بین الاقوامیتاریخِ عالم و اسلامنظریات و مذاہبِ عالم

جو سچا سقراط بنے گا سولی پر چڑھ جاوے گا

اس نے ماڈرن مفکروں اور سیاست دانوں کے برعکس سودے بازی نہیں کی لیکن سزائے موت میں زہر کا پیالہ پی کر حق کے موقف پر جان دے دی


Share this

  کچھ محققین کے مطابق، قرانِ  حکیم  میں "حضرت لقمان  ”  کے نام سے جس عظیم المرتبت  ہستی کا ذکر ہے، وہ دراصل سقراط ہی ہے۔ چونکہ قرآن  و حدیث یا کسی مستند تاریخی دستاویز میں اس قیاس کی کوئی تصدیق موجود نہیں،  لہذا میں سوائے واللہ  اعلم کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ لیکن   وہ  دنیائے شرق و غرب کا وہ  فلسفی تھا جو ہر ملک و قوم، مسلک و مذہب اور رنگ و نسل  میں غیر متنازعہ شخصیت اور حق گوئی  پر جان قربان کرنے والا کردار بن کر زندہ ہے۔ وہ تاریخ کی واحد شخصیت ہے کہ جس  پر کسی نے کوئی تنقید نہیں کی بلکہ اس کے علمی، سیاسی اور اخلاقی  فلسفے کو ہر مکتبہ ء فکر اور طبقے کی طرف سے ہمیشہ خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

یونان کے شہر ایتھنز میں پیدا ہونے والا سقراط دنیائے فلسفہ کا وہ جلیل المرتبت استاد ہے جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں ملک یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی ۔ افلاطون اور دوسرے حوالے بتاتے ہیں کہ پہلے وہ ایک مجسمہ ساز تھا اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار کئی جنگوں میں شریک ہوا۔حلقہ  احباب میں اس کی حیثیت ایک روحانی بزرگ اوراستاد کی تھی۔ وہ فطرتاً ، اعلیٰ اخلاقی  کردار   رکھنے  والا  ایک حق پرست مزاج  تھا۔ اسی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غور و فکر کے باعث عمر کے آخری حصے میں اس نے دیوتاؤں کے حقیقی وجود سے انکار کردیا۔  جس کی پاداش میں جمہوریہ ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں اسے خود کشی کی موت کی سزا سنائی۔ اور اس نے آج  کے ماڈرن "حق پرست ” مفکروں اور انقلاب کے نام نہاد علمبرداروں کے برعکس زہر کا پیالہ پی کر اپنے حق موقف پر جان دے دی۔

سقراط نے اپنے سے پہلے دانشوروں کے برخلاف دنیا کو ایک نئے انداز مبحث سے متعارف کروایا۔ گو کہ اس کا طریق بحث فسطائی اندازکا حامل تھا لیکن ہم اسےعام مناظرہ نہیں کہہ سکتے۔ وہ دھونس یا ضد بازی  نہیں بلکہ  علمی اور منطقی  بحث سے اخلاقی نتائج تک پہنچتا اور دلائل سے لوگوں پر حقیقت ثابت کرتا تھا۔ وہ پے در پے سوالات کرتا اور پھر دوسروں پر ان کے علمی اور منطقی دلائل کے تضادات عیاں کرتا اور یوں مسائل کی تہہ تک پہنچ کر ایسا  مدلل جواب سامنے لاتا جسے مخالفین بھی تسلیم کرتے ۔   سقراط کی  کوئی تحریر و تصنیف تو موجود نہیں تاہم اس کے شاگرد افلاطون نے اس کی علمی بحثوں کا احوال اور نظریات  اور  اسکے حوالہ جات بھی دیے ہیں۔ سقراط  کے نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم  ہوتا ہے کہ وہ توحید پرستی اور دین برحق کے فلسفہ ء مذہب و اخلاق کے بیحد قریب تھے۔

اس کے نظریات کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ ٭ روح ایک حقیقی مجرد اور تنہا ہے اور جسم سے جدا حقیقت ہے۔ جسم کی موت روح کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی آذادی کی اک راہ ہے، لہذا موت سے ڈرنا بزدلی اور حماقت ہے ٭ جہالت کا مقابلہ کرنا چاہیے، اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ ٭ انسان کو انصاف و ظلم، اور سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز روا کھنی چاہیے۔ ٭  کامیابی  حکمت    عملی  کے ادراک میں پنہاں ہے ۔ یہاں   ہم قرآنی نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے سقراط کی فلاسفی کا جائزہ لیں تو ان میں کافی حد تک مماثلت نظر آتی ہے۔ جو محققین سقراط کو قرآن حکیم میں مذکورہ بزرگ ہستی حضرت لقمان تصور کرتے ہیں۔

