حالات حاضرہریاست اور سیاست

نور مقدم کا قتل اور ٹک ٹاک ماڈل کا مقدمہ

مصدقہ ذرائع کے مطابق پنجاب کارڈیالوجی کی سٹاف نرس عائشہ اکرم مہینے میں 20 دن اپنی سرکاری ڈیوٹی سے غائب رہتی ہیں ۔ لیکن تعلقات کی جادو گری سے ان کی حاضری شیٹ او کے رہتی ہے


Share this

گذشتہ یوم آزادی سے ابتک ایک سال میں اشیائے ضرورت اور میڈیسن کی قیمتیں  دس بار بڑھیں ۔ لیکن سال میں دس بار بجلی پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھانے والے وزیراعظم  نے ایک بار بھی ذمہ دار مافیوں کیخلاف اس غریب شکنی کا نوٹس نہیں لیا۔ عورت مارچ میں اللہ ، رسول ﷺ  اور قرآنی نظریات کیخلاف سرعام نعرہ بازی کی گئی۔ لیکن افسوس کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت  نے اس کھلی تہذیب دشمنی اور توہین ِ مذہب کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا ۔

البتہ خان صاحب نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا دعوت نامے بھیج کر مینار پاکستان پر محبت بھری فلائینگ کسنگ بانٹنے والی ایک ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم کے ساتھ ہونے والے افسوس ناک واقعہ کا فوری نوٹس ضرور لیا ہے۔ جبکہ میڈیا اور لبرل طبقات اس واقعہ کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں کہ لوگ افغانستان میں امریکی سامراج اور بھارتی مہاراج کی شکست یا طالبان صورت حال جیسے اہم موضوعات اور بجلی کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب کے بارے بات کرنا بھول گئے ہیں۔

وزیراعظم صاحب نے نوٹس لینے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ متاثرہ خاتون کا سرکاری پیشہ اور سوشل میڈیا مصروفیات کیا ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سلوک کن قابل اعتراض حرکات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ان صاحبہ کی طرف سے ٹک ٹاک پر شیئر کردہ بولڈ تصاویر اور جنسی جذبات بھڑکانے والے انڈین گانوں پر مادر پدر آزاد ویڈیوز کی نوعیت کیا ہے؟  تماشائے عجب ہے کہ یہ خاتون اس واقعہ کے بعد ٹک ٹاک پر ایک دن مغربی ماڈل ڈریس میں جسم کی نمائش اور مسکراہٹیں بکھیرتی نظرآتی ہیں۔ اور پھر اگلے دن اپنے خیر خواہ صحافیوں کے ساتھ بیٹھی سوگ کا ڈرامہ رچا رہی ہوتی ہیں ۔

عجب گورکھ دھندا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب نے بھی بنا کسی تحقیق کے پولیس افسران  کی غفلت کو اس واقعہ کا سبب قرار دیکر فوری کاروائی کا حکم تو دے دیا ۔ لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال کی یہ سٹاف نرس اپنی ڈیوٹی کے دوران بھی ہمہ وقت اپنی شہوت انگیز تصاویر اور ویڈٰیوز کیسے شیئر کرتی ہیں۔ ان میڈم ٹک ٹاک کی طرف سے ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس کو دیا گیا ہوم ایڈریس بھی غلط ہے۔ لہذا قانون کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے اس خاتون کیخلاف بوگس ایڈریس ظاہر کرنے کے جرم میں جعلسازی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

 اس بارے بھی باقاعدہ محکمانہ تحقیقات کی جائیں کہ کبھی مری کبھی سوات اور کاغان سے ماڈلنگ کے لباس میں مردوں کے ساتھ رومانس کی تصاویر اور  ویڈیوز شئیر کرنے والی یہ خاتون نرس ، اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کب نبھاتی ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ خاتون نرس مہینے میں 20 دن اپنی سرکاری ڈیوٹی سے غائب رہتی ہیں ۔ لیکن اعلی افسران سے تعلقات کی جادو گری سے ان کی حاضری شیٹ پوری رہتی ہے۔

حیرت ہے کہ جب کسی ماڈل یا لبرل خاتون کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آئے، مذہب مخالف طبقات کی طرف سے اسلامی اقدار اور پاکستانی سوسائٹی کیخلاف ہرزہ سرائی شروع ہو جاتی ہے۔

