حالات حاضرہریاست اور سیاست

کیا ناکام خان صاحب کی دستار اب شہباز شریف کے سر پر سجے گی؟

چینی سفیر کی طرف سے شہباز شریف کے ترقیاتی کاموں کی زبردست بامعنی تعریفیں اور برطانوی ہائی کمشنر سے افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجوں کے انخلاء جیسے حساس ایشوز پر گفتگو نیشنل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ان کی قبولیت کے اشارات ہیں


پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی چین کے سفیر اور برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقاتوں نے سیاسی تبدیلیوں کے اشاروں کیلئے گرین لائٹ جلا کر  خان صاحب اینڈ کمپنی کے چہروں پر سرخ بتی کی مایوسی پھیلا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال ، بین الاقوامی تعلقات اور سی پیک منصوبے، افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء جیسے اہم ایشوز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میرے مطابق یہ دونوں ملاقاتیں اور ان میں سی پیک ، داخلی سیکورٹی اور افغان صورت حال جیسے حساس موضوعات پر تبادلہ خیال اس امر کا عندیہ ہے کہ خان صاحب اوران کی نا اہل حکومت کی فلاپ در فلاپ کارکردگی سے مایوس حلقوں نے شاید شہباز شریف یا کسی اور کے سر پر ہما بٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پاکستان کی اگلی دستاراب  شہباز شریف کو ملے یا کسی اور کو لیکن دوسری طرف خان صاحب اینڈ کمپنی کی طرف سے کبھی اسمبلیاں تحلیل کرنے جیسی باتیں اور آج مایوسی میں ڈوبے ہوئے بیانات بھی خان صاحب کا بوریا بستر گول ہونے کا اشارہ دے رہے ہیں۔

خان صاحب کا کہنا ہے کہ ” ہم نے دیکھ لیا ہے ہمارا انصاف کا نظام طاقتور ڈاکوؤں کو نہیں پکڑ سکتا " ۔  دوسرے لفظوں میں خان صاحب  کی  طرف سے  اپنی اور اپنی حکومتی ٹیم کی نا اہلی کا کھلا اعتراف ہے۔ انہوں نے تین سال قوم کو کرپشن اور چور ڈاکوؤں کو انجام تک پہنچانے کی ” ٹرک کی بتی ” کے پیچھے لگائے رکھا۔ لیکن ان تین سال میں تمام سیاسی جماعتوں سے ان کی حکومت میں شامل ہونے والے ڈرائی کلین شدہ چوروں  اور کرپشن مافیوں نے لوٹ مار کا جو بازار گرم رکھا، آنے والی حکومت پر اس کی کڑی تحقیقات فرض ٹھہری ہیں۔ ورنہ چور مچائے شور اور قومی خزانے کی لوٹ مار کا سلسلہ کبھی نہ رک پائے گا۔

خان صاحب کا کہنا ہے کہ ” وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جو عام آدمی کو اوپر لانے کی کوشش نہیں کرتا، چھوٹا سا معاشرہ جس میں امیروں کا چھوٹا سا جزیرہ ہو اور نیچے غریبوں کا سمندر وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا”۔ جبکہ حقائق بتاتے ہیں کہ خان صاحب کی حکومت کے ان تین سالوں میں مہنگائی کی شرح اور غریبوں کا معاشی قتل اور استحصال اپنے انتہائی عروج پر رہے۔ خان صاحب نے غریب کو اوپر لانے کی بجائے بجلی گیس کے بلوں اور مہنگائی کے پہاڑ تلے دبا کر اوپر پہنچا دیا۔

