حالات حاضرہنظریات و مذاہبِ عالم

دوبئی میں قبول اسلام کے بارے کالم نگاری اور تشہیر پر پابندی کیوں؟

گذشتہ سال دوبئی میں آٹھ سو باون افراد نے اسلام قبول کیا تھا ۔ لیکن افسوس کہ ان نو مسلموں کے تعارف کے بارے میرے اس کالم کی دوبئی میں سوشل میڈیا شیئرنگ پر گذشتہ برس پابندی لگا دی گئی تھی


Share this
  سال 2020ء   کے رمضان المبارک میں  دوبئی  میں مقیم سیکڑوں  غیر ملکیوں  نے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلی بار روزے رکھے  ۔  مصدقہ اخبارات کے مطابق   گذشتہ جنوری اور اپریل 2020 کے مابین آٹھ سو باون  غیر مسلموں   نے اسلام قبول کیا  تھا۔

افسوس کہ   گذشتہ برس ایک مسلمان ملک  یو اے ای میں  میرے اس  آرٹیکل کی  سوشل میڈیا  شئیرنگ پر  بلا جوازپابندی عائد کر دی گئی ۔  اُن دنوں میرے دوبئی  قیام کے  دوران  اس خبر  کی تشہیر کے جرم میں میرا   ساڑھے تین لاکھ ممبرز کا فیس بک پیج   ہیک کرنے کے بعد  میری آفیشل سوشل میڈیا آئی ڈیز  بھی بلاک کر دی گئی تھیں

۔

جہاں  2020ء کے  سال کا مقدس رمضان کا مہینہ دنیا سمیت  مسلمانوں کے لئے  بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے قدرے تکلیف دہ  رہا  تھا ۔  وہاں یو ای اے کے اخبار دی نیشنل سے بات کرتے ہوئے کچھ  اسلام قبول کرنے والے مذہب پسند لوگوں نے رمضان المبارک کے ساتھ اپنے پہلے خوش گوار تجربے کے بارے میں ایمان فروز گفتگو کی  تھی۔ 
۔
اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک باون سالہ سابقہ عیسائی شان بیسٹ کا کہنا تھا کہ "متحدہ عرب امارات کے ماحول نے اسلام کے بارے میں جاننے میں میری مدد کی”۔ انہوں نے کہا کہ ” مشرق وسطی میں رہنا ، دل سے اسلام قبول کر کے مسلمان بن جانا  اور طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک روزے رکھنا ایک ایسا  تجربہ تھا جس کے بارے شان بیسیٹ نے  کبھی سوچا بھی نہیں تھا” ۔شان بیسٹ اسکاٹ لینڈ کے ایک عیسائی گھرانے میں  پیدا ہوئے، 16 سال کی عمر میں برطانوی فوج کی طرف سے مختلف محاذوں پر  لڑے اور 1980 کی دہائی کے آخر میں جرمنی میں پہلی بار مسلمانوں سے ملے۔

متحدہ عرب امارات، بھارت اور فرانس کے اتحاد کے بارے نیچے لنک پر یہ خبر بھی پڑھیں

 
ایک آئی ٹی کمپنی چلانے والے مسٹر بسیٹ نے بتایا  کہ ” میں اسی کمپنی کیلئے   جرمنی کے شہر برلن میں کام کرتا تھا اس نے مجھے 2016 میں متحدہ عرب امارات بھیجا۔ اس سے پہلے میرا مسلمانوں سے  کبھی زیادہ واسطہ نہیں رہا تھا اور میرے ذہن میں مسلمانوں کے بارے صرف فوجی تصورات تھے ، کیونکہ  اس دور میں  عراق اور افغانستان کی جنگیں  جاری تھیں  "۔
 
