حالات حاضرہریاست اور سیاست
Trending

ریاست مدینہ کا حکمران اور جرابوں والا احرام

ضرورت ہے کہ اب عسکری اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے والے تمام لیڈروں پر غداری کے مقدمات چلائے جائیں۔ اور حق تو یہ ہے کہ شروعات بھی فوج اور آئی ایس آئی پر سیاست میں ملوث ہو کر کرپشن کرنے کے الزامات لگانے کے بانی خان صاحب کی ساری ویڈیوز کو گواہ بنا کر انہی سے کی جائے


آج خان صاحب کے پرستاروں نے ان کے طواف کعبہ ، حجر اسود کے بوسوں اور سعی کی تصاویر شئیر کیں۔ افسوس  کہ ان کے ساتھ  گئے علمائے دربار اور شیخ رشید جیسے جہاندیدوں نے بھی ان کو یہ نہیں بتایا کہ احرام میں جرابیں پہننا حرام ہیں۔ اور اگر بوجہ احرام حرام ٹھہرے تو عمرہ ہی نہیں ہوتا ۔ خان  صاحب   کو تعویذ دھاگوں اور جادو ٹونوں کے جوہڑ   میں غرق کر کے اپنے پیاروں اور  عوامی    جنازوں  اورتعزیتوں  سے دور کرنے والی بیگم صاحبہ  نے بھی  کس  جادوئی  شریعت  کے مطابق چہرے کو   کیموفلاج کی طرح ڈھانپ  کر احرام     کے   تقاضا  پورے کیے ،  وہ بھی   پیرنی  جانے  یا پیرنی صاحبہ کا  رب جانے۔لیکن ہینڈ سم خان صاحب کے پرستاروں کیلئے ان کے دینی نظریات سے متصادم قول و فعل یا عوامی فلاح میں ناکامیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ ان کیلئے خان کی تصویریں اور ویڈیوز شیئرنگ اور ان پر تنقید کرنے والوں سے فحش کلامی ہی سکھ چین کا باعث ہیں۔

 آج ہمیں  یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اس بربادی اور  ان  تمام حالات کے اصل  ذمہ دار  ہم خود ہیں۔  کہ ہم نے ایک ایسے  شخص سے ریاست مدینہ کی توقع رکھی جسے نبیء آخر الزماں ﷺ کا نام مبارک لیتے اور ان کا ذکر کرتے ہوئے مودبانہ الفاظ کے چناؤ اور ان کے نام گرامی کے ساتھ قابل اعتراض الفاظ سے اجتناب کی رتی برابر بھی عقل و فہم نہیں ۔ حیرت ہے کہ جس شخص کو احرام  کے تقاضوں کا علم نہیں ہم اس کو ریاست مدینہ کا داعی اور اپنی نام نہاد تاریخ اسلام کا ہیرو بنائے بیٹھے ہیں۔

قوم سے فلاحی ریاست اور ریاستِ مدینہ کی جعلسازی کے گورکھ دھندوں کی ڈرٹی گیم کھیلنے والے خان صاحب ہی نہیں مشرق و مغرب کے بادشاہ گر بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم کا عشق مصطفٰے جنونِ آتش ہے ۔ لہذا غربت ، مہنگائی اور قتل افلاس روکنے کے فریبی وعدوں کے ساتھ ساتھ مدینہ کی ریاست جیسے پاکستان کا خواب دکھانا ، اس جذباتی قوم سے ووٹ لینے کا آسان ترین نسخہ تھا۔ اس نعرے پر لوگوں نے اندھا اعتماد کیا اور خان اینڈ کمپنی اس قوم کو تاریخی جُل دینے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن اس  کے بعد ریاست ِ مدینہ کے جعلی دعویداروں اور زمانے بھر کے لوٹوں  کا جو غریب شکن لوٹ مار پروگرام اور دین سے بیزاری کی ڈرٹی گیم کھل کر سامنے آئی  ہےکیا وہ ابھی بھی ہم سب کے سر پیٹنے کیلئے  نا کافی  ہے؟

