تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

قوم کا اگلا پلے بوائے حکمران بلاول زرداری

Rise of an other corruption king in Pakistan

پی پی پلے بوائے گروپ کے  جیالے جوان بلاول بھٹو زرداری نے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد دینے کیلئے بتوں کی پوجا پاٹ میں عملی شرکت کا جو انداز اپنایا، وہ کسی ملا کے فتوی کے مطابق نہیں بلکہ کتابِ الہی قرآن حکیم کی رو سے عین کفر ہے۔ ہندو برادری کو مبارکباد کا پیغام دینا، بلاشبہ  بین المذاہب امن و رواداری کا پیغام ہے لیکن ہندوتوا پوجاپاٹ میں عملی شرکت تمام مسالکِ دین اور تمام مکاتبِ فکر کے نزدیک لادینیت نہیں بلکہ مشرکانہ ہے۔ یاد رہے کہ انہوں نے دو برس قبل کرسمس  کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے  اس  صلیبانہ خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں   عیسائی وزیر اعظم دیکھنے کے خواہاں ہیں، تو ایسا گمان ہوا کہ گویا ان میں پوپائے روم کی  زندہ  روح حلوت کر چکی ہے۔

بلاول کے بیانات دراصل گذشتہ برسوں سے ” خالص سیکولر ” اور اعلانیہ ” صلیبی غلام ” پالیسی اپنانے والے زرداری گروپ کی صلیبی برانڈ حکمت عملی  ہی  کا  تسلسل  ہے۔  وہ اپنے کرپشن کنگ  گروہ  کو شہیدوں اور بہادروں کی جماعت قرار دیتے ہوئے مقتول سلمان تاثیر اور انجہانی شہباز بھٹی کا ذکر کرتے ہیں۔ تو جہاں ان کی محبوبہء خصوصی خوش رنگ حنا کا دل دھڑکتا ہے،  وہاں اہل نظر کو بھی یہ اندازہ ہوتا ہے  کہ گذشتہ الیکشن میں بری طرح سے پٹے ہوئے جیالوں نے اگلے اقتدار کے حصول کیلئے اب عوام کی بجائے ، صلیبی بادشاہ گروں اور مغربی تہذیب و فکر کے علمبردار سیکولرعناصر کو خوش رکھنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ یاد رہے کہ بلاول نے کہا  تھا کہ حضرت عیسٰی کے چاہنے والوں کیلیے پارٹی کے لوگوں نے اپنی جانیں تو دے دیں لیکن ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی۔ ایک عرصہ لندن کی گوری مٹیاروں کے ساتھ رہ کر شاید وہ یہ بھول گیے تھے کہ وہ جن لوگوں  کے ہجوم سے مخاطب ہیں وہ نبی آخر الزماں محمد ص کے امتی اور چاہنے والے ہیں۔ ان مسلمانوں کے ایمان کا جزوء اول عشق مصطفے اور خاصہء دین آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام سچے نبیوں پر ایمان اور ان کی توقیر و تکریم  ہے۔

لندن  میں سلمان تاثیرکی تقلید میں نان حلال  پکوان کھا کھا کر وہ اپنے گستاخ اسلام صلیبی دوستوں کی زبان تو سیکھ گئے لیکن آج تک یہ نہیں جان پائے کہ آج بھی انگلستان کے قانون کے مطابق توہینِ مسیح کی سزا عمر قید ہے۔ لیکن گوروں اور ان کے غلام سلمان تاثیر ، آنجہانی عاصمہ جہانگر برانڈ این جی او کوئینز کو توہین رسالت کی شرعی سزاؤں پر  شدید تکلیف  ہے۔ بلاول کو یاد رہے  کہ ان کی والدہ  اور سلمان تاثیر اسی صلیبی  فرمانبرداری کی قیمت جانیں دیکر ادا کر چکے ہیں۔  انہیں محتاط رہنا چاہئے کہ اس آگ میں کود کر اگر وہ بھی  خامخواہ میں “شہید” بن گئے تو بھٹو خاندان کے اقتدار کی امیدوں کا چراغ ہمیشہ کیلئے گل ہو جائے گا۔ انہیں خیال رکھنا چاہئے کہ وہ   خوش رنگ حنا کھر جیسی مضطرب دوستوں کی امید ہیں۔

