بین الاقوامیریاست اور سیاست

سامراج اور مہاراج کا بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور پاکستان

نسلی تعصبات کے انگنت دکھ اٹھائے ہوئے محکوم طبقات نے تنگ آمد بجنگ آمد کا نعرہ لگا کر سارے حساب بے باک کرنے کا تہیہ کر لیا ہے


عاشق کو اشاروں پر نچانے والی معشوق آنکھوں کی طرح اقوم عالم کو من و مرضی کے ناچ نچوانے والے امریکہ کی طاقت اور ہیبت کا جہازکریش لینڈنگ کی تیاری میں ہے۔ حق نمائی کے صداکاروں کو جبر و وحشت کا قیدی بنانے والے سامراج کو  افغانستان سے انخلاء کے بعد یکے بعد دیگرے کڑے امتحانات درپیش ہوں گے۔ دنیا بھر کی ریاستوں کو  حکم کا غلام بنانے والا بادشاہ گری کا دیوتا آج کورونائی وبا اور خود اپنے  عوام  ا ور اپنے نظام ریاست  کے ہاتھوں عاجز و بے بس نظر آتا ہے۔
 
البتہ امریکی قوم نے یہ ضرور بتا دیا کہ وہ ہم جیسی سوڈے کی بوتل جیسے جز وقتی خواص والی پاکستانی قوم سے مختلف ہیں ۔ دنیا ہماری وقتی جذباتیت کے بارے خوب جانتی ہے۔ ہم ساہیوال جیسے خون آشام سانحوں پر چند دن شور مچا کر ٹھنڈے ٹھار ہو کر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ جب کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ صرف ایک سیاہ فام شخص کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد ہنگاموں کی شدت سے امریکی صدر ٹرمپ کو زیر زمین حفاظتی بنکر میں منتقل ہونا پڑا تھا۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار امریکی ایوان اقتدار کے در و دیوار کے اندر   عوامی احتجاج کے  خون ریزی  میں ڈوبے سنگین واقعات رونما ہوئے۔
 
اس حوالے سے برطانیہ اور جرمنی سمیت یورپی ممالک میں سفید فام کمیونٹی کی طرف سے امریکی سیاہ فام مظلوموں کے ساتھ معاشرتی نا انصافیوں اور ریاستی جبر و استحصال کیخلاف آواز اٹھائی جانا انتہائی اہم   تھا۔اس امر کے واضع اشارے ملتے ہیں  کہ  یورپ کی نئی نسل امریکی  مفاد پرستی کو اپنے مستقبل کیلئے خطرہ سمجھتی ہے۔ مغربی دانشور  سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی چوہدراہٹ اور ڈالری نظام  کی اجارہ داری یورپی معیشت اور مفادات  نگل  رہی ہے۔ اس تحریک سے امریکہ مخالف جذبات کو مذید ابھرنے کا موقع ملا رہا ہے۔۔
 
جہاں ایک طرف امریکہ کا اپنے نئے حلیف بھارت کی لداخ میں سبکی اور آثارِ شکست دیکھ کر چین سے مخاطب ہونے کا کمزور اور واجبی سا لہجہ بتاتا ہے کہ سامراجی ٹھاکر میں اب جوانی جیسی وہ تاب و تواں نہیں رہی۔ وہاں دوسری طرف لداخ اور سکم میں بھارتی بے بسی نے بھارتی فوجی طاقت کی شوبازی کے سارے پردے چاک کر دیے ہیں۔  اپنے نئے اتحادی بھارت کی کمزوریاں چھپانے کیلئے امریکہ اپنے حلیفوں آسٹریلیا جاپان اور تائیوان کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین  میں  بحری مشقوں کا شو آف کر کے اپنی  ہیبت اور ساکھ  بچانے  کی سرتوڑ  کوشش میں ہے۔
 