آئیں ذرا خود  سے  پوچھیں  کہ آخر ہم سے  کیا  اور کہاں غلطی  سرزد ہوئی ۔ تو فوری جواب ملے گا کہ ہم نے ریاستِ مدینہ کے اس دعویدار کی سیاسی نابالغی اور دینی نظریات سے متصادم  مادر پدر آزاد یورپی طرز زندگی کی ضدی روش کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر یکسر نظر انداز کیا تھا۔ یہ شخص ہمیں اپنی حماقتوں سے بار بار یہ اشارے دیتا رہا کہ وہ اسلام سے بیزار ہی نہیں بلکہ اسلام دشمن عناصر کا آلہ کار بھی ہے۔ لیکن ہم پاگل پن کی حد تک اس کے   ایسے وعدوں پر بھی فدا ہوئے کہ وہ معیشت اتنی تگڑی کر دے گا کہ لندن اور امریکہ کے لوگ بھی پاکستان میں ملازمتیں کرنے آئیں گے۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستانیوں کے بھی چولہے بھجنے لگے ہیں۔

قارئین کرام آج کچھ خاص باتیں یاد دلانا چاہتا ہوں !  2013ء کے الیکشن کمپین میں خان صاحب نے ایک قادیانی میاں عاطف کو وزیر خزانہ بنانے کا کہا تھا۔ میں نے اور کئی دوستوں نے اس کے قادیانی ہونے کے بارے آواز اٹھائی۔ اور خان صاحب نے یہ  جھوٹ بول کر  معذرت کی کہ وہ اس کے قادیانی ہونے سے ناوافق تھے۔ جبکہ خان صاحب کا  ایک  ایسے شخص کی پروفائل سے آگاہ نہ ہونا اور بھی  زیادہ خطرناک تھا جسے وہ اپنی حکومت میں اہم عہدہ دینے کی بات کر رہے تھے 

لیکن انتہائی قابل غور یہ ہے کہ چار سال بعد حکومت بنانے پر خان صاحب نے  پھر اسی قادیانی کو مشیر خزانہ لگانے کا اعلان کیا۔ مگر اس بار خان صاحب پہلے والا یہ سفید جھوٹ نہیں بول سکتے تھے کہ وہ اس کے قادیانی ہونے کے بارے لاعلم ہیں ۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ وہ قادیانی موجودہ وزیر تعلیم شفقت محمود اور فواد چوہدری کا قریبی دوست ہے۔ اور  ایسے ہی خان صاحب کی کابینہ  کے کچھ     مغربی آلہ کار   آج قادیانیوں کو محکمہ تعلیم ، لائبریریوں اور دیگر شعبوں میں عہدے دلوانے کیلئے سرگرم ہیں۔ اور اب یہ بات صرف اس حد تک ہی  نہیں بلکہ تحریک انصاف کا انٹی اسلام گروپ این جی اوز کی اڑ میں مغربی فنڈنگ کے بل بوتے  قوانینِ توہینِ رسالت اور قادیانیت کی  آئینی شقوں کے بھی درپے ہے۔

آج ان حالات کے سب سے بڑے ذمہ دار وہ درباری علماء بھی  ہیں جو حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود صرف مال کمانے کیلئے شاہ کے مصاحب بنے ہوئے ہیں۔ یہ ویسے ہی ابن الوقت ملاوے ہیں جو عباسی خلیفہ منصور کی طرف سے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ پر وحشیانہ مظالم پر ان کی شہادت تک خاموش تماشائی بنے رہے۔ ایسے ہی خوشامدی ملاؤں کے سامنے امام مالک رحمۃ اللہ پر بھی مظالم ہوئے،   امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کو زہر دیکر شہید کیا  گیا لیکن اُن درباری ملاؤں نے خلیفہ کے مفادات کی رکھوالی کیلئے خاموشی اختیار کیے رکھی۔  آج بھی  ویسے ہی سرکاری ملاوے  پائے جاتے ہیں جو خلیفہ مامون الرشید کے کافرانہ نظریہ خلق قرآن کیخلاف کلمہء حق کہنے والے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ پر روا مظالم  پر بھی خاموش رہے۔

خیال رہے کہ امام حنبل جیسے اکابرین پر مظالم ڈھانے والا خلیفہ مامون رشید  قرآن کی تفسیر اور علم الحدیث سے  کلی بے بہرہ تھا ۔ لیکن وہ بھی  دینی علوم سے ناواقف  ان خان صاحب کے ضدی رویے  اور متکبرانہ انداز کی طرح نظریہ خلق قرآن کے مخالفین علمائے حق سے جاہلانہ تکرار کرتا تھا۔

ن

آج آرمی اور سول اسٹیبلشمنٹ کے  بزرگ  حضرات بھی جانتے ہیں کہ 77ء کے متنازعہ الیکشن کے بعد بھٹو صاحب کی ضدی روش بھی ہمارے خان صاحب جیسی ہی تھی ۔ پھر نظام مصطفٰے کی تحریک چلی تو لوگ گولیوں کی بوچھاڑ میں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے  لہوں میں نہائے ہوئے گرتے رہے لیکن شمع رسالت مآب  ﷺ پر فدا ہونے کیلئے پروانوں کی قطاریں نہ ٹوٹیں۔ ان عاشقانِ محمد ﷺ کے خون کے صدقے اللہ نے اس قوم کو جنرل ضیاء الحق جیسا وہ غریب پرور ڈکٹیٹر حکمران دیا۔ جس نے نہ صرف روسی استعمار اور بھارتی براس ٹیک برانڈ مہم جوئیوں کیخلاف کامیاب دفاعی حکمت عملیاں بنائیں اور فوجی اداروں کو مضبوط بنا کر پاکستان کو سرخرو کیا ۔ بلکہ عوامی فلاح اور حکومتی گڈ گورنس کی بھی بہترین مثالیں قائم کی تھیں۔   مغربی آقاؤں کے ایما  پر ایڈونچر کا سوچنے والے   یہ ضرور یاد رکھیں  کہ معاملہ  اگر    نظامِ  قرآن و شریعت   اور  ناموس رسالت یا تحفظ ختم نبوت  کا   ہوگا ،  تو  پھر یہ قوم   77ء  سے بڑھ کر  کٹ مرنے کیلئے  ہمہ وقت تیار ہو گی۔

ممکن ہے کہ آج  ان حالات سے عاجز کچھ لوگ چاہتے ہوں  کہ  آج پھر ضیا الحق جیسا کوئی جرنیل اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ٹیک اوور کر گزرے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ستم رسیدہ کسی عبوری حکومت کو ان حالات کا بہتر حل گردانتے ہوں۔ لیکن میری نظر میں عمران خان کی حکومتی ناکامی اور غریب  عوام کی بگڑتی ہوئی حالت کا واحد حل اگلے دو سال کیلئے ایک ایسی قومی حکومت کی تشکیل ہے جو صرف سابقہ حکومتوں کا نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے کرپشن کنگز کی  بھی منصفانہ تحقیقات کرے اور ان تین سالوں میں گذشتہ دس سالوں سے زیادہ ہونے والی لوٹ مار کا کڑا احتساب کرے۔

میرے لیے سب سے زیادہ افسوسناک بات خان صاحب کی  نا اہلی کے باعث  عسکری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچنا ہے۔ اب لازم ہے کہ افواج پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی اور را برانڈ پراپیگنڈا کرنے والے تمام لیڈروں پر غداری کے مقدمات چلائے جائیں۔ اور حق تو یہ ہے کہ شروعات بھی فوج اور آئی ایس آئی پر سیاست میں ملوث ہو نے اور عسکری اداروں  پر  کرپشن کے الزامات لگانے کے بانی عمران خان کی تمام ویڈیوز کو گواہ بنا کر انہی سے کی جائے۔ فوج کی ساکھ  کو نقصان پہنچانے والے کسی ایک شخص کیلئے بھی   ہرگزکوئی معافی نہیں ہونی چاہئے۔

میرا اٹل دعوی ہے کہ کل کو اگر عدلیہ یا  اداروں  نے خان صاحب کو کرسی سے معزول کیا تو باخدا افواجِ پاکستان کیخلاف زبان درازی میں  یہی   خان صاحب اپنے سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیں گے۔  خان   صاحب کے رفیقوں  اور ان کے سیاسی مخالفین کو بھی  یاد رہے کہ نہ تو  خان صاحب کی  اصلیت و احوال  بتانے والے حکیم سعید  اور  جنرل اسلم بیگ  زندہ ہیں  ۔  نہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل حمید گل جیسے مردانِ حق رہے اور نہ ہی جنرل مشرف اور جنرل باجوہ جیسے پیشہ ور سپہ سالار رہیں گے۔ لیکن ہاں ان شاللہ العزیز میرا پاکستان اور اس کی سلامتی کی ضامن افواج پاکستان تا قیامت زندہ و پائیندہ رہیں گے

فاروق درویش


پاکستان دفاعی انڈسٹری کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button