حالات حاضرہ

فلسطین کے آنسو ‘ حماس کی دلیری اور ایران کی دیری

اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہونے کے دعویدار ایران کے شام اور عراق میں موجود جنگی کمانڈر اور تباہ کن میزائیلوں سے لیس فوجی یونٹ اسرائیل کے نزدیک ترین ہونے کے باوجود پر اسرار طور پر خاموش ہیں


انبیائے حق کے زمانوں سے اب تک انسانیت پر سفاک مظالم ڈھانے والے یہودیوں کی دہشت گرد ریاست اسرائیل کی نہتے فلسطینی مسلمانوں پر وحشیانہ بمباری جاری ہے۔   عالمی امن  کے ٹھیکیداروں کا بھیانک چہرہ عریاں ہو رہا ہے۔ یہودی لابی کی حمایت سے امریکی صدر بننے والے جوبائیڈن نے اسرائیلی بربریت کو اس کا سیلف ڈیفنس کا حق قرار دیا ہے۔ مغرب کی  لاڈلی ملالہ کی  طرف سے بھی اسرائیلی  قصابوں کے  انسانیت سوز مظالم   کو صرف  ” ایک تنازعہ” کہنا  اس امر کی نشانی ہے۔ کہ وہ عرب حکمران ہوں یا    مغرب  و سامراج کے         پالے ہوئے  انٹی مذہب شو پیس کردار،  ان   دو رنگی چہروں کیلئے     اپنے آقاؤں کیخلاف  سچ بولنا    ان کی  روزی روٹی  کی موت  ہے۔ 

 فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام پر اسرائیلی بغل بچے بھارت کی کنگنا رناوت جیسی رقاصاؤں اور مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی والہانہ حمایت ریاستی دہشت گرد بھارت اور ہندوتوا کی اسلام دشمنی کا پراگندا چہرہ بینقاب کر رہی ہے۔کشمیری مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کرنے والے دہشت گرد بھارت کی طرف سے فلسطین کے قصاب اسرائیل کی کھلی حمایت لا یعنی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے وجود سے خوف زدہ اسرائیل گذشتہ دس سال سے بھارت کو جدید ترین جنگی آلات  ،  تباہ کن ہتھیاروں کی سپلائی  اور  میزائیل ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی اور سیاسی یا مذہبی بدامنی کے پس پردہ اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ فعال اور سرگرم ہے۔

جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے آلہ کار اور اتحادی ، نام نہاد مسلمان عرب  حکمران اپنے طلائی محلوں میں بیٹھے فلسطینی مسلمانوں کے  بے رحم قتل عام پر خاموش مسکرا رہے ہیں۔ البتہ  فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل میں واقع متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی مشترکہ  آئل ریفائنری کو راکٹوں کے پے در پے حملوں سے تباہ کر کے یہ کھلا اشارہ دے دیا ہے ۔کہ اب اسرائیل کی طرف سے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم اور قتل عام کے حامی عرب ممالک کی تنصیبات اور مفادات بھی نشانہ بنائے جائیں گے۔  آنے والے دنوں میں حزب اللہ   اور حماس کی طرف سے مشترکہ کاروائیاں  اسرائیلی حکومت اور ستر لاکھ عوام کیلئے عذاب جان بن جائیں گی ۔

خیال رہے کہ حماس جیسی جنگجو تنظیمیں ٹینکوں اور توپوں سے خالی صرف خود ساختہ     راکٹوں سے جوابی حملہ آور ہیں۔   ایران نواز  حزب اللہ  جنگجو بھی صرف راکٹوں پر انحصار کرتے ہیں  ۔  عجب دو رنگی اور منافقت  ہے  کہ     ایران کے حامی طبقات    کی طرف  سے  ایسے ایرانی    ویڈیو    پیغامات   سوشل  میڈیا پر وائرل کیے جاتے ہیں کہ افواج  پاکستان  کو اسرائیل  کیخلاف فلسطینی عوام کی مدد  کرنی  چاہیے۔ لیکن   اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن ہونے کے دعویدار   ایران کے شام اور راق میں موجود حاضر سروس  کمانڈر اور     ہیوی میزائیلوں  سے لیس فوجی یونٹ اسرائیل کے نزدیک ترین ہونے کے باوجود پر اسرار طور پر  اسرائیل کیخلاف خاموش   رہتے ہیں۔ حماس کے لیڈروں کا یہ سوال بڑا معنی خیز ہے کہ ایران کی طرف سے فلسطین کی امداد کے دعوے صرف زبانی کلامی کیوں ہوتے ہیں۔  فلسطینی پوچھتے ہیں کہ ایران کے میزائل اسرائیلی سرحد کے قریب ترین ہونے کے باوجود کیوں نہیں چلتے؟ تعجب ہے کہ فلسطین  کی  امداد  کیلئے روانہ ہونے والے ایرانی  بحری جہاز راستے میں ہی غائب ہو کر کہاں  چلےجاتے ہیں؟

