اپنی ہستی کو میں افلاک نما کیوں جانوں ۔ بہزاد حسن شہاب

Share this

لہر کو آنکھ ملی
اس نے سمندر دیکھا
اور پھراپنے تحیر کے بھنور میں ڈوبی
اپنی ہستی کو سمندر ہی سمجھ بیٹھی ہے

شب کی دیوار گری
نور کے سیلاب بہے
آنکھ ملتے ہوئی دنیا جاگی
دیکھ کر چاروں طرف نور کا سیلاب رواں
خود پہ سورج کا گماں کرتی ہے

راہ کے سحر سے منزل پہ مسافر پہنچا
اپنی رفتار پہ اترانے لگا
اور منزل پہ خدا بن بیٹھا

میں فضاؤں کا مسافر ہوں شہاب
اپنی ہستی کو میں افلاک نما کیوں جانوں

میں بشر ہوں، یہی معراج مری

فلائیٹ لیفٹیننٹ بہزاد حسن شہاب

اپنی رائے سے نوازیں

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker