Trending

خود سے بے خبر سی آئی اے اور دنیا سے باخبر آئی ایس آئی

دنیا میں اسی فیصد قتل و غارت کا مرکزی کردار ضرورت کے وقت دوست بنا کر مابعد دغا دینے والا مفاد پرست امریکہ ہی رہا ہے

Share this

 دنیا کے بادشاہ گر ہر دور میں اپنے ظلم و جبر اورامن و انسانیت کے قاتل ثابت ہو کر بھی انسانی حقوق کے علمبردار کہلائے جانے پر مصر ہیں۔ دنیا میں امن کے اس نام نہاد ٹھیکیداروں کی خوں رنگ آدم خوری کی تاریخ صدیوں سے حشرانگیز ہے۔ صرف عالم اسلام کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بدترین قاتلوں  کی طرف سے عراق، شام اور افغانستان میں جارحانہ دراندازی کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ برطانیہ سے آزادی حاصل کرتے ہی امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے ارد گرد کے جزائر اور آس پاس کے چھوٹے ممالک پر غاصبانہ قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

 امریکی سول وارکے بعد ہی ان سامراجی عزائم کا آغاز ہوگیا تھا جو آج تک جاری ہیں۔ امریکی ” خون آشام فاختہ ” کے ہاتھوں نہ اپنے گورے محفوظ رہے اور نہ مظلوم کالے۔ اس کی بربریت سے نہ تو کیمونسٹ بچ پائے اور نہ ہی امت مسلمہ کے نہتے عوام۔ اس نے سپین کی کالونیوں پر قبضے کیلیے جنگ لڑی اور پھر فلپائن ، گوام سمیت کئی علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ بیسویں صدی کا خونی آغاز کرنے والا بھی یہی وہ وار لارڈ تھا جس نے فلپائن میں ہزاروں افراد کو قبضہ کرنے اور دہشت پھیلانے کیلئے بیدردی سے قتل کیا ۔ آج یہی امریکہ بھارت کو گود میں بٹھا کر پاکستان کے ا ن ایٹمی اثاثوں کیخلاف سرگرم ہے جسے ہم اپنے تحفظ کا آخری ہتھیار اور بقا و سلامتی کا ذریعہء کل گردانتے ہیں۔

آج خود کو انسانی حقوق اور عالمی امن کا ضامن کہنے والا یہی وہ عالمی لارڈ ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی، اٹلی اور جاپان کی واضع شکست اور اپنی فتح کے سو فیصد یقینی ہو جانے کے باوجود بلا جواز جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کے قتل سے نہ صرف اپنے سامراجی عزائم کا کھلا اظہار کیا بلکہ پوری دنیا میں اپنی ہیبت کیلیے ایک  وحشی ریاست کے طور پر اپنی بھرپور شناخت کرائی۔

اس بربریت  کے چند سال بعد اپنی چوہدراہٹ قائم رکھنے کیلیے جزائر کوریا کا رخ کیا اور اپنے نام نہاد امن پسند ورلڈ آرڈر کیلئے لاکھوں نہتے کورین باشندوں کا خون بہا دیا۔ لبنانی صدر کامیلی چیمون کی طرف سے فلسطینی مہاجرین کی کارروائیوں کے خلاف اس سے مدد مانگی گئی تو اس کی وحشت کو مشرق وسطی میں بھی فوجی مداخلت کا موقعہ ہاتھ آ گیا ۔ یہ چوہدری ویت نام میں گھسا تو تین لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنی زندگیاں قربان کر کے اسے اور اس کے اتحادیوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔  اسی کی خون آشامیوں کی بدولت ہی بیسویں صدی تاریخ میں خونریزی اور قتل و غارت کی صدی کے نام سے جانی گئی۔

اس صدی میں دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان  قتل و غارت کا شکار ہوئے، اسی صدی میں امریکیوں کے ہاتھوں لاکھوں ویت نامی مارے گئے۔ اسی صدی میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر “امن برانڈ ” ایٹم بم برسانے پر لاکھوں جیتے جاگتے انسان یک لخت سوختہ و بے جان ہوگئے۔ اسی صدی میں تقسیم ہند میں لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، اسی صدی میں افغانستان پر روسی حملے کے بعد لاکھوں مسلمان شہید ہوئے۔ احباب بے لاگ تجزیہ کیا جائے تو ان تمام خونی حالات و واقعات میں اسی فیصد سے زائد قتل و غارت کا مرکزی کردار یا ذمہ دار امریکہ ہی رہا ہے ۔