خان صاحب کی حکومتی نا اہلی بھی کسی لطیفے سے کم نہیں۔ پاکستان کیا دنیا کی پارلیمانی تاریخ میں   کہیں ایسی مضحکہ خیز ناکامیوں کی کوئی مثال نہیں ہے۔ خان صاحب نے جس شخص کو بھی معیشت کا مسیحا اور لائق فائق وزیر خزانہ قرار دیکر وزارت سونپی، وہی ایک دو ہفتوں بعد یا تو نکال دیا گیا یا وہ  شخص وزارت خزانہ میں موجود کرپٹ کمیشن مافیوں کی مونہ پھٹ  ڈیمانڈز دیکھ کر خود بھاگ گیا۔  وزیر خزانہ کیلئے تازہ ترین  آمد شوکت ترین  بھی وہ بدنام زمانہ  کرپشن  کنگ ہے جس نے سیٹھ حسین داؤد کی 77 ارب  روپے کی بولی کے باوجود حبیب بینک کو پونے اٹھارہ ارب روپے  میں بیچ دیا اور خود سلک بینک کا مالک بن گیا۔

خان صاحب کہتے ہیں کہ ” مدینے کی ریاست قائم ہوتے ہی دودھ کی نہریں نہیں بہہ گئی تھیں، انہوں نے سب سے پہلے جو کام کیے ان میں سے ایک قانون کی یہ بالادستی ہے کہ صرف غریب جیلوں میں نہیں جائیں گے”۔ لیکن قول و فعل میں تضاد والے خان صاحب اس حقیقت سے کیوں ناواقف ہیں کہ مدینہ کی ریاست ہم جنس پرستی کے برطانوی پروموٹر چوہدری سرور جیسے گورنر ، فواد چوہدری جیسے انٹی اسلام چہروں ، گستاخ قرآن سلمان احمد کے میوزیکل شوزاور سرکاری اداروں میں قادیانیوں کی بھرمار جیسے پراگندا دھندوں سے نہیں بنتی۔

افواجِ پاکستان اور حساس اداروں کیخلاف انتہائی زہریلی ہرزہ سرائی  کے بانی عمران خان اپنے دھرنوں میں شہر در شہر بند کرنے کی دھمکیوں اور جلسوں میں بجلی کے بل پھاڑنے جیسے انٹی ریاست کارناموں کے حوالے سے پہلے خود اپنا احتساب اور اصلاح کریں۔ انہیں مشورہ ہے کہ دین اور خصوصاً سیرت نبوی کے بارے اپنا مطالعہ وسیع فرمائیں تاکہ نبیء آخرالزماں ﷺ کا نام مبارک لیتے یا ذکر کرتے ہوئے آقائے نامدار ﷺ کے بارے انتہائی دل آزار الفاظ  استعمال کرنے سے گریز کر سکیں۔امید ہے کہ  وہ اپنی  فاش غلطیوں سے مثبت سبق سیکھے تو آئیندہ ایک میچور سیاست دان کے روپ میں لوٹوں اور پیشہ ور سیاسی گند کی بجائے اپنی تحریک انصاف کے اہل اور قابل لوگوں کی ٹیم کے ساتھ قوم کے سامنے آئیںَ گے۔

چینی سفیر کی طرف سے شہبازشریف کی بطور وزیراعلی پنجاب  کارکردگی کو بیحد سراہا جانا میرے اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ پاکستان کے ادارے اور غیر ملکی حکومتیں ابھی بھی شہباز شریف کو ایک اعلی درجہ منتظم کے طور پر دیکھتی ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ وہ خود بھی چین میں مئیر کے عہدے پر کام کرنے کے ذاتی تجربے کی بنا پر شہبازشریف کے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کی رفتار اور کارکردگی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ میرے مطابق چینی سفیر کی طرف سے شہباز شریف کی اس درجہ تعریف بے معانی اور بے مقصد نہیں بلکہ بڑے گہرے اشارات کی حامل ہے۔

اس موقع پر دونوں لیڈروں کے درمیان سی پیک منصوبے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شہبازشریف نے کوئٹہ میں چینی سفیر پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے بردرانہ تعلقات سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں موجود چینیوں کی حفاظت پاکستان کی اولین ذمے داری ہے۔ حالات کو باریک بینی سے پڑھنے والے لوگ اس امر سے واقف ہیں کہ شہباز شریف وہی زبان بول رہے ہیں جو افواج پاکستان کا دیرینہ اصولی موقف ہے

