تاریخِ عالم و اسلامریاست اور سیاست

شاہ ، مداری اور خان کیلئے عبرت انگیز – سکندراعظم کا جنازہ

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔ سکندر اعظم کے خوابوں کا ٹوٹتا اور تکبرانہ سوچ کا بے بسی کی موت پر اختتام  زمانوں کیلئے عبرت ہے

Share this

 تاریخ کے اوراق سے انسان کے حالیہ مسائل کے حل کیلئے بہت کچھ ملتا ہے۔  گزشتہ اقوام اور افراد کے حالات و واقعات  لوگوں تک پہنچانا سنتِ پروردگار بھی ہے۔  قصص القران گواہ ہیں کہ کئی مقامات پر سابقہ اقوام کے حالات سنا کر عبرت اور نصیحت دی گئی ہے۔  سورۃ ہود کی آیت 120  میں ارشاد  ہے کہ ” اے نبی یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مظبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی “۔

لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کی ہر شے یکا یک مشہور ہوتی ہے ۔ امریکیوں نے ہمارے بند کباب کو برگر اور آلو قیمے والے نان کو پیزا بنا دیا تو ہر طرف برگر برگر اور پیزا پیزا ہو گیا۔ امریکی سکالر ولیم فورڈ نے کہا کہ” ہسٹری از اے بنک ” تو پوری دنیا میں ” تاریخ ایک بینک ہے ” کا مقولہ  مشہور ہو گیا۔ حالانکہ بینک کے معانی میں ایمانداری اور امانت داری سب سے پہلی شرط ہے۔ لیکن بادشاہوں کے زرخرید قصیدہ گو مورخین کی لکھی ہوئی کچھ تاریخی کتب سے گمان ہوتا ہے کہ ” تاریخ ایک گھپلا  اور چکر بازی ہے”۔

احباب یہ عجیب اتفاق قابل صد غور ہے کہ امریکہ کی طرح پوری دنیا کی فتح کا خواب دیکھنے والا سکندر بھی  پاکستان کے قبائلی اور شمالی علاقہ جات سے دھول چاٹ کر اس خطے سے نامراد واپس لوٹا تھا۔ میں  بھارت، امریکہ اور مغربی اتحاد کے جارحین کیخلاف متحرک  کشمیری، افغانی اور پاکستانیوں ہی کو اصل مجاہدین سمجھتا ہوں ۔ افواج پاکستان، نہتے عوام اور معصوم بچوں  پر دہشت گرد حملے کرنے والے بھارتی ایجنٹ، جہادی نہیں فسادی ہیں ۔  

یہاں خیال رہے کہ سکندراعظم  کا اس خطے پر حملہ  زمانہ اسلام سے صدیوں پہلے 326 قبل مسیح کی بات ہے ۔ لہذا  اس دور میں روشن خیال یا شدت پسند مسلمانوں کا کوئی وجود نہ تھا۔ لیکن اس قبائلی علاقے کی قدیم تاریخ بھی اس امر کی گواہ رہی ہے کہ یہ کوہساری لوگ بیرونی حملہ آوروں کیخلاف ہمیشہ ہی سے غیرتمند مزاحمت کی علامت بنے رہے ہیں۔ جب سکندر افغانستان سے ہندوستان پر حملہ آور ہونے کیلئے موجودہ پاکستانی علاقے میں داخل ہوا۔ اس وقت  موجودہ سوات، دیر، بونیر اور باجوڑ کے قبائیلی علاقوں میں قدیم بدھ مت  کے پیروکار آباد تھے۔

سکندر اعظم  اسی  وادیء کنڑ سے باجوڑ  میں داخل ہوا جو گذشتہ صدیوں سے سونے کی چڑیا  ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے بیرونی لشکروں کا پسندیدہ راستہ اور ہر دور کے جنگجوؤں کیلئے محفوظ  پناہ گاہ رہی ہے۔ سوات کے قریب ناؤگئی کے مقام پر مقامی پختونوں سے ہونے والی جنگ سرزمینِ پاکستان پر سکندر کی پہلی جنگ تھی۔ اسی جنگ میں وہ ان قدیم پختونوں کے ہاتھوں  پہلی مرتبہ زخمی بھی ہوا لیکن اسکی منظم فوج کے ساتھ  نو ماہ طویل جنگ کے بعد ان غیر منظم مقامی باشندوں کی مزاحمت دم توڑ گئی۔