پھر جب میں  متحدہ عرب امارات میں منتقل ہوا  تو مجھے احساس ہوا کہ میرے بیشتر دوست مسلمان ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح سے چل پڑے۔ انہوں نے مجھے اسلام کے بارے میں  بہت کچھ سکھایا اور میری رائے بدل دی۔ جب میں نے اس پر مزید تفصیل کے ساتھ غور کیا تو مجھے احساس ہوا کہ اسلام  کا فلسفہء حیات بالکل وہی تھا جس کی میں تلاش کر رہا تھا۔
 
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس  کی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی پابندیوں نے زندگی کے چیلنج میں مزید اضافہ کردیا ہے کیوں کہ ان کے دوست  عربی زبان میں تلاوت کی جانے والی  قرآنی آیات اور دعاؤں کو سمجھنے میں مدد کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہیں ۔مسٹر بسیٹ نے کہا ، "یہ بات مجھ پر جلد واضح ہوگئی کہ رمضان محض روزہ ہی نہیں ہے”۔ بحرحال میں نے سوچ لیا تھا کہ جلد از جلد قرآن پڑھنا اور نمازیں ادا کرنا سمجھ سکوں ۔ انہوں نے کہا کہ "میرا سب سے بڑا چیلنج عربی میں دعائیں سیکھنا اور تلاوت کرنا تھا ، کیوں کہ مجھے ابھی تک پریشانی ہے۔ یوٹیوب نے تلفظ  سیکھنے میں مدد کی لیکن یہ بہت مشکل کام ہے”۔ 
۔
چالیس سالہ روسی شہری ایوان نائٹس برج ایک سال قبل روس سے دوبئی منتقل ہوئے  لیکن امارت کے ان کے متواتر دوروں سے انھیں اسلام کے بارے میں جاننے میں بہت مدد مل۔ انہوں نے 20 مارچ کو اسلام قبول  کیا اور رمضان المبارک کی تیاری میں ایک ماہ قبل سے اپنی نیند ، کھانے پینے اور ورزش کی عادات میں ردوبدل شروع کردیا تاکہ وہ طلوع آفتاب  سے غروب آفتاب تک روزے کے مطابق ڈھل سکے۔
Ivan Knightsbridge converted to Islam in March 2020
روسی شہری سابقہ عیسائی ایوان نائٹس برج نے مارچ 2020 میں اسلام قبول کیا ہے
ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے مسٹر نائٹس برج نے کہا ، "میرا پہلا چیلنج یہ ہے کہ میں اپنی جسمانی ورزشیں شام کے وقت مغرب ، شام کی نماز سے پہلے ہی کرتا ہوں ، جب میں سارا دن روزہ رکھتا تھا۔“دوسرا چیلنج سارا دن پانی نہ پینا ہے۔ لیکن اگر میں  کھانے پینے اور مشروبات پر توجہ نہ دوں اور  دعاؤں اور قرآن کو پڑھنے پر توجہ مرکوز رکھوں تو وقت گزرتا ہے۔ اور  یہ  فارغ  وقت  مجھے اسلامی  عقیدے  کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ 
۔
انہوں نے کہا کہ رمضان نے اسے اپنی کچھ عادات کو "بہتر بنانے” میں مدد فراہم کی ہے ، جیسے اس بات کو یقینی بنانا کہ وہ شائستہ ہوں ، "خالص افکار” سوچیں اور اپنے عمل کو دیکھیں-مسٹر نائٹس برج 2012 سے ہی متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھے اور انہوں نے مشاہدہ کیا کہ مسلمان اپنے عقیدے پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ، "میں دوستوں کے ذریعہ اور دوسرے لوگوں سے بات کرکے  اسلام کے بارے میں سیکھا۔
۔

اس مارچ میں اسلام قبول کرنی والی خدیجہ کے لئے رمضان ان کا پسندیدہ  دورانیہ ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات اللہ کے لئے مکمل عقیدت کا ماحول پیش کرتا ہے.خدیجہ  جن کا سابقہ نام  شرلی روڈریگ تھا بتایا کہ وہ   ایک ہسپانوی کیوبن خاتون ہیں۔ وہ ایک عیسائی کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئی لیکن اب وہ اسلام کو  دین کے طور پر قبول کرنے کے بعد اللہ کے قریب ہونے کی کوشش میں پوری طرح پرعزم ہیں۔

