تاریخِ عالم و اسلامریاست اور سیاست

حریم شاہ اور جمہور کا دستور ‘ عشق زندہ باد ہے

ایسی دردناک جمہوریت سے لاکھ بہتر ہے کہ قوم کو کوئی ایک ایسا جرنیل مل جائے جو حلقہء یارانِ امن کیلئے بریشم کی طرح نرم لیکن گستاخانِ اسلام اور امن دشمن دہشت گرد قوتوں کیلئے فولادی مومن ہو


جس  دیس میں    عورت       کی پاکیزگی  کوتماشہء عام بنا کر  عریاں خیالی کو  مشقِ عام بنانے والی  حریم شاہ  جیسی    وڈیو گرلز      ایوان  اقتدار میں  حکمرانوں کے ساتھ معزز بن کر گھومیں  اور   وزارتوں   کے دفاتر میں  جلوہ گر  ہوں ۔ وہاں    امور ریاست چلانے والوں     کے  کردار  اور گورھ دھندوں کا اندازہ   عقل کے اندھے بھی لگا لیتے ہیں۔اور جب  اسی   حریم  شاہ  جیسی    خواتین  ماہ رمضان میں  ٹی وی چینل پر بیٹھی   معاشرے میں  عریانی  اور بے حیائی  کیخلاف درس دیتی نظر آئیں  ، تو    ریاست مدینہ کے دعویداروں  کے  عمل اور زبانی دعووں  میں  دو رنگی  کی  واضع  مثال  ،       اخلاقی بربادی کی وجوہات   اور   قیامت کی جیتی جاگتی  نشانیاں ڈھونڈنے میں  کوئی مشکل   نہیں ہونی چاہیے ۔ 

   آج   آپ کو   تاریخ  کے  ایک  انوکھے  مگر    عبرت ناک   باب   کی طرف لیے جاتا ہوں  ۔ کہ آج  ایوانِ  اقتدار  اور     سیاست دانوں کے احوال دیکھ کر    کچھ عیاش خلیفوں  اور مغلوں  کے  آخری  دور کے رنگین مزاج  حکمرانوں کی سیاہ تاریخ  یاد آتی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بعد بنو امیہ کی حکومت  نااہل حکمرانوں کی سیاہ کاریوں کی بدولت رو بہ زوال تھی۔ معاشرتی انحطاط و انتشار سے عاجز عوام سراپا احتجاج تھے۔  قبائل کی بغاوت اور عباسی تحریک سے اقتدار سنگین  بحران کا شکار تھا۔ مگر اپنے  عظیم پیش رو عمر بن عبدالعزیز کے چہلم سے پہلے ان کی نافذ کردہ اصلاحات منسوخ کرنے والا  خلیفہ یزید بن عبدالملک، ان  باتوں سے بے نیاز ” بس عشق زندہ باد ” کا خاموش نعرہ  لگا کر اپنی دو   محبوباؤں  حبابہ اور سلامہ کی  قربتوں میں مدہوش  تھا۔

خلیفہ سے  ریاستی  امور  پر بات کرنے کے منتظر امراء محل میں بیٹھے تھے۔ اور وہ شاہی باغ  کے جھولے میں اپنی محبوبہ  کے ہونٹوں سے ہونٹ ملا کر اسے انگور کھلا رہا تھا۔ کہ اچانک انگور کا ایک دانہ سیدھا حبابہ کی سانس کی نالی میں جا پھنسا  اور وہ چند لمحوں میں اس کی بانہوں میں دم توڑ گئی۔ اور پھر سب لوگ اسے ملک میں بہنے والے خون اور تاج و تخت کو درپیش خطرات یاد دلا کر، خدا کے واسطے دیتے رہے لیکن وہ اپنی محبوبہ کی لاش سے لپٹ کر زار و قطار روتا رہا۔

 یہ لکھتے ہوئے تاریخ دان  نے بھی اپنا سر پیٹا ہو گا  کہ اس   خلیفہ نے تین دن تک اس محبوبہ کی لاش کو دفنانے نہ دیا۔  آخر کار  لاش سخت تعفن کا شکار ہوئی، تو لوگوں نے اسے بہلا پھسلا کر لاش سے الگ کیا اور خاموشی سے دفنا دیا۔ وہ حبابہ  کی جدائی میں پاگل ہوا اور چوتھے ہی روز ” بس عشق زندہ باد ” کا خاموش نعرہ لگا کر ہمیشہ کیلئے   مردہ باد ہو گیا۔ شباب و شراب کا رسیا ایک اور اموی خلیفہ ولید ثانی ہم جنس پرستی اور فسق و فجر کی  ساری حدیں عبور کر گیا تو اسے لوگوں نے محل میں گھس کر قتل ڈالا۔

پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ   کے اکثر حکمران   اور دیسی بدیسی لیڈر، عیاں  یا  درپردہ اس عیاش  اموی خلیفہ یزید  بن عبدالملک کی تصویر اور ” زن عشق زندہ باد ” کے  خاموش نعرے بنے   رہے ہیں ۔ ہمارے  جوان  اور  بڈھے سیاست دان بغل میں حسن کے ”  ایٹم بم ” لئے ، قوم کے مصائب و آلام   سے بے نیاز  رنگ برنگی عیاشیوں میں مست و مد ہوش  رہتے ہیں۔ اور اگر کسی کی آغوش میں ” تازہ جوان خون ” نہیں تو وہ  سینے سے ڈالروں کا بریف کیس لگائے ، دولت کی مقدس دیوی کے جنون میں ” زر عشق زندہ باد ” کا خاموش نعرہ بن جاتا  ہے۔ اسی  پراگندا نظام  سیاست میں  سیاست دانوں کی رکھیلوں کو حسنِ کارکردگی کے صدارتی ایوارڈ ملتے ہیں۔

 قوم   کے سامنے جس    اسد عمر کو ایک  معاشی مسیحا کے روپ میں پیش کیا گیا  تھا ۔ انہوں نے  معیشت  اور عوامی خوش حالی سے زیادہ توجہ   ” وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا ”  جیسی رنگ رنگیلی محافلِ غزل سجانے پر دی ۔  ان کو وزارت ملی  لیکن ان کی نا اہل  وزرتِ   خزانہ  چند ہی  ماہ میں  تھک کر چور ہو گئی۔  ان  کے بعد وزارتِ خزانہ کو ابھی تک پیشہ ور سیاسی لوٹوں کی صورت میں   نا اہل  اورجز وقتی وز یر تو ملے لیکن آج تک    کو ئی    اہل اور   مستقل مسیحا نہ مل سکا۔ اب شاید  اسد عمر  جیسوں   کی طرف سے   خان صاحب  کے   اسمبلیاں توڑنے  کی دھمکی جیسے    شگوفوں کا وقت گزر چکا ہے۔ ایسے   نا بالغ سیاسی  بیانات سے  اداروں کو بلیک میل کرنے والے     وقت سے پہلے تھک کر گر نے   والے ہیں۔ 

ماضی یاد کریں   تو جب قوم بدترین سیلاب کی طوفانی موجوں میں ڈوب رہی تھی ،    اپنے خان صاحب اور  قادری صاحب  انہیں بچانا حکومتی فریضہ قرار دیکر  دھرنوں میں مدہوش بہ رقص و نغمہ تھے۔ اور آہ  کہ جب سانحہ پشاور سے افسردہ  قوم حالتِ رنج و  صدمہ میں تھی،  خان صاحب ” بس عشق زندہ باد ” کا خاموش نعرہ لگا کر اپنی دیو مالائی محبوبہ ریحام  خان  کے جشن قربت کا رنگین و سادہ اہتمام کر رہے تھے۔ لیکن یاد رہے کہ ہمارے سیاسی کلچر میں تو  شہدائے ماڈل ٹاؤن کا احتجاج بھی میوزیکل شوز اور رقص و نغمات کی محافل سجا کر کیا جاتا ہے۔

قوم لوڈ شیڈنگ کے عذابی اندھیروں میں ڈوبی  ہو، عوام پٹرول اور گیس کی بندش یا مہنگائی پر سراپا احتجاج ہوں، یہاں دو سگی بہنوں عائلہ ملک اور سمیرا ملک کے اپنے اپنے الگ الگ سیاسی جماعتوں کے  محبوب راہنماؤں کے ساتھ رنگین فوٹو سیشن پورے سوشل میڈیا پر گھومتے ہیں۔ صحرائے تھر میں قوم کے مفلس  بھوک اور پیاس سے دم توڑ رہے ہوں،  زرداری صاحب  کا بے بی  بوائے بلاول زرداری اور جیالے وڈیرے، جشن سندھ کے نام پر مجرے سجا کر شرمیلہ فاروقی اور سسی پلیجو کے سنگ محو رقص رہتے ہیں۔ نون لیگ کے ضعیم قادری  جیسے سید زادے بھی محافلِ شباب میں نظر آتے ہیں۔

کوئٹہ میں بھارتی بغل بچوں کی  دہشت گردی     میں  بے گناہ معصوموں کا خون چیختا  رہے۔ بلوچستان میں گیس پائپ لائنیں اڑ رہی ہوں یا کوئٹہ میں  مقتولوں کے جنازے  پڑے رہیں  ، بلوچی وڈیروں کی داشتائیں اور بلوچ باغیوں کو افغان سرحد کے اس پار سے آنے والے بھارتی اسلحہ کے ساتھ ساتھ ممبئی و چنائی  کی حسن پریوں کی گرما گرم کمک بھی  پہنچتی رہتی ہے۔ کون  میڈیائی دانشور اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ یہاں  تو  دھرنوں کے خون رنگ ہنگامہء سیاست کے دوران بھی اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ممبران پارلیمنٹ اور ایوان اقتدار کے  عوام و خواص خوبصورت ماڈلوں کی نغماتی آغوشوں میں  دما دم مست قلندر  تھے۔

آج بھی صاحبان اقتدار کے محلات  اور وزارتوں میں بھارت  کی  آلہ کار  این جی اوز   کی ویسی  ہی کٹھ پتلیاں نئے تماشہ سجائے بیٹھی ہیں۔ جیسی  ماضی میں سیاسی قیادتوں اور عسکری اداروں میں ٹکراؤ  کی محرک رہیں ۔   میڈیا پر   بھارت سے والہانہ محبت اور امن کی آشا کا بھوت اس حد تک سوار ہے کہ ان کیلئے بھارت کا پوتر نام لینا بھی اک پاپ ٹھہرا ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ جیسے  سب سیاسی کبوتروں نے انگنت بلیاں دیکھ کر ہمیشہ کیلئے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

 غربت اور مہنگائی کے سدباب کی دعویدار حکومت نے  بنی گالہ  محل  میں شاہانہ  انداز تو اپنا لیا ہے   ، لیکن   ہائے غریبوں کا چولہا تک  بجھا دیا  ہے۔  آج     پولیس اور سول  انتظامیہ کا کردار بھی میڈیا  جیسا ” ڈنگ ٹپاؤ اور مال بناؤ ” کے سوا اور کچھ  نہیں۔ اشیائے صرف کی قیمتوں پر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ذخیرہ اندوز مافیوں کا راج ہے ۔ اور انہیں کنٹرول کرنے کا ذمہ دار بیورو کریٹ مافیہ بھی جیب میں پرس اور بی ایم ڈبلیو میں تازہ  مٹیار لئے  خوش مست ہے۔ تو  کیا   خان صاحب کے کنٹرول سے آزاد  افسر شاہی کے مونہہ زور گھوڑے کیخلاف  غضب ناک اپریشن کی ذمہ داری  بھی کسی  فوجی جنرل  کو اٹھانی ہو گی ؟

 افسوس کہ ریاست کا چوتھا ستون یعنی میڈیا بھی ، حالات کی اصل تصویر دکھانے کی بجائے اشتہارات کے اندھے حصول کیلئے بھارتی  سٹارز کے معاشقوں اور امن کی آشا میں ” زر عشق زندہ باد ” کا نعرہ  ہے۔ جمہویت کے مداحین سے بصد معذرت  کہ  بس عشق زندہ باد یا  زر عشق زندہ باد کی    سلطانیء جمہور سے عاجز  ، بھوکے   اور مظلوم  لوگ ، جلد ہی کسی ” تیسری قوت ” سے امیدِ مسیحائی پر مجبور ہو تے نظر آتے ہیں۔

 کون جانے   کہ امید وں کے محور خان صاحب  نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر  برطانیہ میں ہم جنس پرستی  کے حق میں  کمپین اور ووٹ دینے والے  چوہدری  سرور  کو گورنر پنجاب برقرار  رکھ  کر  کیا  ثابت کیا    ؟۔ کیا عریاں   مغربی تہذیب  کے  ایسے علمبرداروں  سے ریاست مدینہ بنانی تھی جو شریعتِ  الہی  کے اعلانیہ باغی  ہیں؟    اس  نام نہاد ریاست مدینہ  کی  دو رنگی کا یہ عالم  ہے   انٹی مذہب   پالیسی  کو   روشن خیالی  سمجھنے والے فواد چوہدری  جیسےلوگ    خان صاحب کو سیاسی  بلیک میل کر کے اپنی  من پسند  وزارتوں کا  رس نچوڑ   کر سیر سے سوا سیر  ہو رہے ہیں۔  جبکہ حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف میں موجود قابل اور اہل لوگوں کو نظر اندازز کر کے   سارے زمانے کا  کرپشن کباڑ خانہ اور پیشہ ور لوٹے  سر پر اٹھانے والے   خان صاحب    ہر اہم مقام پر مسٹر یو ٹرن سے اب  ہر ماہ کبھی وزیر   اور کبھی  وزارتوں کے قلمدان بدلنے والے  مسٹر  ناکام       بننے کی طرف  گامزن  ہیں۔ 

ممکن ہے کہ کل مجبور و مایوس عوام یہ نعرہ لگانے کا گناہِ کبیرہ  بھی کر بیٹھیں کہ ایسی دردناک ” کھسرا جمہوریت ” سے لاکھ بہتر ہے کہ  قوم  کو جنرل ضیاء الحق   جیسا کوئی  ایک ایسا جرنیل مل جائے جو حلقہء یارانِ امن کیلئے بریشم کی طرح نرم اور مگر  گستاخانِ رسالت عناصر  ،    غریب شکن  کرپٹ   مافیوں   اور   امن کی  دشمن   دہشت گرد  قوتوں کیلئے فولادی مومن ہو۔ تماشہء محشرِ مفلساں جاری رہا تو وہ وقت  دور نہیں کہ جب  در و دیوار پہ لکھا جائے گا ۔۔ خدارا کوئی مارشل لا  لگا دو   ۔ ۔

کوئی لکھے یا نہ لکھے، میں تو لکھوں گا کہ  ۔ ۔ ۔

لکھا ہے دشت کے ماتھے پہ میرا نام ابھی
جواں ہے منصفوں کا شوق ِ قتل ِ عام ابھی
 
تماشہ حشر کا درویش عروج پر ہے مگر
ہے نا تمام مری ضد کا اختتام ابھی
۔

( فاروق درویش ۔ واٹس ایپ  – 00923224061000 )

 


پاکستان کے ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے بارے میرا یہ آرٹیکل بھی پڑھیں

پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button