حالات حاضرہ

خان صاحب ! عافیہ صدیقی تو نہ لائے لیکن ۔ ۔ ۔

آسیہ بی بی کیس کے بعد دو اور سزائے موت یافتہ گستاخان رسول کو تمام ثبوتوں اور اقرارِ جرم کے باوجود جس طرح بری کروایا گیا ہے، وہ خان حکومت میں اسلام دشمنی ، قانون کی پامالی اور انصاف کے قتل کی ایک بدترین مثال ہے


خان صاحب کا ریاستِ مدینہ کا نعرہ اور عوامی فلاح کا ہر وعدہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ہی نہیں دنیائے سیاست کا بدترین مذاق بن رہا ہے۔ عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کے دعویدار خان صاحب قوم کی اُس مظلوم بیٹی کو تو پاکستان واپس نہ لائے ۔ لیکن انہوں نے اپنے سامراجی نا خداؤں کو آسیہ بی بی دیکر یہ ضرور ثابت کیا کہ حکمرانوں کیلئے ملک و مذہب سے وفا کا زمانہ صدیوں پہلے گزر چکا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں بدترین کرپشن ، لوٹا کریسی اور سیاسی شدت پسندی کی حکومت نے ریاست مدینہ کے دعووں کی جعلسازی میں جو کارہائے نجس ریکارڈ قائم کیے وہ پاکستان کی تاریخ میں قوم کو دھوکہ دہی اور دین سے غداری کی بدترین مثالوں میں سرفہرست لکھے جائیں گے۔ خان صاحب کے دور میں قادیانیوں کو اہم آسامیوں پر پوسٹ کیا جانا ایک معمولی امر بن رہا ہے۔ جبکہ فلسطینی مسلمانوں پر یہودی مظالم کیخلاف شاہ محمود قریشی کے ساتھ اقوام متحدہ جانے والے وفد میں ایک مرتد قادیانی نبیل منیر شیخ کا شامل کیا جانا انتہائی قابل مذمت تھا۔

چند روز قبل یہودی رکھیل یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین ، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی شقوں کو منسوخ کروانے اور گستاخانہ میسجز کو سوشل میڈیا پر پبلش کرنے والے ایک گستاخِ قرآن و رسالت عیسائی جوڑے کی سزائے موت کیخلاف قرارداد منظور کی تھی۔ جس کے بعد 3 جون کو لاھور ہائی کورٹ نے نبی آخرالزماں ﷺ اور قرآن پاک کی گستاخی کرنے پر ایڈیشنل سیشن جج ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سزائے موت پانے والے عیسائی جوڑے  شفقت مسیح اورشگفتہ مسیح کو بری کرکے پوری امت مسلمہ کو سخت صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ یاد رہے کہ اس بدبخت جوڑے کو تمام مصدقہ ثبوتوں اور اقرار جرم کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔


اس حوالے سے ملعون یوسف کذاب اور بدبخت آسیہ بی بی سمیت ہر انٹی اسلام عنصر کیخلاف ناموس رسالت کا مقدمہ لڑنے والے غلام مصطفٰے چوہدری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی طرف سے جو سٹیٹمنٹ جاری کی گئی وہ اختصار کے ساتھ کچھ یوں ہے۔

سال 2013 میں شفقت مسیح اوراس کی بیوی شگفتہ مسیح اپنے موبائل فون سے مدعی مقدمہ  محمد حسین کو گستاخانہ میسج بھیجے۔ جن کے بعد مدعی ان کیخلاف مقدمہ کرنے کیلئے وکیل صاحب کو ثبوت پیش کیے۔ وکیل نے اپنی تسلی کیلئے ان گستاخان کے فون پر کال کی تو ان کی کال کاٹ کر وہی گستاخانہ میسیجز وکیل کو موصول ہوئے۔ ایس پی صاحب نے خود تفتیش کی ، موبائل ڈیٹا ریکارڈ نے گستاخانہ میسجز بھیجنا ثابت کیا ۔ گستاخ جوڑے نے  پہلے ایس پی اور پھر مجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اقرار کیا ۔ اور ایڈیشنل سیشن جج صاحب  ٹوبہ ٹیک سنگھ جرم ثابت ہو نے پر ان دونوں کو سزائے موت سنا دی تھی۔