اسی عالمی قاتل کی بربریت و درندگی کی وجہ سے بیسیویں صدی کو تاریخ کی سب سے خونی صدی کہا گیا لیکن اب تک کیسویں صدی کے صرف ابتدائی چودہ برس گذرنے میں ہی یہ حقیقیت واضح ہونے لگی ہے اس صدی میں امریکہ کی جدید سفاکیت اور عالمی غنڈہ گردی سے برپا ہونے والی ہولناک خونریزیوں کے سامنے گذری ہوئی صدی کے خونریز فسادات اور قتل و غارت کی تاریخ بھی دھندلا جائے گی۔

احباب یاد رہے کہ اس عالمی بادشاہ نے اپنے مذموم عزائم کیلئے”چور مچائے شور ” کی پالیسی کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا ہے۔ میرے مطابق امریکی اخبار’’نیو یارک ٹائمز‘‘ میں شائع ہونے والی وہ  رپورٹ بھی امریکہ کے روائتی جھوٹ اور ” دباؤ بڑھاؤ ” پالیسی کا تسلسل تھا۔ جس میں یہ احمقانہ دعوی کیا گیا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکی حکام کو ایسے شواہد بھی ملے تھے کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا، اسامہ بن لادن کی اس علاقے میں موجودگی کے بارے مکمل واقفیت رکھتے تھے۔

اخبار کے مطابق یہ حقائق امریکہ کیلئے اس لئےبھی انتہائی حیران کن تھی کہ وہ شجاع پاشا کو طالبان کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مخلص اور امریکہ سے سچا تعاون کرنے والا آئی ایس آئی سربراہ سمجھتا تھا۔ امریکی اخبار کی اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسامہ کی پناہ گاہ سے ملنے والی تحریروں اور کمپیوٹر ریکارڈ یہ بھی پتہ چلا تھ کہ اسامہ یہاں رہ کر اپنے تنظیمی دوستوں کے ذریعے طالبان اور القاعدہ کے اعلی کمانڈروں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہتا تھا۔

اخبار  کے مطابق آئی ایس آئی کے علاوہ  حافظ سعید اور  ملا عمر بھی اسامہ کی پناہ گاہ سے مکمل واقف تھے۔ آئی ایس آئی  اہلکاروں کو اسامہ کے نمائندوں کے بارے بھی خبر تھی سو اسی وجہ سے اسامہ اپنے کسی بھی نمائندے پر مستقل بھروسہ نہیں کرتا تھا۔ اس  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2009 میں اسامہ ایبٹ آباد سے پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں میں بھی گیا اور اس سفر کے دوران اس کے قافلے نے کئی فوجی چیک پوسٹیں بھی عبور کیں لیکن آئی ایس آئی کا مکمل تعاون ہونے کی وجہ سے انہیں کہیں بھی روکا نہیں گیا۔

اس دوران انہوں نے ’’بابائے جہاد‘‘ کے نام سے مشہور طالبان کمانڈر قاری سیف اللہ اختر سے بھی ملاقات کی۔ یاد رہے کہ یہ وہی قاری سیف اللہ اختر تھے جنہوں نے 1998 میں اسامہ بن لادن اور 2001 میں ملا عمر کو امریکی بمباری سے بچایا تھا۔ اور طالبان اور القاعدہ نے 2007 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری انہی کو سونپی گئی تھی۔

نیویارک ٹائمز کی انفارمیشن پاور کے قربان کہ اس کے ” فرشتوں ” نے یہ مصدقہ اطلاع بھی دی ہے کہ قاری سیف اللہ اختر نے اسامہ سے جی ایچ کیو پر دہشت گردانہ حملے کیلئے معاونت بھی مانگی تھی جسے اسامہ نے مسترد کردیا تھا۔ اخبار کی ” غیبی اطلاع ” کے مطابق اسامہ کا موقف یہ تھا کہ پاکستان کے خلاف لڑنے کے بجائے امریکہ کے خلاف جہاد ایک عظیم تر مقصد ہے۔ سو اسامہ چاہتا تھا کہ امریکہ کے خلاف جنگ کیلئے مجاہدین کی بھرتی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ تاکہ افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ سے جنگ کا سلسلہ وسیع کر کے سمندر تک پھیلا دیا جایے۔

اخبار کے اس ” غیبی مفروضے ” کے مطابق اس عظیم جہاد کیلئے افغانستان ، پاکستان ، صومالیہ اور بحر ہند کے وسیع و عریض خطے کو امریکی تنصیبات کیخلاف القاعدہ کا اصل میدان جنگ بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا  کہ جنرل پرویز مشرف نے اسامہ بن لادن کے معاملات کو دیکھنے کیلئے آئی ایس آئی میں ایک خصوصی ڈیسک تشکیل دیا تھا جو حساس نوعیت کے فیصلے کرنے میں اس فوجی آمر کے ماتحت کام کرتا تھا اور اس کے بارے میں صرف پاک فوج کے اعلی ترین قیادت ہی جانتی تھی۔

احباب جب بھی امریکی اسامہ بن لادن اور پاکستانی حساس اداروں کے بارے حواس باختہ کذب بیانیاں کرتے ہیں۔ میرے زمانہء طالب علمی کا وہ جنونی دور تیزی سے میری یادوں کے پردے پر کسی ڈاکومنٹری فلم کی طرح چلنے لگتا ہے، جب میں بھی اپنے ہزاروں ہموطنوں کے ہمراہ ان افغان اورعرب نوجوانوں کے شانہ بشانہ امریکی اسلحہ اٹھائے ہوئے روسیوں کے خلاف جہاد میں بر سر پیکارتھا۔ میں بھی امریکہ اور ساری دنیا کے مسلم مجاہدین کی طرح اس اسامہ بن لادن کو اپنا ہیرو مانتا تھا ۔

جی ہاں یہ اسامہ ہی تھا جسے اس وقت کے “امریکی حلیف اسلامی مجاہدین” کے سرپرستِ اعلی امریکہ نے ہی عرب دیس سے بلوا کر مجاہدین کا سپہ سالارِ اعلی بنایا تھا۔ صدر بش اور اوبامہ کے برخلاف ، اس وقت کے صدر ریگن اور وائٹ ہاوس انتطامیہ اسے افغانستان کے مظلوم عوام کیلئے نجات دہندہ اور انسانیت کے خدائی خدمت گار کا درجہ دیتی تھی۔ ہالی وڈ آج کے ان ” دہشت گرد” مجاہدین پرکروڑوں ڈالرزخرچ کرکے فلمیں بنا رہا تھا اور ہر پاکستانی اور عرب نوجوان اس امریکی فلمی ہیروجان ریمبو بننے کے خواب دیکھتا تھا۔

یہ وہی دور تھا جب امریکی خفیہ ایجنسیوں کے سب کرتا دھرتا، مغربی اورامریکی میڈیا اسامہ بن لادن کی ڈیزائین کردہ زمینی سرنگوں اور جنگی نوعیت کے تعمیری کاموں کی کسی مقدس آسمانی فرشتے کے کارناموں کی طرح والہانہ انداز میں تشہیر کرتا تھا۔ روس کے پاؤں اکھڑنے کے بعد 1984 میں اسامہ بن لادن اور عبدللہ عزام کی طرف سے مکتب الخدمت بنائے جانے سے لیکر1988 میں مصر میں قائم ہونی والی تنظیم اسلامی جہاد بننے تک کسی امریکی کو اسامہ کی حساس اور عسکری نوعیت کی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہ تھا۔

مگر اس کے بعد نوے کی دہائی کے آغاز میں عراق کویت جنگی ڈرامے میں امریکی کردار کے بعد  امریکہ کا من پسند ، چہیتا عسکری ہیرو اور مظلوموں کا نجات دہندہ اسامہ بن لادن کیسے اور کیونکر اسلامی دہشت گردوں کا لیڈر قرار پایا۔ اس سوال کا جواب آج تک نہ تو مغرب کے نام نہاد مفکرین دے پائے ہیں اور نہ امریکی دانشور۔ وہ سوڈان میں ہونے والی جہادی سرگرمیاں ہوں، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بم دھماکے ہوں یا جنگ بوسنیا میں مسلم کش قتل ِعام میں دوغلے امریکی  کردارکے خلاف مسلم مزاحمت کی داستان ِ خونچکاں، جدید تاریخ کے ہر صفحے پرامریکہ کی دوغلی مسلم کش پالیسی سیاہ حروف میں لکھی نظر آتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر امریکی انٹیلی جنس اتنی ہی باخبر، فعال اور متحرک ہے کہ اسے آئی ایس آئی کے اسامہ سے تعلقات ہونے اور اسامہ کے قبائلی علاقاجات میں گھومنے تک کی اطلاعنت مل جاتی ہیں۔ تو پھر ان باخبر امریکی اداروں کو اسامہ بن لادن کی افغانستان میں دوبارہ آمد کا پتہ کیوں نہ چل سکا تھا۔ وہ کون سے جادوئی حالات اور پر اسرارواقعات سے جڑے جادوگری کردارتھے جن کی غیبی مدد سے وہ سلیمانی ٹوپی پہنے 1996 میں دوبارہ جلال آباد، افغانستان جا پہنچا۔ مگر جدید ترین جاسوسی آلات اور مانیٹرنگ سسٹمز کے باوجود سب امریکی ومغربی ایجنسیاں بے خبر رہیں۔