ان کے اس قیاس کی وجہ یہی ہے کہ سقراط بھی  اسلام اور دوسرے آسمانی مذاہب کے ماننے والے اہل حق جیسے ہی  نظریات رکھتا تھا ۔ جسم ، روح اور موت کے بارے بھی سقراط کے نظریات انبیائے حق اور اسلامی نظریات کے بیحد قریب ہیں۔ اسلامی نظریات کے مطابق موت نیست و نابود، فنا  اور انہدام نہیں بلکہ  تحول و تغیر، ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال اور ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقلی کا نام ہے۔

سقراط بھی روح کو جسم سے جدا ایک مجرد حقیقیت قرار دیتا تھا۔ اور اسلامی نظریات کے مطابق بھی جسم فانی مگر روح غیر فانی اور” اصل” ہے۔  وہ چیز جو انسان کی حقیقی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے اور اس کی حقیقی یا اصل شمار ہوتی ہے، وہ بدن اور اس کے اعضا نہیں بلکہ ” روح ” ہے۔ بدن اور اس کے اعضاء کسی اور جگہ منتقل نہیں ہوتے بلکہ رفتہ رفتہ اسی دنیا میں ہی گل سڑ جاتے ہیں۔ جو چیز ہماری حقیقی شخصیت کو بناتی ہے اور ہمارا حقیقی ” اصل ” ہے، وہ  وہی ہے جسے قرآن میں کبھی نفس اور کبھی روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں ارشاد باری تعالی  ہے۔ ”  ونفخت فیہ من روحی ”  (سورۃ حجر‘ آیت ۲۹)۔  ” ہم نے اپنی روح سے اس میں پھونکا "۔

 مکالمات افلاطون میں پہلے مکالمے کو چھوڑ کر باقی تمام تقریبا سقراط کی زندگی کے آخری ایام سے متعلق ہیں۔ سقراط پر ایتھنز کی عدالت نے جو الزامات لگائے تھے۔ ان میں ” تم ہمارے نوجوانوں کو بہکا رہے ہو”۔ سرفہرست تھا۔ یاد رہے کہ یونان دنیا میں علم و فنون لطیفہ کا مرکز مانا جاتا تھا۔ دنیائے علم وفکر میں ایتھنز کے اہل علم  کی بڑی قدرتھی۔ پروٹاغورس جیسے دانشوروں سے حصول علم  کیلیے لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس بھیجتے اور معاوضے میں  اپنے کھیت، گھر،سونا، جانور یا کچھ بھی دینے کو تیار ہوجاتے۔ انہی دنوں سقراط کو ایک کاہنہ نے یہ بشارت دی کہ ” سقراط تم ایتھنز کے سب سے بڑے دانا ہو”سقراط کو اس بات پر یقین نہ آیا۔ لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کو علم کی کسوٹی پر پرکھ کے اس بشارت کی تحقیق کرے گا۔

اس کیلئے وہ ایتھنز کے بڑے بڑے دانشوروں کی محفلوں میں جانے لگا۔ اس نے ان سے اپنے مخصوص انداز و  طریق کے مطابق بحث کا آغاز کیا۔ بہت جلد ایسا ہوا کہ وہ جہاں جاتا اپنےعلمی دلائل اور منطقی سوالات سے مخالفین پر چھا جاتا۔ اس عمل سے اپنی عالمانہ دوکانداری کو ڈوبتے دیکھ کر ایتھنز کے نام نہاد دانشور بھڑک اٹھے۔ سو انہوں نے اس "عذاب” سے جان چھڑوانے کیلیےعوام الناس میں سقراط کے خلاف ماحول بنانا شروع کردیا۔ بالاخر وہ حاسدین سقراط کے خلاف یہ تین بڑے الزامات اٹھانے میں‌ کامیاب ہوئے، کہ ، ٭ یہ شخص ہمارے نوجوانوں‌ کو گمراہ کر رہا ہے۔  ٭ یہ ہمارے مقدس دیوتاوں‌ کو نہیں مانتا۔  ٭ یہ شخص ایک ایسے الگ خدا کا تصور پیش کرتا ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا۔