ستر سالوں سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ ڈھانے والی بھارتی فوجی قوت کا غبارہ چینی فوج نے بیسیوں مربع میل پر بغیر گولی چلائے  پھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور پھاڑا بھی کچھ ایسی مہارت سے کہ بھارت کے چور مچائے شور پالیسی سازوں کا سارا درد شور میں دب جانے والی کنواری چیخ بن کر رہ گیا ہے۔
 
حیرت ہے کہ ایبٹ آباد اندر تک داخل ہو کر تباہی کے بناؤٹی دعوے کرنے والوں میں اندر تک گھس جانے والے چین سے اپنی ایک انچ زمین واپس لینے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ پاکستان سے اڑنے والے ” فوجی کبوتروں” سے خوف زدہ ہمالہ کے سپوتوں کے ہاتھوں کی انگلیاں اپنی آتش فشاں بندوقوں کے ٹریگرز تک کا راستہ بھول گئی ہیں۔ احمد آباد اور مہاراشٹر میں مسلمانوں کو زندہ جلا دینے والے مودی کے مہان فوجی گھوڑے لداخ میں اپنی ہی سرحد تک پہنچتے سے پہلے ہی ہانپ اور کانپ رہے ہیں۔ مودی سرکار کو احساس ہو رہا ہے کہ 2020ء کے چین اور پاکستان سے جنگ کی باتیں اب کوئی مذاق نہیں ہے۔
اس ساری صورت حال میں امریکہ کی طرف سے چین کے بارے رسمی بیان بازی نے اس کی اندرونی اور بیرونی شکستگی کا پول کھول دیا ہے۔ امریکی اجارہ داری کے زوال کے منظر نامہ میں آج اس خطے میں امن اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا دشمن اور امریکہ کا نیا حلیف بھارت اب چین سے کسی بھی جنگی ٹکراؤ سے خوف زدہ مذاکرات اور امن کا خواہشمند ہے۔
 
عالمی منظر نامہ بتا رہا ہے کہ جہاں طاقت کا توازن مرکز بدل رہا ہے، وہاں نئی عالمی لابیوں کا بننا اور پرانیوں کا ٹوٹنا عیاں ہے۔ گویا پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی تاریخ پھر سے دہرائی جا رہی ہے۔ جیسے پہلی جنگ عظیم کے حلیف دوسری جنگ عظیم میں حریف بن گئے تھے۔ بعین ویسے ہی آج اپنے اپنے ریاستی
مفادات کیلئے پرانے اتحادی نئے حریف اور پرانے دشمن اب دوست بن رہے ہیں۔
۔

نئے امریکی صدر کی پالیسیوں کے بارے اس لنک پر یہ خبر بھی پڑھیں

بدلتے ہوئے وقت کا رنگ بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور بھی بہت کچھ دکھا رہا ہے۔ ایک طرف روس کا دیرینہ حلیف بھارت اپنے اسرائیلی دوستوں کی خواہش پر امریکی گود میں جا بیٹھا ہے۔ اور دوسری طرف اس کے ردعمل میں دو دہائیوں تک پاکستان اور امریکی اتحاد سے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹکراؤ میں رہنے والے روس اور پاکستان میں ان کے مشترکہ دوست چین کی مدد سے لمبی دوریاں بتدریج ختم ہو رہی ہیں۔
 
میں اپنے گذشتہ کالموں میں امریکی معیشت کی  بد حالی کے اسباب اور اس کی عالمی چوہدراہٹ کے زوال کے بارے لکھ چکا ہوں۔ جبکہ آج عالمی مبصرین بھی کھل کر کہہ رہے ہیں کہ اندرونی  مسائل اور افغانستان ، عراق اور شام میں جنگی مہم جوئیوں میں شکست خوردہ امریکہ کی معیشت مسلسل ڈوب رہی ہے اور اس کا عالمی سیاست پر کنٹرول تیزی سے زوال پذیر ہے۔ جبکہ افغانستان سے نکلنے کے بعد اسے  مسلسل  چیلنج  درپیش ہوں گے۔
 