 

Khadeeja Converted to Islam in Dubai
ہسپانوی کیوبن عیسائی خاتون خدیجہ صاحبہ نے دوبئی میں اس رمضان سے قبل اسلام قبول کیا ہے

۔

خدیجہ نے بتایا کہ ” وہ بچپن میں ایک عیسائی  کیتھولک اسکول گئی تھی۔  لیکن وہ دل سے عیسائیت کے مذہبی مفہوم کو پوری طرح سے سمجھ نہیں سکتی تھی” ۔ اس نے بتایا کہ ” بعد میں ، میرا کنبہ لندن چلا گیا، جہاں میں نے صحافت میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔ پھر میں نے اپنی زندگی میں عیسائی مذہبی رسوم و رواجوں کو روک دیا کیونکہ وہ  میرے دل سے مطابقت نہیں رکھتے تھے”۔ اس نے بتایا کہ 2015 میں ابو ظہبی کے دورے سے اس کے اندر کچھ بدل سا گیا تھا۔ اس سال بھی میں رمضان المبارک کے دوران ہی  یہاں آئی تھی ۔ اور میں اپنے دل میں اسلام کیلئے کشش کی علامتوں کو محسوس کرسکتی تھی”۔

۔

شادی کے بعد اسلام قبول کر کے بھارت سے یو اے ای منتقل ہو جانے والی  فاطمہ زہرہ کے لئے  رمضان بہت خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک نئی مسلمان کے طور پر ان کی پہلی ہے اور وہ کھل کر مشاہدہ کرسکتی ہے۔محترمہ زہرہ  کا  ہندو  نام انوشکا تھا۔  انہوں  نے دی نیشنل کو بتایا کہ وہ ہندوستان میں گھر  میں روزہ رکھنے کے بارے میں محتاط تھیں کیونکہ ان کی والدہ کو ان کے اسلام کی طرف مذہبی جھکاؤ  کا علم نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ  مسلمان  شوہر سے شادی کرنے کے بعد  اس  کے والدین نے اسے منظور نہیں کیا لہذا وہ  تین ماہ قبل دوبئی چلی آ گئیں۔ وہ باضابطہ طور پر مسلمان ہو چکی ہے اور رمضان کے مہینے کو پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔
 
دوبئی کے ایک اسکول میں  پڑھانے والی  محترمہ زہرہ نے  بتایا کہ ، ” بھارت میں رہ کر سب سے چھپ کر  روزہ رکھنا مشکل تھا  کیونکہ  میں نہ ہی سحری اور افطاری  کر سکتی تھی اور  نہ ہی وقت پر نماز پڑھ سکتی تھی۔ زہرہ صاحبہ نے بتایا  کہ اب ان کے والدین نے اس کی  ایک مسلمان سے  شادی کو قبول کرلیا ہے اور  اب وہ ہم سے اپنے تعلقات کو نئے سرے سے  استوار کررہے ہیں۔
دعاگو ہوں کہ اللہ سبحان و تعالی ان تمام نو مسلم خواتین و حضرات  کو اسلام کا نظریہء حیات   سمجھنے اور اس پر عمل پیرا  ہونے کی  توفیق و استقامت عطا فرمائیں
فاروق درویش
.
 گشتہ برس دوبئی میں  ہندوتوا کے اعتراضات  کے باعث سوشل میڈیا پابندی کا نشانہ بننے والا  یہ کالم اب پاکستان سے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے ۔

.
.

گمراہ اور عیاش ریاستوں کے انجام کے بارے میرا یہ تاریخی کالم بھی پڑھیں

شباب و شراب میں ڈوبی عریاں ریاستوں کا انجام



اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button