افسوس کہ سوشل میڈیا پر مغربی تہذیب جیسی عریانیت کی تشہیر اور نوجوان نسلوں کی اخلاقی تباہی کا باعث بننے والی ٹک ٹاکر خواتین کی اخلاق سوز حرکات پر مبنی حیا باختہ شیئرنگ کی روک تھام کیلئے کوئی ضابطہ اخلاق اور قانون نہیں ہے۔ لیکن ان خواتین کے قابل اعتراض کرتوتوں کے رد عمل میں کسی افسوس ناک واقعہ کی بنا پر لبرل اور سیکولر عناصر کی طرف سے اسلام نظریات اور پاکستانیت کیخلاف طوفانِ بدتمیزی  شروع کر دیا جاتا ہے۔

گذشتہ دنوں ایک این جی او ایکٹوسٹ نور مقدم کا وحشیانہ قتل افسوس ناک ہے۔ بلا بشہ وہ درندہ صفت قاتل انتہائی عبرت ناک سزا کے لائق ہے۔ لیکن اس حوالے سے امریکی شہریت رکھنے والے قاتل کے اِس سنگین جرم پر اسلامی معاشرت اور پاکستانی نظام کو کوسنے والے دیسی لبرالٹر بھی یقینی جاہل ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اس سیدھے سادہ سوال کا بھی جواب نہیں ہے کہ عورت مارچ جیسے پروگرامز کا انعقاد کرنے والے مافیوں کی سرگرم رکن نور مقدم اپنے گھر سے باہر اس قاتل یا دیگر مرد دوستوں کے ساتھ راتیں کیوں گزارتی تھیں؟ مغربی تہذیب زدہ نور مقدم کے والدین نے اپنی جوان بیٹی کو گھر سے باہر راتیں گزارنے سے کیوں نہ روکا؟

سوچا جائے تو نور مقدم کو پیش آنے والا المناک سانحہ اور آزادانہ تعلقات کا ہولناک انجام ان سیکولر طبقات کے مونہ پر زوردار طمانچہ ہے جو پاکستانی عورت کیلئے مغربی تہذیب جیسے مادر پدر آزاد حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں۔

خدا خیر کرے کہ بنی گالہ محل میں وزیر اعظم صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھے بے تکلفانہ تصاویر بنوانے والی حریم شاہ کی جادوگری بھی اپنے عروج پر ہے ۔ حریم شاہ کے حسن کا رنگین چراغ آج  کل ترکی کی نگری میں جلوہ افروز ہے۔ پرائم منسٹر ہاؤس سے وزارتی دفاتر تک آزادانہ رسائی رکھنے والی یہ پاورفل خاتون ، عورت کی حیا داری کے نام پر جو داغ در داغ لگا رہی ہے۔ خدا جانے وہ وزیر اعظم صاحب کی نظروں سے کیوں اوجھل ہیں ؟ یا پھر خان صاحب کی حکومت ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹنگ کرنے والی حریم شاہ اور عائشہ اکرم جیسی بولڈ ماڈلز کو تحفظ دے رہی ہے؟ کیا نئی نسلوں میں عریانیت کا گند پھیلانے والا یہ گورکھ دھندا روکنے کی بجائے پروموٹ کیا جا رہا ہے؟

اللہ نہ کرے کہ مسلسل خبروں میں رہنے والی رحیم شاہ بھی قندیل بلوچ کی طرح کسی افسوس ناک سانحہ کا شکار ہو جائے۔ اور ہمارے ڈائنامک وزیر اعظم کو ایک اور نوٹس لینے اور دیسی لبرالٹرز کو چوراہوں پر شمعیں جلانے کیلئے ایک اور ریڈی میڈ سانحہ مل جائے۔

میرے مطابق وہ نور مقدم جیسی کسی بیٹی کا وحشیانہ قتل ہو یا ٹک ٹاک وی لاگر عائشہ اکرم کے ساتھ پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ ہو۔ ایسی ہر خبر یہی خاموش پیغام دیتی ہے کہ مسلم معاشرے میں حوا کی ہر بیٹی مریم ، فاطمہ ، عائشہ اور زینب جیسی محترم ہے۔  عورت کا وجود اس کائنات کا حسن ہے۔ لیکن عورت کو جو تحفظ اور عزت و احترام اسلامی اقدار اور مشرقی تہذیب دیتی ہے، وہ  مغربی کلچر کی پیروی اور جسمانی نمائش کی مغربی تقلید میں ممکن ہی نہیں ہے ۔

اپنی نوجوان نسلوں کو مغربی تہذیب کی اس آگ سے بچانے اور عریانی و فحاشی کی بڑھتی ہوئی تشہیر روکنے کیلئے ٹک ٹاک جیسے پروگرامز کی قابل اعتراض شیئرنگ پر پابندی کیلئے آواز اٹھائیے ۔ ۔ ۔ ۔ 

تحریر : فاروق درویش ۔ واٹس ایپ 03324061000


پاک فضائیہ کے ایف ۔ 16 فالکن اور انڈین رافیل طیاروں کا موازنہ اور حقائق

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button