بعدازاں شہبازشریف نے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر سے بھی ملاقات کی جس میں حساس علاقائی اہمیت کے امور خصوصاً افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا اور قیام امن کیلیے اجتماعی کوششوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خیال رہے کہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ   برطانوی ہائی کمشنر نے  نے شہباز شریف سے جن امور پر بات کی ان حساس معاملات  پر عموماً  کسی ہیڈ آف سٹیٹ سے گفتگو کی جاتی ہے۔

اسلامی نظریات اور ریاست مدینہ کی فکری اساس کے مطابق اقتدار اعلی صرف اللہ کا اور انسان اس کا خلیفہ ہے۔ انسان سعی کرتا ہے لیکن اسے کامیابی قدرت ہی عطا کرتی ہے۔ بقول میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ ، مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے ، مالک دا کم پھل پُھل لانا لاوے یا نہ لاوے۔ جبکہ  خود کو ” آئی ایم دی ماسٹر آف مائی اون فیٹ” قرار دینے والے خان صاحب ایسے متکبرانہ کلمات سے پہلے تاریخ پڑھ لیتے ۔  کہ ایسا دعوی کرنے والے تاریخ کے دونوں کرداروں کا اختتام بڑا بھیانک ہوا تھا۔ روم کا پہلا جرنیل بادشاہ جولیس سیزر اپنے ہی قریبی دوست بروٹس کے ہاتھوں قتل ہوا اور دوسرا روم ہی کا ظالم شاہ نیرو خود اپنے ہاتھوں کی نسیں کاٹ کر تڑپ تڑپ کر اس دنیا سے چل بسا۔ اور مرتے ہوئے شاہ نیرو کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ ، ” آج دنیا نے ایک بڑا ہی قیمتی ہیرا کھو دیا”۔ لیکن ہم خان صاحب جیسا ہیرا کھونا نہیں  بلکہ اسے زنگار آلودہ پتھروں سے دور دیکھنا چاہیں گے۔

آخر میں خان صاحب اور ان کے رفقاکاروں سے ایک انتہائی اہم اور حساس سوال کی جسارت کروں گا ۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتا سکے گا کہ وہ کون سی انتہائی خاص یا قبیح وجہ تھی کہ گذشتہ ایک برس سے خان صاحب نے اپنے انتہائی قریبی دوست نعیم الحق مرحوم سمیت کسی دوست احباب کے ایک بھی جنازے میں شرکت نہیں کی؟ کسی انسان کے جنازے سے کسی خونخوار درندے کی طرح خوف زدہ دور رہنے والے خان صاحب ہزار دباؤ کے باوجود بھی کوئٹہ میں  ہزارہ برادری کے جنازوں پر کیوں نہ جا سکے؟

شاید یہ بات جنرل باجوہ صاحب یا  انٹیلی جنس  اداروں کی معزز قیادت بھی نہ جانتی ہو ۔ لیکن ہاں کچھ ایسے لوگ ضرور جانتے ہیں جن پر مالکِ ہفت افلاک و کائنات کی طرف سے کشف اور روحانی فیوض کی عطائے بے بہا اور نبیء آخر الزماں ﷺ کی خاص نظر ِ سخا ہوتی ہے۔ اگر کسی نامعلوم بندوق کی گولی نے میرے سر کا راستہ نہ دیکھا  اور  ماضی کی طرح      میری یہ  انگلیاں ہتھوڑیوں سے    نہ توڑی  گئیں ۔ تو ان شاللہ  اپنے اگلے کالموں میں  کچھ چشم کشا مگر دل دہلا دینے والے  حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا۔

 تحریر : فاروق درویش – واٹس ایپ -03324061000


پاکستان ڈیفنس انڈسٹریز اور ایٹمی پروگرام پر میرا یہ کالم بھی پڑھیں

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

اپنی رائے سے نوازیں

Spread the love

FAROOQ RASHID BUTT

عالمی امن اور اتحاد اسلامی کا پیامبر ، نام فاروق رشید بٹ اور تخلص درویش ہے، سابقہ بینکر ، بلاگر ، شاعر اور ورڈ پریس ایکسپرٹ ہوں ۔ آج کل ہوٹل مینجمنٹ کے پیشہ سے منسلک ہوں ۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button