تاریخِ عالم و اسلامریاست اور سیاست

کھلاڑی ، راجکماری اور مداری کیلئے تاریخ کا آخری سبق

سیاستدان کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا لیکن اہلِ دانش کہتے ہیں تقدیر عقل پر پردا ڈالتی ہے تو آنکھوں پر بھی پڑ جاتا ہے


Share this

تاریخِ قدیم و جدید گواہ ہے کہ غرور و تکبر کے نشے میں بدمست انسانوں اور ہاتھیوں کا ہولناک انجام ایک سا ہوا، نمرود ایک مچھر کے ہاتھوں زچ ہو کر  سر میں جوتیاں کھاتا ہوا مرا ۔ فرعون دریائے نیل کے پانیوں میں غرق ہو کر تا با ابد نشانِ عبرت بن گیا۔ شداد، سامری، قارون اورابراہا جیسے بدبختوں کو نہ خود ساختہ بہشت الارض میں کوئی مقامِ پناہ ملا اورنہ ہی ان کے  علوم ساحری اورجمع شدہ انگنت خزانے انہیں واصلِ جہنم ہونے سے بچا پائے۔

مگر ہوسِ زرکا لبادہ اوڑھے گورے لوگ کالی کرتوتوں میں کہیں سائنسدانوں اورکہیں ماہرین آثار قدیمہ کے بھیس میں آج بھی اُن کے گمشدہ و پراسرار خزانوں کی تلاش میں خطہءعرب، افریقہ اور صحائے سینا سے گوبی تک دشت و بیاباں کی خاک چھانتے  ، کوہساروں کی سبز وادیوں میں لال بھجکڑ بنے یوں در بہ در ہیں گویا ان خزینوں سے  تاقیامت زندگی دینے والا آب حیات ملنے والا ہے۔

دوسری طرف اقتدارِ اعلی کے حصول یا طوالت کےخواہاں ملک و ملت سےغداری کا طعوق پہنے ننگ آدم کردار ِ سیاہ ست صلیبی بادشاہوں اور سامراجی بادشاہ گروں کے پروردا و کمین بن کر کاسہ و کشکول لئے بدیسی نگریوں میں تماشہء ذلت بنے گھومتے ہیں۔ آج ایوانان ِ شاہی سے محمد شاہ رنگیلے کی ہنوز دلی دور است کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔

تاریخ ِ عبرت ہے کہ آج یزید کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والا نہیں، دنیا بھر کے وسائل اور  جدید ٹیکنالوجی  ہونے کے باوجود آج تک کوئی انسان ہیبت اور بربریت کی علامت چنگیز خان کی قبر کا نام و نشان  نہیں ڈھونڈ پایا۔ ساری دنیا پرحکمرانی کا خواب دیکھنے والا سکندراعظم وادیء سوات سے ملے زخموں کے بخار کے ہاتھوں لاچار آسمان گھورتا وادیء عدم کو سدھارا۔

سلطنت روم میں  اقتدار اور طاقت کا نشان جولیس سیزر اپنے ہی  جرنیل دوست بروٹس کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ عزیزوں کا قتل کروا کر بیٹے کو اقتدار دلانے والی  ماں کو قتل کرنے والا بیٹا ، روم کو جلتا دیکھ کر  بانسری بجانے  اور عیسائیت کا وحشیانہ قتل عام کرنے والے ظالم شاہ نیرو نے اپنے ہاتھوں کی نسیں کاٹ  کر خود کشی کی۔  ملکہ قلوپطرہ نے خود سے شکست کھا کر  خود کو سانپ سے ڈسوا کر خودکشی کر لی۔  ہم جنس پرستی میں  قدرت کا غضب بھولنے والے کئی سلاطین ہند اپنے  انہی خوبرو لونڈوں کے ہاتھوں   قتل ہو گئے۔

طاقت کے بل بوتے دنیا کا سپر کنگ بننے کا خواہشمند ہٹلر قدرت کے ہاتھوں شکست کھا کر پوٹاشیم سائنائیڈ کے  کیپسول کھا  کر  نوجوان سنہری محبوبہ ایوا براؤن کے ساتھ زندہ قبر میں پارے کی طرح پگھل کر خاک میں مل کر خاک ہوا۔ آمریت کا سہارا لیکر حکمرانی کرنے والوں کیلئے عبرت ہے کہ اُس کے اطالوی حلیف مسولینی کی لاش کو اُسی کی اطالوی قوم نے اس وقت تک شہر کے چوراہے پر لٹکائے رکھا جب تک وہ تعفن سے گل سڑ کر ریزہ ریزہ نہیں ہوئی۔