مابعد  اس علاقے میں اس کا دوسرا بڑا مقابلہ سوات کے قریب و جوار میں آباد کوہساری جنگجو اساکینی قبائل سے ہوا۔ جس میں وہ ان بہادر جنگجوؤں کے ہاتھوں دوسری بار زخمی ہوا۔ لیکن جب جیت کے جنون میں زخموں سے بے پرواہ فاتح کے خون کی گرمی کم اور درد کی شدت بڑھی تو اسے زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ لوگ جس سکندراعظم کو مشتری دیوتا کا بیٹا کہتے ہیں، اس کی حیثیت دراصل ایک عام انسان سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

تاریخ کے مطابق سکندر نے جہلم  کے نزدیک راجہ پورس کو شکست دی۔ لیکن کچھ مبصرین  کیلئے سکندر کی فتح اور پورس کو سلطنت واپس کرنے کا خود ساختہ  قصہ،  یونانی تاریخ نویسوں کی جھوٹی داستان ہے ۔ ان مبصرین کی اس  دلیل میں بڑا وزن  ہے کہ جو سکندر پوری دنیا فتح کرنے کے جنون میں ہر چھوٹی بڑی ریاست کیلئے خون ریز جنگیں لڑتا رہا، وہ  پورس کو شکست  دینے کے بعد  اسے ایک وسیع سلطنت کیسے واپس کر سکتا تھا۔ میرے مطابق پورس سے جنگ کے بعد سکندر کی فوج میں  بغاوت اور واپسی کا اصرار بھی اس موقف کا گواہ  ہے کہ پورس کی شکست کا قصہ دراصل سکندر کے شاہی مورخین کی سٹوری تھی ۔ 


پاکستان ڈیفنس پر میرا یہ کالم بھی پڑھیں

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک


مستنصر حسین تارڑ کے مطابق بھی سکندر کے ہمراہ آنے والے یونانی تاریخ نویس کیسے یہ جرات کر سکتے تھے؟ کہ پوری ایمانداری سے اقرار کرتے کہ سکندر کو چناب کے کناروں پر اتنی “پھینٹی” پڑی کہ اس کی سپاہ نے نہ صرف بغاوت کی بلکہ اس کے بعد  ہندوستان کے اندر جانے سے بھی انکار کر دیا تھا کہ پہلے معرکے میں ہی یہ حشر ہوا ہے تو “اللہ جانے کیا ہو گا آگے” تو “چلو چلو یونان واپس چلو”۔۔

یہی تلخ  تاریخ  سکندر اعظم کے  ظلم و سفاکیت کے کئی چھپے راز بھی کھولتی ہے۔  باپ کے قتل کے بعد اگرچہ  اس  کے علاوہ  حکمرانی کا کوئی اور دعوے دار نہ تھا۔ مگر  شاہی نظریہء ضرورت کے تحت اس  نے بھی ایسے تمام افراد کو چن چن کر قتل کروا دیا جو اس کے اقتدار کیلیے ممکنہ خطرہ بن سکتے تھے۔ حتی کہ اس نے اپنی ماں کے کہنے پر اپنی دودھ  پیتی کمسن سوتیلی بہن تک  کو  قتل کر دیا۔

مگر رواج شاہی میں ایسے قتال انوکھی بات نہیں ۔ دیکھا جائے تو تخت و تاج کے حصول اور حفاظت کیلئے اپنوں اور بیگانوں کی  قتل گری سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ حصول اقتدار اور طوالت اقتدار کی جنگ میں صرف احباب اور عزیز و اقارب کا قتل عام ہی نہیں، مذیب و مسلک اور ملک و قوم سے غداری  بھی رواجِ سیاست  رہا ہے۔ مغل حکمران اورنگ زیب کے ہاتھوں سگے بھائیوں دارا شکوہ اور مراد کا  قتل یا موجودہ دور میں زرداری صاحب کے ہاتھوں مرتضے بھٹو، شاہنواز بھٹو اور محبوب بیوی بینظیر بھٹو کے قتل اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔

 دارا جیسے مہان ایرانی حکمران کو شکست دینے کے بعد سکندر کی رعونت و تکبر کا  یہ عالم تھا کہ وہ خود کو یونانی دیوتا ” زیوس ” کی مقدس اولاد سمجھتے ہوئے اپنے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔ اس نے اپنے قریبی دوست “ لکی توس ” کو صرف اس لئے پیٹ میں نیزہ گھونپ کر بیدردی سے قتل کر ڈالا کہ اس نے سکندر کو دیوتا ماننے سے انکار کیا تھا۔ مگر طاقت اور تکبر کے نشے میں بدمست شاہی کرنے والے لوگ اللہ رب العزت کو قطعی پسند نہیں۔

سکندراعظم  سال ہا سال گھروں سے دور رہنے سے اکتائی ہوئی فوج کی بغاوت اور موجودہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور راجہ پورس سے مقابلوں میں مزاحمت کے بعد آگے بڑھنے سے خائف ہو کر ، جنگی سرداروں کے واپسی کے اصرار کے بعد یونان واپس جاتے ہوئے بابل کے مقام پر ،  یروشلم  اور ہیکل سلیمانی  تیر و تاراج کرنے والے اس بخت نصر کے محل میں بے بسی کی موت مرا ، جو سکندر کی طرح خود کو خدا اور دیوتا سمجھتا تھا۔  قدرت کے باغی شاہ بخت نصر کے محل میں قدرت کے ایک اور باغی سکندر کا سسک سسک کر مرنا دراصل قدرت کی طرف سے یہ خاموش اعلان تھا کہ اصل مقتدر ِ اعلی صرف اللہ کی ذات ہے۔

افسوس کہ گھر سے پوری دنیا  فتح کرنے نکلا  سکندر اعظم اپنے  گھر زندہ  واپس نہ پہنچ سکا۔  حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔ سکندر اعظم کے خوابوں کا ٹوٹتا اور تکبرانہ سوچ کا بے بسی کی موت پر اختتام  زمانوں کیلئے عبرت ہے۔ میری تحقیق کے مطابق واپس لوٹتے ہوئے سکندر کی بابل پہنچنے تک شدید علالت اور موت کی وجہ ان زخموں میں زہر پھیلنا تھا ۔جو اسے موجودہ سوات کے کوہساری جنگجوؤں سے جنگوں کے دوران لگے تھے۔ اور پھر واپسی کے راستے میں بابل پہنچنے پر ان زخموں میں زہر پھیلنا اس کی جواں سالی کی موت کا  سبب بنا۔

 بابل سے اپنے وطن یونان کی طرف  خالی ہاتھ  سکندر اعظم کا جنازہ ، اپنی کلائی پر کروڑوں روپے مالیت کی گھڑیاں باندھنے والے  حکمرانوں، سترہ لاکھ کی بزنس کلاس میں  سفر کرنے والی ” غریب پرور”  سرکاروں اور خود کو اپنی تقدیر کا مالک ” آئی ایم لارڈ آف مائی اون فیٹ ” قرار دینے والے “انقلاب خان ”  کیلئے تازیانہء عبرت ہے۔  وہ خدائی کے دعویدار فرعون و نمرود ہوں ، ظلم و بربریت کے نشان بخت نصر و شاہ نیرو ہوں،  فتنہء حسن  سے تسخیر شاہی کرنے والی ملکہ قلوپطرہ ہو یا فاتح عالم بننے کا متمنی سکندر اعظم، ان سب  کا انجام صرف بے بسی کی موت تھی۔

بے شک میرے پروردگار کا یہ فرمان ہی کافی ہے کہ ، ” فَاعْتَبِرُوْا يٰـاُولِی الْاَبْصَار”۔۔ پس اے دیدہِ بینا والو (اس سے) عبرت حاصل کرو ۔ ۔  شک  تسخیر عالم سے ہزار درجہ بہتر تسخیرِ قلوب ہے کہ  محبت ہی فاتحِ عالم ہے ۔

    در یوزہ گری حرفہ ء درویش و قلندر – کشکولیء شب پیشہ ء دارا و سکندر
کھلتے ہیں یہ اسرارِ قلندر سوئے مقتل – ملبوس فقیری ہے فقط عشق کی چادر

( فاروق دریش۔ واٹس ایپ ۔ 03224061000  )

 


پاکستانی سیاست میں ہم جنس پرستی کے حامیوں کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں ۔ 

برطانوی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کے حامی پاکستانی سیاست میں

 

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button