حالات حاضرہ

امریکہ کے بعد بھارت اور اس کے پالتو دہشت گرد افغانستان سے فرار

بھارت نے افغانستان چھوڑنے سے پہلے قندوز،  قندھار اور لشکرگاہ کے شہروں سے پاکستان کیخلاف دہشت گرد کاروائیاں کرنے والے اپنے سب بغل بچے عسکریت پسندوں کو بحفاظت نیو دہلی منتقل کر دیا تھا


Share this

افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی ڈرٹی گیم   کا آزادانہ  نیٹ ورک چلانے والا بھارت افغان طالبان کے خوف سے افغانستان چھوڑ کر بھاگ اٹھاہے۔امریکی انخلاء  اور  طالبان کی طوفانی پیش قدمی  کے بعد  بھارت کی افغانستان میں  70 ارب ڈالرز  کی سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے۔  بھارت کا تمام سفارتی عملہ اور را کے ایجنٹس بھارت فرار ہو جانے کے بعد بھارت کے سب قونصل خانوں اور سفارت خانوں پر تالے پڑے ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت نے افغانستان چھوڑنے سے پہلے قندوز،  قندھار اور لشکرگاہ کے شہروں سے پاکستان کیخلاف دہشت گرد کاروائیاں کرنے والے اپنے سب بغل بچے عسکریت پسندوں کو بحفاظت نیو دہلی منتقل کر دیا تھا۔

بھارت کے کٹھ پتلی افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ہاتھوں ہزیمت ناک شکست کھانے والے جنرل ولی محمد احمدزئی کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا کر جنرل ہبت اللہ علی زئی کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا ہے۔ طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور اہم شہروں پر قبضے کے بعد جنرل احمد زئی پر تنقید میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس سے قبل مزار شریف کے کمانڈر کو بھی اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ قندوز میں طالبان سے شکست کے بعد ایئر پورٹ میں پناہ لینے والے سینکڑوں افغان فوجیوں نے بھی ہتھیار ڈال کر خود کو طالبان کے حوالے کر دیا ہے۔

پاک  افغان سرحد پر چمن اور سپین بولدک کے مقام پر سرحدی راہداری ایک بار پھر بند کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ طالبان نے منگل کو پاکستانی حکام سے مذاکرات کے بعد اسے نہ صرف کھول دیا گیا تھا بلکہ اس کے کھلنے کے اوقات میں توسیعی  ٹائم  کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔

افغانستان میں تازہ ترین صورتحال 

عالمی پریس کے مطابق شمال مشرقی افغانستان کے علاقے فیض آباد کے مکینوں کا کہنا ہے کہ شہر کی بیشتر سرکاری عمارتیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان شہر سے گزر رہے ہیں۔ جبکہ عینی شاہدوں کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز بغیر کسی لڑائی کے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔  عالمی مبصرین کے مطابق  افغان سرکاری فوج کے اہلکار    بغیر لڑے ہتھیار ڈال رہے ہیں  یا بیرون ملک فرار ہو رہے ہیں۔۔

طالبان گذشتہ پانچ دنوں سے سرِ پُل، سمنگان، قندوز اور جوزجان کے دارالحکومتوں کے ساتھ ساتھ صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزارِ شریف کے قریبی علاقوں پر بھی قابض ہو چکے ہیں۔ نیوز اپ ڈیٹس کے مطابق اب تک نو صوبوں کے دارالحکومت طالبان کے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔

بلخ کے سابق گورنر عطا محمد نور کا کہنا ہے کہ مزار شریف کے دفاع کے لیے پیپلز آرمی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق مزار شریف کا سرکاری کنٹرول سے نکلنا کابل حکومت کیلیے بڑا نقصان ہوگا۔ اس کے بعد طالبان مخاالف گروپس کے کنٹرول والے شمالی علاقہ جات پر افغان حکومت کا کنٹرول پوری طرح ختم ہو جائے گا۔

اس سے قبل طالبان نے صوبہ سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر بھی قبضہ کیا تھا ۔ سمنگان کے نائب گورنر صفت اللہ سمنگانی نے عالمی پریس کو تصدیق کی ہے کہ صوبے کا دارالحکومت ایبک طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

منگل کو طالبان کی سب سے نمایاں کامیابی کابل سے  دو سو کلومیٹر شمال میں پل خمری کے اہم شہر پر قبضہ تھا۔ یہ دارالحکومت اور شمالی شہر قندوز کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے اور اسے وسطی ایشیا کا گیٹ وے سمجھا جاتا ہے۔


افغان صورت حال کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

افغان طالبان اور سبز انقلاب کی سرخ آندھی

 

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button