حالات حاضرہریاست اور سیاست

جنرل صاحبان! ہم ہاتھ باندھے کھڑے ہیں

جنرل صاحبان !! خدارا! اب اس قوم کو کرپشن کنگز اینڈ کوئینز گروہ  کے اس جان لیوا انقلابی عذاب اور ایمان لیوا سیاسی شدت پسندی جیسی آفات سے چھٹکارا دلوائیے


قوم اس قدر دکھی اور ظلمت رسیدہ ہے کہ کوئی بھی شعبدہ باز انہیں بڑی آسانی سے بیوقوف بنا لیتا  ہے۔ ہم پرانے  لیڈروں سے جان چھڑوانے  کیلئے  نئے    لیڈروں کا   کردار  اورقلابازیاں  بھول  کر  نئی مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔   ہم دنیا میں برپا ہونے والے اصل   انقلابوں کی تاریخ   اور حقائق جانے بنا ہی ڈرامہ باز وں کی   انقلابی منجن فروشی پر انہیں مسیحا      مان لیتے ہیں ۔ اور پھر  ان کی کرپشن ،  مذہب سے بیزاری  اور سیکنڈلوں کا   دفاع کرنا مذہبی فرائض  سے بھی اہم   سمجھتے ہیں۔ لیکن    کسی گستاخِ رسالت یا کسی  فاسق لیڈر کے طرز عمل کا بے ہنگم دفاع کرتے ہوئے یہ بھی  بھول جاتے ہیں کہ قرآن و شریعت کا منکر اور بدکردار شخص  بھلا  ملک و قوم کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے۔ 

 تبدیلی کی امیدیں رکھنے والے ” معصوم  احباب ” کی خدمت میں چند  انقلابوں کا مختصر احوال پیش کر رہا ہوں۔ تاکہ   جعلی انقلاب اور معاشروں میں  تبدیلیوں کے محرک بننے والےحقیقی انقلابوں میں فرق واضع  ہو ۔

 اٹھاریں صدی  میں  امریکی قوم اپنی آزادی کیلئے پیٹرک ہنری کے نعرے ” آزادی دو یا موت دو ” کا عملی نمونہ بنی  تھی۔ عوام  جارج واشنگٹن کی قیادت میں برطانیہ کی خونخواری  کا مقابلہ کر رہی تھی۔  اکثر لیڈروں کے کاروبار اور ، گھربار  برباد اور خاندان قتل کر دیے گئے تھے۔  مگر انہوں نے موت کے ڈر سے نہ کنٹینروں میں پناہ لی اور نہ   ہجوم  بنانے کیلئے  رقص اور میوزیکل شو  کروائے۔ انہوں   ہمارے  لیڈروں کی طرح اپنی اولادوں کو فائیو سٹار ہوٹلوں اور سیکورٹی گارڈز کی پناہ میں نہیں رکھا۔ لہذا  اکثر امریکی لیڈروں  کے بیوی بچے برطانوی دہشت گردی کا شکار ہو  گیے۔

صرف ان دو لیڈروں کا دردناک انجام ہی       ماڈرن انقلابیوں کو شرم دلانے کیلئے کافی ہے۔   جان ہارٹ کو بستر مرگ پر پڑی بیوی سے جدا کیا گیا تو اس کے تیرہ بچے جانیں بچانے کیلئے فرار ہوگئے۔ اس کے  زرعی فارم  اور فلور مل  تباہ کر دی گئی۔ وہ ایک برس تک جنگلوں میں روپوش رہنے کے بعد  جب واپس گھر لوٹا تو بیوی مر چکی تھی اور سب بچے لاپتہ تھے۔ اور پھر  ان صدمات  سے  وہ خود بھی انتقال کر گیا۔ دوسری طرف  سزائے موت پانے والے راہنما  ناتھن ہیل کی حب الوطنی کا اندازہ اس کے ان آخری الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ، ” مجھے افسوس ہے کہ اپنے وطن کو دینے کیلئے میرے پاس ایک زندگی کے سوا کچھ اور نہیں” ۔