سقراط پرعائد کردہ ان الزامات  پر یونان   کے عوام  کی موجودگی میں  سب سے بڑی  عدالت لگائی گئی۔ سقراط کو ان سب کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا تھی۔ وہ  صفائی  پیش  کرنے کے دوران اپنے علم اور دانائی سے لوگوں  کے  دلوں  پر چھا گیا ۔ مگر حکمران    اس کی موت  کا  فیصلہ کر چکے تھے۔ سقراط کے خلاف  حکمرانوں    کےتیار کردہ  ایک "گمراہ   نوجوان ” کو بطور گواہ پیش کیا گیا۔ جس کے بقول سقراط   نے اسے  گمراہ کیا  تھا۔  اور یوں  زبردستی   سقراط  کا  ” جرم ” ثابت ہوگیا ۔ عدالت  کے  فیصلے کےتحت سقراط کو یہ  دو آپشن دیے گئے۔ کہ یا تو شہر چھوڑ جاؤ  یا  پھر خود  اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پی لو۔لیکن عوام  کی توقع کے برخلاف سقراط نے شہر نہیں  چھوڑا  لیکن  زہر کا پیالہ پی کر ہمیشہ  کیلئے امر ہوگیا۔ یاد رہے کہ اس دور میں سزائے موت زہر کے ذریعے  دی جاتی تھی اور مجرم کو  پائزن آف ہام لاک نامی زہر پی کر  خود کشی کرنا  پڑتی تھی۔

یاد رہے کہ آج کل کے خود ساختہ دانش ور  یا  سیاسی قائدین موت کے ڈر سے مغرب اور امریکہ کو   بھاگ جاتے ہیں۔  اورجلسوں  میں  بم پروف کنٹینر سے باہر نہیں نکلتے۔  لیکن اس وقت یونان کے حکمران   اور سقراط کے مخالفین بھی  جانتے تھے کہ سقراط جیسا خود دار اور اصول پرست شخص شہر چھوڑنے  پر موت ہی کو ترجیح دے گا۔ بعض روایات کے مطابق سقراط کے دولتمند شاگردوں نے داروغہ جیل کو بھاری رشوت دے کر اس کے جیل سے فرار کا منصوبہ  مکمل کر لیا تھا۔ لیکن  سقراط  نے جیل سے  فرار ہونے  کو بزدلانہ فعل اور  حق گوئی کی شکست  قرار دیکر  صاف انکار کر دیا تھا۔

اس کا اٹل موقف تھا کہ ہر شخص پر قانون اور قانون کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازم ہے۔  وہ اس حد   تک اصول پسند تھا کہ اس نے قانون کی بالادستی کیلیے، ایک متنازعہ اور غلط فیصلے کو بھی قانون کا فیصلہ سمجھ کر قبول کیا اور  اس پر اپنی جان بھی قربان کر دی۔  اس کی خود کشی نما سزائے موت نے تاریخ اور آنے والے زمانے پر یہ اثر ڈالا کہ لوگ آج بھی اس کے سنہرے اقوال بڑے فخر سے پیش کرتے ہیں۔

آج صدیاں گذر جانے کے بعد بھی اس کا نام ایک  سچے دانشور کی حیثیت سے عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔  وہ  بزرگ ہستی ” حضرت لقمان ” تھا  یا کوئی اور ، اس کا اصل مذہب اور روحانی عقائد کیا تھے، تاریخ اس حوالے سے خاموش ہے۔ لیکن ہاں وہ دور حاضر کے قلم فروش دانشوروں، مذہبی شعبدہ بازوں، ابن الوقت سیاست دانوں اور موت کے خوف سے بم پروف کنٹینر میں بیٹھ کر  انقلاب کا  نعرہ  لگانے والا بزدل انسان   ہرگز نہ تھا۔ اسی لیے اس کا نام اور کردار آج بھی زندہ ہے اور کل بھی زندہ رہے گا۔

سکھایا کس نے یہ شعلوں سے کھیلنا مجھ کو

مرے خدا مرے اندر یہ کون بولتا ہے

 فاروق درویش

واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔ 00923224061000


مرحوم ساغر صدیقی کے ساتھ گزرے بیتے وقت کی یادیں اور کچھ  چشم کشا حقائق پڑھیے

سیاہ پوش ساغر صدیقی اور خوش پوش حسن نثار

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button