بین الاقوامیحالات حاضرہ

سکول کی کمسن بچیوں پر میزائیل حملہ امریکی جنگی جرائم کا تسلسل ہے

وحشیانہ قتل عام کے اس محشر جیسے سانحوں کی توثیق صدر ٹرمپ نے دس مارچ کو واضح طور پر کی تھی۔ انہوں نے اعلانیہ طور پر ایرانی قوم اور اس کے شہری انفرا سٹرکچر کو تہہ و بالا کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی۔ کہ "ہم آسانی سے تباہ ہونے والے اہداف کو ختم کر دیں گے

صبح کے گیارہ بجے تھے، جنوبی ایران کے شہر مناب کے شجرہ طیبہ گرلز پرائمری سکول کے کلاس رومز میں ۔۔ سات سے گیارہ سال کی معصوم بھولی بھالی بچیاں اپنے کلاس رومز میں لکھنے پڑھنے میں مصروف تھیں۔ کچھ بچیوں اور ٹیچرز کی سرگوشیوں جیسی مخملی آوازوں اور خاموش راہداریوں کا پرامن ماحول ۔۔ ملک میں جاری جنگ کے تندور کے شعلوں کی فکر سے کلی آزاد خوش گوار خاموشی کے گیت گنگنا رہا تھا۔

تعلیمی حصول کے گہوارے اس سکول کے خاموش در و دیوار کی طرح ننھی منی انسانی زندگیاں بھی اس ہولناک قیامت سے مکمل بے خبر تھیں جو اگلے چند لمحوں میں ان کے سر پر ٹوٹنے والی تھی

امریکہ کے جنگی جرائم

یہ کم سن بچیاں ایسے امور و حقائق سے لاعلم و ناواقف تھیں ۔۔ کہ امریکہ کا جدید کروز میزائل ٹام ہاک دنیا کے بہترین گائیڈڈ ہتھیاروں میں سے ایک تباہ کن ہتھیار ہے۔ اور اس کروز میزائل کو اپنے دشمن حدف کو غیر معمولی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کیلئے ہی ڈیزائین کیا گیا ہے۔ اور اگر انہیں ان حقائق کے بارے معلومات ہوتیں ۔۔ تو بھی وہ خود کو اپنی تعلیمی درسگاہ میں ہونے کی وجہ سے انتہائی محفوظ سمجھتیں۔ وہ قطعی گمان نہ کر پاتیں کہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالتوں کے سکولوں اور ہسپتالوں پر ۔۔ بمباری کو سنگین جرم قرار دینے والے قوانین کی موجودگی میں ۔۔ ان پھولوں جیسی معصوم بچیوں پر سکول میں میزائیل داغے جائیں گے۔

اور پھر اس تہذیبی خاموشی کا سلسلہ توڑتے ہوئے زوردار دھماکے کے ساتھ پہلا میزائل ۔۔ سکول کے کلاس رومز کی چھت سے آن ٹکرایا ۔۔ اور ساری بلڈنگ کے گرتے ہوئے ڈھانچے نے حوا کی ان ننھی منی پریوں کی چیخوں۔۔۔ اور ملبے سے بچ نکل کر دھوئیں اور دھول کے بادلوں میں سانس لینے کی کوشش کرتی بچیوں کی سانسوں کو کسی خونخوار اژدہے کی طح نگل لیا۔ اور پھر تیسرا دھماکہ سسکیوں کے شور سے موت کی دائمی خاموشی کو جنم دینے کے غم میں۔۔۔ خود بھی جگر پارہ ہو کر خاموش ہو گیا۔

دھوئیں کے بادل چھٹے تو جو بچا تھا وہ ان ننھی پریوں کے لہو میں لتھڑے لاشے، ٹوٹی اور جلی ہوئی میزوں کے درمیان بکھری ادھ جلی ادھ پھٹی نصابی کتابیں، زمین پر پڑے ننھے منے جوتے اور اس آدم خود ملبے کے درمیان اپنی بیٹیوں کے نام پکارنے والی بے کس ماؤں کی اندوہناک چیخیں تھیں۔ کسی بچی کے بستے سے امریکہ یا اس کے حلیفوں کیخلاف چلائے جانے والی کوئی بندوق یا گولی کیا کسی کاپی یا کتاب میں امریکی معززینِ عالم کیخلاف کوئی گالی یا نعرہ تک بھی نہ تھا۔

معصوم بچوں کا قتل عام 

اس محشرِ فرعونی میں پونے دو سو کے قریب زندگیاں لقہء اجل اور سو سے زیادہ افراد مجروح ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر گڑیوں اور کھلونوں سے کھیلنے والی عمر کی ننھی طالبات ، سکول ٹیچرز اور عملے کے وہ لوگ تھے ، جن سے امریکہ یا اس کے دوست مالک کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں تھا۔

یہ کوئی اتفاقی غلط نشانہ یا ہیومن ایرر کی کہانی نہیں تھی۔ یاد رہے کہ امریکی استعمار نے جنگ کے پہلے دن یہ پیغام دیا گیا تھا ۔۔ کہ جنوبی ایران کے دور دراز علاقوں کو بھی تباہی و بربادی کے ملبے کے ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ جس کا بظاہر مقصد شروعات میں عوام میں جنگ کی دہشت اور خوف و ہراس کو ہوا دیکر۔۔ ان کی ہمت و حوصلہ اور عزم توڑ کر اس گمان کو عام کرنا تھا۔ کہ ہم امریکی درندوں کی وحشت سے کوئی بھی ، کہیں بھی۔۔ حتی کہ معصوم بچوں کے سکول بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