 دوسرے  انقلاب   کی وجہ فرانسسی عوام  کا  سیاسی و معاشی جبر کا شکار  ہونا تھا ۔   اور پھر جب  بادشاہوں کے    جبر و استحصال  کے ردعمل میں انقلاب آیا ۔ تو عوام نے شاہی محل پر حملہ کر دیا ۔ پہلے بادشاہ اور ملکہ اور پھر ولی عہد کو بھی  سزائے موت دے  دی گئی۔ حتی کہ  خدائی عبادت کے خلاف قانون پاس کر کے مذہب کیخلاف بھی طبل جنگ بجا دیا گیا۔ سیاسی مجرم اتنے زیادہ  تھے کہ فی منٹ پانچ سو سر کاٹنے والی مشینیں بنانی پڑیں۔ اور پھر فرانس کے تخت پر نپولین بونا پاٹ کی وہ طلسمی شخصیت نمودار ہوئی جو  خان صاحب  کی طرح خود کو مرد بخت آور کہتی تھی۔ مگر  بدقسمتی  سے اسے بھی  عوامی رجحانات یا سیاسی نظریات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

نپولین   نے بھی  اپنے  رشتہ داروں  کو یورپی ممالک کے تاج و تخت  اور عہدےبانٹے ۔ لیکن  وہ تکبر میں ڈوبا  انسان جب  قدرت کے آہنی شکنجے میں آیا تو   روس  کیخلاف  ناکام   جنگی مہم  کے بعد واٹرلو  میں بھی  تاریخی شکست کھا گیا ۔   اور پھر  سینٹ ہلینا کے جزیرے پر جلاوطنی کے دوران کینسر میں مبتلا بے یارومددگار مر گیا  ۔ لاکھوں جانوں کی قربانی سے آنے  والا  وہ  انقلاب فرانس بھی اس  عوام  کو حقیقی   آزادی و انصاف نہ دے سکا جو کئی صدیوں سے ملوکیت اور جبر کے ہاتھوں  ذبح ہو رہے تھے۔ دراصل   عوام   نے  ظالم با شاہوں سے ظلم کی تلوار چھین کر نظامِ جمہور کے ایک  اور ظالم  اس   نپولین  کے  ہاتھ میں پکڑا دی تھی  ۔ جس   کے ہاتھوں   گناہ گاروں کے ساتھ  بے گناہ روحیں بھی کٹتی چلی گئیں

اسلام آباد دھرنے اور انقلابی مارچ کو چینی انقلاب  کے  لانگ مارچ جیسا کہنے والے  تاریخ پڑھیں  ۔  ماؤزے تنگ نے چھ ہزار کلومیٹر سفر میں کوئی گاڑی استعمال نہیں کی تھی۔ وہ لانگ مارچ بنی گالہ کے پر تعیش محلات یا کینیڈا کی مخملی گود سے سترہ لاکھ کی ٹکٹ لے کر محشر سیاست میں نہیں پہنچا تھا۔ اُس لانگ مارچ  نے گیارہ صوبوں کے اٹھارہ خطرناک پہاڑی سلسلے اور چوبیس دریاؤں کی طوفانی لہریں عبور کی تھیں۔ اس لانگ مارچ  کے  شرکا کی سوا لاکھ سے زیادہ تعداد اس مارچ   کے  اختتام پر صرف  پندرہ ہزار رہ گئی تھی۔  باقی لوگ یا تو قدرتی آفات کا شکار ہو گئے یا مخالف آرمی کے ہاتھوں مارے گئے۔

اس لانگ مارچ کی قیادت خود ماؤزے تنگ نے کی۔  نہ تو اس نے اپنے بیٹوں کو خان صاحب کی طرح لندن بھیجا ۔ اور نہ ہی علامہ کینیڈوی کی طرح اس کے بیٹے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں محفوظ تھے۔ قوم کو حقیقی آزادی دلوانے   اور ترقی کی راہ پر ڈالنے والے اس انقلابی لیڈر  کے دو کمسن بیٹے گمشدہ یا جاں بحق ہو کر ہمیشہ  ہمیشہ کیلئے کھو گئے  تھے ۔

روس کے انقلاب میں کارل مارکس کے سرخ منشور نے عوام کو ان عناصر کیخلاف بغاوت پر اکسایا جو مزدوروں سے بیگار کیلئے کوڑے برساتے تھے۔ انقلاب برپا ہوا تو  روسی بادشاہت   کے جبر و استبداد کے  ستائے  ہوئے  عوام نے  شہنشاہوں کی قبریں کھود کر ان کی ہڈیاں تک جلا دیں۔ ان بادشاہوں کی اولادیں تک قتل کر دی گئیں۔ اکتوبر 1917ء میں روس اشتراکی حکومت قائم ہوئی جو سوویت اتحاد میں بدل گئی۔  اور جب روسی مہم جو  افغانستان اور پاکستان کو روند کر گرم پانیوں تک پہنچنے کی کار صد ہوس میں پاکستانی عسکری اداروں کے ہاتھوں عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے تو روس کے ساتھ ہی یہ اتحاد بھی ٹوٹ گیا۔  اور  آزاد اسلامی ریاستوں کا قیام بھی عمل میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی دہریت اور الحاد کے نام پر برپا ہونے والے اس انقلاب اور کیمونزم کا بے چراغ  خاتمہ  ہوگیا۔

انقلاب کیا ہے؟

 انقلاب محشر دوراں اور جبر و استحصال کے دشتِ ظلمت میں طویل سفر اور ظالم قوتوں کیخلاف انتھک جدوجہد کا نام ہے۔ جس میں ظلم کی چکی میں پستی ہوئے انسانوں کی ظلم و جبر سے بغاوت لہو رنگ قربانیوں کی داستان سے آنے والی نسلوں کیلئے تابناک صبح کا پیغام دیتی ہے۔ دینِ برحق ہمیں جس حقیقی انقلاب کی تلقین و ترغیب دیتا ہے وہ  روسی، فرانسیسی ، چینی اور امریکی انقلابوں سے مختلف ہے۔  اسلام  دراصل   ذہنی و نظریاتی اطاعت الہی ، خود احتسابی، وفائے ملت اور فِکر وعمل کا انقلاب ہے۔یہ انقلاب کسی خاص فرد و حاکم کے نہیں بلکہ پورے دہریانہ نظام ظلمت و جبر کے خلاف ہے۔ اس میں  دوسروں کی اصلاح سے پہلے خود احتسابی اور قومی و ملی احساس ذمہ داری کا تصور ہے۔

فرسودہ روایات سیاست اور مادر پدر آزادی کے طلسم میں جکڑے اور اپنے گریبان میں جھانکنے سے عاری   لیڈروں  ، ڈانسری جدوجہد سے حقیقی تبدیلی و انقلاب نہیں، صرف چند چہروں کی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ موروثی حکمرانی اور نظام ظلمت بدلنے کیلئے    ذہنی تبدیلی اور غلامیء دہر سے دائمی آزادی کیلئے جہد مسلسل لازم ہے۔ کیمرے کے سامنے اداکاریوں کے فوٹو سیشنوں  کی سوشل میڈیا  شیئرنگ سے انقلاب  نہیں آتے۔ معاشرے میں تبدیلی، ظلمت شب  سے آزادی اور جستجوئے صبح نو کیلئے بیداریء انسان اور تبدیلیء اذہان ایک مسلسل و صبر آزما عمل ہے جو سالوں نہیں کئی نسلوں تک محیط ہو سکتا ہے۔ 