اسرائیل کی طرف سے اس کے جنگی جرائم کی خبریں نشر کرنے والے الجزیرہ ٹی وی اورایسوسی  پریس  سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا دفاتر تباہ کر کے عالمی میڈیا کو خاموش کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ جبکہ یہودی مظالم کو اجاگر کرنے والےالجزیرہ کے صحافیوں کا جرات مندانہ اعلان ہے کہ ” الجزیرہ خاموش نہیں ہوگا، ہم اس کی ابھی ضمانت دیتے ہیں”۔ یاد رہے کہ  خلیج ی صورت حال کی سچی تصویر دکھانے کے جرم میں الجزیزہ  نیوز کی نشریات  اور  ویب سائٹس  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات  میں گذشتہ دو برس سے  بلاک ہیں۔

عالمی دہشت گرد اسرائیل کی طرف سے عید الفطر کے روز بھی غزہ میں بلند و بالا عمارتوں، ہسپتالوں  اور نہتے عوام کے پناہ گرین کیمپوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رہا ۔ عالمی پریس کے مطابق اب تک 50 معصوم بچوں سمیت 200 سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ رہائشی عماریں کھنڈرات اور پناہ گزیں کیمپ راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ بے یار و مدد گار لوگ بچوں کو گلیوں اور بازروں میں لیکر بیٹھے بے حس دنیا اور سامراجی غلام مسلمان حکمرانوں کا ضمیر جاگنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

دنیائے بے رحم کی خاموشی بتا رہی ہے کہ یہ فتنہ پرور یہودی اب عیسائیت یا عالمی طاقتوں کے محتاج نہیں رہے۔  بلکہ آج امریکہ اور مغرب خود  ان کے محتاج و گدا ہیں۔ آج صرف امریکہ میں ان کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی سے دوگنی ہو چکی ہے۔ آج یہ یہودی امریکہ اور مغرب کے اکثر و بیشتر اہم اداروں کے حساس عہدوں پر فائز ہیں۔ یہودی سرمایہ کاری  سے ہی  امریکہ اور مغرب کی  صنعتوں اور معیشت کی سانسیں  رواں ہیں۔

امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے اسرائیلی مظالم کو اس  کی حفاظت کا حق کہنے پر حیران ہونے والے یاد رکھیں ۔ یہ یہودی امریکہ کے صدارتی انتخابات میں حیرت انگیز حد تک سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ کوئی امریکی صدر یا مغربی حکمران ان کی مرضی اور آشیرباد   کیخلاف   منتخب  نہیں ہو  سکتا ۔  صرف امریکی صدر ہی نہیں ہر مغربی حکمران ان کا فرماں بردار بن کر ان کے اشارہء ابرو کا پابند رہتا ہے۔ لہذا  یہودیوں کے  غلام امریکی سامراج اور مغربی استعمار کے  گماشتہ  مسلمان حکمرانوں کو بھی اپنے دونوں  آقاؤں کی طرف سے صرف اور صرف  خاموش رہنے کا ہی حکم ہے۔

وقت کا مورخ غزوہء ہند اور  زمانہ ظہور مہدی علیہ السلام کا منتظر ہے

فاروق درویش


 تازہ ترین ڈیفنس نیوز  کے حوالے سے میرا دفاعی تجزیہ پڑھیں

پاکستان اور ازبکستان نے امریکہ کو فوجی اڈے دینے سے انکار کر دیا

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button