 امریکہ اور حلیفوں کے وحشیانہ مظالم

اور آج امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جنگی وحشت کے اس محشر میں ۔۔ مناب سکول کا سانحہ اکیلا اور اکلوتا واقعہ نہیں رہا۔ پورے ایران میں جاہ بہ جاہ ویسی ہی وحشت و درندگی کو دہریا جا رہا ہے۔ پر امن شہری بستیوں سے لیکر ہسپتالوں اور ہلال احمر کے اداروں تک۔۔ نہتے عوام بڑی تعداد میں خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ انسانی آبادیوں سے سکول و کالج اور تجارتی مراکز تک ملبے کا ڈھیر بن رہے ہیں۔

یاد رہے کہ وحشیانہ قتل عام کے اس محشر جیسے سانحوں کی توثیق ۔۔ صدر ٹرمپ نے دس مارچ کو واضح طور پر کی تھی۔ انہوں نے اعلانیہ ایرانی قوم اور اس کے شہری انفرا سٹرکچر کو تہہ و بالا کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی۔ کہ "ہم آسانی سے تباہ ہونے والے اہداف کو ختم کر دیں گے۔ اور ہمارے وار ایران کیلئے بحیثیت ایک قوم دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ناممکن بنا دیں گے۔


The assassination of Khomeini will plunge the world into the flames of revengeful militancy


مناب میں شجرہ طیبہ اسکول پر وحشیانہ میزائیل سٹرائیکس جیسے سنگین جنگی جرم کے حوالے سے قانونی سوالات ۔۔ عالمی اداروں سے چیخ چیخ کر التجائے انصاف میں اشک فشاں ہیں۔ درست نشانوں کیلئے خصوصی ڈیزئن کردہ کروز میزائل عین اس وقت اسکول کی عمارت پر داغے گئے ۔۔ جب طالبات بچیاں وہاں موجود تھیں۔ پونے دو سو کے قریب جن معصوم بچیوں اور اساتذہ کی آوازیں۔۔ ان کے کلاس رومز میں دوبارہ کبھی نہیں سنی جائیں گی۔۔ وہ ننھی منی پریاں امریکہ کیخلاف جنگ کیلئے ہتھیاروں اور اسلحہ سے لیس نہیں ۔۔ بلکہ صرف حصول تعلیم کیلئے اس سکول میں موجود تھی۔ جبکہ عالمی اداروں کے بنائے گئے قوانین بچوں کے سکولوں اور مریضوں کے ہسپتالوں پر حملوں کو سنگین جنگی جرائم قرار دیتے ہیں۔

لیکن افسوس کہ عالمی قوانین نافذ کرنے والے دو رنگی اداروں میں انسانیت سے وفا نہیں۔۔ ہمیشہ امریکہ استعمار کی وحشتوں کی آلہ کاری نمایاں رہی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری قوانین کا نفاذ کرنے والے ادارے ۔۔ یا دفاتر عالمی اکابرین کے سیاسی مفادات کے رکھوالے ۔۔ یا امریکہ کے طفیلی عہدے دار نہیں ہیں۔ وہ بین الالقوامی قانونی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے بنائے گئے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمن نازی ، اطالوی اور جاپانی جرنیلوں کیخلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جا سکتے تھے تو آج انسانیت کا قتل عام کرنے والی امریکی فوج کے کمانڈر انچیف صدر ٹرمپ کیخلاف مقدمات کیوں نہیں بنائے جا سکتے ؟

 امریکی جنگی جرائم کی سیاہ تاریخ

تاریخ یہ نہیں بھولی کہ اسی عالمی چوہدری امریکہ کی طرف سے ۔۔ جاپان میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر اس وقت ایٹمی حملے کیے گئے تھے۔۔ جب جاپان جنگ میں ہتھیار ڈال چکا تھا۔ اور ہتھیار ڈالنے کے بعد نہتے عوام پر ایٹمی حملوں سے لاکھوں شہریوں کی ہلاکتیں۔۔ تاریخ کا بھیانک ترین امریکی جنگی جرم ہے۔ اور امریکہ کی خون آشام قیادتوں کی ایسی ہی قتلِ انسانی کی داستانیں ۔۔ کوریا، ویت نام، عراق، لیبیا ، شام اور افغانستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔

جنوبی ایران کی ایک علاقائی کہاوت ہے ۔۔ کہ "طوفان میں ٹوٹا ہوا کوئی بھی ڈھانچہ مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتا ۔۔۔ کہ سمندر بالآخر ٹوٹی ہوئی چیزوں کے ٹکڑے واپس ساحل پر ضرور لاتا ہے۔ ظلم و جبر کے وحشت زدہ سانحوں میں انصاف کی طلب بھی کچھ اسی طرح کام کرتی ہے۔ مناب کے سکول کی بچیوں کا خون بھی کسی نہ کسی روپ میں۔۔  قاتلوں سے انتقام کیلئے ایک دن اس کنارے پر ضرور واپس آئے گا۔

ہمیں قوی امید اور حق الیقین ہے کہ ایرانی قوم اپنے ملک کی سلامتی اور دفاع کیلئے یا اپنے عوام کے بیگناہ خون کا انصاف مانگنے سے کبھی پیچخھے نہیں ہٹے گی۔

فاروق رشید بٹ


 

جنگ کا اختتام یا معاشی بحرانوں سے طویل جنگ کا آغاز

FAROOQ RASHID BUTT

نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ، چیف ایڈیٹر پاکستان ڈیفنس ٹائمز، فیلڈ مارشل نیوز ، کالم نگار، شاعر اور ویب سائٹس ایکسپرٹ ہیں ۔ آج کل ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک ایشوز ریسرچ اینڈ پبلیکیشن کے شعبے سے منسلک ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button