البتہ آج بدلتے ہوئے عالمی منظر میں جو ملک ایک آل راؤنڈر ڈائنامک فورس بن کر ابھر رہا ہے۔ وہ ساری عالمی منڈیوں اور مشرق و مغرب کی معاشی سرگرمیوں کی اٹوٹ ضرورت اور لازم حصہ بن جانے والا چین ہے۔ چین کا بھارت کو اس کی سرحد کے اندر گھس کر للکارنا اس کا واضع اعلان ہے کہ اب وہ ایسی عالمی طاقت بن چکا ہے جو کم از کم بھارت جیسے ملک کو کسی خاطر میں نہیں لاتا ۔ چین کا امریکی ثالثی کی آفروں کو نظر انداز کرنا اور صدر ٹرمپ کے بیانات کو کوئی اہمیت نہ دینا بھی اپنی جگہ بڑے گہرے معنی رکھتا  تھا ۔    نئے امریکی صدر کی سخت  گیر  پالیسیوں  کے باوجود  چین کی بیباکی    دراصل خود اعتمادی کی طرف بڑھتے ہوئے چین کی طرف سے عالمی قیادت کی دعویداری کی طرف پہلا واضع  قدم ہے
 
لیکن اس مسلسل بدلتے ہوئےعالمی منظر میں پاکستان کے مفادات  کے  حوالے سے قوت فیصلہ کی صلاحیت سے محروم ہمارے  حکمرانوں میں ملکی مفادات میں مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے بین الاقوامی سیاست کا کوئی وژن نہیں ۔ خان صاحب کی معاشی ،  داخلی اور خارجی محاذوں پر مسلسل ناکامیوں پر اب ہمیں یہ حقیقت فراخ دلی سے تسلیم کر لینی چاہئے کہ عنان حکومت اور امور ریاست بحرحال  زوردار چھکا لگانے یا باؤنسر مارنے میں مہارت رکھنے سے بہت الگ نوعیت کا کام ہے۔
 
دراصل ہمارے سیاسی نظام کی شکل کرپشن در کرپشن ، ذاتی مفادات کا تحفظ اور حتیٰ کہ اپنے دینی و قومی نظریات سے غداریوں کی بدولت فارن بینک اکاؤنٹس بھرنا ہے۔
یہاں الیکشن میں ایک کروڑ خرچ کر کے ایک ارب کمانے والا ہی سب سے کامیاب سیاست دان ہے۔  لہذا خطے میں یا  اردگرد کی  دنیا میں کیا اور کیوں ہو رہا ہے، انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔  مرتے ہوئے عوام اور روز و شب  کورونا  وائرس زدہ انسانوں اور ان  کی  زندگیاں بچانے کی جدوجہد میں مصروف میڈیکل سٹاف کو کیا کیا جان لیوا مسائل دپیش ہیں ۔ آج اپنی سیاسی دکانداری اور سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف حکمرانوں کے پاس ایسے کرائسس مینجمنٹ سے نپٹنے کی نہ تو کوئی صلاحیت ہے اور نہ ہی وقت۔  مرتے ہوئے بھوکے ننگے اور بے بس  عوام سے زیادہ ” انسانی حقوق”  سیاست دانوں  کے   پالتو جانوروں کو حاصل ہیں۔
  
اور پھر خود پر اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہو گا کہ میڈیا چینلوں پر حساس بین الاقوامی معاملات یا قومی امور کی آگہی اور مباحثوں کی اہم ذمہ داری کیلئے ہم نے کامیڈی ڈراموں کے اداکاروں بھانڈوں اور میراثیوں کو دانش وروں کی نشستوں پر بٹھا کر ان موضوعات کو ایک “مذاق” بنا دیا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ ہمیں اپنا آج اور کل ہی نہیں آنے والی نسلوں کو سنوارنے کیلئے حقائق  کی جانکاری اور شعور و آگہی کی بات ہے ۔۔۔ کیا یہ کوئی مذاق ہے؟
اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button