فاعلاتن ( 2212 ) کی جگہ فعلاتن ( 2211 ) اور آخری رکن فعلن (22) کی جگہ , فعلان ( 122)، فَعِلن (211 ) اور فَعِلان (1211) بھی آ سکتا ہے۔ یوں اس بحر کی ایک ہی غزل میں یہ آٹھ اوزان بیک وقت استعمال کرنے کی عروضی سہولت یا گنجائش موجود ہے
 
۔1 ۔۔ فاعِلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فعلُن ۔۔ 2212 ۔۔ 2121 ۔۔ 22 ۔
۔2 ۔۔ فاعِلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فَعِلُن ۔۔ 2212 ۔۔ 2121 ۔۔ 211 ۔
۔3 ۔۔ فاعِلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فَعلان ۔۔ 2212 ۔۔2121 ۔۔ 122 ۔
۔4 ۔۔ فاعِلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فَعِلان ۔۔ 2212 ۔۔ 2121 ۔۔ 1211۔
۔5 ۔۔ فعلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فعلُن ۔۔ 2211 ۔۔ 2121 ۔۔ 22 ۔
۔6 ۔۔ فعلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن۔۔ فَعِلُن ۔۔ 2211 ۔۔ 2121 ۔۔ 211۔
۔7 ۔۔ فعلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فعلان ۔۔ 2211 ۔۔ 2121 ۔۔ 122 ۔
۔8 ۔۔ فعلاتُن ۔۔ مُفاعِلُن ۔۔ فَعِلان ۔۔ 2211 ۔۔ 2121 ۔۔1211۔
 
اشارات برائے تقطیع
 
حُسن کا اِنتخاب قاتل ہے
حس ۔۔ ن ۔۔ کا ۔۔ ان ۔۔ فاعلاتن ۔۔ 2212
ت ۔۔ خا ۔۔ ب ۔۔ قا ۔۔ مفاعلن ۔۔ 2121
تل ۔۔ ہے ۔۔ فعلن ۔۔۔ ۔22۔
 
عشق کا اِضطراب قاتل ہے
عش ۔۔ ق ۔۔ کا ۔۔ اض ۔۔ فاعلاتن ۔۔ 2212
ط ۔۔ را ۔۔ ب ۔۔ قا ۔۔ مفاعلن ۔۔ 2121
تل ۔۔ ہے ۔۔ فعلن ۔۔۔ ۔22۔
 
شہر ِ درویش وحشتوں کا نگر
شہ ۔۔ ر ۔۔ در ۔۔ وے ۔۔ فاعلاتن ۔۔ 2212
ش ۔۔ ظل ۔۔ م ۔۔ تو ۔۔ مفاعلن ۔۔ 2121
کا ۔۔ ن ۔۔ گر ۔۔ فَعِلن ۔۔۔ 211 ۔۔۔ ( آخری فعلُن (22) کو فَعِلُن (211) میں بدلا گیا ہے
 
میرا عالی جناب قاتل ہے
مے ۔۔ را ۔۔ عا ۔۔ لی ۔۔ فاعلاتن ۔۔ 2212
ج ۔۔ نا ۔۔ ب ۔۔ قا ۔۔ مفاعلن ۔۔ 2121
تل ۔۔ ہے ۔۔ فعلن ۔۔۔ ۔22۔
 
کہیں ہجرت کریں گلستاں سے
ک ۔۔ ہی ۔۔ہج ۔۔ رت ۔۔فعلاتن ۔۔۔ 2211 ۔۔ فعلاتن ۔۔ ( پہلے رکن فاعلاتن (2212) کو فعلاتن ( 2211) میں بدلا گیا ہے)

ک۔۔ریں ۔۔گ۔۔لس ۔۔ مفاعلن ۔۔ 2121
تا ۔۔ سے ۔۔ فعلن 22

بھڑک اٹھے جو سلطنت کی ہوس
بھ ۔۔ڑ ۔۔کٹھ ۔۔ٹھے ۔۔۔ فعلاتن ۔۔ 2211 ( پہلے رکن فاعلاتن کو فعلاتن ( 2211) میں بدلا گیا ہے اور  اٹھے کا الف وصل گرا کر بھڑک اُٹھے کو ( بھَ ڑَ کٹُھ ٹھے) باندھا گیا ہے
ج۔۔ سل ۔۔ ط ۔۔نت ۔۔ مفاعلن ۔۔ 2121
ک ۔۔ ہ ۔۔ وس ۔۔ فَعِلُن ( 211) ، آخری فعلن (22) کو فَعِلُن ( 211) میں بدلا گیا ہے

 اصولِ تقطیع

یاد رکھئے کہ ” کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع میں ان کے مقام پر بحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔

ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیں یک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔

تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے ، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر اور چھیڑے کو چیڑے پڑھا جائے گا

فاروق درویش


Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد بین المسلمین کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، بلاگر ، شاعر اور ویب پورٹل اینڈ کمرشل سائٹس ایکسپرٹ ہوں۔۔۔۔ آج کل ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک ایشوز ریسرچ اور ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Back to top button