ان گستاخان نے اس فیصلے کے خلاف لاھور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ اپیل کا فیصلہ ہونے سے پہلے یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں قرارداد پاس کی گئی کہ پاکستان تحفظ ناموس رسالت کا قانون ختم کرے اور ان دونوں گستاخان کو بری کرے۔ اور خان صاحب کی حکومت میں آج دونوں بدبخت گستاخان کو تمام مصدقہ ثبوتوں اور اقرارِ جرم کے باوجود جس طرح بری کروایا گیا ہے، وہ تحریک انصاف کی حکومت میں اسلام دشمنی ، قانون کی پامالی اور انصاف کے قتل کی ایک بدترین مثال ہے۔ جس کے بعد قیاس ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لانے کا دعوی کر کے آسیہ بی بی کے رکھوالے بن جانے والے خان صاحب اب اس گستاخ جوڑے کو بھی اپنے یہودی اور مغربی آقاؤں کی محفوظ پناہ میں بھیج دیں گے۔

 امریکی سامراج ، مغربی استعمار اور ان کی آلہ کار حکومت کے روبرو ختم نبوت لائیرز فورم پاکستان نے دل و جان سے اس مقدمے کی پیروی کر کے آقائے نامدار ﷺ سے وفا کا حق ادا کیا ہے۔ اور فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا اعلان کیا ہے۔ میرا حق الیقین ہے کہ روز محشر نبی کریم ﷺ اپنے اس لعل غلام مصطفٰے چوہدری ایڈووکیٹ کا ماتھا چومیں گے ، جس نے یوسف کذاب ، آسیہ بی بی اور اس گستاخ جوڑے کیخلاف مقدمات میں لاکھوں ڈالرز کی آفرز کو ٹھوکر مارتے ہوئے ناموس رسالت کا علم سدا بلند رکھا ہے۔ ختم نبوت لائیرز کی ٹیم کیلئے میرے پاس محبت اور عقیدت کے گواہ آنسوؤں کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

خان صاحب نے قوم سے جو جو وعدے کئے وہ کھلا فریب ، سیاہ فراڈ اور دھوکہ دہی ثابت ہوئے۔ خان صاحب نے جو کچھ بھی کہا ، سب کچھ اس کے الٹ کر کے دکھا دیا۔ لیکن یاد رہے کہ اللہ رب عزت کبھی اپنے وعدوں کیخلاف نہیں کرتا۔ اور اسلام سے غداری کرنے والوں کے بارے اللہ کا ہر فرمان اور ایسے گمراہوں کا بھیانک انجام قرآن حکیم میں واضع حروف میں موجود ہے۔ خان صاحب اور ان کے حواریوں پر توبہ واجب ہے ورنہ ان کا ہولناک انجام تاریخ کا عبرت ناک ترین انجام ہو گا۔ خان صاحب پر تنقید کو توہین ِ عمران اور اسے توہین ِ رسالت سے بڑا جرم سمجھنے والوں کے لا علاج ایمان لیوا مرض کیلئے خاموشی کی دوا اور ہدایت کی دعا ہے

عقل و فہم رکھنے والوں کیلئے بحرحال ایک بات قابل غور ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ عیسائی لوگوں نے آسیہ بی بی کی طرٖح امریکہ اور یورپ کی مخملی پناہوں کے مزے لوٹنے کیلئے توہین رسالت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے؟ کیا یہ توہین رسالت کا مذموم سلسلہ روکنے کیلئے اب کسی ایک گستاخِ رسول کی سزائے موت پر فوری عمل درامد لازم نہیں ہے؟

 

فاروق درویش


پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

قدیم ہندو تہذیب سے مودی تک عورت پر ظلم کی کہانی اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button