جبکہ اس وقت کے امریکی اور مغربی خفیہ اداروں کا دعوی تھا کہ گولڈ میہور ہوٹل، ایڈنز پر حملوں اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بم دھماکوں میں ملوث ہر مجرم اور اس کے نیٹ ورک کی نقل و حرکت تک کی مکمل ہسٹری ان کے علم میں ہے۔ جدید نظام جاسوسی کی مدد سے ہمہ وقت باخبر ہونے کی دعویدار امریکی ایجنسیوں سے سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسامہ کی افغانستان میں دوبارہ آمد سے لیکر نائن الیون کے حملوں تک امریکہ کے ان اداروں کی جدید ترین دور مار کیمروں سے لیس سیٹیلائٹس کی جادوئی کوریج جام تھی جو امریکہ کے فول پروف دفاعی مونیٹرنگ سسٹم کے ہوتے ہوئے بھی القائدہ نے اتنا بڑا کارنامہ انجام دے دیا؟

اگر امریکی انٹیلی جنس اتنی ہی مظبوط ہے کہ اسے آئی ایس آئی اور اسامہ کے انتہائی خفیہ تعلقات کا بھی علم ہو جاتا تھا تو حیرت ہے ان کی ایسی نااہلی پر کہ وہ بیس برس تک اس اسامہ بن لادن تک نہ پہنچ سکی جسے دو مرتبہ پاکستان میڈیا کا ایک اینکر حامد میر بھی مل آیا تھا۔ احباب یہ امریکیوں کی کذب بیانیوں کی ہسٹری اور انتہائی بری ساکھ ہی ہے کہ آج عرصہ گذرجانے کے باجود کوئی بھی ذی شعور انسان نائن الیون کے واقعات کی امریکی تحقیقاتی رپورٹ ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔

دنیا آج بھی گوانٹا نامو اور ابوغریب کے امریکی ٹارچر سیلز میں ہونے والے انسانیت سوز تشدد اور امریکی  افسانوں کی پراسراریت کے بارے سوال کرتی ہے۔ اور پھرعقل انسانی تھک کر یہ یقین کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ کویت عراق جنگ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر دھماکے، حسنی مبارک کے قتل، افغانستان پر حملے، پاکستان میں بلیک واٹرز کی ہر کاروائی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جڑے ہر کردار تک کی ہر داستان الف لیلیٰ امریکی انجینئرڈ ڈرامہ اور عالم اسلام کی سرکوبی کے بہانے کے سوا کچھ اور نہیں تھا۔  اور خدشہ ہے کہ ان حالات سے زبردستی جوڑی گئی ہر اگلی کہانی بھی قتل مسلم کیلئے وائٹ ہاؤس میں تیار کردہ ایک خود ساختہ بہانہ ہو گی۔

پاکستان کے عسکری اور انٹیلی جنس اداروں نے بھی اس فتنہ انگیز امریکی رپورٹ کو کذب بیانی اور قطعی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا  کہ پاکستان میں اسامہ کے ٹھکانے یا موجودگی کسی ادارے یا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا سمیت کسی ذمہ دار کو کوئی علم نہ تھا۔ اس قسم کے من گھڑت الزامات کا مقصد پاکستان اور اس کے اداروں کی ساکھ مجروح کرنے کے سوا اور کچھ  نہیں۔ قارئین جانتے ہیں کہ امریکہ بازی گروں کی طرف سے شائع و تشہیر کردہ ماضی و حال کے تمام خودساختہ ڈراموں کی ساکھ اور کذب بیانی پر مبنی رپورٹوں کی شہرت انتہائی پراگندہ ہے۔

لیکن بہت کچھ نہ جانتے ہوئے بھی جاننے کا دعوی کرنے والے ان ” جاسوس صفت” امریکیوں کے ایک بارے ایک سچی اور ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ امریکی تہذیب میں ساٹھ فیصد لوگوں کا باپ ان کی ماں کا قانونی شوہر ہی نہیں ہوتا۔ اور بیس فیصدی امریکی ایسے ہوتے ہیں جو مرتے دم تک اپنے باپ کے نام اور شناخت سے لاعلم رہتے ہیں۔  جس قوم کے کروڑوں  لوگ اپنے باپ کے نام اور شناخت سے واقف نہیں وہ آئی ایس آئی اور پاکستان کے عسکری اداروں کی سب خفیہ سرگرمیوں سے واقف ہونے کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟

 00923224061000– فاروق درویش 

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker