
اردو ادبحالات حاضرہرموز شاعریمیری غزلیں اور عروض
جہانِ شب ہے دھواں صبحِ انقلاب بنو
اصول تقطیع اور عروضی نوٹ ۔ بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
جہان ِ شب ہے دھواں صبح ِ انقلاب بنو
جلا دو تخت ِ بتاں دست ِ احتساب بنو
۔
لہو کے دیپ جلاؤ کہ شب طویل ہوئی
محل سے روشنی چھینو سحر کی تاب بنو
۔
چراغ ِ زخم سے جب نور کی ندی پھوٹے
شبوں کے چاند، سحر خیز آفتاب بنو
۔
تڑپ رہے ہو جزیرہ نما تنوروں میں
ہوا کے دوش پہ اڑتے ہوئے سحاب بنو
۔
اگر ہو لیلیٰ تو صحرا میں چھوڑ دو محمل
بنو جو قیس تو پھر عشق کی کتاب بنو
۔
عتابِ زرد میں خاموشی خودکشی ہو گی
سکوتِ مرگ میں للکار ِ اضطراب بنو
۔
جو ظلمتوں کے بیاباں سے ڈر گئے درویش
انہیں کہو کہ اٹھو جہدِ بو تراب بنو
۔
(فاروق درویش)
۔
بحر :۔ بحرِ مجتث مثمن مخبون محذوف مقطوع
ارکان بحر : مَفاعِلُن۔۔ فَعِلاتُن ۔۔مَفاعِلُن ۔۔ فَعلُن
ہندسی اوزان ۔۔ 2121۔۔2211۔۔2121۔۔۔22۔
آخری رکن یعنی فعلن (22 ) کی جگہ فعلان (122) ، فَعِلُن (211) اور فعِلان (1211) بھی آ سکتے ہیں ۔ اسی اصول کے تحت مطلع اور ہر شعر کے مصرع ثانی میں فعلن ( 22) کی جگہ فَعِلن ( 211) استعمال کیا گیا ہے۔۔
۔
تقطیع
ج۔۔۔ ہاں ۔۔ نے ۔۔ شب ۔۔ 2121
ہے ۔۔ دھ ۔۔ واں ۔۔ صب ۔۔ 2211
حے ۔۔ ان ۔۔ ق ۔۔ لا ۔۔ 2121
ب ۔۔ ن ۔۔ و ۔۔ 211 ( فعلن ۔22۔ کی جگہ فَعِلن۔ 211۔ آیا ہے )۔
ج ۔۔ لا ۔۔ دو ۔۔ تخ۔ ۔۔ 2121
تے ۔۔ ب ۔۔ تاں ۔۔ دس ۔۔ 2211
تے ۔۔ اح ۔۔ ت ۔۔ سا ۔۔ 2121
ب ۔۔ ن ۔۔۔ و ۔۔ 211 ( فعلن۔ 22 ۔۔ کی جگہ فَعِلن ۔ 211۔ آیا ہے )۔
اصول تقطیع
“یاد رکھئے کہ ” کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع میں ان کے مقام پر بحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔ البتہ نہ، بہ، پہ اور کہ کو ہمیشہ یک حرفی وزن میں باندھا جائے گا
۔
ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیں یک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔
۔
اسی طرح اگر کسی لفظ ے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔
۔
تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر اور چھیڑے کو چیڑے پڑھا جائے گا
(فاروق درویش)