آج غریب و سفید پوش   سیاست دانوں کی بندر بانٹ ، مالیاتی و اخلاقی کرپشن اور ضدی رویوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔     جرنیلوں نے   جن    خان صاحب  کو  خوش گمانی   اور    مثبت  خیالی  میں   کاندھا دیا  تھا۔  بدقسمتی  کہ  وہ   صرف تعویذ گنڈوں  میں جکڑے ہوئے اور  کیمرے کے    اداکار نکلے۔  عوام    ان کے  فریبی  وعدوں سے  امیدیں باندھے ہوئے  کسی  ایسے  انقلاب کی راہ دیکھ رہے تھے ۔  جس کا آغاز قومی خزانے کے لٹیروں کے پھانسی   جیسے   احتساب، بیرون ممالک بینکوں سے لوٹے ہوئے دھن کی واپسی اور اختتام ڈرگ اینڈ  لینڈ مافیوں کے عبرتناک انجام پر ہو گا ۔ لیکن   شومئی قسمت کہ   جن کو  پھانسی پر لٹکا   ہونا  چاہئے تھا  ،        وہی  سارے لٹیرے،   پیشہ ور لوٹے  اور  سیاسی  دلال سونامی کی مفادیاتی لانڈری  سے دھل  کر   اس انقلاب خان  کے کاندھوں اور گود میں جا بیٹھے۔

قوم ایسے انقلاب کی شروعات میں ٹارگٹ کلر و بھتہ خور مافیوں اور معصوم بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والوں کو سرعام لٹکا دیکھنا چاہتی تھی۔   فوجی قیادت   کو بھی خوش گمانی   تھی  کہ   حکومت اور ادارے   مضبوط ہوں گے  تو عوامی خوشحالی آئے گی ۔       عسکری اداروں   نے  ایک مضبوط جمہوری  فلاحی حکومت    کی امید  میں    خان صاحب کو  ہر حد سے ماورا  سپورٹ کیا   ۔ تو  عوام  نے  بھی  خواب دیکھا تھا  کہ پاکستان میں بھی ملائشیا اور    ترکی  جیسا   ایک  ایسا  شفاف   نظام   خوشحال اور امن پسند سیاسی  معاشرہ وجود میں آئے گا۔ جہاں نہ کوئی قانون شکنی اور لوڈ شیڈنگ ہو گی اور نہ ہی کوئی بچہ بھوکا سوئے گا۔ لیکن ہائے کہ اس حکومت کی  ہر شعبہ میں مکمل  نا اہلی اور  ناکامی کے باعث    عوام   روٹی   بجلی اور گیس کیا ،     سکون کے  لمحوں  کو  بھی ترس گئے ہیں ۔

اگر      اب حکومت کی نا اہلی اور کرپشن کے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں  کہ  خان صاحب کے  چہیتے  زلفی بخاری  جیسے  کرپشن کنگ  لوٹ مار کر بیرون ممالک فرار ہونے لگے ہیں۔ تو  پھر  جو فوج سیلابوں میں ڈوبتی اور زلزلوں میں مرتی ہوئی  اس قوم    کیلئے   آخری امید ہوتی ہے،  اب ہم       اس  فوج   کی اعلیٰ قیادت  اور  قوم کے   جرنیلوں سے  ہاتھ باندھے      یہ التجاکرتے  ہیں کہ  ۔

    محترم  جنرل صاحبان ! یہ حقائق آپ   پر بھی  عیاں ہیں   کی گذشتہ دس سالہ ادوار  کے بیرونی قرضوں   جتنا قرضہ خان صاحب  اپنے  ان تین سالوں میں لے  چکے ہیں۔ لیکن حکومتی ٹولے کی لوٹ مار  اب حدود کو عبور کر چکی ہے کہ ابھی  بھی       اس         ایٹمی    ریاست   کے بھوکے ننگے  عوام         کیلئے        زکواۃ ،  فطرانوں اور صدقات    کی ضرورت درپیش ہے  ۔

خدارا!  قوم کو   کرپشن کنگز اینڈ کوئینز   گروہ  کے اس جان لیوا    انقلابی عذاب   اور ایمان لیوا     سیاسی شدت پسندی   جیسی   آفات   سے چھٹکارا دلوائیے۔

فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔ 03224061000


پاکستان ڈیفنس انڈسٹری کے بارے میرا یہ کالم بھی پڑھیں

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button