چشمِ عالم نے یہ نظارہءعبرت بھی بڑی حیرت سے دیکھا کہ شاہ ایران کی لاش کو قبرکی دوگز زمین کیلئے ساری دنیا گھومنا پڑی، سانحہء مشرقی پاکستان پر شیطانی جشن منانے والی  اندرا گاندھی اور اُس کے پاکستان دشمن  بیٹے ایسے بھیانک انجام کو پہنچے کہ آج تک اُس خاندان کے کسی فرد کو کرسیء اقتدار پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوئی۔ بھارتی بغل بچہ مجیب الرحمن خاندان سمیت  زمانوں کیلئے عبرت کا نشان بن گیا۔

پاکستان میں سوشلزم، اسلام اور  روشن خیالی کے نام پر انقلاب لا نے کے دعویداروں، مفلس و مجبور قوم کو سبز باغ دکھانے والے حکمرانوں  میں سے کوئی عدالتی فیصلوں کے ہاتھوں قتل ہوا تو کوئی اپنے پیاروں   کی سازشوں میں قصہء پارینہ  بن گیا ۔ کوئی مغرب نواز کردار اپنے ہی پیاروں کے ہاتھوں قتل ہو کر کھربوں ڈالرز چھوڑ گیا تو کوئی خود ساختہ جلاوطنی میں دھرتی کے قتل کے سودوں اور دلالی سے اربوں کما رہا ہے مگر موت کے خوف سے وطن سے دور گوری گود میں برہمنوں کے راگ الاپتا ہے۔

اللہ کا نظام اور سیاست دانوں کی اپنے ہی خون سے بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ یورپی بینکوں میں اربوں ڈالرز کی مالکہ بیگم نصرت بھٹو اپنی یاداشت کھوئے دو برس تک  مصنوئی مشین پر  کومہ میں رہی مگر اس کا کوئی پیارا  خبر گیری کیلئے نہ گیا۔ مگر دوسری طرف اسکی سیاسی شہید بیٹی کے مقدمہء قتل کو طوالت دینے میں مصروف شوہر نامدار نا جانے کس کیلئے کھربوں ڈالرجمع کرتا رہا ۔ پہلےشاید اپنے اس  شہزادے کیلئے جس کی فول پروف سیکورٹی، لندن میں گوری تتلیوں اور رنگ رنگیلیوں کیلئے ماہانہ کروڑوں ڈالرز   درکار تھے۔

اور اب  فرعون اور قارون کی طرح ہوس زر اُس  عروج پر پہنچ چکی ہے کہ جس کے بعد افلاک سے کائنات کے  مقتدراعلیٰ کے آئین ِ قدرت کا ” صدائے کن فیکن ” مارکہ وہ سپریم آرڈر آتا ہے جسے کسی عدالتی تصدیق،  این آر او یا اٹھارویں انیسویں ترمیم کی  ضرورت نہیں ہوتی- پھر ہوتا وہی ہے جو بائبل کے کردار مادام جوڈتھ کے ہاتھوں سر کٹوانے والے غدار ہولو فرنس  اور تاریخ پاک و ہند کے  میر جعفر  و  میر صادق   جیسوں کے ساتھ ہوا۔

آسیہ بی بی کی سزائے موت موخر کر کے ممتاز قادری کو پھانسی دینے والے  کھرب پتی  سیاست دان  کے سر سے سلطانی  کا  ہما اڑ گیا ۔   بھائی صاحب طوفانی دوروں کے دوران اچانک ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور کبھی درد دل  وطن ولایتی ہسپتالوں کے  بستر پر لے جاتا ہے لیکن ہوسِ زر اور ہوس ِ ترامیم کا طوفان زہر کی طرح روح کی گہرائیوں تک سرایت کر چکا ہے۔ 

ابھی بھی رائیونڈ پیلس کا ماہانہ خرچہء مہمانداری  پندرہ کروڑ روپے ہے۔ مگر پڑوس میں غریب  اپنے بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبور ہوتے  ہیں۔  میاں برادران کی جدہ یاترا اور لندن قیامی کے دوران قربانیاں دینے والے وفادار لیگی گوشہء گمنامی میں کھو چکے ہیں مگر سری پائے کے ناشتوں پر پلنے والے دودھ پینے والے مجنوں رائے ونڈ محل کے خاص مہمان بنتے ہیں۔

قاف  لیگ کے  چوہدری شجاعت  کو  زندگی کیلئے صرف بیس روپے کی مالیت کے انسولین انجکشن چار ٹائم درکار ہیں لیکن لینڈ مافیہ اور بینک کرپشنز سے اربوں ڈالرز کما کر بھی نہ تو خود ان کی  طمع کا پیٹ بھر پایا ہے اور نہ ہی ان کے اگلی نسل نے ان کی اس حالتِ زار سے کوئی سبق سیکھا ہے ۔ ساری زندگی ایمانداری اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان نے کرپشن اور لوٹا کریسی کے  سارے ریکارڈ توڑنے والوں ہی سے اپنے بیٹنگ پاور پلے کا جارحانہ آغاز  کیا  ۔  وہ  جان گئے تھے  کہ لوٹوں ، جعلسازوں ، لینڈ مافیوں ، جاگیرداروں اور طاقتور امیدواروں کے بغیر الیکشن میں جیت  نا ممکن ہے۔ لیکن یہ ضرور  بھول گئے تھے   کہ یہی کرپشن کنگ  لوٹے   بالآخر زمانے  میں  ذلیل و رسوا بھی کروا دیتے ہیں۔

 اسلامی ریاست کے زبانی کلامی  داعی  کے  ساتھیوں میں اب گستاخین قرآن سنگر سلمان احمد ، فواد چوہدری  ، شیریں مزاری ،  پارٹی در پارٹی لوٹا کریسی کی ملکہ فردوس عاشق اعوان اور برطانوی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کی تحریک کے  سپورٹر  چوہدری سرور جیسی مغربی ایجنٹ بھی  ریاست مدینہ کے نام  کے ساتھ طعنہ  بن کر شامل  ہیں۔   ساری جماعتوں کی باقیات  اور   پیشہ ور لوٹوں   کی آلودگیوں کو دھونے کیلئے سونامی لانڈری کی  بھٹی کی نذر ہونے والے لیڈروں کا لاؤ لشکر الگ ہے۔

کڑوا سچ یہی ہے کہ وہ پی پی پی ہو یا نون لیگ، قاف لیگ جیسے  سیاسی عناصر ہوں یا دین فروش  کینیڈین  قادری ، سرحدی گاندھی  کے بھارت نواز پیروکار ہوں یا متحدہ  اور  پیر پگاڑا مرحوم جیسے سامراجی  پریشر گروپس، ایک دن یہ سب ایک دوسرے کیساتھ دست و گریبان ہوتے ہیں مگر دوسرے دن اپنے سامراجی آقاؤں کے حکم پر  مفلسان ِقوم پر وار کیلئےخونخوار آلہء قتل یعنی سیاسی بندربانٹ کے عالمگیری نظریہءضرورت کے تحت کہیں پراسرارحریف و حزب الاختلاف اور کبھی ہر دور میں اقتدار سے چمٹے کرپشن میں حصہ دار حلیف و حزب اقتدار بن کر ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔

سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا لیکن اہلِ علم و فضل کا کہنا ہے کہ جب تقدیر عقل پر پردا ڈالتی ہے تو آنکھوں پر خود ہی پڑ جاتا ہے۔

صلیبی غلاموں کو نہ تو  عالمی بادشاہ گروں  کے پیچھے چھوڑے ہوئے  اربوں ڈالرز کا انجام نظر آتا ہے اور نہ ہی وہ اس غیبی راز کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان جیسے غلاموں کی مدد سے پوری دنیا پرحکمرانی کرنے والا طاقتور ترین امریکی صدر ریگن زندگی کےآخری دو برس بیڈ روم سے بیت الخلا تک ملازمین کی کڑی نگرانی میں صرف اس لئے رہا کہ اسے ہذیان    جیسی  وہ پر اسرار  بیماری  تھی جس میں وہ اپنی گندگی کو اپنے مونہ اور جسم پر ملتا اور کھاتا تھا اور بالآخر اسی  عذاب میں مبتلا  چل بسا۔

اے کاش کہ میری  قوم  و ملت کے  نام نہاد خدام ، پیشہ ور سیاسی بہروپیے اور دین و دھرتی کے بیوپاری  تاریخ کے وہ چند صفحات  پڑھ لیں جن پر ان جیسےانگنت   ابن الوقت قوم فروشوں ،  بے ضمیر لوٹوں اور مریضانِ ہوس ِ زر کا عبرت ناک  انجام  صاف لکھا ہے۔

ہر دور ِ طاغوت اور ظلمت کی تاریخ لکھی ہے قدرت نے
درویش پھڑے جو رب میرا ، مڑ کڈھ کڑاکے دینداں اے

تحریر َ فاروق درویش واٹس ایپ 00923224061000


پاکستانی ایف 16 اور بھارتی رافیل کے موازنہ پر میرا یہ کالم پڑھیں

پاک فضائیہ کے ایف ۔ 16 فالکن اور انڈین رافیل طیاروں کا موازنہ اور حقائق

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button