اردو ادبجواں ترنگ

ستارہ کیسے چمک سے نہ واسطہ رکھتا۔ غزل فلائیٹ لفٹیننٹ بہزاد حسن شہاب


Share this

ستارہ کیسے چمک سے نہ واسطہ رکھتا 
چراغ ِ شب سے میں خود کو کہاں جدا رکھتا 

سفیر ِ دشت کو سایہ ء گل سے کیا مطلب
شجر بھی راہ میں آتا تو کیا خدا رکھتا

ہوا ہوں غرق خود اپنی انا کے طوفاں میں
بھنور میں کشتی بھی ہوتی نہ ناخدا رکھتا

میں اجنبی ہی سہی اپنے آشنا کا مگر
اب اس کے بعد کسے اور آشنا رکھنا

جب آنسوؤں سے گِل ِ زندگی نکھرنے لگا
خوشی سے کیا میں امیدیں بجز قضا رکھتا

فضا میں اڑتے ہوئے جاگی آرزو یہ شہاب
پرندہ ہوتا جو دل بے قفس فضا رکھتا

(فلائیٹ لیفٹیننٹ بہزاد حسن شہاب)


Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد بین المسلمین کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، کالم نویس ، بلاگر ، شاعر اور ویب پورٹل اینڈ کمرشل سائٹس ایکسپرٹ ہوں۔۔۔۔ آج کل ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک ایشوز ریسرچ اور ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Back to top button