 ماضی میں انہیں حیا  صاحبہ کی طرف سے  بھیجے گئے عید کارڈ پر لکھی اضطرابی تحریر کے الفاظ ”ہم نے بہت انتظار کر لیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے انتظار کو ختم کریں”۔  سیاست کیلئے سامراجی آشیرباد  سے  برہمن لابی تک کی ہر خواہش پوری کرنے کیلئے تیار خوش رنگ حنا صاحبہ نے یہ جملہ پاکستان کے مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم بلاول کےقریب تر ہونے کیلئے ہی کہا تھا۔ بلاول صاحب کو یہ ضرور  خیال رکھنا چاہیے کہ سیاست میں آگے سے آگے بڑھنے کے نظریے پر رواں دواں حنا ربانی کھر جیسی کئی معزز روحیں آج بھی ملکہ عالیہ بننے کے خواب دیکھ رہی ہوں گی۔

بلاول زرداری  کہتے ہیں کہ ہے ان کی پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں کارکنوں کی جانیں بچانے کیلیے سو سیٹیں قربان کر دیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ  سیاست دان ہمیشہ ہی اپنے کارکنوں کے جنازوں کی سیڑھیوں پرایوان اقتدار تک پہنچنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کے والد گرامی نے بھی ان کی والدہ کے جنازے پر چڑھ کر ہی ایوان صدر کی دیوار پھلانگی تھی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو بہادروں اور شہیدوں کی پارٹی قرار تو دیتے ہیں لیکن ماں کی طرح “شہید ” ہونے کے ڈر سے ایک مدت لندن کی گوری آغوشوں اور کروڑوں ڈالرز کے سیکورٹی پیکج کے خول میں رہنے کی وجہ نہیں بتاتے۔  بلاول  یہ نہیں بتاتے کہ لیاری کے جیالوں کے ہاتھوں لقمہء اجل بننے والوں کے خون کا الزام کس کے سر دھریں گے۔ ان کے دونوں ماموں کس کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ان کے مقدمات رکوانے میں کون شخصیت پیش پیش رہی۔ درراصل ماں کو کھو کر مسکین ہو جانے والے بلاول  جانتے ہیں کہ اپنی والدہ کے قاتلوں کو تختہء دار تک پہنچا کر وہ خود بھی یتیم ہو جائیں گے۔

سو ماں کے خون سے غداری کرنے والے بہادر سپوت  نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنی مقتول والدہ کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اپنی جیالی حکومت کی حسن کارکاردگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کرتے۔ لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ کراچی اب بھی برطانوی کالونی ہے۔انہیں یاد دلایا جائے کہ کراچی کو برطانوی کالونی بنانے والے بھارتی آلہ کار کے ٹارگٹ کلر بھتہ خور انہیں کے واالد صاحب کے حلیف رہے ہیں۔ بلاول صاحب اپنے سیکولر زبان و انداز میں مذہبی ٹھیکداروں کے خلاف جہاد کا اعلان کے ساتھ  یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی اپنی پانچ سالہ حکومت میں دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکی۔ لیکن بحرحال ان کی جماعت نے دہشت گردوں کا سینہ تان کر ان کا مقابلہ کیا۔  بہادر بلاول  نے لندن کے پلے بوائے ہاؤس میں انگنت گوری دوستوں کے سامنے سینہ تانا  یا بھوک اور افلاس سے مرتے ہوئے ہاریوں کے قبرستان تھر میں برپا میوزیکل فیسٹیول میں جیالی رقاصاؤں کے سامنے رقصاں ہوئے ، لیکن  ان میں اتنی جرات کبھی نہیں ہوئی کہ وہ وزیرستان کے کسی دوراہے پر کھڑا ہو کر اپنے ماں کے فرضی قاتلوں سے سرگوشی میں بھی بات کر سکتے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بلاول جیسے ہزاروں بہادر ، محمد شاہ رنگیلا کی اس فوج میں بھی موجود تھے۔ جنہوں نے نادر شاہ درانی کے محل میں داخل ہونے پر ” اللہ ان کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں” اور ” اللہ ان کی تلواریں توٹ جائیں” کے بہادرانہ طریق سے مقابلہ کیا تھا۔ بلاول اپنی سیاست کا آغاز والدہ پر کارساز حملے کی سالگرہ پر کریں یا ان کی نام نہاد شہادت کی برسی پر،  وہ مقدس جنازہ ان کے والد حضور کیش کروا چکے ہیں اور سیاسی جنازے بار بار کیش نہیں ہوتے۔

 زرداری صاحب نے ان کو پارٹی قیادت سونپی ہے تو عوام  دعا گو  ہیں کہ  زیادہ بہادری دکھا کر اپنے نظریاتی  سلمان تاثیر کی قربت میں جانے  کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ انہیں خیال رہے کہ ان کی ملکہ ء عالیہ کے خواب دیکھنے والی کئی  پریاں   ان کی جادوئی آغوش میں آنے کیلئے بے قرار ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں قیام کا حوصلہ کیا ہے تو اس ملک کی سیاست کے انداز اور عوام کے دینی و نظریاتی رحجان کو دیکھ کر سمجھنا چاہیے  کہ وہ ان کی ماں کی شہادت ہو، انکے محبوب سلمان تاثیر کی ہلاکت ہو یا بشیر بلور جیسے دوسرے سیکولر سیاست دانوں کی ” شہادت” ان سب کا سبب ان کے وہی سلمان تاثیر برانڈ صلیبی نظریات تھے جن کا اعادہ آج وہ بھی کر رہے ہیں۔

 یہ امریکی و مغربی جادوگروں کے جادو کا ہی کمال ہے کہ اس وقت پاکستان میں روشن خیال اور اسلام دوست نظریات کا عیاں ٹکراؤ ہے۔ اس سے ملک میں انارکی اور بیرون سے در آمد دہشت گردی پھیلی ہے۔ مگر مغربی غلام میڈیا اور سیکولرز کی جان توڑ کوششوں کے باوجود ملالہ برانڈ  ڈرامے فلاپ ہو رہے ہیں۔  پے در پے ٹھوکریں کھانے والی خوابیدہ قوم میں اب ملی اور قومی غیرت بیدار ہو رہی ہے۔ اب ہماری نئی نسل بھی مغرب اور ہندوآتہ کی اس نظریاتی یلغار کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے جس کا منجن بیچنے اب بلاول صاحب بھی آن ٹپکے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت کی جو کارکردگی رہی ہے وہ انتہائی ناقص اور قاتل مفلس رہی ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرے لگانے والے بہروپیوں سے مفلس عوام کو ریلیف تو نہیں ملا البتہ ان جیالوں کے اندھا دھند لوٹ مار پروگراموں کے باعث مہنگائی ناقبل برداشت حد تک ڑھ گئی اور قومی اداروں میں لوٹ کھسوٹ سے بیروزگاری میں خطرناک اضافہ ہوا۔ 

مستقبل میں بلاول کا جو بھی سیاسی کردار ہو لیکن پی پی کی پانچ سالہ ناقص ترین کارکردگی سے عوام اتنی متنفر ہو چکی ہے کہ اب والدہ کی یاد میں مصنوئی آنسو بہانے والے بہادر بلاول کو سیاسی میدان میں لانے سے پی پی کو کوئی غیبی مدد ملنے کا چانس کم ہی ہے۔ لیکن زرداری مافیہ کے پاس پھر سے اقتدار حاصل کرنے کا ایک طریقہ ضرور بچا ہے۔ وہ یہ کہ بینظیر کی طرح اب بہادر بلاول زرداری بھٹو کو ” سیاسی شہید” بنا کر آصفہ زرداری بھٹو کو وزیر اعظم پاکستان بنوایا جائے۔ اور پھر سے وہی پرانا کھیل شروع ہو جائے جو جیالوں کے ہر دور حکومت میں ہوتا رہا ہے یعنی ” جئے بھٹو، رج کے لٹو”۔

لیکن ذرا سوچیے کہ پھربلاول بھٹو زرداری کی خوش رنگ حنا  جیسی بے چین روحوں کا کیا ہو گا۔ جی ہاں وہی جو پاکستانی سیاست دانوں کے حسن پرست معاشرے کا خوش رنگ حسن ہے۔ کہ نہ تو یہاں اقتدار کی دوڑ میں شریک سیاسی گھرانوں میں بلاول سے بڑھ کر خوبرو اور وجیہہ القامت دل پھینک مردوں کی کمی ہے اور نہ ہی سیاسی وابستگیاں بدلنے کے حوالے سے کسی سیاسی مرد و زن میں کوئی غیرت باقی ہے۔ بلاول کے بعد اگلا قرعہء عشق حمزہ شہباز شریف یا حتی کہ مغربی تہذیب  میں لتھڑا کوئی مادر پدر آزاد انقلاب لانے کے داعی مردانہ وجاہت کے شاہکار خوبرو حضرت سونامی  خان صاحب کے نام بھی تو نکل سکتا ہے ۔۔۔

 فریبِ دہر ہے قاتل کی مرثیہ خوانی  :  بنے مزارِ صنم قصرِ اقتدار چلے۔۔۔۔۔

       فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ ۔۔۔ 00923224061000

اپنی رائے سے نوازیں

Advertisement

ہمارا مرکزی فیس بک پیج

ورلڈ نمبر ون ویب ہوسٹنگ

ویب ورلڈ کی بہترین برانڈ ہوسٹنگ

%d bloggers like this: